ذکر مصطفی کی جلوہ سامانیاں
مولانا سید احمد ومیض ندوی
استاذ حدیث دارالعلوم حیدرآباد
ابھی دو دن قبل کی بات ہے کہ یہ عاجز لمحہ فکریہ کے اس کالم کے لیے آن لائن ورق گردانی کر رہا تھا اور ذکر مصطفی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی حسین وادیوں کی سیاحی میں محو تھا کہ نظریں تاجدار مدینہ راحت قلب و سینہ حضرت سیدنا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات والا صفات پر لکھی گئی کچھ تحریروں پر جا کر ٹک گئیں، اور جی چاہا کہ ان خوبصورت اقتباسات کو قارئین تک پہنچایا جائے، ویسے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اور آپ کے مقام رفیع سے متعلق نثر اور نظم دونوں میں ایسے ایسے حسین اور خوبصورت فن پارے پائے جاتے ہیں جن میں شعراء اور نثر نگاروں نے نہ صرف اپنے کمال فن کے جوہر دکھائے ہیں، بلکہ فصاحت وبلاغت کے دریا بہا دیے ہیں، اردو زبان کا دامن ایسے فن پاروں سے کبھی خالی نہ رہا، اردو شعراء کا جائزہ لیا جائے تو انہوں نے ذکر مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی گوشہ تشنہ نہیں چھوڑا، کسی کی رفعت شان کے ذکر کی انتہا یہ ہے کہ شاعر اپنی عاجزی اور بے بسی کا اعتراف کر بیٹھے، اور برملا یہ کہے کہ ان کی مدحت مخلوق کے بس کی بات ہی نہیں، بس ہم اسے خالق کائنات کے حوالے کر دیتے ہیں، اردو اور فارسی کے کئی بلند قامت شعراء نے اسی کو اپنایا ہے، غالب برملا اعلان کرتے ہیں:
غالب ثنائے خواجہ بیزداں گزاشتیم+کاں ذات پاک مرتبہ دان محمد است۔ گویا غالب اعتراف کر رہے ہیں کہ ثنائے خواجہ مخلوق کے بس کی بات نہیں ہے، خالق کائنات ہی اس کا حق ادا کر سکتا ہے، گویا غالب نے یہ کہہ کر پلہ جھاڑ لیا کہ ہم محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی توصیف و ثناء خوانی کو خالق کائنات کے سپرد کر دیتے ہیں۔ ایک اور شاعر نے بھی
اسی طرح کی بے بسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے:
يا صاحب الجمال ويا سيد البشر+ من وجهك المنير لقد نور القمر+لا يمكن الثناء كما كان حقه+بعداز خدا بزرگ توئی قصہ مختصر۔
لکھنو کے ایک شاعر بہزاد لکھنؤی کے یہ نعتیہ اشعار کس قدر ایمان افروز اور دل و دماغ کو سرور بخشنے والے ہیں۔
یا محمد تمنائے کون و مکاں، ہوں ہزاروں درود و سلام آپ پر ۔
اے مراد زماں حسرت دو جہاں، ہوں ہزاروں درود و سلام آپ پر۔
روۓ صدق و یقیں جان ایمان و دیں،
راحت عارفیں رحمت عالمیں،
دستگیر زماں، شافع بے کساں+ہوں ہزاروں درود و سلام آپ پر
سب کے غم کی دوا، سب کے دل کی صدا، اے دو عالم کے دل، اے دو عالم کی جاں+ ہوں ہزاروں درود و سلام آپ پر۔
مشعل سالکاں، منزل عارفاں، حاصل ذاکراں، نازش صادقاں+ جان پیغمبراں، خاتم مرسلاں۔
ہوں ہزاروں درود و سلام آپ پر
اردو شاعری میں علامہ اقبال نے صنف نعت کو نہ صرف بام عروج پر پہنچایابلکہ اسے ایک نئی قوت و توانائی عطا فرمائی، ان کی نعتیہ شاعری عقیدت و محبت کے جذبات کی بھرپور عکاسی کرتی ہے ان کے یہ اشعار زبان زد خاص و عام ہیں:
لوح بھی تو، قلم بھی تو، تیرا وجود الکتاب+گنبد آبگینہ رنگ تیرے محیط میں حباب+عالم آب و خاک میں تیرے ظہور سے فروغ+ ذرہ ریگ کو دیا تو نے طلوع آفتاب .
