کائنات کے سردار حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کا اظہار ہم صرف بارہ ربیع الاول کی تاریخ میں نہیں ؛ بل کہ زندگی کے ایک ایک پل میں کرتے ہیں:جمعیت علماء روتہٹ نیپال
(روتہٹ نیپال 5/ستمبر 2025ء/انوار الحق قاسمی)
یہ ہم سب جانتے ہیں کہ سال کے بارہ مہینے ہیں،جن میں ایک مبارک مہینہ ” ربیع الاول” کا ہے۔ جب جب ماہ ربیع الاول کی مبارک آمد ہوتی ہے،تو ایک خاص طبقہ (یعنی بریلوی حضرات)محبت رسول- صلی اللہ علیہ وسلم- کا معیار ماہ ربیع الاول کی بارہویں تاریخ میں جشنِ عید میلاد النبی منانا قرار دیتا ہے اور وہ یہ صاف کہتا ہے کہ : جولوگ جشنِ عید میلادالنبی منانے کے خلاف ہیں،وہ اسلام کے باغی ہیں اور ان کے قاشہ قلب میں رسول اللہ- صلیٰ اللہ علیہ- کی محبت و عظمت نہیں ہے۔
تو اس خاص طبقہ کے مجوزہ معیار کو جمعیت علماء روتہٹ نیپال کے ذمے داران { مولانا محمد شوکت علی قاسمی مدنی ،مولانا محمد خیر الدین مظاہری ،مولانا محمد جواد عالم مظاہری ، حضرت قاری محمد ساجد حسین مظاہری،مولانا انوار الحق قاسمی ،مولانا محمد صابر علی مظاہری ،مولانا محمد اسلم جمالی قاسمی،مولانا وقاری اسرار الحق قاسمی- مد ظلہم العالی } نے باطل قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ: ایک خاص مہینے: یعنی ماہ ربیع الاول کی ایک خاص تاریخ:یعنی بارہ ربیع الاول میں حضور پاک -صلی اللہ علیہ وسلم – کی ولادتِ باسعادت پر جشن منانے کا ثبوت نہ سلف سے ملتا ہے ، نہ ہی اس کی کوئی اصل اور نہ ہی عقل اسے قبول کرتی ہے۔عقل کے قبول نہ کرنے کی وجہ یہ ہے کہ : کائنات کے سردار حضرت محمد مصطفی- صلی اللہ علیہ وسلم- کی آمد یقیناً ہم سبھوں کے لیے ایک نعمت کبریٰ ہے،جس کامقتضا یہ ہرگز نہیں ہوسکتا ہے کہ ان کی محبت کے اظہار کے لیے ایک خاص مہینے کی ایک خاص تاریخ متعین کرکے خود کو فارغ کرلیا جائے ؛بل کہ اس نعمت کبریٰ کا مقتضا ہے کہ حضور پاک -صلی اللہ علیہ وسلم- سے محبت کا اظہار تمام مہینوں کی تمام تاریخوں کے ایک ایک پل اور ایک ایک لمحہ میں کیا جائے؛چناں چہ ہم اہلِ دیوبند نبی اکرم -صلی اللہ علیہ وسلم -سے محبت کا اظہار زندگی کی ایک ایک گھڑی میں اور جسم کے ایک ایک عضو سے کرتے ہیں اور کرتے رہیں گے،کیوں کہ حضور کی محبت کے بغیر ہم ایک پل بھی زندہ رہنے کو تیار نہیں ہیں۔
Comments are closed.