کاشف الحقائق معیاری کتاب، موازنہ سے زیادہ استفادہ ضروری : پروفیسر شکیل قاسمی

 

پٹنہ(پریس ریلیز) امداد امام اثر کا مطالعہ وسیع تھا۔ وسعت مطالعہ اور کثرت معلومات نے ان کی شخصیت کو نکھارنے کا کام کیا۔ ان کا ادبی ذوق پروان چڑھا۔ انہیں مشرق و مغرب کے اہم ادیبوں سے شناسائی اور ان کی تخلیقات سے آشنائی ہوئی۔ وہ نواب تھے۔ امارت و ریاست حاصل تھی۔ مگر طبیعت میں بے نیازی تھی۔ وہ مذہبی مزاج اور مشرقی روایات کے حامل انسان تھے۔ اردو ڈائریکٹریٹ حکومت بہار کے زیر اہتمام امداد امام اثر یادگاری تقریب میں اظہار خیال کرتے ہوئے پروفیسر ڈاکٹر شکیل احمد قاسمی، شعبۂ اردو، اورینٹل کالج، پٹنہ نے مذکورہ باتیں کہیں۔

جناب قاسمی نے کہا کہ کاشف الحقائق تنقید کی اہم کتاب ہے۔ اس میں نظری اور عملی تنقید کی عمدہ مثالیں پیش کی گئی ہیں۔ بہت سے موضوعات کا نئے انداز میں تعارف کرایا گیا ہے۔ مثلا شاعری کیا شے ہے؟ اس کی کتنی قسمیں ہیں؟ ہر قسم کا کیا تقاضہ ہے؟ فطری اور غیر فطری شاعری میں کیا فرق ہے؟ اور دونوں کے کیا نتائج مرتب ہوتے ہیں؟ یہ کتاب اس اعتبار سے بھی امتیازی حیثیت رکھتی ہے کہ اردو میں پہلی بار اقوام عالم کے بڑے شعرا کا اس کتاب میں ایک ساتھ ذکر ملتا ہے۔ گویا یہ کتاب بین الاقوامی سطح کے شعراء اور ماہرین علم و ادب سے استفادے کے ساتھ ان کے افکار و خیالات کے مطالعے کا موقع فراہم کرتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ یادگاری تقریب میں ایک کتاب کا دوسری کتاب سے موازنہ پر توانائی صرف کرنے کے بجائے سبھی کارآمد اور ایک موضوع پر لکھی گئی کئی کتابوں سے استفادہ کا ذہن بنانا چاہیے۔ اس مثبت طرز فکر سے ہماری حصولیابیوں میں اضافہ ہوگا، ہم زیادہ سے زیادہ محاسن سمیٹ سکیں گے۔ اور جب کبھی دو کتابوں میں تقابل اور موازنے کا باضابطہ عنوان ہمارے سامنے آئے گا تو اس وقت یہ کام بھی کیا جائے گا، حاصل مطالعہ اور موقف رکھا جائے گا۔ اس طرز عمل سے ہم زیادہ فائدہ حاصل کر سکیں گے۔

 

Comments are closed.