مرکز علم و دانش علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی تعلیمی و ثقافتی سرگرمیوں کی اہم خبریں

 

اے ایم یو کے شعبہ تاریخ میں نئے طلبہ کے لیے اورینٹیشن پروگرام منعقد

 

علی گڑھ، یکم ستمبر: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے شعبہ تاریخ، سینٹر آف ایڈوانسڈ اسٹڈی نے دیکشارمبھ کے عنوان سے نئے انڈرگریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ طلبہ کے لئے اورینٹیشن پروگرام منعقد کیا۔

 

مہمانِ خصوصی، اے ایم یو رجسٹرار جناب محمد عمران آئی پی ایس نے اپنے خطاب میں شعبہ کی درخشاں علمی خدمات، خاص طور پر قرونِ وسطیٰ کی تاریخ میں اس کی اہمیت کو سراہا۔ انہوں نے طلبہ کو مشورہ دیا کہ وہ تاریخ کے علم کو گہرائی سے سیکھیں، ہم نصابی سرگرمیوں میں بھرپور حصہ لیں، اور ڈیجیٹل میڈیا کا ذمہ داری سے استعمال کرتے ہوئے اپنے تعلیمی اور ذاتی اہداف پر توجہ مرکوز رکھیں۔

 

اس سے قبل صدر شعبہ پروفیسر حسن امام نے مہمانوں اور نئے طلبہ کا پرجوش خیرمقدم کیا۔ انہوں نے شعبے کی علمی روایت پر روشنی ڈالتے ہوئے خواتین کی تعلیم کی اہمیت کو اجاگر کیا، اور یونیورسٹی کی ترقی پسند اقدار پر زور دیا۔

 

پروفیسر عشرت عالم نے بانیئ درسگاہ سر سید احمد خان کی تاریخ سے گہری دلچسپی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اے ایم یومیں طلبہ کے لئے اعلیٰ سہولیات اور سازگار ماحول دستیاب ہے جس کا انھیں بھرپور فائدہ اٹھانا چاہئے۔ انہوں نے طلبہ کو دلجمعی سے تعلیم حاصل کرنے کی ترغیب دی اور اے ایم یو کو طلبہ کے لئے گھر سے دور ایک دوسرا گھر قرار دیا۔

 

پروگرام کی کنوینر ڈاکٹر انیسہ اقبال صابر نے جینڈر سینسیٹائزیشن کمیٹی اور اینٹی ریگنگ کمیٹی کے کردار پر پرزنٹیشن دیا۔ انہوں نے طلبہ کو صنفی عدم مساوات اور ریگنگ کے خطرات سے آگاہ کیا۔ انہوں نے سلطانیہ ہسٹوریکل سوسائٹی اور اے ایم یو انڈرگریجویٹ ہسٹری کلب”تاریخ یافتہ“ کی سرگرمیوں پر روشنی ڈالی، اور علمی اور ہم نصابی سرگرمیوں میں طلبہ کی شرکت کو قابل تحسین قرار دیا۔

 

اس موقع پر مہمان خصوصی جناب محمد عمران آئی پی ایس، صدر شعبہ اور دیگر معزز شخصیات نے شعبہ کے سالانہ مجلے بلیٹن آف سلطانیہ ہسٹوریکل سوسائٹی کی رونمائی کی۔

 

؎ شعبہ کے طلبہ آمنہ عاصم خان اور فیصل شاہ نے پروگرام کی نظامت کی جبکہ ڈاکٹر گل رخ خان نے شکریہ کے کلمات ادا کیے۔

 

٭٭٭٭٭٭

 

اے ایم یو کے جے این میڈیکل کالج کے شعبہ فارماکولوجی کا بی اے ایم ایس کے طلبہ نے دورہ کیا

 

علی گڑھ، یکم ستمبر: بیچلر آف آیورویدک میڈیسن اینڈ سرجری (بی اے ایم ایس) کے نصاب کے ایک حصے کے طور پر سری سائی آیورویدک میڈیکل کالج کے 36 طلبہ پر مشتمل ٹیم نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے جواہر لعل نہرو میڈیکل کالج کے شعبہ فارماکولوجی کا دورہ کیا۔ ان کے ہمراہ فیکلٹی ممبران ڈاکٹر ارون ایس کمار، ڈاکٹر پریا گپتا اور ڈاکٹر مونیکا بھی تھے۔

