رام ولاس پاسوان اور چراغ پاسوان کی مسلم نوازی کی حقیقت

 

مظاہر حسین عماد قاسمی

 

( یہ تحریر 5/4/2025 کو لکھی گئی تھی ، مجلس اتحاد المسلمین کے قائد اختر الایمان صاحب کے ایک بیان کو سن کر اس مضمون کو دوبارہ وائرل کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی ، 3/9/2025)

 

 

وقف ترمیمی بل کے پاس ہونے سے قبل اور اس کے پاس ہونے کے بعد لوک جن شکتی کے لیڈر اور مودی کے ہنومان چراغ پاسوان ولد رام ولاس پاسوان نے کئی بار اپنے انٹرویو میں کہا ہے کہ ہم مسلمانوں کے خیرخواہ ہیں اور ہم مسلمانوں کے حقوق کی حفاظت کریں گے ، اور ہم نے بہار کے لیے مسلم چیف منسٹر کے نام پر اپنی پارٹی ختم کردی تھی ،

ان کا اس طرح کا بیان ایک چھلاوے اور دھوکے کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے ، ان کے اس بیان کی پوری حقیقت اس مضمون میں ملاحظہ فرمائیں

 

دوہزار پانچ میں بہار اسمبلی کے دو عام اسمبلی الیکشن ہوئے تھے ، پہلا فروری میں ہوا تھا ، اور دوسرا اکتوبر میں ۔

فروری دوہزار پانچ کے بہار اسمبلی انتخابات میں لالو پرشاد یادو کی راشٹریہ جنتادل کو سب سے زیادہ نشستیں حاصل ہوئی تھیں ، اسے کل پچھتر نشستیں حاصل ہوئی تھیں ، اس نے کل دوسو دس نشستوں پر امیدوار اتارے تھے ، اسے اٹھائیس نشستوں کا نقصان ہوا تھا ،

اسے دوہزار میں کل ایک سو چوبیس نشستیں حاصل ہوئی تھیں مگر جھارکھنڈ کی تشکیل کے بعد نو نشستیں جھارکھنڈ کا حصہ بن گئیں تھیں ۔

فروری دو ہزار میں متحدہ بہار اسمبلی کے انتخابات ہوئے تھے ، اور جھارکھنڈ کی تشکیل پندرہ نومبر دو ہزار کو ہوئی تھی ۔

 

فروری دو ہزار پانچ کے بہار اسمبلی انتخابات میں جنتادل یونائیٹڈ کو پچپن ، اور اس کی اتحادی بھارتیہ جنتا پارٹی کو سینتیس ، اور رام ولاس پاسوان کی لوک جن شکتی پارٹی کو انتیس نشستیں حاصل ہوئی تھیں ۔

جنتادل یونائیٹڈ کو آٹھ ،اور بھارتیہ جنتا پارٹی کو دونشستوں کا فائدہ ہوا تھا ۔

دوہزار میں نتیش کمار کی قیادت والی سمتاپارٹی نے کل چونتیس نشستیں اور شرد یادو کی قیادت والی جنتادل یونائیٹڈ نے کل اکیس نشستیں حاصل کی تھیں ، جھارکھنڈ کی تشکیل کے بعد سمتاپارٹی کی پانچ اور جنتادل یونائیٹڈ کی تین نشستیں جھارکھنڈ کا حصہ بن گئی تھیں

بعد میں اکتوبر دوہزار تین میں سمتاپارٹی جنتادل یونائیٹڈ میں ضم ہوگئی تھی ۔

دوہزار میں ہوئے متحدہ بہار کے اسمبلی انتخابات میں بھارتیہ جنتا پارٹی کو کل سڑسٹھ نشستیں حاصل ہوئی تھیں جھارکھنڈ کی تشکیل کے بعد اس کی بتیس نشستیں جھارکھنڈ کا حصہ بن گئی تھیں ۔

