امارت شرعیہ اور دارالعلوم دیوبند کے مقاصد کا اشتراک امام انقلاب کی زبانی
مکرمی!
امت مسلمہ کی تاریخ اس حقیقت کی شاہد ہے کہ جب بھی حالات کی سختیاں اور آزمائشیں مسلمانوں پر ٹوٹ پڑیں، اللہ تعالیٰ اپنے مخلص بندوں کے ذریعے ایسے ادارے اور تحریکیں قائم کراتا رہا، جو دین کی بقا، شریعت کی حفاظت اور ملت کے اجتماعی شیرازے کو جوڑے رکھنے کا ذریعہ بنتی رہیں۔ برصغیر کی تاریخ میں دو عظیم ادارے ایسے نمایاں صفات کے حامل ہیں جنہوں نے مسلمانوں کی دینی و اجتماعی زندگی کو سہارا دیا: ایک دارالعلوم دیوبند اور دوسرا امارت شرعیہ بہار، اڈیشہ جھارکھنڈ و مغربی بنگال۔ امارت شرعیہ کے قیام کا مقصد تو جگ ظاہر ہے مگر دارالعلوم دیوبند کے قیام کا مقصد بھی دراصل وہی تھا جسے امام انقلاب مولانا عبیداللہ سندھیؒ نے بڑی وضاحت اور صراحت کے ساتھ بیان فرمایا۔
امام انقلاب اپنی مشہور کتاب موقف المسترشدین میں لکھتے ہیں:
ثُمَّ إِنْ كَانَ قُطْرٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ تَغَلَّبَ عَلَيْهِ الْكُفَّارُ، وَجَبَ عَلَى عَامَّةِ الْمُسْلِمِينَ الَّذِينَ لَا يَقْدِرُونَ عَلَى الْهِجْرَةِ أَنْ يَنْصِبُوا لَهُمْ إِمَامًا يَرْجِعُونَ إِلَيْهِ فِي التَّعْلِيمِ وَالْفُتْيَا. وَمَشَائِخُنَا الَّذِينَ أَسَّسُوا الْمَدْرَسَةَ الدِّيُوبَنْدِيَّةَ بِقُرْبِ دِهْلِي وَفُرُوعًا لَهَا فِي أَطْرَافِ الْهِنْدِ كَانَ مَقْصَدُهُمْ أَدَاءَ هَذَا الْوَاجِبِ. فَبَارَكَ اللهُ فِي صَنِيعِهِمْ، وَتَخَرَّجَ مِنْهَا فَوْجٌ بَعْدَ فَوْجٍ عَلَى السَّلِيقَةِ الْوَاحِدَةِ الْوَلِيِّ اللهِيَّةِ الْحَنَفِيَّةِ.
"پھر اگر مسلمانوں کا کوئی خطہ ایسا ہو جس پر کافروں کا غلبہ ہو جائے، تو ان عام مسلمانوں پر جو ہجرت پر قادر نہ ہوں یہ واجب ہے کہ اپنے لیے ایک امام مقرر کریں، جس کی طرف تعلیم و فتویٰ کے معاملات میں رجوع کریں۔ اور ہمارے مشائخ جنہوں نے دہلی کے قریب دارالعلوم دیوبند کی بنیاد رکھی اور پھر اس کی شاخیں ہندوستان کے اطراف میں قائم کیں، ان کا مقصد دراصل اسی واجب کی ادائیگی تھا۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ان کے عمل میں برکت عطا فرمائی اور ان مدارس سے یکے بعد دیگرے ولی اللہی اندازِ حنفیت رکھنے والی جماعتیں پیدا ہوتی رہیں۔”
حوالہ: موقف المسترشدین از امام انقلاب مولانا عبید اللہ سندھیؒ بحوالہ شوریٰ کی شرعی حیثیت از مولانا ریاست علی بجنوریؒ ص
امام انقلابؒ کی یہ بات آج بھی ہمارے لئے مشعلِ راہ ہے۔ اس اقتباس میں دو بنیادی نکات سامنے آتے ہیں:
1. فقہی و شرعی بنیاد: اگر کسی خطے میں مسلمانوں پر کفار کا غلبہ ہو اور ہجرت ممکن نہ ہو تو مسلمانوں پر لازم ہے کہ وہ اپنے دینی و اجتماعی معاملات کی رہنمائی کے لئے ایک امام مقرر کریں۔ یہ اجتماعی قیادت کی ضرورت کو واضح کرتا ہے۔
2. دارالعلوم دیوبند کا مقصد: دارالعلوم دیوبند کی بنیاد حجۃ الاسلام مولانا قاسم نانوتوی رحمہ اللہ نے 31 مئی 1866 کو اسی مقصد کے تحت رکھی تھی کہ مسلمانوں کے لئے ایک ایسا علمی و دینی مرکز ہو، جہاں سے علماء تیار ہوں، فتویٰ اور تعلیم کے نظام کو زندہ رکھا جائے اور ملت کو دینی قیادت فراہم کی جائے اور اسلام کے نظام حکومت و امارت کی نشأۃ ثانیہ کے لیے افراد مہیا کئے جائیں۔
یہی مقصد بعد میں امارت شرعیہ کے قیام میں بھی کارفرما رہا۔ مولانا ابو المحاسن سجاد رحمہ اللہ نے اسی شرعی اصول کو سامنے رکھ کر اس وقت کے علمائے کرام کے مشورے اور تائید سے 26/ جون 1921 میں "امارت شرعیہ” کی بنیاد رکھی، تاکہ مسلمانوں کے لئے اجتماعی قیادت اور دینی و دنیوی معاملات میں ایک منظم مرکز میسر آ سکے۔
اشتراکِ مقاصد
دارالعلوم دیوبند نے ملت کو علماء، مفتیان اور دینی رہنما فراہم کیے۔ امارت شرعیہ نے ملت کو اجتماعی قیادت، اتحاد اور عملی رہنمائی کا مرکز فراہم کیا۔ دونوں کا مقصد دراصل ایک ہی تھا: مسلمانوں کے دین کی حفاظت، اجتماعی شیرازے کو جوڑے رکھنا، اور شریعت و نظام امارت کی بنیاد پر ملت کے مستقبل کی تعمیر
یوں کہا جا سکتا ہے کہ دارالعلوم دیوبند نے قیادت تیار کی اور مولانا ابو المحاسن سجاد رح نے امارت شرعیہ کے ذریعے ان قیادتوں کو اجتماعی نظم کے تحت بروئے کار لانے کی سبیل نکالی۔ یہی وہ رشتہ ہے جو امام انقلاب کے اس کلام کو سمجھنے کے بعد اور زیادہ نمایاں ہو کر سامنے آتا ہے۔
قیام الدین قاسمی سیتامڑھی 7070552322
Comments are closed.