الیکشن کمیشن ایس آئی آر کے وقت میں توسیع کرے:آل انڈیا ملی کونسل بہار
پھلواری شریف، 31 اگست(پریس ریلیز)
آل انڈیا ملی کونسل بہار کی ریاستی مجلسِ عاملہ کی میٹنگ آج کارگزار قومی صدرحضرت مولانا انیس الرحمن قاسمی صاحب کی صدارت میں منعقد ہوا۔اجلاس کا آغازحافظ حذیفہ سالک کی تلاوت کلام پاک سے ہوا، بعد ازاں مفتی محمد جمال الدین قاسمی، رفیق آل انڈیا ملی کونسل بہار نے نعتِ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پیش کی۔افتتاحی کلمات آل انڈیا ملی کونسل بہارکے صدر مولانا ڈاکٹر محمد عالم قاسمی نے پیش کیے۔ اس موقع پر انہوں نے سیرتِ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اس ماہ کی نسبت بھی سیرتِ رسول ﷺ سے ہے اور زندگی کے تمام شعبوں میں سیرت ہی اصل رہنمائی فراہم کرتی ہے۔
مولانامحمد نافع عارفی جنرل سکریٹری آل انڈیا ملی کونسل بہارنے ملی کونسل بہار کی کارکردگی پر مشتمل تفصیلی رپورٹ میٹنگ میں پیش کیا۔ اس موقع پرانہوں نے بتایا گیا کہ ملی کونسل نے مختلف شعبوں میں نمایاں سرگرمیاں انجام دی ہیں۔ وقف بل کے پارلیمنٹ میں پیش ہونے سے قبل ہی کونسل کی اعلیٰ قیادت نے اس کے خطرات کو محسوس کر کے آواز بلند کی۔ ملک میں بڑھتی ہوئی فرقہ پرستی، لاقانونیت اور حکومتوں کی جانب سے ایسے قوانین کی تیاری جو آئین ہند کی بنیادی دفعات کے خلاف ہیں، ان کے سدباب کے لیےدستور بچاؤ، دیش بچاؤ مہم پورے ملک میں چلائی گئی۔رپورٹ میں کہا گیا کہ اکتوبر 2024 کے پہلے ہفتے میں دربھنگہ کے بیرول، سپول، سیتامڑھی، سہرسہ اور مدھے پورہ جیسے علاقوں میں تباہ کن سیلاب آیا، جس سے لاکھوں افراد متاثر اور سینکڑوں مکانات تباہ ہوئے، متاثرین کی امداد کے لیے ملی کونسل بہار نے سپول (دربھنگہ) کو مرکز بنا کر ایک ماہ تک راحتی اشیاء، کپڑے، صاف پانی اور نل فراہم کیے۔ سردی کے موسم میں کمبل اور نئے کپڑے ،جب کہ رمضان کے موقع پر راشن کٹ تقسیم کیے گئے۔ اسی طرح میڈیکل کیمپوں کے ذریعہ غریب مریضوں کا علاج اور فری آنکھوں کے آپریشن بھی کرائے گئے۔تعلیمی میدان میں دربھنگہ، مظفرپور اور بیگوسرائے میں ملی مکتب قائم کیے گئے، جبکہ مظفرپور اور ویشالی میں سلائی سینٹر کھولے گئے۔ کونسل کی کوشش ہے کہ ہر علاقے میں مکاتب اور سلائی سینٹر قائم ہوں۔ اس کے علاوہ دعوتی اور اصلاحی دورے مشرقی ومغربی چمپارن، سیتامڑھی، مدھوبنی، دربھنگہ، سوپول، بیگوسرائے، نالندہ اور گیا میں کیے گئے اورمشن تعلیم2050 کے تحت تعلیمی تحریک کو مضبوط بنایا گیا۔ایس آئی آر کے سلسلے میں بھی ملی کونسل نے زمینی سطح پر کام کیا اور بی ایل او کے ذریعہ فارم بھرنے کے لیے کارکنوں کو متحرک کیا۔ ہندو مسلم تعلقات کی بہتری کے لیے کارگزار صدر صاحب نے مختلف مذہبی اداروں کا دورہ کیا، جس سے بین المذاہب تعلقات میں مثبت پیش رفت ہوئی۔اسی طرح کونسل نے ابوالکلام ریسرچ فاؤنڈیشن کے تعاون سے قرآن کریم کے اردو تراجم و تفاسیر اور سیرت رسول ﷺ پر سیمینار کرائے، جب کہ نومبر 2025 میں احادیث رسول ﷺ اور علمائے بہار کی خدمات پر سیمینار منعقد کرنے کا منصوبہ ہے۔ اس کے لیے اب تک تیس سے زائد محققین کو مقالات کی دعوت دی جا چکی ہے۔رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ کونسل کے تحت غریب اور نادار طلبہ و طالبات میں درسی و غیر درسی کتابیں تقسیم کی گئی ہیں تاکہ تعلیم کے فروغ میں مدد مل سکے۔
