جناب عبدالمتین صاحب نے اپنی ملی خدمات کے گہرے نقوش چھوڑے ،ان کی رحلت سے علاقہ غمناک:قاضی محمد انظار عالم قاسمی

 

پھلواری شریف (پریس ریلیز)

ضلع سمستی پور کے موضع سرسیا کی مشہور و معروف اور ممتازملی و سماجی شخصیت جناب الحاج عبدالمتین صاحب بن محمد علی صاحب کئی ماہ کی طویل علالت کے بعد 29 اگست 2025 کی شب اس دار فانی سے دار البقاء کی طرف کوچ کر گئے ،انا للہ وانا الیہ راجعون ‘‘انتقال کے وقت ان کی عمر 77 سال تھی مرحوم کا اپنے علاقے میں بڑا اثر و رسوخ تھا وہ لوگوں کے ساتھ آپسی تنازعات کو باہمی صلاح و مشورہ سے حل کرنے میں ید طولیٰ رکھتے تھے ،اس کےلیے اکثر علاقے کے دور دراز مقامات تک کا بھی سفر کرتے تھے،جہاں ان کے فیصلوں پر فریقین رضا مندی ظاہر کرتے ،دینی و عصری تعلیم اور قانونی نکات پر ان کی گہری نظر تھی جس سے لوگوں میں اعتماد و اعتبار حاصل تھا،مرحوم کے والد ماجد جناب محمد علی صاحب اپنی تحریکی سرگرمیوں کے باعث انگریزوں کی طرف سے صاحب بہادر کے خطاب سے نوازے گئے تھے ،ان کے دادا جان جناب حفاظت علی بزرگان دین کے تربیت یافتہ تھے ان کا حضرت شیخ طریقت ،عارف باللہ فضل رحماں گنج مراد ابادیؒ سے عقیدت مندانہ تعلق تھا اس پاکیزہ رشتے میں ایسی استواری آئی کہ قطب عالم حضرت مولانا محمد علی مونگیریؒ سے بیعت وارشاد تک جا پہنچا،اس کے بعد یہ پورا خاندان خانقاہ رحمانی مونگیر سے وابستہ ہوا،اور زندگی بھر بزرگوں کے سایۂ شفقت سے یہ سب لوگ دل و دماغ کو منور کرتے رہے، مرحوم قطب زماں امیر شریعت رابع حضرت مولانا سید شاہ منت اللہ رحمانیؒ سے بیعت تھے ،حضرت ؒ کے بعد مفکر اسلام امیر شریعت سابع حضرت مولانا سید محمد ولی رحمانیؒ سے اصلاحی تعلق قائم کیا، ان کا امارت شرعیہ بہار، اڈیشہ وجھارکھنڈ سے بھی قلبی لگاؤ تھا آپ یہاں کی مختلف مجالس کے سرگرم رکن تھے ایسے با فیض ملی شخصیت کا ہمارے درمیان سے اٹھ جانا بلاشبہ ایک بڑا سانحہ ہے ان کے وصال پر امیر شریعت بہار، اڈیشہ وجھارکھنڈ حضرت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی مدظلہ نے دلی صدمہ کا اظہار کیا ،اور اپنے تعزیتی پیغام میں فرمایا کہ جناب عبدالمتین صاحب سماجی خدمات کے جو گہرے نقش چھوڑگئے وہ نئی نسل کے لیے مشعل راہ ہیں اللہ ان کی خدمات کو شرف قبولیت سے نوازے ،امارت شرعیہ بہار، اڈیشہ وجھارکھنڈ کے ناظم مولانا مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی صاحب نے مرحوم کی وفات پر گہرےرنج وغم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنی پوری زندگی ملت کو بنانے ، سنوارنےاور فلاح وبہبود میں لگائی اور نیک نامی کے ساتھ رب ذوالجلال سے جا ملے ان کا انتقال علاقہ والوں کے لیے بڑا سانحہ ہے، مرحوم کی نماز جنازہ جامعہ رحمانی مونگیر کے استا ذحدیث حضرت مولانا جمیل احمد مظاہری نے پڑھائی پھر ان کی تدفین آبائی قبرستان سرسیا میں ہوئی، حضرت امیر شریعت مدظلہ کی ہدایت پر تجہیز و تکفین میں شرکت کے لیے امارت شرعیہ بہار اڈیشہ و جھارکھنڈ کا ایک اعلی سطحی وفد صدر قاضی شریعت مولانا محمد انظار عالم قاسمی کی قیادت میں سرسیا وارد ہوا، اس وفدمیں مولانا محمد ثاقب رحمانی صاحب،مولانا خورشیدالضحیٰ صاحب قاضی شریعت دارالقضاء بردونی سمستی پور اور مولانا محی الدین صاحب شریک رہے، جبکہ خانقاہ رحمانی مونگیر سے مولانا جمیل احمدمظاہری کے علاوہ مولانا سیف الرحمن صاحب استاذ جامعہ رحمانی مونگیر اور مولانا رضی احمد ندوی جامعہ رحمانی مونگیر نے شرکت کی، نماز جنازہ میں علاقہ اور اس کے قرب و جوار کے سینکڑوں فرزندان توحید نےشرکت کی، اس موقع پر صدر قاضی شریعت مولانا محمد انظار عالم قاسمی نے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مرحوم علاقے کے ایک بڑے دانشور اور دور اندیش آدمی تھے ،اعتدال پسندی کے ساتھ صائب الرائےتھے، ان کے وصال سے ہم سب لوگ ملی درد رکھنے والی ایک عظیم شخصیت سے محروم ہو گئے، اللہ تعالی ان کے حسنات کو قبول فرمائے اور پسماندگان کو صبر و ثبات کی توفیق بخشے، مجھے ذاتی طور پر بھی اس سانحے سے گہرا صدمہ پہونچا،اب ہم ان کی شفقتوں سے محروم ہو گئے، اس غم میں ہم سب اہل خانہ کے ساتھ برابر کے شریک ہیں اور مرحوم کے لیے مغفرت اور پسماندگان کے لیے صبر کی دعا کرتے ہیں،امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ کے تمام ذمہ داران وکارکنان مرحوم کے لیے بلندی درجات کی دعاکرتے ہیں قارئین کرام سے بھی دعاء مغفرت کی درخواست ہے۔

Comments are closed.