حضور صلی اللہ علیہ وسلم بحیثیت معلم

 

ابوالفیض اعظمی

 

انسانی معاشرت میں تعلیم و تربیت کی حیثیت ریڑھ کی ہڈی کی مانند ہے۔ تعلیم انسان کو حیوانی سطح سے اٹھا کر اخلاقی و روحانی بلندیوں تک لے جاتی ہے۔ اگر تعلیم صرف معلومات فراہم کرنے یا معاشی ترقی کا ذریعہ بن جائے اور انسان کے کردار، اخلاق اور روحانی ارتقاء سے خالی ہو تو وہ معاشرے میں بگاڑ اور تباہی کا سبب بن سکتی ہے۔ اسی لیے معلم کا کردار محض علم کی ترسیل تک محدود نہیں بلکہ طلبہ کے ذہن، دل اور کردار کو سنوارنے تک پھیلا ہوا ہے۔

تاریخ میں بڑے بڑے اساتذہ اور مفکرین گزرے ہیں۔ یونان کے فلسفی سقراط (Socrates)، افلاطون (Plato)، اور ارسطو (Aristotle) کو مغربی دنیا کا سب سے بڑا معلم مانا جاتا ہے۔ ان کے نظریات نے تعلیم اور فلسفہ پر گہرا اثر ڈالا، مگر ان کے نظام ہائے تعلیم میں جامعیت اور ہمہ گیری نہیں تھی۔ ان کی تعلیم زیادہ تر منطق، فلسفہ اور ذہنی مباحث تک محدود تھی، جبکہ انسان کے دل کی تطہیر، کردار کی تشکیل اور معاشرتی عدل و انصاف ان کے نظام میں ثانوی حیثیت رکھتے تھے۔

ایسے وقت میں اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو مبعوث فرمایا، جنہوں نے وحیِ الٰہی کے ذریعے انسانیت کو علم بخشا اور اپنے قول و عمل سے ایک ایسا تدریسی اسلوب قائم کیا جو ہر دور کے لیے نمونہ ہے۔ آپ ﷺ نے تعلیم کو آسان، فطری اور اخلاقی بنیادوں پر استوار کیا اور ایک ایسی جماعت تیار کی جس نے دنیا کو علم، عدل اور کردار کی روشنی سے منور کر دیا۔

یہی وجہ ہے کہ مستشرقین اور غیر مسلم محققین نے بھی آپ ﷺ کو انسانیت کے معلم ("Teacher of Mankind”) قرار دیا۔ جدید تعلیمی نظام جہاں مہارتوں (Skills) اور معلومات (Information) پر توجہ دیتا ہے، وہاں کردار سازی (Character Formation) کو نظر انداز کرتا ہے۔ نتیجتاً سائنس اور ٹیکنالوجی تو ترقی کر رہی ہے لیکن معاشرے میں اخلاقی بحران، جرائم اور بے انصافی بڑھ رہی ہے۔

نبی کریم ﷺ بحیثیت معلم صرف معاشرتی برائیوں کے خاتمے کے لیے نہیں آئے تھے بلکہ آپ ﷺ نے ایک ایسا جامع نظامِ تعلیم عطا کیا جس نے انسان کے دل و دماغ کو پاکیزگی بخشی، اسے اخلاقی بلندی عطا کی اور عدل و انصاف پر مبنی معاشرہ تشکیل دیا۔ یوں آپ ﷺ کے استادانہ کردار نے ناانصافی اور جرائم کو ختم کیا لیکن اس کے ساتھ ساتھ انسانیت کو ایک مثبت، بامقصد اور پاکیزہ طرزِ حیات بھی دیا۔

قرآن و حدیث کی روشنی میں نبی کریم ﷺ کا تدریسی اسلوب

قرآن مجید نے مختلف مقامات پر رسول اکرم ﷺ کو بحیثیت معلم و مربی ذکر کیا ہے:

 

يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ آل عمران: ۱۶۴

ُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ الجمعہ: ۲

وَيُعَلِّمُكُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَيُعَلِّمُكُم مَّا لَمْ تَكُونُوا تَعْلَمُونَ البقرہ: ۱۵۱

وَعَلَّمَكَ مَا لَمْ تَكُن تَعْلَمُ النساء: ۱۱۳

لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ إِلَيْهِمْ النحل: ۴۴

احادیث میں آپ ﷺ کا تدریسی انداز

احادیث مبارکہ میں نبی کریم ﷺ کے تعلیمی و تربیتی طریقے کو تفصیل سے بیان کیا گیا ہے:

 

آسانی پیدا کرنا (Facilitation):

"یَسِّرُوا وَلَا تُعَسِّرُوا” (بخاری)۔

جامع اور بامعنی کلمات (Conciseness):

"اُوتِيتُ جَوَامِعَ الْكَلِم” (بخاری)۔

مثالوں کا استعمال (Analogies):

"مؤمن کی مثال کھجور کے درخت کی مانند ہے” (بخاری)۔

سوال و جواب (Socratic Method):

"أَتَدْرُونَ مَنِ الْمُفْلِسُ؟” (مسلم)۔

عملی تدریس (Demonstration):

وضو اور نماز کو عملی طور پر کر کے دکھانا (ابو داود)۔

 

اگر ہم قرآن و حدیث کا مطالعہ کریں تو یہ بات واضح طور پر سمجھ میں آتی ہے کہ آپ ﷺ کا تعلیمی و تربیتی اسلوب آسان، جامع، فطری اور عملی بنیادوں پر استوار تھا۔

 

جدید اصولِ تعلیم سے تقابلی جائزہ

 

۱۔طالب علم کی نفسیات کا لحاظ(Consideration of Learner’s Psychology)

جدید تعلیم کہتی ہے کہ استاد کو شاگرد کی نفسیات سمجھنی چاہیے۔

نبی کریم ﷺ کے پاس ایک دیہاتی آیا جس نے مسجد میں پیشاب کر دیا۔ صحابہؓ نے ڈانٹا تو آپ ﷺ نے فرمایا: اسے نہ روکو، پھر نرمی سے سمجھایا (بخاری)۔ یہ آپ ﷺ کے تدریسی شعور کی عظیم مثال ہے۔

۲۔عملی تدریس(Practical / Experiential Learning)

"Learning by Doing” آج کی تعلیم میں سب سے مؤثر طریقہ سمجھا جاتا ہے۔ رسول اکرم ﷺ نے اس اصول کو مختلف مواقع پر عملاً اپنایا:

وضو کی تعلیم: آپ ﷺ نے خود وضو کر کے دکھایا اور فرمایا: "یہ میرا وضو ہے” (ابو داود)۔

نماز کی تعلیم: ایک صحابیؓ کو بار بار نماز دہرانے کا حکم دیا اور آخرکار خود نماز پڑھ کر دکھائی: "نماز اسی طرح پڑھو جس طرح مجھے پڑھتے دیکھتے ہو” (بخاری)۔

حج کی تعلیم: حجۃ الوداع میں فرمایا: "اپنے مناسک مجھ سے سیکھ لو” (مسلم)، اور پھر عملاً حج کے تمام اعمال کر کے دکھائے۔

اس کے ساتھ ساتھ، غزوۂ خندق میں جب صحابہؓ بھوک اور مشقت سے نڈھال خندق کھود رہے تھے تو آپ ﷺ نے بھی ان کے ساتھ کام میں شرکت کی۔ سب نے پیٹ پر ایک پتھر باندھا تھا، لیکن آپ ﷺ نے اپنی چادر اٹھا کر دکھایا کہ آپ کے پیٹ پر دو پتھر بندھے ہیں (مسند احمد)۔

