انوکھی وضع ہے، سارے زمانے سے نرالے ہیں، جامعہ ڈابھیل کا صد سالہ اجلاس

 

تاثرات: راشد اسعد فاضل جامعہ ڈابھیل ثم ندوی

دن اتوار کا تاریخ اگست کی 31 سال 2025 عيسوی بمطابق 7 ربیع الاول 1447 ہجری; یہ دن بہت انتظار کے بعد آیا اور اس برق رفتاری سے رخصت ہوا کہ کب شام ہوگئی اور دن تمام ہوا پتہ ہی نہیں چلا
جی ہاں! مشہور و مشاہد ہے کہ زندگی کے حسین لمحات اور یادگار ایام اسی طرح آیا جایا کرتے ہیں مگر دل و دماغ پر پڑنے والے ان کے اثرات پائیدار اور فکر و نظر پر مرتسم ہونے والے نقوش انمٹ ہوتے ہیں
جامعہ ڈابھیل میں جبال علم اور اساطین فن (جن کے قافلہ سالار علامہ انور شاہ کشمیری رح ہیں) کے قدوم میمنت لزوم کو سو سال مکمل ہوئے اسی مناسبت سے جامعہ نے اپنے فرزندان کو یاد کیا اور مدعو کیا سارے فرزندان شوق کے کاندھوں پر, محبت کے پروں پر اپنی مادر علمی کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے افتاں و خیزاں حاضر ہوئے اور اپنی سعادت مندی کا ثبوت دیا ۔
یہ وہی جامعہ ڈابھیل ہے جس کے بارے میں علامہ یوسف بنوری رح اپنے طویل قصیدے میں رطب اللسان ہیں:
فدع عنك ليلى و سعدى وهندهم
فجامعة الاسلام فيها جميعها
ودع ذكر سلمى وحديث سعادهم
فهذه مغانى العلم وراقت ربوعها
ونادتنى الاشواق مهلا فهذه
حدائق فيها للقلوب نجوعها

اے دل! اب لیلی سعدی اور ہند کے ذکر سے تجھ کو کیا فائدہ ؟ جبکہ جامعہ اسلامیہ میں تمام موجود ہیں
پس لیلی اور سعاد کے قصہ سے در گذر کر کیوں کہ یہاں علم و فضل کے خوش منظر عالیشان دل کش محلات موجود ہیں
میں یہاں سے گزرا تو عواطف شوق نے مجھ کو ٹھہرا لیا کہ یہی وہ باغات ہیں جہاں دلوں کی پیاس بجھتی ہے.
(تاریخ جامعہ ڈابھیل ص 29)

جامعہ ڈابھیل ایک تابناک و قابل فخر ماضی, بہترین و لائق صد رشک حال اور شاندار و امید افزا مستقبل کا حامل ادارہ ہے اسی وجہ سے ہر عہد و زمانہ میں یہ جامعہ مرجع خلائق اور مرکز علم و فن بنا رہا ہے اس کی علمی و دعوتی خدمات اور اصلاح و تجدید کے کارنامے زبان زد خاص و عام رہے اور خلق خدا کی زبان پر توصیفی ارشادات اور تعریفی کلمات نقارہ خدا ثابت ہوئے ; راقم سطور کا احساس ہے کہ جامعہ کی نیک نامی میں احمد نام کی شخصیات کو بھی بڑا دخل ہے کہ ناموں کے اثرات مسلم ہیں چنانچہ جامعہ کے بانی احمد حسن بھام صاحب نے جامعہ کا قیام بھی جناب صوفی احمد میاں لاجپوری کی دعاؤں سے کیا , مہتمم مولانا احمد بزرگ اور مدرس اول قاری احمد درویش صاحب اور پھر آگے چل کر احامد ثلاثہ ; موجودہ مہتمم مولانا احمد بزرگ, ماضی قریب میں رحلت فرما جانے والی عظیم شخصیت قاری احمد اللہ صاحب نور اللہ مرقدہ اور ہمارے مخدوم و مطاع بقية السلف حضرت مفتی احمد خانپوری مدظله ہیں
اس عظیم الشان جامعہ نے اپنی زندگی کی ایک سو بیس روح پرور بہاریں مکمل کیں اور قافلہ انوری کے وردو مسعود کو سو سال مکمل ہوئے گویا یہ "پوری ایک صدی کا قصہ ہے دو چار برس کی بات نہیں” اس صدی میں جامعہ میں انیس شیوخ الحدیث ہوئے جن میں ایک سرے پر انور ہیں تو دوسرے سرے پر احمد ہیں اس پورے سو سال میں تقریبا چار ہزار چورانوے افراد حدیث کی سند حاصل کرکے فارغ التحصیل ہوئے جو صرف ملک کے طول و عرض ہی میں نہیں بلکہ پورے برصغیر میں اور اس سے آگے بڑھ کر دنیا کے مختلف علاقوں میں دینی و دعوتی خدمات میں سرگرم عمل ہیں

