موسلادھار بارش سے میوات میں معمول کی زندگی درہم برہم، آفتاب احمد نے ضلع کے مختلف دیہی علاقوں کا معائنہ کر حالات کا لیا جائزہ
حکومت سے نوح شہر سے بارش کے پانی کی نکاسی کے لیے کیا گیا مطالبہ
میوات کے ضلع نوح کے علاقے میں سیلاب جیسی صورتحال
صورتحال سے نمٹنے کے لیے ضلع انتظامیہ کی جنگی سطح پر تیاریاں جاری ہیں
نوح میوات ( محمد صابر قاسمی)
ہریانہ کے میوات علاقے میں موسلا دھار ہو رہی بارش سے ضلع نوح میں معمول کی زندگی بری طرح متاثر ہو کر رہ گئی ہے ،
نوح کے علاقے میں سینکڑوں دیہات زیر آب اچکے ہیں اور کسانوں کے ماتھے پر پریشانی کی لکیریں بڑھتی ہی جارہی ہیں۔ دوسری طرف نوح کے ایم ایل اے چودہری آفتاب احمد نے منگل کو درجنوں دیہات مالب ، نطام پور، بیرسیکا، آکیڑہ ، دیہانہ وغیرہ کا دورہ کیا اور معائنہ کر صورتحال کا جائزہ لیا۔
ایم ایل اے آفتاب احمد صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے پہلے لوگوں کے درمیان پہنچے، پھر محکمہ آب پاشی کے عہدیداروں کے ساتھ میٹنگ کی اور پانی کی نکاسی کو یقینی بنانے کی بات کی۔ ایریگیشن ریسٹ ہاؤس میں منعقدہ میٹنگ میں محکمہ آبپاشی کے ایکس ای این مکل کتھوریا، میونسپل کونسل آفیسر اور محکمہ صحت عامہ کے افسران موجود تھے۔ ایم ایل اے نے عہدیداروں سے کہا کہ پانی کی بندش کے حل کو جلد از جلد ترجیحی طور پر حل کیا جائے اور لوگوں کو اس مسئلہ سے راحت دلائی جائے۔ ایم ایل اے آفتاب احمد نے گاؤں والوں کو بتایا کہ فصل تباہ ہو گئی ہے اور اگلی فصل بھی خطرے میں پڑ گئی ہے۔ اگر وقت پر پانی کی نکاسی نہ کی گئی تو یہاں کے کسان دوہرے مار کھانے پر مجبور ہوں گے۔ کسانوں نے بتایا کہ انہیں گزشتہ سال بھی اسی پریشانی کا سامنا کرنا پڑا تھا اور آج تک معاوضے کی مکمل تقسیم نہیں ہو سکی ہے۔ ایم ایل اے آفتاب احمد نے کسانوں کی حوصلہ افزائی کی اور کہا کہ وہ خود پانی کی نکاسی کو یقینی بنانے کے لیے حکام سے مسلسل رابطے میں ہیں اور اس معاملے پر ماضی میں وزیر اعلیٰ، وزیر آبپاشی، اعلیٰ حکام کے ساتھ میٹنگ میں بات کر چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ معاوضہ کی مکمل تقسیم نہ ہونے کا معاملہ اسمبلی میں اٹھایا گیا اور کسانوں کو امید رکھنی چاہئے کہ جلد مکمل معاوضہ تقسیم کر دیا جائے گا۔ ایم ایل اے آفتاب احمد نے صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کو چاہئے کہ اس بار کسانوں کو ڈیمیج پورٹل کی بجائے خصوصی گرداوری کروا کر معاوضہ دے تاکہ انہیں کچھ راحت مل سکے۔ ایم ایل اے نے کہا کہ انہوں نے ہر جگہ فوگنگ کرنے کی ہدایات دی ہیں تاکہ بیماریوں کو پھیلنے سے روکا جاسکے۔
ایم ایل اے آفتاب احمد نے کہا کہ سکولوں میں پانی بھر جانے کے بعد چھٹی کا اعلان کیا جائے کیونکہ خراب پانی بچوں کی حفاظت کے لیے خطرناک ہو سکتا ہے۔
ایم ایل اے نے کہا کہ اگر انتظامیہ نے گزشتہ سالوں میں اپنی تیاریوں میں بہتری لائی ہوتی تو یہ صورتحال دیکھنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔
آپ کو بتاتے چلیں کہ اس بار حالیہ مانسون اجلاس میں ضلع میں پانی جمع ہونے کا مسئلہ اٹھایا گیا تھا، اس موضوع پر توجہ دلانے کی تجویز نوٹس نمبر 29 کے ذریعے لائی گئی تھی۔ زیادہ بارش سے فصلوں کو ہونے والے نقصان کے معاوضے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ بارش کی وجہ سے ہونے والے حادثے میں ہلاک ہونے والوں کے لیے معاوضے کا مطالبہ کیا گیا۔ پانی کی نکاسی کے مستقل حل کا مسئلہ اٹھایا گیا اور اس بات کو یقینی بنانے پر زور دیا گیا کہ اگلی فصل متاثر نہ ہو۔
ایم ایل اے آفتاب احمد نے کہا:
حکومت نے اعتراف کیا ہے کہ نوح کے 53 دیہاتوں کی 4105 ایکڑ اراضی 62 فیصد زائد بارشوں کی وجہ سے زیر آب ہے۔ اسمبلی میں حکومت سے نوح شہر سے بارش کے پانی کی نکاسی کے لیے کیے گئے اقدامات کے بارے میں بھی معلومات مانگی گئیں۔
Comments are closed.