جھونپڑی میں آگ لگا کر چوری کرنے والے 3 نوجوان گرفتار، موبائل برآمد، جیل بھیج دیا گیا
جالے (محمد رفیع ساگر) سنگھواڑہ۔ تھانہ کے کٹکا پنچایت کے موہن پور بھجورا گاؤں میں چوری کی ایک حیران کن واردات پیش آئی۔ تین شاطر نوجوانوں نے جھونپڑی میں آگ لگا کر چوری کی واردات انجام دی اور فرار ہونے کی کوشش میں تھے کہ گاوں والوں نے ان کا پیچھا کر کے دبوچ لیا اور پولیس کے حوالے کر دیا۔ گرفتار نوجوانوں کے پاس سے چھینا گیا اینڈرائیڈ موبائل بھی برآمد کر لیا گیا ہے۔
مقامی لوگوں کے مطابق 31 اگست کی رات گھر کے مالک پون مہتو اپنی آٹا چکی پر موجود تھے اور اپنے مالک مشری لال و اوما کانت ٹھاکر کے ساتھ موبائل پر خبریں سن رہے تھے کہ اسی دوران ان کی اہلیہ نے شور مچاتے ہوئے آگ لگنے کی اطلاع دی۔ سبھی لوگ دوڑ کر جھونپڑی کی آگ بجھانے لگے، اسی دوران چوروں نے موقع کا فائدہ اٹھا کر موبائل چھین لیا اور فرار ہونے لگے۔ گاؤں کے لوگوں نے تعاقب کر کے تینوں کو پیرا چوڑی کے قریب پکڑ لیا۔
گرفتار ملزمین کی شناخت شیتل داس کے بیٹے سشیل داس عرف بجلی، سکل دیو داس کے بیٹے بھرت داس اور بلدیو سدا کے بیٹے روی سدا (ساکن جانی پور، جگون، کمتول) کے طور پر ہوئی ہے۔ یہ تینوں نوجوان نہ صرف موبائل چوری میں ملوث پائے گئے بلکہ گھروں میں آگ لگا کر چوری کرنے کی سازش کا اعتراف بھی کیا۔
تھانہ صدر بسنّت کمار نے بتایا کہ تینوں نے تسلیم کیا ہے کہ وہ پہلے جھونپڑی میں آگ لگاتے تاکہ گاؤں والے آگ بجھانے میں مصروف ہو جائیں اور اس دوران چوری کرنا آسان ہو جائے۔ نِستہ گاؤں میں پندرہ دن قبل ہونے والی چوری میں بھی ان کی شمولیت سامنے آئی ہے۔ برآمد شدہ موبائل پولیس نے قبضے میں لے لیا ہے اور تینوں کو عدالتی حراست میں جیل بھیج دیا گیا ہے۔
Comments are closed.