یہ صد سالہ اجلاس دراصل انہیں اکابر کی خدمات کا اعتراف نامہ اور جذبہ احسان شناسی اور احساس منت کشی کے اظہار کا خوب صورت عنوان تھا

یہ صد سالہ اجلاس اپنی نوعیت کا ایک منفرد اور ممتاز اجلاس تھا , جس میں کسی قسم کی آفیشیل تصویر کشی اور ویڈیو گرافی نہیں کی گئی , سختی سے منع بھی کیا گیا تھا جو موجودہ زمانے کی بے ڈھنگی چال کے دل دادوں اور مادیت کے ماروں کے لیے انتہائی حیران کن اور ناقابل یقین ہے یہی وجہ ہے کہ اجلاس کو لوگ کہ رہے ہیں کہ وہ توجہ نہیں ملی جو اس کا حق تھا یعنی اخباروں میں اس کی تصاویر نہیں شائع ہوئیں اور نیوز چینلز نے کوریج نہیں دیا وغیرہ وغیرہ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ جامعہ ڈابھیل کے اس صد سالہ اجلاس کو بڑی قدر کی نگاہوں سے دیکھا گیا اور یہ اپنے مقصد میں سو فی صد کامیاب اجلاس رہا راقم سطور کو سب سے زیادہ سبق آموز اور قابل تقلید جو بات اس اجلاس کی پسند آئی وہ یہی نام و نمود سے دوری اور جانداروں کی تصویر کشی وویڈیو گرافی سے مکمل اجتناب ہے.
٭
انوکھی وضع ہے، سارے زمانے سے نرالے ہیں
یہ عاشق کون سی بستی کے یا رب رہنے والے ہیں

نہ پُوچھو مجھ سے لذّت خانماں برباد رہنے کی
نشیمن سینکڑوں میں نے بنا کر پھونک ڈالے ہیں

شکر ہے کہ ایسے لوگوں سے ملتا ہے شجرہ میرا

اس شان میں اگر میں کہوں کہ جامعہ ڈابھیل پورے برصغیر میں ہی نہیں بلکہ پوری دنیا میں ممتاز و منفرد ہے تو یقینا مبالغہ نہیں ہوگا بلکہ یہ ایک ایسی حقیقت ہے کہ جس کو افسوس صد افسوس دینی اداروں نے بھی فراموش کردیا فإلى الله المشتكى

اس صد سالہ اجلاس میں قافلہ انوری میں شامل بزرگوں کی حیات و خدمات پر شاندار مقالے پڑھے گئے اور اساتذہ نے فضلاء کو بیش قیمت نصائح سے نوازا جو آب زر سے لوح دل پر لکھنے کے قابل ہیں اور ہمارے لیے بالیقین مینارہ نور اور مشعل راہ ہیں

خوگر حمد سے تھوڑا سا گلہ بھی سن لے
امید تھی کہ اس صد سالہ تقریب کی مناسبت سے جامعہ ڈابھیل کی تاریخ کا دوسرا حصہ مرتب ہوکر سامنے آتا جس کی طرف خود مؤرخ جامعہ مولانا فضل الرحمن اعظمی صاحب نے اشارہ کیا ہے مگر اے بسا آرزو کہ خاک شدہ

چنانچہ مؤرخ موصوف رقم طراز ہیں:
اس تاریخ کو جامعہ کی تاریخ کا حصۂ اول سمجھنا چاہیے, ابھی حصۂ دوم باقی ہے جس میں فضلاء جامعہ کی تدریسی , تصنیفی اور دیگر دینی خدمات کا تذکرہ ہونا چاہیے (تاریخ جامعہ ڈابھیل ص 26)
خیر یہ بڑا تاریخی اجلاس ہوا برسوں اس کی یادیں ذہنوں میں تازہ رہیں گی اور زبانوں پر اس کے چرچے رہیں گے۔

Comments are closed.