اکیاسی رکنی جھارکھنڈ اسمبلی میں بھارتیہ جنتا پارٹی نے سمتا پارٹی اور جنتادل یونائیٹڈ وغیرہ کی مدد سے اکثریت حاصل کی اور جھارکھنڈ کی پہلی سرکار تشکیل دی ۔

 

*فروری دو ہزار پانچ کے بہار اسمبلی کے نتائج اور رام ولاس پاسوان کی گندی سیاست*

لالو پرشاد یادو اور رام ولاس پاسوان ، دونوں مئی دوہزار چار سے انڈین نیشنل کانگریس کے من موہن سنگھ کی قیادت والی سرکار میں مرکزی وزراء تھے ،

لالو پرشاد وزیر ریل تھے اور رام ولاس وزیر کیمیکل اور کھاد تھے۔

مگر فروری دو ہزار پانچ کے بہار اسمبلی انتخابات میں کانگریس بھی اپنی طاقت سے زیادہ نشستیں مانگ رہی تھی، اور رام ولاس بھی زیادہ نشستیں مانگ رہے تھے ، اور لالو پرشاد ان کی طاقت اور حیثیت سے زیادہ نشستیں دینا نہیں چاہتے تھے۔

دوہزار چار کے لوک سبھا کے عام انتخابات میں بہار کی کل چالیس لوک سبھا نشستوں میں سے چھبیس پر راشٹریہ جنتادل نے ، آٹھ پر لوک جن شکتی پارٹی نے ، چار پر کا نگریس نے اور ایک ایک پر کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا مارکسسٹ اور نیشنلسٹ کانگریس پارٹی نے امیدوار اتارے تھے ،

اور راشٹریہ جنتادل نے بائیس ، لوک جن شکتی پارٹی نے چار اور کانگریس نے تین نشستوں پر کامیابی حاصل کی تھی ،

گویا راشٹریہ جنتادل کو ساڑھے چوراسی فیصد ، کانگریس کو پچھتر فیصد اور لوک جن شکتی پارٹی کو پچاس فیصد کامیابی ملی تھی ،

دوہزار پانچ کے اسمبلی الیکشن کے وقت لالو پرشاد دوہزار چار کے لوک سبھا والا فارمولہ ہی اپنانا چاہتے تھے ، وہ دو سو تینتالیس نشستوں میں سے ایک سو ساٹھ پر اپنی پارٹی راشٹریہ جنتا دل کے امیدوار کھڑا کرنا چاہتے تھے ، بقیہ تراسی سیٹوں میں سے چالیس کانگریس کو ، تیس لوک جن شکتی کو ،اور بقیہ تیرہ نشستیں کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا مارکسسٹ اور نیشنلسٹ کانگریس پارٹی وغیرہ کو دینا چاہتے تھے ،

مگر کانگریس اور لوک جن شکتی پارٹی زیادہ نشستوں پر امیدوار کھڑا کرنا چاہتی تھیں ،

بہرحال کانگریس ، لوک جن شکتی پارٹی اور راشٹریہ جنتادل کے درمیان سیٹوں کی تقسیم پر اتحاد نہ ہوسکا ، راشٹریہ جنتادل نے دو سو دس، لوک جن شکتی پارٹی نے ایک سو اٹہتر اور انڈین نیشنل کانگریس نے چوراسی نشستوں پر امیدوار اتارے ۔

جب الیکشن کے بعد نتائج آئے تو کانگریس کو صرف دس نشستیں ملی تھیں اسے دو نشستوں کا نقصان ہوا تھا ، راشٹریہ جنتا دل کو پچھتر نشستیں حاصل ہوئی تھیں ،اور اسے چالیس نشستوں کا نقصان ہوا تھا ،

رام ولاس پاسوان کی نئی پارٹی اور دلت پارٹی کو انتیس نشستیں حاصل ہوئی تھیں ، ان کی پارٹی کے دو تہائی ممبران اسمبلی بڑی ذات کے ہندو تھے اور سینٹرل بہار سے کامیاب ہوئے تھے ، وہ لالو پرشاد کی حمایت کرنا نہیں چاہتے تھے ۔