ایک اور موقع سے علامہ اقبال فرماتے ہیں: وہ دانائے سبل ختم الرسل مولائے کل جس نے+غبار راہ کو بخشا فروغ وادی سینا+نگاہ عشق و مستی میں وہی اول وہی آخر+ وہی قرآں وہی فرقاں وہی یاسیں وہی طہ۔
اور ایک جگہ فرماتے ہیں: دردل ما مقام مصطفی است+آبروۓ ما زنام مصطفی است۔
بمصطفی برساں خویش کہ دیں ہمہ اوست +اگر بہ او نہ رسیدی تمام بولہبیست۔
جن نثری تحریروں پر نگاہیں ٹک گئیں ان میں سے ایک پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود احمد کا یہ اقتباس ہے: ان کی رحمت دو عالم کی بہار، ان کی معیشت غریبوں کا سنگھار، ان کی بخشش گناہ گاروں کی سوغات، ان کی شفقت سیاہ کاروں کی بارات، ان کی چال زمین کی معراج، ان کی پرواز فلک کی معراج، ان کا نور نور الانوار، ان کا سر سر الاسرار، ان کا آفتاب آفتابوں کا آفتاب، ان کا ماہتاب مہتابوں کا مہتاب، ان کا نام نامی جان موجودات، ان کا کرم آن کائنات۔
ذکر مصطفی کہاں نہیں؟کوئی جگہ نہیں، جہاں نہیں،اللہ اللہ ان کے کرم سے موجودات نے لباس وجود پہنا، ان کا چرچہ آسمانوں میں، ان کا چرچہ زمینوں میں، ان کا چرچہ سمندروں میں، انبیاء و رسل، فلک و ملک، جن و انس سب ان کی آمد آمد کے منتظر، ان کا نام نامی بہار زندگی، ان کا وجود گرامی شباب زندگی، ان کی راتیں مغفرت کی برسات، ان کے دن رحمت کی پھوار، ان کا جسم طلوع فجر، ان کا غم غروب سحر، ان کی عنایت دلوں کی ٹھنڈک، ان کا کرم روحوں کی فرحت، ان کا دیدار آنکھوں کی روشنی، ان کا کردار انسانوں کی معراج۔
ذکر مصطفی بڑی سعادت ہے، وہ دل دل نہیں جو ان کی محبت میں نہ دھڑکے، وہ زبان زبان نہیں جو ان کی مدح و ثناء میں نہ کھلے، ہاں رگوں میں خون دوڑ رہا ہے، دل میں جذبات امنڈ رہے ہیں، دماغ میں خیالات پھوٹ رہے ہیں، زبان پر الفاظ مچل رہے ہیں، جسم میں ہلچل مچی ہے، پھر کیوں نہ اس جان جاں کا ذکر کریں، ہاں رب العالمین خود ان کا ذکر فرما رہا ہے، اللہ اللہ وہ ذکر کی کن بلندیوں پر فائز ہے، اس سے بڑھ کر بلندی اور کیا ہوگی کہ نام نامی رب کریم کے حضور اس طرح سرفراز ہوا کہ ہر سرفرازی اس سرفرازی کے قدم چومنے لگی،ہمارا کیا منہ؟ہماری کیا اوقات؟ہماری کیا بساط؟جو ان کا ذکر کرے عقل نہیں جو ان کی بلندیوں کو پا سکے وہ دماغ نہیں جو اس جوامع الکلم کی بات سمجھ سکے انکھ نہیں جو ان کے جلووں کو دیکھ سکے کیا کریں اور کیا نہ کریں دل بے قرار ہے انکھیں اشکبار ہیں اللہ اللہ مگر وہ تو غریب نواز ہیں ہاں: ایک ننگ غم عشق بھی ہے منتظر دید+صدقہ تیرے اے صورت سلطان مدینہ (معرفت اسم محمد ص١٩٨)
دوسرا اقتباس جس نے قلب و نگاہ کو اپنی طرف متوجہ کیا یوں ہے: حضرت آدم علیہ السلام کی انابت، حضرت نوح علیہ السلام کی استقامت، حضرت شیث علیہ السلام کی معرفت، حضرت ہود علیہ السلام کی لطافت، حضرت صالح علیہ السلام کی صالحیت، حضرت لوط علیہ السلام کی حکمت، حضرت یونس علیہ السلام کی توبہ و تواضع، حضرت شعیب علیہ السلام کی خطابت، حضرت ابراہیم علیہ السلام کی خلت، حضرت اسماعیل علیہ السلام کی تسلیم و رضا، حضرت ایوب علیہ السلام کا صبر، حضرت یعقوب علیہ السلام کا توکل اور اعتماد علی اللہ، حضرت یوسف علیہ السلام کا جمال، حضرت موسی علیہ السلام کا وقار، حضرت داؤد علیہ السلام کی تسبیح