میٹنگ میں ایس آئی آر (SIR) کے مسئلے پر بھی تفصیلی گفتگو ہوئی۔ اس سلسلے میں خطاب کرتے ہوئے جناب علی احمد فردوسی نے کہا کہ جن افراد کے نام کے ساتھ دستاویز (ڈاکیومنٹ) پیش کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے، وہاں کسی بھی شک و شبہ کی صورت میں ضروری ہے کہ وہ دستاویز فوری طور پر پیش کر دیے جائیں؛ تاکہ غیر ضروری مسائل سے بچا جا سکے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایس آئی آر کے نفاذ کے سلسلے میں عوامی سطح پر شفافیت اور بیداری پیدا کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔اسی موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر سید فضل اللہ قادری نے زور دیا کہ ایس آئی آر کے معاملے میں سب کو چوکنا رہنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ لاپرواہی یا سستی کے نتیجے میں عام شہریوں کو بھاری نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے؛ اس لیے عوامی بیداری اور رہنمائی مہم کو تیز کرنا ناگزیر ہے۔اسی دوران سید ابوظفر (سبزی باغ) نے موجودہ صورتِ حال پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ یہ ملک کی بدقسمتی ہے کہ کبھی کبھی کسی آئی کارڈ کو غیر معتبر قرار دے دیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج کے وقت میں برتھ سرٹیفکیٹ بنوانا ایک دشوار عمل ہے، جبکہ آدھار کارڈ جسے اب تک کئی اہم سرکاری و نجی کاموں میں استعمال کیا گیا ہے،اسے الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کے حکم نامہ کی روشنی میں قبول کر لیاہے، جو ایک خوش آئند بات ہے۔مولانا نورالسلام ندوی نے اپنے خطاب میں کہا کہ ایس آئی آر کا معاملہ بڑا ہی حساس ہے اور اس میں معمولی سی غفلت بھی بڑے مسائل کو جنم دے سکتی ہے۔اس موقع پر حاضرینِ مجلس نے متفقہ طور پر یہ رائے ظاہر کی کہ ایس آئی آر کے تحت جو تاریخ آج مقرر ہے، اس کے اختتام کے بعد بھی مزید وقت ملنا چاہیے؛ تاکہ عوام کو سہولت ہو اور غیر ضروری دشواریوں سے بچا جا سکے۔ اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ اس سلسلے میں الیکشن کمیشن کو ایک باضابطہ خط لکھا جائے، جس میں درخواست کی جائے کہ ایس آئی آر کی تاریخ کو آگے بڑھایا جائے اور عوام کو اپنے کاغذات تیار کرنے کا مناسب موقع فراہم کیا جائے۔اجلاس کے دوران متعدد شرکا نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ موجودہ نظام میں عوام کو کافی مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ بعض جگہوں پر ایس آئی آر کے نام پر غیر ضروری دباؤ ڈالا جا رہا ہے، جس سے عام شہریوں میں بے چینی بڑھ رہی ہے۔ مجلسِ عاملہ کے ارکان نے کہا کہ آل انڈیا ملی کونسل بہار اپنی سطح سے عوام کی رہنمائی کے ساتھ ساتھ سرکاری اداروں تک ان کی آواز پہنچانے کی کوشش کرے گی۔
میٹنگ میں ڈاکٹر افتخار عالم نے اخوت و بھائی چارگی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ سماج میں اتحاد اور باہمی احترام ہی ترقی کی بنیاد ہے۔ انہوں نے خاص طور پر خواتین کی دینی تعلیم کی اہمیت پر روشنی ڈالی اور کہا کہ خواتین کی صحیح رہنمائی سے ہی آئندہ نسلیں دینی و اخلاقی اقدار پر پروان چڑھ سکتی ہیں۔
جناب نجم الحسن نجمی، چیئرمین نجم فاؤنڈیشن نے ووٹ کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ووٹ کا صحیح استعمال عوامی طاقت کو مضبوط کرتا ہے، جبکہ اس کا غلط یا غیر ذمہ دارانہ استعمال قوم کے لیے نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ووٹ شعور اور ایمانداری کے ساتھ ڈالا جانا چاہیے؛ تاکہ صحیح قیادت سامنے آسکے۔
مولانا ڈاکٹر رضوان احمد قاسمی نے کہا کہ ووٹ چوری اوراس کی خرید وفروخت جمہوریت کے ساتھ سب سے بڑی خیانت اور عوامی اعتماد کے ساتھ بدترین دھوکہ ہے۔اس سے ملک کی جمہوری بنیادیں کمزور ہوجاتی ہیں۔