اگر لوک جن شکتی راشٹریہ جنتا دل کی حمایت کر دیتی تو راشٹریہ جنتادل کے پچھتر ،کانگریس کے دس ، لوک جن شکتی کے انتیس ، سماج وادی کے چار ، کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کے تین ، کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا مارکسسٹ کے ایک ملا کر بھی راشٹریہ جنتا دل کی قیادت میں ایک مخلوط سرکار بن سکتی تھی ۔

مذکورہ پارٹیوں کے علاوہ سات کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا مارکسسٹ لیننسٹ کے ، تین نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کے ، دو بہوجن سماج پارٹی کے ، اور سترہ آزاد ممبران اسمبلی بھی تھے ، کئی آزاد ممبران اسمبلی بی جے پی کے حامی تھے ،

رام ولاس پاسوان کنگ میکر بن گئے تھے ، وہ چاہتے تو لالو پرشاد کی حمایت کرکے لالو پرشاد کی اہلیہ رابڑی دیوی کو سہ بارہ وزیر اعلی کی کرسی تک پہونچا سکتے تھے۔

مگر دو باتیں ایسی تھیں جن کی وجہ سے وہ لالو پرساد کی حمایت کرنا ان کے لیے دشوار ہو رہا تھا ۔

1- وہ خود ذاتی طور پر لالو پرشاد کو آگے بڑھتا ہوا دیکھنا نہیں چاہتے اور نہ ہی ان کی قیادت میں کام کرنا چاہتے تھے۔

2-ان کی پارٹی ایک دلت پارٹی تھی اور وہ دلتوں اور مسلمانوں کے لیڈر بننے کی زندگی بھر کوشش کرتے رہے ، مگر دوہزار پانچ فروری میں ان کی پارٹی کے ٹکٹ پر زیادہ تر بڑی ذات کے ہندو اور غنڈہ قسم کے افراد ( جنہیں باہو بلی کہا جاتا ہے ) کامیاب ہوئے تھے ، وہ بھی لالو پرساد کی حمایت کرنا نہیں چاہتے تھے ۔

دوسری طرف جنتادل یونائیٹڈ کو پچپن اور اس کی اتحادی بھارتیہ جنتا پارٹی کو سینتیس نشستیں حاصل ہوئی تھیں ، جنتادل کو آٹھ اور بی جے پی کو دو سیٹوں کا فائدہ ہوا تھا ، اس اتحاد میں اگر رام ولاس پاسوان شامل ہوجاتے تو کل ارکان کی تعداد ایکسو اکیس ہوجاتی جو اکثریت سے صرف ایک کم تھی اور نتیش کمار اپنی پارٹی جنتادل یونائیٹڈ ، بھارتیہ جنتا پارٹی ، رام ولاس پاسوان کی لوک جن شکتی کے ممبران اسمبلی اور بعض آزاد ممبران اسمبلی کی حمایت سے بہت آرام سے حکومت تشکیل دے سکتے تھے۔

مگر مسئلہ یہ تھا کہ رام ولاس پاسوان کانگریس کی قیادت والی مرکزی سرکار میں کابینہ درجے کے مرکزی وزیر تھے ، اگر وہ بہار میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی حمایت کرتے تو انہیں مرکزی وزیر کے عہدے سے ہٹادیا جاتا ، اور وہ اس عہدے کو قربان کرنا نہیں چاہتے تھے ،

نیز انہیں یہ بھی امید تھی کہ آئندہ اسمبلی انتخابات میں لوک جن شکتی کی نشستیں بڑھیں گی ، مگر ان کی یہ امید اب تک پندرہ سالوں کے اندر ہوئے چار انتخابات میں پوری نہیں ہوئی ہے ، بہار اسمبلی کی دوہزار پانچ اکتوبر میں دس نشستیں ، دوہزار دس میں تین نشستیں ، دوہزار پندرہ میں دو نشستیں ہی رام ولاس پاسوان کی زندگی میں لوک جن شکتی کو حاصل ہوئیں اور ان کی موت کے بعد دوہزار بیس میں لوک جن شکتی کو صرف ایک نشست حاصل ہوئی ہے ۔