و تہلیل، حضرت سلیمان علیہ السلام کی معاملہ فہمی اور شاہانہ اول العزمی، حضرت یحیی علیہ السلام کی پاک دامنی، حضرت عیسی علیہ السلام کا زہد و قناعت، یہ وہ پھول ہیں جنہیں گلدستے کی شکل دی جائے یا یوں کہا جائے کہ یہ وہ موتی ہیں کہ جب انہیں ایک لڑی میں پرویا جائے تو جو نام نامی اسم گرامی بنتا ہے، وہ فخر موجودات، وجہ وجود کائنات، رحمت اللعالمین، خاتم النبیین، حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے:-حسن یوسف دم عیسی ید بیضاء داری+آنچہ خوباں ہمہ دارند تو تنہا داری۔
ربیع الاول کی وہ کیسی خوشگوار، پر انوار، رونق افروز صبح صادق تھی جو ایسے صادق و امین کی دنیا میں تشریف آوری کے ساتھ طلوع ہوئی، جن کے مبارک چہرے کو”والضحي” کہا گیا، جن کی زلفوں کو "والليل” کہا گیا، جنہیں "ورفعنا لك ذكرك” کی خلعت پہنائی گئی، جنہیں شفاعت کبری کا تاج پہنایا گیا،انا اعطيناك الكوثر کی نوید سنائی گئی، مقام محمود کی عطا کا جن سے وعدہ کیا گیا، جن کے ہدایت کے روشن چراغ ہونے کو "سراجا منيرا” سے تعبیر فرمایا گیا، کہیں "داعيا الى الله” کے مبارک لقب سے آراستہ کیا گیا تو کبھی "مزمل” اور "مدثر” جیسے پیارے ناموں سے پکارا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد باسعادت ہوئی، دنیا کے ظلمت کدے میں ایمان کی قندیلیں روشن ہونے کا وقت آیا، وہ صبح صادق نمودار ہوئی جس کے بعد سے کفر و معصیت کی خزاں ایمان و اطاعت کی بہار سے بدلنے لگی، بزم عالم مہک اٹھی، مراد برآیں، کائنات کا ذرہ ذرہ جگمگا اٹھا، ہادی عالم کی آمد ہوئی، شفیع امم آئے، شہریار حرم آئے، نور خدا آئے، احمد مجتبی آئے، محمد مصطفی آئے، شاہد آئے، مبشر آئے، بشیر آئے، نظیر آئے، خیر مجسم آئے، وارث زمزم آئے، ساقی کوثر آئے، شافعی محشر آئے، طاہر آئے، مطہر آئے، شریف سیرت آئے، نسیم جنت آئے، رحیم امت آئے، فقیروں کو پناہیں ملیں، درد مندوں کو دوائیں ملیں، غمزدوں کی غم خواری ہوئی، مسکینوں کو ہمدرد ملا، یتیموں کو سہارا ملا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ظہور قدسی ہوا، آپ کو نبوت ملی، امت کو سنت ملی، آپ کو رسالت ملی، امت کو ہدایت ملی۔
مساوات کا حامی آیا، اخوت کا بانی آیا شفاعت کا اپنے سر پر تاج رکھنے والا، اور اپنے نام لیواؤں کی لاج رکھنے والا آیا، زہر یلے ہونٹوں کو میٹھے بول دینے والا آیا، صنم آشناؤں کو عبدیت خداوندی سے آشنا کرنے والا آیا ،عالم انسانیت کا وہ عظیم انسان آیا جس نے پوری انسانیت کو جینے کا شعور و آگہی دی، عالم بشریت کا وہ عظیم بشر آیا جس نے بشر کو شر اور خیر میں امتیاز کرنا سکھایا، جفا سرشتوں کو وفا پرستی کا درس دیا، پیام موت بن کر حملہ آور ہونے والوں کو پیام حیات دیا، مردم آزاروں کو مردوم آزاری سے ہٹا کر مردوم نوازی پر لگایا، اوروں کے واسطے سیم و زر و گوہر لٹائے اور خود بادشاہی میں فقیری کی، در در بھٹکنے والوں کو خدائے بے نیاز کے حضور جبین نیاز جھکانے کی تعلیم دی، گرتے ہوؤں کو تھاما، بے کسوں کی دستگیری فرمائی، باب جہالت بند کیا اور علم کے دفترواکیے۔:-قدم قدم پہ رحمتیں، نفس نفس پہ برکتیں، جہاں جہاں سے وہ شفیع عاصیاں گزر گیا+جہاں نظر نہ پڑ سکی وہیں ہے رات آج تک+ وہیں وہیں سحر ہوئی جہاں جہاں گزر گیا.
