غزہ میں اسرائیلی نسل کشی 693ویں روز میں داخل, قتل عام کا سلسلہ جاری
بصیرت نیوز ڈیسک
قابض اسرائیلی افواج امریکہ کی سیاسی اور فوجی حمایت اور عالمی برادری کی غیر معمولی خاموشی و بے حسی کے درمیان آج مسلسل 693ویں دن بھی غزہ کی پٹی پر اپنی نسل کشی کی جنگ جاری رکھے ہوئے ہے۔ اس دوران فضائی اور توپ خانے کی بمباری کا سلسلہ جاری ہے اور بھوکے اور بے گھر فلسطینیوں کو بے رحمی سے قتل کیا جا رہا ہے۔
ہمارے نامہ نگاروں نے بتایا ہے کہ قابض افواج نے درجنوں فضائی حملے کیے ہیں اور مزید اجتماعی قتل عام کا ارتکاب کیا ہے، جب کہ 20 لاکھ سے زائد افراد کو شدید قحط کے درمیان بے گھری کے سنگین مصائب کا سامنا ہے۔
تازہ ترین صورتحال
غزہ کے ہسپتالوں میں طبی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ آج صبح سے اب تک قابض فورسز کی فائرنگ سے 30 شہری شہید ہو چکے ہیں، جن میں کئی ایسے افراد شامل ہیں جنہیں غزہ کے جنوبی اور شمالی علاقوں میں امدادی کنٹرول پوائنٹس کے قریب نشانہ بنایا گیا۔
غزہ کی پٹی کے وسط میں دیر البلح کے علاقے ابو سلطان میں کاشتکاروں کے ایک گروپ کو قابض طیاروں نے نشانہ بنایا، جس سے 3 شہری شہید اور کئی زخمی ہو گئے۔
النصیرات میں العودہ ہسپتال کو نیتساریم کے علاقے کے قریب امداد کا انتظار کرنے والے ایک شہید اور کئی زخمیوں کو منتقل کیا گیا۔
یہ بھی اعلان کیا گیا کہ ریماس نبیل ابو سنیمہ (عمر 13 سال) خان یونس کے جنوبی علاقے مواصی میں واقع بے گھر افراد کے خیموں پر قابض اسرائیلی گاڑیوں کی فائرنگ سے شہید ہو گئیں۔
غزہ شہر کے جنوب مغربی علاقے تل الہویٰ میں النمر خاندان کے ایک مکان پر اسرائیلی فضائی حملے کے نتیجے میں 5 افراد شہید اور کئی زخمی ہو گئے۔
العودہ ہسپتال نے تصدیق کی ہے کہ البریج کیمپ میں ایک گھر پر بمباری سے 2 شہداء اور کئی زخمیوں کو ہسپتال منتقل کیا گیا۔
آج صبح سے اب تک غزہ کی پٹی کے مختلف علاقوں میں قابض فوج کی فائرنگ سے 14 افراد شہید ہو چکے ہیں۔
آج صبح غزہ کی پٹی کے وسطی علاقے النصیرات کیمپ کے شمال میں نیتساریم کے محور پر امداد کا انتظار کرنے والے افراد پر شدید فائرنگ کی گئی۔
قابض افواج کے ڈرون نے غزہ کی پٹی کے جنوب میں خان یونس کے مغرب میں واقع المواصی کے علاقے پر فضائی حملہ کیا۔
قابض فوج نے جبالیہ النزلہ اور شمالی غزہ کے الزرقا علاقے میں دھماکہ خیز روبوٹ اڑا دیے۔
قابض افواج کی گاڑیوں نے غزہ شہر کے الصبرہ محلہ میں توپ خانے سے بمباری جاری رکھی۔
قابض ڈرون طیاروں نے غزہ شہر کے شمال میں ابو اسکندر کے علاقے کے قریب بم گرائے۔
غزہ شہر کے جنوب میں الصبرہ محلہ کے علاقے الریس میں ایک اسرائیلی "کواڈ کاپٹر” نے فائرنگ کی۔
غزہ شہر کے مشرق میں زیتون اور الصبرہ کے محلوں میں دھماکوں کی شدید آوازیں سنائی دیں، جب کہ بمباری اور عمارتوں کو دھماکے سے اڑانے کا سلسلہ جاری رہا۔
قابض توپ خانے نے غزہ کی پٹی کے شمال میں جبالیہ النزلہ اور البلد کے علاقوں پر بھی بمباری کی۔
النصیرات میں العودہ ہسپتال نے اعلان کیا کہ البریج کیمپ میں البابا مال کے قریب قابض اسرائیلی طیاروں کی بمباری سے 4 افراد شہید اور 18 زخمی ہوئے ہیں۔ شہداء میں نہلہ العواودہ، حنان العواودہ، خالد البہبہانی اور کم سن محمد عبد جروان شامل ہیں۔
جمعرات کی شام، خان یونس کے مواصی میں شرعی عدالت کے پیچھے خفاجہ خاندان کے ایک خیمے پر فضائی حملے میں 2 شہری شہید ہو گئے۔
