پنجاب میں بلا تفریق مذہب و ملت انسانیت کی بنیادوں پر مدد کے لیے میوات میں ذمہ دار علمائے کرام کی میٹینگ
نوح میوات (پریس ریلیز ) پنجاب میں سیلاب کی وجہ سے پیدا ہونے والی سنگین صورتحال کے پیش نظر میوات علاقہ کے ذمہ دار علمائے کرام کی ایک اہم میٹنگ مدرسہ سراج العلوم حوض والی مرکز مسجد تاؤڑو میں منعقد ہوئی ۔ میٹینگ میں فیصلہ کیا گیا کہ سیلاب سے متاثرہ اضلاع کے لیے انسانیت کی بنیاد پر ہر ممکن مدد اکٹھی کی جائے گی۔
اس اجلاس کا اہتمام جمعیۃ علماء ہریانہ پنجاب کے ریاستی صدر مولانا حکیم الدین اُٹاوڑی کی ہدایت کے مطابق کیا گیا تھا۔ مولانا اُٹاوڑی نے اپیل کی کہ علاقے کے تمام لوگ کھل کر مدد کے لیے آگے آئیں اور 3 ستمبر تک اپنے اپنے علاقوں میں جا کر زیادہ سے زیادہ تعاون جمع کریں۔جمعیتہ علماء میوات کے سابق جنرل سیکرٹری مولانا محمد صابر قاسمی نے بتایا کہ پنجاب کے کئی اضلاع جن میں اجنالہ، رامداس، گورداس پور، بٹالہ، ترن تارن، سلطان پور لودھی، ہریکے، پٹھان کوٹ، فیروز پور، فرید پور، لودھی، ، کالا پور اور پنجاب کے دیگر اضلاع بھی سیلاب سے بری طرح متاثر ہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ جمعیتہ علماء متحدہ پنجاب کے مقامی ذمہ داران اور شاہی امام مولانا عثمان لدھیانوی سے مسلسل رابطے میں رہ کر امدادی کاموں کے بارے میں وہاں کی معلومات حاصل کی جا رہی ہیں۔ اس موقع پر مولانا دلشاد قاسمی، مولانا شیر محمد قاسمی اور مولانا ارشد خاطی باس نے کہا کہ پنجابی برادری ہمیشہ ملکی آفات میں سب سے آگے کھڑی ہوتی ہے اور اب وقت آگیا ہے کہ ہم ان کے ساتھ کھڑے ہوں اور بھائی چارے اور انسانیت کا ثبوت دیں۔ میٹنگ میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ تاؤرو اور میوات کے دیگر علاقے سے نقد امداد اکٹھی کرکے پنجاب بھیجی جائے گی اور ضرورت کے مطابق وہاں سے امدادی سامان خریدا جائے گا۔ غور طلب ہے کہ اس وقت میوات سے ہدایت چندینی کی قیادت میں کمانڈو ٹیم پہلے ہی سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں پہونچ کر امدادی کام کر رہی ہے۔
Comments are closed.