آل انڈیا ملی کونسل بہار کے نائب صدرجناب مولانا امانت حسین نے ماہِ ربیع الاول کے موقع پر اپنے خطاب میں غریبوں اور ضرورت مندوں کے تعاون پر زور دیا۔انہوں نے کہا کہ ربیع الاول کا مہینہ سیرتِ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی عملی پیروی کا تقاضا کرتا ہے اور سیرت کا سب سے نمایاں پہلو محتاجوں کی خبر گیری اور کمزوروں کی مدد ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیشہ غریبوں، یتیموں اور بے سہارا افراد کی دستگیری کی؛ لہٰذا اسی سنت کو زندہ کرنا آج ہم سب کی ذمہ داری ہے۔
جناب اسید صاحب نہسہ نے کہا کہ ملی کونسل اس وقت امت کی رہنمائی کا جو عظیم فریضہ انجام دے رہی ہے، وہ نہایت قابلِ تعریف اور حوصلہ افزا ہے۔انہوں نے کہا کہ بدلتے ہوئے حالات میں قوم کو ایک مضبوط پلیٹ فارم کی ضرورت ہے اور ملی کونسل اس ضرورت کو بخوبی پورا کر رہی ہے؛ اس لیے ضروری ہے کہ ہم سب مل کر اس ادارے کو مزید تقویت پہنچائیں اور اس کے مشن کو عام کریں ؛تاکہ ملت کے مسائل کا حل اجتماعی سطح پر تلاش کیا جا سکے۔
آل انڈیا ملی کونسل بہار کے خازن مولانا سید محمد عادل فریدی نے اجلاس میں مالی رپورٹ پیش کی اور آمد و خرچ کی تفصیلات بیان کیں۔ انہوں نے بتایا کہ کونسل کے وسائل شفاف طریقے سے دینی وفلاحی سرگرمیوں پر خرچ کیے جا رہے ہیں۔ اجلاس میں اراکین نے رپورٹ پر اطمینان کا اظہار کیا اور آئندہ ملی کونسل کو مزیدمالی استحکام حاصل ہو، اس سلسلہ میں بہترین مشورے دیئے۔
اجلاس کے آخر میں کارگزارقومی صدر آل انڈیا ملی کونسل حضرت مولانا انیس الرحمن قاسمی نے اپنے صدارتی کلمات میں کہا کہ آج کی میٹنگ میں کئی اہم امور پر گفتگو اور مشورے ہوئے جس سے ریاستی صدر اور جنرل سکریٹری کو آگے کام کرنے کے لیے راہ ہموار ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ اجتماعی مشورہ امت کی طاقت ہے اور اسی کے ذریعے بہتر فیصلے لیے جا سکتے ہیں۔حضرت نے ایس آئی آر کے سلسلے میں عوام کی تشویش کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن کو خط لکھ کر میعاد میں اضافہ کامطالبہ کیا جائے؛ تاکہ عام لوگوں کو اپنے دستاویزات درست کرانے اور پیش کرنے میں سہولت ہو۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ قوم و ملت کی ترقی کے لیے تعلیم کو اولین ترجیح دی جائے؛ کیوں کہ تعلیم ہی وہ ذریعہ ہے، جو آئندہ نسلوں کو مضبوط بنیاد فراہم کرتی ہے۔انہوں نے کہا کہ آل انڈیا ملی کونسل ہمیشہ امت کے مسائل پر بیداری اور رہنمائی کا فریضہ انجام دیتی رہی ہے اور آئندہ بھی اس کا سلسلہ جاری رہے گا۔
میٹنگ میں مختلف شخصیات کے انتقال پر تعزیتی قرارداد بھی منظور کی گئی، اس موقع پر حضرت مولانا سید شاہ تقی الدین احمد ندوی فردوسی، آل انڈیا ملی کونسل کے معاون جنرل سکریٹری حضرت مولانا مصطفی رفاعی ندوی قادری، حضرت مولاناغلام محمد وسطانوی، مولانا نوراللہ قاسمی (سوپول)، جناب اختر عادل گیلانی، مولانا عقیل احمد مظاہری، مولانا داؤد (نئی دہلی)، پروفیسر سعید عالم (گیا)، حاجی ابوالحسنات (صغریٰ کالج گیا)، مولانا مہدی امام ساٹھی، اہلیہ جناب مسرور عالم ساٹھی، مولانا قاضی عبدالحفیظ (کٹک)،ہمشیرہ جناب سید قسیم اشرف سمری بختیارپور سہرسہ،اہلیہ مولانا عبدالقیوم شمسی صاحب، اہلیہ قاضی طفیل احمد قاسمی،جناب ڈاکٹر شہاب الدین بسفی سمیت متعدد مرحومین کو یاد کرتے ہوئے ان کی خدمات پر خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔حضرت مولانا انیس الرحمن قاسمی صاحب نے مرحومین کے ایصالِ ثواب اور مغفرت کی دعا کرائی۔میٹنگ میں جناب مولانا محمد صدر عالم ندوی، مولانا قمر عالم ندوی، جناب عبید اللہ، مولانا ظہر الاسلام ندوی اور حافظ محمد حشمت عالم نے بھی خطاب کیا اور اپنے خیالات پیش کیے۔
Comments are closed.