حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم بحیثیت سیاست داں

 

از قلم: محمد ابوہریرہ رضوی مصباحی

(رام گڑھ جھارکھنڈ)

 

حضور نبی رحمت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی حیات طیبہ انسانی زندگی کے ہر شعبے کے لیے کامل نمونہ ہے۔ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی سیاسی زندگی بھی عدل، امن، رواداری، حکمت اور انسانیت نوازی کی اعلیٰ مثال ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضور کے اسوۂ حسنہ کو واضح فرمایا:

لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ-(سورہ: احزاب_ آیت: ٢١)

ترجمہ: بے شک تمھیں رسول اللہ کی پیروی بہتر ہے-(کنزالایمان)

 

*سیاست کا مقصد اور نبوی حکمت:*

حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی سیاست کا مقصد اقتدار یا دنیاوی غلبہ نہیں تھا بلکہ اللہ کی وحدانیت کا اعلان، ایک اللہ کی عبادت و ریاضت کی جائے، اور اللہ کی بندگی کو غالب کرنا تھا۔ انسانی حقوق کا تحفظ، رعایا کی بھلائی، عدل و انصاف قائم کرنا اور اجتماعی زندگی کو صحیح اصولوں پر منظم کرناتھا۔ آپ امت کی رہنمائی اور فلاح کے خواہاں تھے. اور اسلام میں سیاست کا مطلب رعایا کی بھلائی اور عدل و انصاف تھی.

حضرت پیر کرم شاہ ازہری لکھتے ہیں:”سرکار دو عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم علیہ کی سیاسی بصیرت کا کمال یہ ہے کہ آپ نے انتشار میں جکڑی ہوئی انسانیت کو ایک لڑی میں پرو دیا اور قلیل عرصے میں ایک ایسی ریاست قائم کردی جس کی بنیاد عدل و انصاف پر تھی” – (ضیاء النبی، ج: ٤، ص:١٢٥)

 

*تنصیب حجر اسود اور لاجواب فیصلہ:*

خانہ کعبہ کی عمارت سیلاب اور بارش کی وجہ سے کمزور اور خستہ ہو چکی تھی اس لیے قریش نے اس کی تعمیر نو شروع کر دی، جب عمارت اس جگہ پہنچی جہاں حجر اسود نصب تھا تو قریش کے قبیلوں کے درمیان ایک جھگڑا سا گھڑا ہوگیا، ہرقبیلہ یہ چاہتا کہ حجر اسود کو اٹھا کر ہم اس کی جگہ نصب کریں تا کہ یہ عمل ہمارے قبیلہ کے لیے فخر وشرف کا باعث ہو۔ اس سلسلے میں تناؤ بڑھتا گیا یہاں تک کہ تلوار نکلنے کی نوبت آگئی ، آخر کار سارے لوگوں کا اس بات پر اتفاق ہوا کہ صبح حرم شریف میں جو سب سے پہلے داخل ہو جائے گا اس کے فیصلے پر عمل کیا جائے گا۔ خدا کی شان کہ سب سے پہلے ہمارے آقا صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم حرم میں داخل ہوئے ، آپ کو دیکھتے ہی قریش بہت خوش ہوئے ، اور بیک زبان پکار اٹھے، بخدا! یہ امین وصادق ہیں، یہ جو فیصلہ کریں گے ہم اس پر راضی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو فہم کامل اور عقل سلیم عطا فرمائی تھی ، آپ نے ایسا خوبصورت فیصلہ فرمایا کہ قریش فوراً رضا مند ہو گئے ۔ آپ نے فرمایا کہ حجر اسود کو ایک چادر میں رکھیں اور اس چادر کو قبائل قریش سے ایک ایک فرد پکڑ کر اس جگہ لے چلے جہاں حجر اسود نصب تھا تو اس طرح سارے قبائل کی شرکت ہو جائے گی۔ اس کے بعد ہر آدمی مجھ کو اپنی طرف سے وکیل بنا دے، اس لیے کہ وکیل کا فعل مؤکل کا فعل ہوتا ہے۔ اس طرح حجر اسود کو اس کی جگہ رکھنے کا شرف ہر ایک کو حاصل ہو جائے گا۔ قریش نے بدل و جاں اس فیصلے کو قبول کیا اور اس پر عمل پیرا ہوئے۔