نبی اکرم شفیع، اعظم، حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی صورت میں جمال اور سیرت میں کمال ہے، جتنے انبیاء کرام علیہم السلام تشریف لائے وہ سب اپنے اپنے زمانے کے نبی اور آپ تا قیام قیامت سارے زمانے کے نبی ہیں، تمام انبیاء کرام علیہم السلام اپنی قوم کے لیے ہادی بن کر آئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہادی عالم بن کر تشریف لائے، تمام انبیاء کرام علیہم السلام صفات جمیل و جمال کا مظہر ہیں، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان سب سے اجمل ہیں، جماعت انبیاء کرام علیہم السلام کا ہر ہر فرد شریف ہے، اور آپ اشرف الانبیاء ہیں، تمام انبیاء کرام علیہم السلام کامل ہیں، تو ساقی کوثر، شافعی محشر، صاحب خلق عظیم، رحمت اللعالمین، خاتم النبیین، حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم سب میں کامل و اکمل ہیں۔ (روزنامہ جنگ 10 نومبر 2019)
ایک اور حسین اقتباس ملاحظہ فرمائیں جس میں عصری تناظر میں سیرت کی اہمیت اور قدر و قیمت پر روشنی ڈالی گئی ہے:”اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت میں دنیا بھر کے گھمبھیر اور پیچیدہ مسائل کا قابل قبول حل موجود ہے، ایک مرتبہ علامہ اقبال مسولینی سے ملے تو دوران گفتگو علامہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اس پالیسی کا ذکر کیا کہ شہر کی آبادی میں غیر ضروری اضافے کے بجائے دوسرے شہر آباد کیے جائیں، مسولینی یہ سن کر مارے خوشی کے اچھل پڑا، کہنے لگا: شہری آبادی کی منصوبہ بندی کا اس سے بہتر حل دنیا میں موجود نہیں ہے۔
آج سے 1400 سال پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تھا کہ مدینے کی گلیاں کشادہ رکھو، گلیوں کو گھروں کی وجہ سے تنگ نہ کرو، ہر گلی اتنی کشادہ ہو کہ دو لدے ہوئے اونٹ آسانی سے گزر سکیں، 1400 سال بعد آج دنیا اس حکم پر عمل کر رہی ہے، شہروں میں تنگ گلیوں کو کشادہ کیا جا رہا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تھا کہ مدینے کے بالکل درمیان میں مرکزی مارکیٹ قائم کی جائے، اسے "سوق مدینہ” کا نام دیا گیا تھا، آج کی تہذیب یافتہ دنیا کہتی ہے کہ جس شہر کے درمیان مارکیٹ نہ ہو وہ ترقی نہیں کر سکتا، آپ نے کہا تھا یہ تمہاری مارکیٹ ہے، اس میں ٹیکس نہ لگاؤ، آج دنیا اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ مارکیٹ کو ٹیکس فری ہونا چاہیے، دنیا بھر میں ڈیوٹی فری مارکیٹ کا رجحان فروغ پا رہا ہے، آپ نے سود سے منع فرمایا تھا، آج پوری دنیا میں فری ربا انڈسٹری فروغ پا رہی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ذخیرہ اندوزی سے منع کیا، آج دنیا اس حکم پر عمل کرتی تو خوراک کا عالمی بحران کبھی پیدا نہ ہوتا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا سٹے سے نفع نہیں، نقصان ہوتا ہے، آج عالمی مالیاتی بحران نے اس کی قلعی کھول کر رکھ دی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام کو منع کیا کہ درختوں کو نہ کاٹو! کوئی علاقہ فتح ہو تو بھی درختوں کو آگ نہ لگاؤ! آج ماحولیاتی آلودگی دنیا کا دوسرا بڑا مسئلہ ہے، عالمی درجہ حرارت بڑھ رہاہے، گلیشئر پگھل رہے ہیں، گرمی بڑھ رہی ہے، یہ سب کچھ درختوں اور جنگلات کی کمی کی وجہ سے ہو رہا ہے، ایک شخص نے مدینے کے بازار میں بھٹی لگا لی، حضرت عمر نے اس سے کہا:’ تم بازار کو بند کرنا چاہتے ہو؟