 

شعبہ کے چیئرمین پروفیسر سید ضیاء الرحمٰن کی رہنمائی میں منعقدہ اس دورے میں طلبہ کو کلینیکل فارمیسی، کلینیکل فارماکولوجی، ایکسپیریمنٹل فارماکولوجی، فائٹوویجیلنس، فارماکوویجیلنس، اور میٹیریوویجیلنس کے شعبوں کی عملی معلومات فراہم کی گئی۔

 

طلبہ نے ڈاکٹر شیمیر پی ایس (کلینیکل فارمیسی)، ڈاکٹر احمر حسن (کلینیکل فارماکولوجی)، ڈاکٹر شارق احمد اعظمی (ایکسپیریمنٹل فارماکولوجی)، پروفیسر سید ضیاء الرحمٰن (فائٹوویجیلنس)، مسٹر غفران علی (فارماکوویجیلنس) اور ڈاکٹر رشاد احمد خاں (میٹیریوویجیلنس) کی رہنمائی میں مخصوص لیبارٹریز میں انٹرایکٹیو سیشن میں حصہ لیا۔

 

طلبہ کو انڈین فارماکوپیا کمیشن کے تحت چلنے والے دو قومی پروگراموں فارماکوویجیلنس پروگرام آف انڈیا اور میٹیریوویجیلنس پروگرام آف انڈیا سے بھی متعارف کرایا گیا۔ یہ دونوں پروگرام ملک میں ادویات کے مضر اثرات اور طبی آلات کی حفاظت کی نگرانی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

 

اس تعلیمی دورہ نے طلبہ کو فارماکولوجی اور ویجیلنس سائنسز کے عملی پہلوؤں کو سمجھنے کا موقع فراہم کیا۔ پروفیسر سید ضیاء الرحمٰن نے مہمان اساتذہ کا شکریہ ادا کیا اور اس کامیاب تعلیمی دورے میں ان کے تعاون کو سراہا۔

 

٭٭٭٭٭٭

 

اے ایم یو کے شعبہ کمیونٹی میڈیسن نے سلطان جہاں پبلک اسکول میں سوچھتا پکھواڑہ بیداری پروگرام منعقد کیا

 

علی گڑھ، یکم ستمبر: جواہر لعل نہرو میڈیکل کالج، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے شعبہ کمیونٹی میڈیسن نے ”سوچھتا پکھواڑہ“ مہم کے تحت سلطان جہاں پبلک اسکول، شمشاد مارکیٹ میں ایک بیداری پروگرام منعقد کیا، جس کا مقصد اسکولی بچوں میں صفائی، حفظانِ صحت کے اصولوں اور صحت سے متعلق شعور کو فروغ دینا تھا۔ پروگرام میں ہاتھوں کو دھونا،ذاتی صفائی اور حیض کے دوران حفظانِ صحت پر گفتگو کے ساتھ ہی صفائی ملازمین کی خدمات کا اعتراف کیا گیا۔

 

ہاتھ دھونے سے متعلق سیشن میں جونیئر ریزیڈنٹ ڈاکٹر عامر ایوب اور ڈاکٹر راج یوراج سنگھ نے کھانے سے پہلے، اجابت کے بعد اور کھیلنے کے بعد ہاتھ دھونے کی اہمیت پر زور دیا۔ طلبہ کو عملی مظاہروں کے ذریعے ہاتھ دھونے کے درست طریقے بتائے گئے۔

 

حیض کے دوران صفائی کے موضوع پر اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر ثمینہ احمد اور جونیئر ریزیڈنٹ ڈاکٹر چندرامولی مترا نے چوتھی اور پانچویں جماعت کی طالبات کو قیمتی باتیں بتائیں۔ انہوں نے بلوغت کے دوران جسمانی تبدیلیوں، سینیٹری پیڈ کے استعمال، محفوظ طریقے سے انھیں ضائع کرنے، صفائی کی اہمیت، اور حیض سے متعلق عام غلط فہمیوں کا ازالہ کیا۔ طالبات کو اس قدرتی عمل کو بغیر کسی جھجک قبول کرنے کی ترغیب دی گئی۔

 