یہ منظر واضح کرتا ہے کہ استاد محض ہدایت دینے والا نہیں بلکہ شاگردوں کے ساتھ شریکِ عمل بھی ہوتا ہے۔ یہ قیادت اور تعلیم دونوں کا اعلیٰ امتزاج ہے۔

۳۔مثالوں اور بصری تشبیہوں کا استعمال(Use of Case Studies & Visual Illustrations)

جدید تعلیم میں "Case Study” اور "Visual Learning” کو مؤثر ترین طریقہ سمجھا جاتا ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے بھی یہی طریقہ اختیار کیا۔ ایک مرتبہ آپ ﷺ نے زمین پر آڑی ترچھی لکیریں کھینچیں اور پھر ایک سیدھی لکیر کھینچ کر اس پر ہاتھ رکھا اور فرمایا:

"یہ سیدھی لکیر اسلام کی ہے، اور یہ دوسری ٹیڑھی لکیریں گمراہی کے راستے ہیں۔” (مسند احمد)

یہ اسلوب آج کے Diagrammatic Teaching اور Visual Aids کا عین نمونہ ہے، جس سے پیچیدہ مفاہیم نہایت سادہ اور مؤثر انداز میں سمجھائے جاتے ہیں۔

۴۔ سوال و جواب کے ذریعے ذہنی بیداری(Socratic Method / Question-Answer Technique)

آپ ﷺ نے صحابہؓ سے سوال کیا: "درختوں میں ایک درخت ایسا ہے جو مسلمان کی مانند ہے، بتاؤ وہ کون سا ہے؟” (بخاری)۔

یہ سوال صحابہ کو غور و فکر پر آمادہ کرتا ہے، جو آج کے "Active Learning” کے اصول کے عین مطابق ہے۔

۵۔ کردار سازی پر زور(Character Formation / Moral Education)

جدید تعلیم میں سب سے بڑی کمی یہی ہے کہ وہ کردار سازی کو نظر انداز کرتی ہے۔ نتیجتاً معاشرے میں جھوٹ، ناانصافی اور بددیانتی عام ہو رہی ہے۔

رسول اکرم ﷺ نے علم کو کردار سے جوڑا:

ایک شخص کو صرف فرمایا: "جھوٹ نہ بولو” (مسند احمد) ۔نصیحت اس کی زندگی بدل گئی۔

ایک نوجوان نے زنا کی اجازت مانگی، آپ ﷺ نے سوالات کے ذریعے اس کے دل میں غیرت اور شرم پیدا کی، اور وہ ہمیشہ کے لیے باز رہا (مسند احمد)۔

حضرت معاذؓ کو یمن بھیجتے وقت فرمایا: "لوگوں کے ساتھ خوش اخلاقی سے پیش آنا” (مسند احمد)۔

یہ آپ ﷺ کے استادانہ کردار کی عظیم مثالیں ہیں، جو علم کو اخلاق کے ساتھ جوڑتی ہیں۔

رسول اکرم ﷺ کا تدریسی اسلوب محض معلومات کی ترسیل تک محدود نہیں تھا بلکہ یہ ایک جامع اور ہمہ گیر نظام تھا جس نے انسان کے دل، دماغ اور کردار کو بدلا۔ آپ ﷺ نے ایسی جماعت تیار کی جو دنیا میں عدل، علم اور اخلاق کی روشنی پھیلانے والی بنی،جس نے تما م طرح کی گمراہیوں اور اندھیروں وسے نکال کر ایک اللہ واحد کی بندگی پر آمادہ کیا۔

جدید دنیا کو اگر حقیقی کامیابی چاہیے تو اسے محض معلومات اور مہارتوں پر اکتفا نہیں کرنا چاہیے بلکہ کردار سازی کو بھی مرکزیت دینی ہوگی، اور اس کے لیے سب سے بڑا نمونہ حضور اکرم ﷺ کی تعلیمی و تربیتی روش ہے۔

Comments are closed.