شہر سے باہر چلے جاؤ! آج دنیا بھر میں انڈسٹریل علاقے شہروں سے باہر قائم کیے جا رہے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینے کے باہر حی النقیع نامی سیر گاہ بنوائی، وہاں پیڑ پودے اس قدر لگوائے کہ وہ تفریح گاہ بن گئی، گاہے گاہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خود بھی وہاں آرام کے لیے تشریف لے جاتے، آج صدیوں بعد ترقی یافتہ شہروں میں پارک قائم کیے جا رہے ہیں، آج کل شہریوں کی تفریح کے لیے ایسی تفریح گاہوں کو ضروری اور لازمی سمجھا جا رہا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینے کے مختلف قبائل کو جمع کر کے میثاق مدینہ تیار کیا، 52 دفعات پر مشتمل یہ معاہدہ دراصل مدینے کی شہری حکومت کا دستور العمل تھا، اس معاہدے نے جہاں شہر کی ترقی میں کلیدی کردار ادا کیا، وہیں خانہ جنگیوں کو ختم کر کے مضبوط قوم بنا دیا، آج ہمارا سب سے بڑا مسئلہ یہی خانہ جنگی ہے، کئی ملک اس آگ میں جل رہے ہیں، اس آگ کو بجھانے کے لیے معاہدوں پر معاہدے ہو رہے ہیں، مدینے میں مسجد نبوی کے صحن میں ہسپتال بنایا گیا، تاکہ مریضوں کو جلد اور مفت علاج مہیا ہو، آج ترقی یافتہ ممالک میں علاج حکومت کی ذمہ داری سمجھا جاتا ہے، ماہانہ چیک اپ مفت کیے جاتے ہیں، مسجد نبوی کو مرکزی سیکریٹیٹ کا درجہ حاصل تھا، مدینہ بھر کی تمام گلیاں مسجد نبوی تک براہ راست پہنچتی تھیں ،تاکہ کسی حاجت مند کو پہنچنے میں دشواری نہ ہو، آج ریاست کے سربراہ اعلی کی رہائش گاہ میں اس بات کا خصوصی خیال رکھا جاتا ہے، اج سے صدیوں پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تھا کہ فجر کے بعد اور عصر کے بعد سونا نہیں چاہیے، یہ صحت کے لیے نقصان دہ ہوتا ہے، آج پوری دنیا اس کو مان رہی ہے کہ ان اوقات میں سونا طبی لحاظ سے انسانی صحت کے لیے نقصان دہ ہے، جدید سائنس کہتی ہے کہ ان اوقات میں مستقل سونے کی عادت اپنانے والوں کو مہلک بیماریاں لگ جاتی ہیں، اگر ان اوقات میں ورزش کی جائے تو صحت پر مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں، آپ نے فرمایا تھا کہ رات کو جلد سونا چاہیے، عشاء کے بعد فضول گپ شپ سے منع فرمایا تھا، آج پوری دنیا مان رہی ہے کہ رات کو جلد سونا صحت کے لیے انتہائی ضروری ہے، ڈپریشن کی ایک وجہ رات دیر تک جاگنا بھی ہے، آپ نے فرمایا کہ کھانا پینا سادہ رکھیں، اور تھوڑی سی بھوک رکھ کر کھایا کریں، آج پوری طبی دنیا مانتی ہے کہ سادہ خوراک سے صحت بہتر ہوتی ہے، اور زیادہ کھانے سے معدے خراب ہوتے ہیں، اور بیسیوں بیماریاں جنم لیتی ہیں۔(از مضمون: انور غازی)
ان اقتباسات کو پڑھیے اور بار بار پڑھیے اور پھر رسول رحمت پر نذرانہ درود بھیجیے يا رب صل وسلم دائما ابدا +على حبيبك خير الخلق كلهم.
Comments are closed.