تقریب میں پرنسپل محترمہ عائشہ نواز کی موجودگی میں شعبہ کمیونٹی میڈیسن کی چیئرپرسن پروفیسر عظمیٰ ارم اور اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر نیما عثمان نے اسکول کے صفائی ملازمین کو اعزاز سے نوازا۔

 

٭٭٭٭٭٭

 

اے ایم یو گرلز اسکول میں قومی ہینڈلوم ڈے پر خصوصی اسمبلی منعقد

 

علی گڑھ، یکم ستمبر: اے ایم یو گرلز اسکول میں قومی ہینڈلوم ڈے پر ایک خصوصی اسمبلی منعقد کی گئی جس میں ہندوستان کی ثقافتی وراثت اور مضبوطی کی علامت کے طور پر ہینڈلوم کے ثقافتی و معاشی پہلوؤں کو اجاگر کیا گیا۔

 

اسکول کی پرنسپل محترمہ آمنہ ملک اور وائس پرنسپل محترمہ الکا اگروال کی رہنمائی اور محترمہ انجم فاطمہ اور محترمہ تزئین فاطمہ کی نگرانی میں منعقدہ اسمبلی میں نظامت کے فرائض سمائرہ فردوسی نے انجام دئے۔ بارہویں جماعت (سائنس) کی طالبہ روبا زینب نے انگریزی میں اور ازلفہ صادق نے ہندی میں تقریریں کیں۔ انھوں نے ہندوستانی بنکروں کی مہارت، خاص طور پر ہاتھ سے کتائی، بُنائی، اور پرنٹنگ کی خوبیاں اجاگر کیں۔ انہوں نے بتایا کہ ہینڈلوم شعبہ نے سودیشی تحریک کے دوران اہم کردار ادا کیا اور آج بھی تقریباً 70فیصد خواتین کے لیے یہ روزگار کا ذریعہ ہے۔

 

طلبہ نے ہینڈلوم مصنوعات کی ماحولیاتی موافقت، کم سرمایہ کی ضرورت، اور صدیوں پرانی دستکاری کے تحفظ میں اس شعبے کے کردار پر روشنی ڈالی۔ تقریب میں اس بات پر زور دیا گیا کہ ہمیں روزمرہ کی زندگی میں ہینڈلوم مصنوعات کو اپنانا چاہیے۔

 

٭٭٭٭٭٭

 

آر اے ایف بٹالین،علی گڑھ میں آنکھوں کے عطیہ کے سلسلہ میں بیداری پروگرام کا اہتمام

 

علی گڑھ، یکم ستمبر: آنکھوں کے عطیہ کے پندرہواڑہ (25اگست تا 8 ستمبر) کے تحت جواہر لعل نہرو میڈیکل کالج (جے این ایم سی)، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ امراض چشم کے آئی بینک کی جانب سے 104 بٹالین ریپڈ ایکشن فورس (آر اے ایف)، رام گھاٹ روڈ، علی گڑھ میں ایک بیداری پروگرام کمانڈنٹ جناب ونود کمار کے تعاون سے منعقد کیا گیا، جس کا مقصد آر اے ایف کے اہلکاروں کو آنکھوں کے عطیے کی اہمیت سے آگاہ کرنا تھا۔

 

شعبہ امراض چشم کے ڈاکٹر ایم ثاقب نے اس موقع پر کہاکہ آنکھوں کا عطیہ دینے والا شخص دو نابینا افراد کی بینائی بحال کر سکتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ موت کے بعد 6 گھنٹوں کے اندر کورنیا حاصل کیا جا سکتا ہے، اور اس عمل سے جسد خاکی کے چہرے پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ آئی بینک کی ٹیم 24 گھنٹے متحرک رہتی ہے تاکہ بروقت عطیہ حاصل کیا جا سکے۔

 

پروگرام کے ایک حصے کے طور پر آر اے ایف کے 50 سے زائداہلکاروں کے آنکھوں کی جانچ کی گئی اور انہیں آنکھوں کی عام بیماریوں سے متعلق مشورہ دیا گیا۔ یہ مہم صدر شعبہ پروفیسر اے کے امیتاوا اور آئی بینک کے انچارج پروفیسر ضیاء صدیقی کی نگرانی میں چلائی جا رہی ہے۔

 

