حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت
مولانا انیس الرحمن قاسمی
کارگزارصدرآل انڈیا ملی کونسل وصدر ابوالکلام ریسرچ فاؤنڈیشن،پٹنہ
امیر شریعت بہار،اڈیشہ وجھارکھنڈ
اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی ہدایت کے لیے اپنے رسولوں کو اس دنیا میں بھیجا جو اپنے اپنے دور کے اعتبارسے خدائی احکام لے کر آئے ،پھر سب کے آخر میں اللہ نے آخری نبی حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم کو ایک جامع اور مکمل شریعت دے کر بھیجا اورآپ کی ذات اور سیرت کونمونہ و روشن بنایا؛ اسی لیے نہ صرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تئیس سالہ نبوی زندگی کے خلوت وجلوت کے حالات اورمعاشرت وسیاست اور سفروحضر کے واقعات محفوظ ہیں؛بلکہ نبوت سے پہلے کی زندگی کے حالات بھی روشن دن کی طرح ہیں، جس کا کوئی پہلو نگاہوں سے اوجھل نہیں ہے۔
رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مشہور روایت کے مطابق12 ربیع الاول عام الفیل( 20،یا22؍اپریل570ء) میں مکہ مکرمہ میں پیدا ہوئے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو عمرکے چالیسویں سال میں اللہ کی طرف سے نبوت عطاہوئی۔جس کے بعد 23سال آپ نے دعوت وتبلیغ کا کام کیا اورعمر مبارک کے تریسٹھ سال ہونے پر آپ کا وصال 12؍ربیع الاول11ھ میں سوموار کے دن ہوا۔
توحید:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری سیرت کا مرکزی اور بنیادی پیغام توحید ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کا آغاز بھی اسی سے ہوا اور اختتام بھی اسی پر ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سب سے پہلے اہلِ مکہ کو یہی پیغام دیا کہ وہ شرک و بت پرستی کو چھوڑ کر صرف ایک اللہ کی عبادت کریں۔قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ نے نبیوں کی بعثت کا مقصد یوں بیان فرمایا:(ترجمہ)’’اورواقعہ یہ ہے کہ ہم نے ہر امت میں کوئی نہ کوئی پیغمبر اس ہدایت کے ساتھ بھیجا ہے کہ تم اللہ کی عبادت کرو اورطاغوت سے اجتناب کرو‘‘۔(النحل: 36)مکہ مکرمہ کے تیرہ سالہ دور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے توحید،آخرت،رسالت،اخلاقیات اورنماز وغیرہ احکام کی دعوت دی۔
رسالت:
رسالت پر ایمان اسلام کی بنیاد ہے۔اللہ جل شانہ نے رسول پر ایمان اوراطاعت کو اپنی اطاعت قراردیا،ارشادباری تعالیٰ ہے:(ترجمہ) رسول کی اطاعت دراصل اللہ کی اطاعت ہے۔(النساء:80)
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایمان کی تعریف کرتے ہوئے فرمایاہے کہ’’ایمان یہ ہے کہ تم اللہ، اس کے فرشتوں، اس کی کتابوں، اس کے رسولوں اور آخرت پر ایمان لاؤ‘‘۔(مسلم، کتاب الإیمان، حدیث: 8)
آخرت:
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کا سب سے ایک نمایاں پہلو یہ ہے کہ آپ نے انسان کو دنیا کی فانی و عارضی زندگی کے دھوکے سے نکال کر آخرت کی ابدی اور حقیقی زندگی کی طرف متوجہ کیا۔قرآنِ کریم میںہے:(ترجمہ)’’اورحقیقت یہ ہے کہ دار آخرت ہی اصل زندگی ہے،اگر یہ لوگ جانتے ہوتے‘‘۔(العنکبوت: 64)
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو توحید کے ساتھ ساتھ آخرت کی جوابدہی یاد دلاتے رہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم دعا کرتے ہوئے فرمایا کرتے تھے:’’اے اللہ! زندگی تو بس آخرت کی زندگی ہے‘‘۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم بارہا صحابہ کرامؓ کو جنت کی خوشخبری اور جہنم کے عذاب سے ڈراتے اور ان کے دلوں میں یہ بات راسخ کرتے کہ نجات صرف آخرت میں کامیاب ہونے کا نام ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت، عبادت، اخلاق اور تربیت سب اسی آخرت کے یقین پر مبنی تھیں، اسی کو قرآنِ کریم نے کامیابی کہا ہے۔ارشاد باری تعالیٰ ہے:(ترجمہ)’’پھر جس کسی کو (آخرت میں)دوزخ سے دور ہٹالیا گیا اورجنت میں داخل کردیا گیا،وہ صحیح معنی میں کامیاب ہوگیا‘‘۔(آل عمران: 185)
