بہار میں مجلس کیا کرے؟
عماد عاقب مظفر پوری
مجلس اتحاد المسلمین جس طرح تلنگانہ میں صرف حیدرآباد شہر کی آٹھ یا نو سیٹوں پر اکیلے الیکشن لڑتی ہے ، ویسے ہی بہار کے سیمانچل کی سات تا دس نشستوں پر اکیلے الیکشن لڑے ، دو ہزار پچیس میں مجلس دس نشستوں سے زیادہ پر الیکشن نہ لڑے ، ان پانچ سیٹوں پر ضرور الیکشن لڑے ، جہاں وہ دو ہزار بیس میں کامیاب ہوئی تھی ، اور دلتوں کے لیےریزرو چار محفوظ سیٹوں پر الیکشن لڑے ۔
مجلس بہار کے اپنے سکریٹری رنجیت رانا کو اس کے بڑے بھائی اور دس سالوں سے بی جے پی کے ممبر اسمبلی رندھیر رانا کے مقابلے مدھوبن سیٹ سے الیکشن لڑائے ،
اس سے دو باتیں معلوم ہو جائیں گی
1- سیتارام سنگھ کا اصلی سیاسی وارث ان کا بڑا بیٹا رندھیر ہے یا چھوٹا بیٹا رنجیت ہے ، سیتارام سنگھ 1985 سے دو ہزار چار تک مدھوبن سے ممبر اسمبلی تھے ۔
2- ہندؤں میں اسد الدین اویسی صاحب اور مجلس اتحاد المسلمین کی مقبولیت کتنی ہے ،
رنجیت رانا کو تینتیس فیصد مسلم آبادی والے ڈھاکہ سے اسد الدین اویسی صاحب نے بہار اسمبلی انتخابات سے پانچ چھ ماہ قبل امیدوار بناکر مسلمانوں سے ایک سیٹ چھیننے کی کوشش کی ہے ،
ڈھاکہ سے کئی بار مسلمان کامیاب ہوئے ہیں ، وہاں سے راشٹریہ جنتادل کے امیدوار فیصل صاحب دو ہزار پندرہ میں جنتادل کے ٹکٹ پر منتخب ہوئے تھے ، دو ہزار دس اور بیس میں وہ دوسرے نمبر پر تھے ، مسلم ووٹوں میں انتشار کی وجہ سے گذشتہ کئی انتخابات میں یہاں سے بھارتیہ جنتا پارٹی کے امیدوار کامیاب ہوئے ہیں ،
رنجیت رانا یہاں سے جیت نہیں سکتے البتہ بی جے پی کے لیے راستہ آسان کرسکتے ہیں ۔
Comments are closed.