 

خلاصہ یہ ہے کہ فروری دو ہزار پانچ کے بہار اسمبلی انتخابات کے بعد کوئی بھی پارٹی حکومت تشکیل دینے میں کامیاب نہ ہوسکی ، سات آٹھ ماہ صدر راج نافذ رہا۔

*اسی درمیان میں رام ولاس پاسوان نے مسلمانوں کو خوش کرنے کے لیے ایک شوشہ چھوڑا ،کہ اگر لالو پرشاد اپنی پارٹی کے کسی مسلمان کو وزیر اعلی بنانے کا اعلان کریں تو لوک جن شکتی پارٹی راشٹریہ جنتادل کی حکومت تشکیل دینے میں مدد کرسکتی ہے ، مگر لالو پرشاد نے اس کا کوئی جواب نہیں دیا ۔ اگر لالو پرساد اپنے پارٹی کے اس وقت کے دوسرے بڑے لیڈر عبد الباری صدیقی کو وزیر اعلی بنابھی دیتے تو بی جے پی اور جنتادل یونائیٹڈ والے اس کا غلط پرچار کرتے، اور خود رام ولاس پاسوان کی پارٹی کے دو تہائی سے زیادہ ممبران بڑی ذات کے اور باہوبلی تھے ، وہ بغاوت کر دیتے، اس لیے مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ چراغ پاسوان کی باتوں پر ذرہ برابر بھی یقین نہ کریں ،ویسے بھی وہ آدھے دلت اور آدھے برہمن ہیں اور آدھے بہاری اور آدھے پنجابی ہیں ، ان کی ماں پنجابی برہمن ہیں اور وہ پہلے ائیر ہوسٹس تھیں ، وہ رام ولاس پاسوان کی دوسری بیوی اور محبوبہ ہیں انہوں نے اپنی پہلی اور گاؤں کی سیدھی سادی بیوی کی طرف 1969 میں سیاست میں آنے کے بعد سے کبھی دھیان نہیں دیا ، اور ہمیشہ پٹنہ اور دلی کی چکاچوند میں رہے ، پہلی بیوی سے ان کو دو بیٹیاں ہیں ان کی پہلی بیوی راجکماری دیوی نے ہمیشہ ایک مہذب ہندوستانی ہندو خاتون کی طرح زندگی گذاری اور اب بھی گذار رہی ہیں*

چراغ پاسوان اکلوتے ہیں ان کی پیدائش 1982 کی ہے ،ان کی ماں رینا شرما بھی زندہ ہیں ۔ ان کی ایک سگی بہن اور دو سوتیلی بہنیں ہیں ، چراغ پاسوان کی پیدائش اکتیس اکتوبر 1982کی ہے ، انیس سو اکیاسی کے اوائل یا انیس سو بیاسی کے اواخر میں رام ولاس پاسوان اور رینا شرما کی شادی ہوئی تھی ،

رام ولاس کی پہلی شادی راج کماری دیوی سے 1960 میں ہوئی تھی ، 1969 میں رام ولاس پاسوان ممبر اسمبلی بن گئے ، 1972 میں وہ دوبارہ ممبر اسمبلی نہیں بن سکے مگر 1977 کے اندرا گاندھی مخالف لہر میں وہ بڑی بھاری اکثریت سے حاجی پور سے ممبر لوک سبھا بن گئے ،پھر تو ہار ان کا مقدر نہیں ہوئی ، وہ کبھی حاجی پور سے تو کبھی روسڑا سے کامیاب ہوتے ،