اخلاق کی اہمیت:
اللہ تعالی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کوروشن چراغ بناکراعلیٰ اخلاق عطاکیاتھا اورآپ سارے عالم کے لیے رحمت بنا کر بھیجے گیے ، اللہ جل شانہ نے فرمایاہے: (ترجمہ) ’’اور ہم نے آپ کو سارے جہان والوں کے لیے رحمت بناکر بھیجا ‘‘۔(سورۃ الانبیاء:107)
اللہ رب العزت نے دوسری جگہ فرمایاہے:(ترجمہ)’’بلاشبہ اے نبی آپ بلند اخلاق پرفائز ہوئے‘‘۔(سورۃ النون:4)
یہ بھی فرمایا ہے:(ترجمہ)’’بے شک تم لوگوں کے لیے اللہ کے رسول میں ایک بہترین نمونہ ہے‘‘۔(سورۃ الأحزاب:20)
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بارے میں ارشادفرمایاہے:’’میںاخلاق حسنہ کی تکمیل کے لیے بھیجا گیاہوں‘‘۔(مسند البزار،مسند عبداللہ بن عباس، حدیث نمبر:8949)
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کے بارے میں فرمایاہے کہ’’تم میں سب سے اچھے وہ ہیں، جن کے اخلاق اچھے ہوں‘‘۔(صحیح البخاری،باب صفۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم،حدیث نمبر:3559)
اخلاق وصفات:
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ خوش گوار، خوش مزاج رہتے تھے، اخلاق کریمانہ کے حامل تھے،بہت آسانی سے دوسروں کی طرف توجہ فرماتے تھے، سخت دل اور ترش رو نہ تھے،چیختے چلاتے نہ تھے، برے اور بے حیانہ تھے، کسی کی عیب جوئی نہ کرتے تھے اور نہ بخیل وکنجوس تھے،جس چیز کو ناپسند کرتے تھے، اس سے پرہیزکرتے تھے ،مگر پیش کش کرنے والوں کو اپنے کرم سے مایوس نہیں کرتے تھے اور نہ اس کا و عدہ کرتے تھے۔آپ نے اپنی ذات کوتین چیزوں سے بچالیاتھا: لڑائی جھگڑا کرنے سے، کبروغرور سے اور فضول کاموں سے اور لوگوں کو بھی تین چیزوں سے محفوظرکھا :کسی کی برائی بیان کرنے سے ،نکتہ چینی کرنے سے اورپوشیدہ باتوں کے پیچھے پڑنے سے، آپ وہی بات کرتے تھے، جس میں نیکی اور ثواب کی امید ہوتی تھی اور جب گفتگو فرماتے تھے توآپ کے ہم نشین صحابہ اس طرح خاموشی اورتوجہ سے بات سنتے تھے، جیسے ان کے سروںپرپرندے بیٹھے ہوں(کہ ذراسی حرکت نہیں کرتے تھے)، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہوجاتے تھے توآپ کے صحابہ باتیں کرتے تھے؛مگر بحث وتکرار نہیں کرتے تھے ،یہاں تک کہ وہ اپنی بات مکمل کرلیں۔صحابہ کرام جن باتوںپرہنستے،آپ بھی مسکرادیتے، جس بات پر صحابہ تعجب کرتے، آپ بھی حیرت کااظہار فرماتے، اگر کوئی اجنبی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میںآکر نادانی اور سختی سے بات کرتا، تو اس کی زبان درازی پرصبرکرتے، جب کہ صحابہ اس نادان شخص کو سزا دینے پرآمادہ ہوجاتے؛ مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ سے فرماتے، جب تم کسی ضرورت مند کو دیکھو کہ وہ تم سے سوال کررہا ہے تو تم اس کی ضرورت پوری کردو۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سامنے اپنی تعریف کسی سے سننا پسند نہیں کرتے تھے؛مگر یہ کہ کسی پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے احسان کیا اور وہ شکریہ ادا کرنے آیا ۔آپ کسی کی بات درمیان میں کاٹتے نہیں تھے ،مگر یہ کہ وہ حد سے تجاوز کرنے لگے، اس صورت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم یاتو اسے روک دیتے،یا کھڑے ہوجاتے۔(شمائل الترمذی ،باب ماجاء فی خلق رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم،حدیث نمبر:329)
شفقت واکرام:
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بڑوں کاادب کرتے اورچھوٹوں پر شفقت فرماتے۔حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے نواسہ حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ کو بوسہدیا،اقرع بن حابس تمیمی رضی اللہ عنہ موجودتھے۔انہوں نے کہا: میرے دس بیٹے ہیں ،میں نے کبھی کسی کو بوسہ نہیں دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی جانب دیکھ کر فرمایا : ’’من لا یرحم لا یرحم‘‘۔(صحیح البخاری،باب رحمۃ الولد وتقبیلہ ومعانقنہ،حدیث نمبر:5997)’’جور حم نہیں کرتا، اس پررحم نہیں کیاجاتا‘‘۔