(تواریخ حبیب الہ-ص:٢١)

 

اس طرح جس معاملے پر جنگ کا خطرہ منڈلانے لگا تھا اور بد نظمی وفساد کی انتہا ہونے والی تھی نبی رحمت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے نہایت ہی احسن طریقے، سیاسی تدبر سے اس معاملے کو ایسے سلجھایا کہ کام بھی ہو گیا اور خون کا قطرہ تک نہ بہا، بلکہ سب کے سب ہنسی خوشی اس کام میں امن وامان کے ساتھ شریک ہوئے.

*مکی دور کی سیاسی حکمت عملی:*

مکہ مکرمہ میں مسلمانوں کو سیاسی و معاشرتی ظلم سہنا پڑا۔ اس وقت حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے حکمت عملی کے ساتھ قدم اٹھایا جو مندرجہ ذیل ہیں:

*خفیہ دعوت:* جب یہ آیتیں نازل ہوئیں: یٰۤاَیُّهَا الْمُدَّثِّرُ(١)قُمْ فَاَنْذِرْ(٢) وَ رَبَّكَ فَكَبِّرْ(٣)وَ ثِیَابَكَ فَطَهِّرْ(٤) وَ الرُّجْزَ فَاهْجُرْ(٥) (پارہ:٢٩-سورہ:مدثر)

اے بالا پوش اوڑھنے والے! کھڑے ہوجاؤ، پھر ڈر سناؤ، اور اپنے رب ہی کی بڑائی بولو،اور اپنے کپڑے پاک رکھو۔

اور بتوں سے دور رہو.(کنزالایمان)

ان آیات کے نزول کے بعد حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے اسلام کی تبلیغ آہستہ آہستہ شروع کر دی، جو لوگ آپ کے بہت قریب تھے اور جن پر آپ کو کافی اعتماد تھا سب سے پہلے ان کو تبلیغ کی. چوں کہ عرب بت پرستی میں گھرے ہوئے تھے، اس لیے ان کے درمیان اعلانیہ اسلام کی تبلیغ کرنا بڑا مشکل تھا. اس ماحول کو دیکھتے ہوئے حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے پہلے پوشیدہ طور پر تبلیغ اور دعوت کا کام شروع کیا. اس دوران بہت سے لوگوں نے اسلام قبول کیا.

خفیہ تبلیغ کا یہ سلسلہ برابر تین سال تک چلتا رہا. تین سال تک حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم انتہائی پوشیدہ طور پر نہایت رازداری کے ساتھ تبلیغ اسلام کا فریضہ انجام دیتے رہے. ابتدائی تین سالوں تک لوگوں کو دین کی خفیہ دعوت دیتے رہے تاکہ طاقتور مخالفین کے مقابلے میں تحفظ

رہے۔

 

*حبشہ کی ہجرت:* حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے صحابہ کرام کو نجاشی کے دربار میں بھیجا تاکہ ایک محفوظ سیاسی پناہ گاہ ملے۔ (ابن ہشام، السیرۃ النبویہ، ج:١، ص:٣٢١)

 

*معاہدہ ہجرت و میثاقِ مدینہ:*

ہجرت کے بعد آپ نے مدینہ میں ایک تحریری معاہدہ "میثاقِ مدینہ” تیار فرمایا، جو دنیا کا پہلا تحریری آئین ہے۔ اس میں مسلمانوں، یہودیوں اور دیگر قبائل کے حقوق و فرائض بیان کیے گئے۔

 

*عدل و انصاف کی حکمرانی:*

 

حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے سیاست میں عدل کو سب سے زیادہ مقدم رکھا۔

قرآن مجید میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:

> إِنَّ اللّٰهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تُؤَدُّوا الْأَمَانَاتِ إِلٰى أَهْلِهَا وَإِذَا حَكَمْتُمْ بَيْنَ النَّاسِ أَنْ تَحْكُمُوْا بِالْعَدْلِ (النساء:آیت:٥٨)

حضور اکرم صلی تعالیٰ علیہ وسلم نے اس پر سختی سے عمل فرمایا۔ ایک موقع پر قریش کی ایک معزز خاتون نے چوری کی، لوگ سفارش کے لیے آئے تو آپ نے فرمایا:

’’قسم ہے اللہ کی! اگر محمد کی بیٹی فاطمہ بھی چوری کرے تو میں اس کا ہاتھ کاٹ دوں گا۔‘‘

(صحیح بخاری، کتاب الحدود، حدیث:٣٤٧٥)

 

*دشمنوں کے ساتھ سیاسی حکمت:*

حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے دشمنوں کے ساتھ بھی معاہدات کیے، مثلاً:

صلح حدیبیہ (٦ ہجری): بظاہر مسلمانوں کے خلاف دکھائی دیتی تھی مگر یہ حکمتِ عملی بعد میں عظیم فتح کا سبب بنی۔

(بخاری، کتاب الشروط، حدیث:٢٧٣١)

 

*صلح حدیبیہ سیاسی حکمت کا اعلیٰ نمونہ*

 

صلح حدیبیہ ہمارے نبی ﷺ کی سیاسی حکمت اور دور اندیشی کا اعلیٰ نمونہ ہے۔ صحابۂ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کو اس معاہدے کی شرائط بظاہر کمزور اور توہین آمیز لگ رہے تھے، مگر ہمارے پیارے نبی ﷺ نے حالات کا گہرا تجزیہ کیا۔ اور آپ نے فوراً جذبات کی بجاے عقل و حکمت کو ترجیح دی اور دشمن کے ساتھ صلح کی بنیاد پر امن کی راہیں ہموار کیں۔ نتیجہ یہ نکلا کہ اگلے دو سالوں میں ہزاروں لوگ دائرۂ اسلام میں داخل ہوئے۔

اس معاہدے سے یہ بھی ثابت ہوا کہ ہمارے حضور نبی آخر الزماں ﷺ جنگ و جدال کے نہیں بلکہ امن و امان کے داعی تھے۔ صلح حدیبیہ کے موقع پر جب کفار نے "رسول اللہ” لکھنے پر اعتراض کیا تو آپ ﷺ نے اسے بھی ہٹوا دیا، حالاں کہ آپ ﷺ کو اپنا منصب خوب معلوم تھا۔ یہ عظیم ظرف، حکمت اور برداشت کا مظاہرہ تھا۔ صلح حدیبیہ ہمیں سکھاتی ہے کہ اصل فتح تلوار یا بندوق سے نہیں بصیرت، ضبط اور تدبر سے حاصل ہوتی ہے.

 

*بین الاقوامی تعلقات:*

فتح مکہ کے بعد آپ نے دنیا کے بڑے حکمرانوں (قیصر روم، کسریٰ ایران، نجاشی حبشہ وغیرہ) کو خطوط بھیجے اور انہیں اسلام کی دعوت دی۔ یہ بین الاقوامی سیاست کی روشن مثال ہے۔

(السیرۃ النبویہ لابن ہشام، ج٤، ص:٢٩٣)

 

*مذہبی آزادی اور رواداری:*

حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے اپنی ریاست میں غیر مسلموں کو مکمل مذہبی آزادی عطا فرمائی۔

(ابن کثیر، البدایہ والنہایہ، ج٥، ص:٣٨١)

حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی سیاسی زندگی انسانی تاریخ کا عظیم نمونہ ہے۔ اس میں عدل، مساوات، آزادی، حکمت، شوریٰ اور رواداری سب جمع ہیں۔ آج کی دنیا اگر ان اصولوں پر عمل کرے تو امن و عدل قائم ہوسکتا ہے۔

Comments are closed.