ایک اور حملے میں، قابض افواج کی بمباری سے البریج کیمپ کے داخلی راستے پر ابو عاصی اسٹیشن کے قریب 4 شہری شہید ہو گئے۔
جمعرات کی شام، جبالیہ النزلہ کے علاقے میں حلیمہ السعدیہ سکول کے قریب شہریوں کے ایک گروپ پر قابض فوج کے حملے میں 5 شہری شہید اور کئی دیگر زخمی ہو گئے، جن میں کرم ایہاب ابو وردہ اور احمد ہانی الہسی شامل ہیں۔
غزہ شہر کے مغرب میں الازہر چوک کے قریب ایک اپارٹمنٹ پر اسرائیلی بمباری میں 2 شہری شہید اور ایک زخمی ہو گیا۔
اسرائیلی ڈرون نے غزہ شہر کے جنوب میں الصبرہ محلہ کو بھی نشانہ بنایا، جبکہ شمالی غزہ میں بیت لاہیا شہر کے وسط میں ایک گھر پر فضائی حملہ کیا گیا۔
نسل کشی جاری ہے
امریکہ کی مکمل حمایت کے ساتھ، قابض اسرائیلی افواج غزہ کی پٹی پر ایک اجتماعی قتل عام کی جنگ جاری رکھے ہوئے ہے، جس کے نتیجے میں اب تک وزارت صحت کے مطابق 62,966 شہداء اور 159,266 زخمیوں کے علاوہ 10 ہزار سے زائد لاپتہ ہیں اور قحط نے درجنوں افراد کی جان لے لی ہے، جبکہ 20 لاکھ سے زائد فلسطینی مکمل تباہی کے درمیان جبری ھجرت کے حالات میں زندگی گزار رہے ہیں۔
قابض اسرائیل نے بچوں کو بے رحمی سے نشانہ بنایا اور 19 ہزار بچوں کو شہید کیا، جن میں سے 18 ہزار غزہ کے ہسپتالوں میں لائے گئے۔ ان بچوں کو فضائی یا توپ خانے کی بمباری یا قابض فورسز کے سنائپرز نے نشانہ بنایا تھا۔ اسی طرح 14,500 خواتین بھی شہید ہوئی ہیں، جو اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ کمزور طبقے قابض اسرائیل کا سب سے زیادہ نشانہ بنے۔
شہداء میں 11,121 اور 47,225 زخمی وہ ہیں جنہیں 18 مارچ سنہ2025ء کو جنگ بندی معاہدے سے قابض اسرائیل کے انکار کے بعد نشانہ بنایا گیا۔
گذشتہ 27 مئی کو جب قابض اسرائیل نے محدود امدادی تقسیم کے مراکز کو قتل گاہوں میں تبدیل کیا، تب سے شہداء کی تعداد 2180، زخمیوں کی تعداد 16,064 سے زائد اور لاپتہ افراد کی تعداد 45 ہو گئی ہے۔ اس کے علاوہ، نام نہاد "غزہ ہیومینیٹیرین فاؤنڈیشن” جو ایک اسرائیلی-امریکی ادارہ ہے اور بین الاقوامی سطح پر مسترد شدہ ہے، کو "انسانی امداد” کی آڑ میں محکوم بنانے اور قتل عام مسلط کرنے کے لیے ایک آلہ کار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔
قحط اور غذائی قلت کی وجہ سے شہداء کی تعداد بڑھ کر 317 ہو گئی ہے، جن میں 121 بچے شامل ہیں۔
قابض افواج نے 1,590 طبی عملے کے افراد، 123 شہری دفاع کے کارکنان، 245 نامہ نگاروں اور 754 پولیس و امداد فراہم کرنے والے اہلکاروں کو شہید کیا ہے۔
قابض افواج نے 15 ہزار سے زائد اجتماعی قتل عام کیے ہیں، جس میں 14 ہزار سے زائد خاندانوں کو نشانہ بنایا گیا، جن میں سے تقریباً 2500 خاندانوں کا وجود ہی سرکاری ریکارڈ سے مٹا دیا گیا ہے۔
غزہ میں حکومتی میڈیا آفس اور اقوام متحدہ کے اداروں کے اعداد و شمار کے مطابق، نسل کشی کی اس جنگ کے نتیجے میں غزہ کی پٹی کی 88 فیصد عمارتیں تباہ ہو چکی ہیں، جس کا مجموعی نقصان 62 بلین ڈالر سے زائد ہے۔ اس دوران، قابض افواج نے جارحیت، فائرنگ اور جبری ھجرت کے ذریعے غزہ کی پٹی کے 77 فیصد رقبے پر قبضہ کر لیا ہے۔
قابض اسرائیل نے 149 سکول، یونیورسٹیاں اور تعلیمی ادارے مکمل طور پر اور 369 کو جزوی طور پر تباہ کیا ہے۔ اس کے علاوہ، 828 مساجد کو مکمل طور پر اور 167 کو جزوی طور پر منہدم کیا گیا ہے، جب کہ 19 قبرستانوں کو بھی تباہ کیا گیا۔
Comments are closed.