اس سے قبل اے ایم یو آئی بینک نے دیہ دان سنستھا کے تعاون سے ڈاکٹر امان، ڈاکٹر ندیم، ڈاکٹر ہرشت، ڈاکٹر سرشٹی اور ڈاکٹر ششانک کے کوآڑڈنیشن میں بچوں کے مدر ٹریسا شیلٹر ہوم میں آنکھوں کے عطیہ اور آنکھوں کی جانچ کا کیمپ منعقد کیا۔

 

آنکھوں کے عطیے کے پیغام کو مؤثر طریقے سے عام کرنے کے لیے جے این میڈیکل کالج کے انڈرگریجویٹ طلبہ آرین پرتاپ سنگھ، ابھینو کمار، خدیجہ فاطمہ، پلک گپتا اور محمد صبور نے ایک نکڑ ناٹک پیش کیا۔ آخر میں ڈاکٹر ثاقب نے حاضرین کا شکریہ ادا کیا۔

 

٭٭٭٭٭٭

 

اے ایم یو میں سوشل ورک شعبہ کے طلبہ کے لیے اورینٹیشن پروگرام منعقد

 

علی گڑھ، 1 ستمبر: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے سوشل ورک شعبہ نے ماسٹر آف سوشل ورک کے پہلے سمسٹر کے طلبہ کے لیے ایک اورینٹیشن پروگرام منعقد کیا، جس میں قیادت و شخصیت سازی اور اینٹی ریگنگ پر خصوصی لیکچرز دئے گئے۔

 

قیادت پر کلیدی خطبہ پیش کرتے ہوئے اے ایم یو رجسٹرار جناب محمد عمران آئی پی ایس نے کہا کہ قیادت صرف اختیارات کا نام نہیں، بلکہ یہ ایمانداری، ہمدردی، نظم و ضبط اور دوسروں کی رہنمائی کرنے کی ایک اہم ذمہ داری ہے۔ انہوں نے طلبہ کو روزانہ اخبارات پڑھنے، سماجی، سیاسی اور معاشی حالات سے باخبر رہنے، اور مؤثر ابلاغی مہارت پیدا کرنے کی تلقین کی تاکہ وہ سماج سے بہتر طور پر جڑ سکیں۔ انہوں نے وقت کے درست استعمال اور خود احتسابی کی اہمیت پر بھی زور دیا، جو ایک ذمہ دار، بااعتماد اور منظم پیشہ ور بننے کے لیے ضروری ہیں۔انھوں نے طلبہ کے اندر قائدانہ اوصاف پیدا کرنے کے دیگر نکات بھی بیان کئے تاکہ وہ معاشرے میں مثبت تبدیلی لا سکیں۔

 

اس سے قبل،اے ایم یو کے پراکٹر پروفیسر محمد وسیم علی نے طلبہ کو ریگنگ کے خلاف قوانین اور یونیورسٹی کیمپس میں اس کی روک تھام سے متعلق معلومات فراہم کیں۔ انہوں نے اینٹی ریگنگ ایکٹ 2009 کی تفصیلات بتائیں اور واضح کیا کہ ریگنگ ایک قابلِ سزا جرم ہے، جس کے سنگین قانونی اور تادیبی نتائج ہوتے ہیں۔انہوں نے ماضی کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ کس طرح یونیورسٹی اور یونیورسٹی گرانٹس کمیشن نے ایسی شکایات پر سختی سے کارروائی کی ہے۔ انہوں نے اینٹی ریگنگ کمیٹیوں کے کردار، شکایات کے ازالے کے طریقہ کار، اور باہمی احترام، نظم و ضبط اور عزتِ نفس کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ پروفیسر وسیم علی نے طلبہ سے کہاکہ کامیابی محنت، اخلاص اور ذمہ داری میں مضمر ہے، نہ کہ دوسروں کو نقصان پہنچانے والی سرگرمیوں میں۔

 

اس موقع پر فیکلٹی آف سوشل سائنسز کے ڈین پروفیسر اکرام حسین، پروفیسر نسیم احمد خان (ریٹائرڈ) اور سوشل ورک شعبہ کے اساتذہ موجود تھے۔

 

پروگرام کی نظامت ڈاکٹر محمد عارف خان نے کی، جبکہ ڈاکٹر محمد عذیر نے شکریہ کے کلمات ادا کئے۔

 

٭٭٭٭٭٭

 