انہیں لالو پرشاد نے ماہر موسمیات کا خطاب دیا تھا ،وہ ہوا کے رخ پر ہی چلتے اور کامیاب ہوتے ، کبھی ان کی منزل جنتادل ہوتا تو کبھی وہ کانگریس اور بی جے پی کے آشیانوں سے مستفید ہوتے ، مسلمانوں کا ووٹ بٹورنے کے لیے مسلمانوں کے لیے میٹھے الفاظ کی برسات کردیتے ، جذباتی مسلم نوجوانوں کو خوش کرنے کے لیے انہوں نے ایک نقلی اسامہ بن لادن بھی پال رکھا تھا جو اکثر ان کے ساتھ اسامہ بن لادن کی ہیئت میں نظر آتا تھا ،1977 سے مئی دو ہزار انیس تک وہ ممبر لوک سبھا تھے ۔ دو ہزار چودہ میں انہوں نے بھارتیہ جنتا پارٹی سے اتحاد کیا تھا اور انہیں چھ سیٹیں امیدواری کے لیے ملی تھیں ، اور ان کے تمام امیدوار کامیاب ہوگئے تھے جن میں ایک مسلمان محبوب قیصر صاحب بھی کھگڑیا سے کامیاب ہوئے تھے بقیہ پانچ دلت تھے اور ان ہی کے خاندان کے تھے ، محبوب قیصر سمری بختیار پور ضلع سہرسہ کے ایک زمین دار خاندان سے ہیں وہ تین بار کانگریس کے ٹکٹ پر ممبر اسمبلی منتخب ہوئے ہیں، ان کے والد اور بیٹے بھی ممبر اسمبلی منتخب ہوچکے ہیں محبوب قیصر دو ہزار انیس میں بھی لوک جن شکتی کے ٹکٹ پر کھگڑیا سے ممبر لوک سبھا منتخب ہوئے تھے ، اب وہ لوک جن شکتی میں نہیں ہیں ۔ اب وہ راشٹریہ جنتادل میں ہیں ۔

دو ہزار انیس میں رام ولاس نے آٹھ سیٹیں امیدواری کے لیے مانگیں مگر بی جے پی نے انہیں چھ سیٹیں ہی دیں اور ایک راجیہ سبھا سیٹ دینے کا وعدہ کیا ، رام ولاس نے دو ہزار انیس میں لوک سبھا کا الیکشن نہیں لڑا اور الیکشن کے بعد انہیں بہار سے ممبر راجیہ سبھا بنادیا گیا، وہ چھبیس مئی دو ہزار چودہ سے اپنی وفات تک یعنی آٹھ اکتوبر دو ہزار بیس تک مودی حکومت میں وزیر خوراک تھے ، اس سے قبل وہ دس سالوں تک کانگریس کی قیادت والے اتحاد یوپی اے کی من موہن سنگھ سرکار میں بھی مرکزی وزیر تھے ، اور متعدد محکمے سنبھالے تھے ، اور اس سے قبل گیارہ جون 1996 تا انیس مارچ 1998 جنتادل کی دیوے گوڑا اور آئی کے گجرال حکومتوں میں وزیر ریل تھے ، اور اس سے قبل پانچ دسمبر 1989 تا دس نومبر 1990 کی جنتادل کی وی پی سنگھ سرکار میں وہ وزیر محنت تھے ،

رام ولاس کی پیدائش بہار کے کھگڑیا ضلع کے شہر بنی نامی ایک گاؤں میں پانچ جولائی 1946 کو ہوئی تھی ، اور موت آٹھ اکتوبر دو ہزار بیس کو ہوئی ،

*رام ولاس پاسوان اور نتیش کمار کی لالو پرشاد سے اندھی دشمنی نے بہار کو برباد کیا ہے ، ان دونوں نے اپنے ذاتی سیاسی فائدے کے لیے بھارتیہ جنتا پارٹی سے اتحاد کیا اور اسے بہار میں پھولنے اور پھلنے کا موقع دیا*

Comments are closed.