اسی طرح انصاف کے معاملے میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم بالکل سخت تھے۔ قبیلہ مخزوم کی ایک خاتون سے چوری کا جرم ثابت ہوا۔ اس کے رشتہ داروں نے حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ کو سفارش کے لیے بھیجا۔ حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’تم سے پہلی امتیں اسی لیے ہلاک ہوئیں کہ وہ کمزوروں پرحد جاری کرتے تھے اورمعزز لوگوں کو چھوڑ دیتے تھے۔اللہ کی قسم! اگر فاطمہؓ بنت محمدبھی یہ جرم کرتیں تو میں ان کا بھی ہاتھ کاٹتا‘‘۔(صحیح البخاری،باب إقامۃ الحدود علی الشریف والوضیع،حدیث نمبر:6787)
خدمت خلق
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت خدمت خلق اوراانسانوں کی حاجت روائی کا اعلیٰ نمونہ ہے،یہاںتک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم عام لوگوںکے راستہ کوتنگ رکھنے اوراس کوگندہ کرنے سے بھی منع فرماتے تھے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’مسلمانوںکے راستہ سے تکلیف دہ چیز کودورکردو‘‘۔(صحیح مسلم،فصل ازالۃ الاذی عن الطریق،حدیث نمبر:2618)
آ پ صلی اللہ علیہ وسلم نے سماج کے کمزور افراد، بچے، عورتیں، مزدور، غلام، ضعیف، اپاہچ، مسکین،یتیم،بیمار اور پریشان حال افرادکے ساتھ حسن سلوک کی تاکیدکی اورعملی طورپران کے ساتھ بہتر برتاؤکرکے تمام انسانوںکے لیے نمونہ بنے۔
گھریلوزندگی:
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی گھریلو زندگی بھی نہایت سادہ تھی۔فقر وفاقہ سے دوچار رہتے؛مہینوں گھر میں چولہا نہیں چلتا۔دودھ،کھجور وغیرہ پر زندگی بسر ہوتی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اوقات کوتین حصوںمیںتقسیم کررکھاتھا:ایک حصہ اللہ کی عبادت کے لیے،دوسراحصہ لوگوںسے ملاقات اوراُنہیںدین کی تعلیم دینے کے لیے اورتیسراحصہ اہل خانہ کے لیے مخصوص فرماتے ۔جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھر تشریف لاتے تو اپنی ازواج مطہرات کے ساتھ محبت،الفت اور خوش اخلاقی سے پیش آتے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ تم میں سب سے بہتر وہ ہے،جو اپنے اہل خانہ کے لیے بہتر ہو اورمیں تم سب میں اپنے اہل وعیال کے لیے سب سے بہتر ہوں‘‘۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اقارب اور رشتہ داروں کا بھی بے حد خیال رکھتے تھے، سب سے پہلے دین کی دعوت بھی انہی کو دیتے اور راہ حق کی طرف بلاتے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کواس کی تاکید فرمائی:(ترجمہ)’’اے پیغمبر!تیرے پروردگار کی طرف سے جو کچھ تیرے پاس آیا ہے، اس کو پہنچا دے، اگر تو نے ایسا نہیں کیا تواپنے رب کا پیغام نہیں پہنچایا اور اللہ تم کو لوگوں سے بچالے گا‘‘۔(سورۃ المائدۃ:67)
تعلیم وتربیت:
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی پوری زندگی کو تعلیم وتربیت کے لیے وقف کردیا۔آپ نے لوگوں کو عقیدۂ توحید،عبادات،معاملات،اخلاق اورحقوق العباد کی تعلیم دی۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہر قول،ہر عمل اورہرانداز امت کے لیے سبق آموز تھا۔مسجد نبوی ہی درسگاہ اورتربیت گاہ تھی،جہاں آپ اپنے اصحاب کو قرآن کی تلاوت سناتے،دین کے احکام سکھاتے اورعملی نمونہ پیش کرتے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کرام کو نہ صرف دین کاعلم دیا؛بلکہ عملی طور پر ان کی ایسای تربیت فرمائی کہ وہ دنیا کے گوشے گوشے میں اسلام کی روشنی پھیلانے والے داعی اورمعلم بن گئے۔
دعوت وتبلیغ:
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعوت وتبلیغ کاآغاز اپنے خاندان اور گھروالوں سے کیا۔ اس کے بعد آپ نے دوسرے لوگوں کو اللہ کی وحدانیت کی طرف بلایا۔ اگرچہ ابتدا میں قریش مکہ اوردیگر لوگوں نے آپ کی دعوت کورد کیا؛ مگرآپ ثابت قدم رہے اورحق کا پیٖغام مسلسل پہنچاتے رہے،یہاں تک کہ اللہ کے حکم سے آپ ہجرت فرماکرمدینہ منورہ تشریف لے گئے اور وہاں آپ نے دس سال تک دعوت وتبلیغ کا فریضہ انجام دیا۔ابتدا میں مدینہ منورہ میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو قریش کی مخالفت اور مزاحمت کاسامنا کرناپڑا ؛لیکن وقت کے ساتھ ساتھ حالات سازگار ہوتے گئے۔قریش کا رجحان اسلام کی طرف بڑھا اوربالآخر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری دور میں پورے عرب میں اسلام پھیل گیا۔
اللہ کی یاد:
خدمت خلق کے ساتھ ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہر وقت اللہ کویادرکھتے۔نمازوںکے بارے میںآپ کامعمول یہ تھاکہ آپ فرائض کے ساتھ نوافل بھی آٹھ اوقات میں ادا فرماتے۔سورج نکلنے سے پہلے فجر اورسورج نکلنے کے بعداشراق، اس کے کچھ دیربعد چاشت،سورج ڈھلنے کے بعد ظہر،پھر عصر، مغرب، عشا اوررات کے آخری حصے میں تہجد،آپ رات رات بھرعبارت میں کھڑے رہتے،یہاں تک کہ قدم مبارک میںورم آجاتا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہانے عرض کیا:اللہ تعالی نے توآپ کی ہرطرح مغفرت فرمادی ہے، پھرآپ اتنی مشقت کیوں اٹھاتے ہیں؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اے عائشہ !کیا میںاللہ کاشکرگزاربندہ نہ بنوں۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زندگی میں چار مرتبہ عمرہ کیا اوریہ سب عمرے آپ نے ہجرت کے بعد کئے۔حج صرف ایک بارادا کیا،جسے حجۃالوداع کہاجاتا ہے،یہ حج آپ نے 10ہجری میں ادا فرمایا،اس موقع پر آپ نے تاریخ ساز خطبہ ارشادفرمایا،جو اسلامی تعلیمات اورانسانی حقوق کا جامع منشور ہے۔اس خطبہ میں آپ نے توحید، نماز، زکوٰۃ، روزہ، عورتوں کے حقوق، غلاموں کے ساتھ حسن سلوک، مسلمانوں کی جان ومال کی حرمت اورمساوات انسانی جیسے بنیادی اصول بیان کئے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’آج کے بعد کوئی شخص دوسرے کا خون ناحق نہ بہائے،نہ کسی کا مال ناجائز طریقہ سے لے اورنہ ہی عورتوں کے حقوق پامال کرے‘‘۔اسی حجۃالوداع کے موقع پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی:(ترجمہ):’’آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کردیا،تم پر اپنی نعمت پوری کردی اورتمہارے لیے اسلام کو دین کے طور پر (ہمیشہ کے لیے) پسند کرلیا‘‘۔(سورہ مائدہ:3)
یہی حال روزوں کاتھا،عام مسلمانوں پررمضان کے روزے فرض تھے؛لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ایسا کوئی ہفتہ اورمہینہ نہیں گزرتا،جس میں آپ نے نفلی روزے نہ رکھے ہوں۔آپ اکثرہرمہینے تین روزے رکھتے اورپیروجمعرات کے روزوں کا اہتمام فرماتے۔اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم صدقہ وخیرات میں سب سے آگے تھے،یہاں تک کہ گھر میں جو کچھ ہوتا،اسے مانگنے والے کو دے دیا کرتے تھے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ ہمارے کے لیے روشنی کا مینار ہے۔آپ کی عبادات، معاملات، اخلاق اورانسانیت نوازی قیامت تک آنے والی نسلوں کے لیے مشعل راہ ہیں۔آج امت مسلمہ کی کامیابی اسی میں مضمر ہے کہ ہم حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوۂ حسنہ کو اپنائیں،اپنی انفرادی اوراجتماعی زندگی کو قرآن وسنت کے مطابق ڈھالیں اوراسلام کے عادلانہ وانسان دوست پیغام کو دنیا تک پہنچائیں۔اللہ رب العزت ہم سب کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کی صحیح اتباع کی توفیق عطافرمائے اورہمیں آپ کے بتائے ہوئے راستہ پرقائم رکھے۔ (آمین یارب العالمین)
Comments are closed.