اے ایم یو کے اداروں اور اسکولوں میں قومی یوم کھیل جوش و خروش اور ولولے کے ساتھ منایا گیا

 

علی گڑھ، یکم ستمبر: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے مختلف اداروں اور اسکولوں نے قومی یوم کھیل کا شایان شان طریقہ سے اہتمام کیا اور میجر دھیان چند کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے متنوع تقریبات منعقد کیں۔

 

ڈاکٹر ضیاء الدین احمد ڈینٹل کالج میں پرنسپل پروفیسر آر کے تیواری کی سرپرستی میں تین روزہ تقریبات منعقد ہوئیں۔ پہلے دن ہادی حسن ہال میں اسپورٹس سکریٹری (بوائز) مسٹر کیف نے انڈور کیرم مقابلہ منعقد کیا۔دوسرے دن اساتذہ، طلبہ، اور عملے کے اراکین نے 300 میٹر تیز چہل قدمی میں حصہ لیااور تیسرے روز بیگم عزیزالنساء ہال میں اسپورٹس سکریٹری (گرلز) عطیہ شاداب نے بیڈمنٹن ٹورنامنٹ منعقد کیا۔

 

کالج پرنسپل پروفیسر تیواری نے تمام منتظمین اور شرکاء کے تعاون کو سراہتے ہوئے صحت، ٹیم ورک اور ڈسپلن کو ایک صحت مند معاشرے کی بنیاد قرار دیا۔

 

دوسری طرف احمدی اسکول برائے نابینا طلبہ میں پرنسپل ڈاکٹر نائلہ راشد کی قیادت میں تین روزہ تقریبات ہوئیں جن میں رسہ کشی، لوڈو اور شطرنج سمیت دیگر مقابلوں میں طلبہ و طالبات نے جوش و خروش کے ساتھ حصہ لیا۔ ”ایک گھنٹہ کھیل کے میدان میں ”عنوان پر کھیل اور فٹنس کے موضوعات پر تقریریں ہوئیں۔آخری دن یوگ، سائیکلنگ، اور ایک کلومیٹر واکاتھون کا اہتمام کیا گیا۔ اسپورٹس انچارج محترمہ ثناء رضا اور جناب سید شاہ رخ حسین نے تمام مقابلے خوش اسلوبی سے منعقد کئے۔

 

سید حامد سینئر سیکنڈری اسکول (بوائز) میں پرنسپل جناب صباح الدین نے تین روزہ تقریبات کا افتتاح کیا۔ طلبہ نے ٹیبل ٹینس، شطرنج اور فٹبال کے مقابلوں میں اپنی صلاحیتوں کے جوہر دکھائے۔ ظفر اقبال پینتھرز نے تینوں کھیلوں میں کامیابی حاصل کی، جبکہ بھگت سنگھ رائیڈرز فٹبال اور شطرنج میں رنر اپ رہے۔ مجموعی پوائنٹس کی بنیاد پر بھگت سنگھ رائیڈرز کو دھیان چند ٹرافی عطا کی گئی۔ ڈائرکٹریٹ آف اسکول ایجوکیشن کے ڈپٹی ڈائریکٹر پروفیسر محمد اعظم خاں اور اسسٹنٹ ڈائریکٹر ڈاکٹر محمد عبدالقادر نے ٹرافی پیش کی۔

 

پروفیسر اعظم خان نے اپنے خطاب میں کھیل کو ذہنی و جسمانی بہتری کے لیے ضروری قرار دیا۔ ڈاکٹر عبدالقادر نے اساتذہ اور طلبہ کی کاوشوں کو سراہا۔ وائس پرنسپل محمد جاوید خان نے شکریہ کے کلمات ادا کیے اور نظامت مسٹر غفران احمد، پی جی ٹی، پولیٹیکل سائنس نے کی۔

 

اے ایم یو اے بی کے ہائی اسکول (گرلز) میں اسپورٹس ڈے کے تحت مختلف کھیلوں کی سرگرمیاں منعقد ہوئیں اور آخری دن طالبات نے سائیکلنگ میں حصہ لیا۔ وائس پرنسپل ڈاکٹر صبا حسن نے طالبات کی بھرپور حوصلہ افزائی کی اور فٹنس کو روزمرہ زندگی کا حصہ بنانے کی تلقین کی۔

Comments are closed.