وقف بچاؤ تحریک ہو یا میلاد کا جلوس آج ہر جذبہ بنا تماشہ ۔۔۔۔۔

 

احساس نایاب شیموگہ

ایڈیٹر گوشہ خواتین و اطفال بصیرت آن لائن

 

ایک لمبے وقفے کے بعد ہمارا قلم اٹھا ہے اور بیشک آج ہمارے احساسات قارئین کو جذباتی لگیں گے لیکن یقین مانیں ہمارا ایک ایک لفظ ملک میں مسلمانوں کی موجودہ صورتحال کی عکاسی ہوگا ۔۔۔۔

 

چاہے وقف بچاؤ تحریک ہو یا میلاد کے جلوس، مسلمانوں کا ہر جذبہ آج تماشہ بن کر رہ گیا ہے۔

وہ جو کبھی دلوں میں روشنی بکھیرتے تھے، آج صرف شور اور دکھاوا بن گئے ہیں۔

 

جلوس کی رنگین روشنی اور جلسوں کی چمک میں وہ پیغام کھو گئے ہیں جو کبھی ایمان، محبت اور بھائی چارے کا درس دیتے تھے۔

احتجاج و مظاہروں کی

وہ صدائیں جو کبھی دلوں کو جھنجوڑ کر جگاتی تھیں، آج صرف کانوں میں شور بن کر گونجتی ہیں، اور دل اپنی حالت پر سسکیاں لیتا ہے۔۔۔۔

 

دراصل ہماری سوکالڈ قیادتوں نے اپنی بزدلی و مفاد کے چلتے قوم مسلم کے ہر جذبے پر مایوسی اور خوف کے سرد چھینٹے ڈال کر انہیں بےمعنی، بےمقصد بنا دیاہے، اور نوجوانوں کے جذبات کو سراہنے کی بجائے تماشے میں بدل دیا گیا ہے ۔۔۔

اب آنے والی نسلیں سچائی اور جذبہ کی جگہ یہی دیکھیں گی رنگ و روشنی، شور و ہنگامہ، ڈھول نغارے اور اسٹیجوں پر کرسی و مائکس کے خاطر نام نہاد رہنماؤں کی جہالت ۔۔۔۔

 

کاش مسلمان اس بات کو سمجھ سکتے کہ جذبہ وہ نہیں جو دکھایا جائے، بلکہ وہ ہے جو دلوں کو چھولے، دلوں کو جوڑے، اور انسانیت کو زندہ رکھے۔

 

اگر یہی جذبہ تماشے میں بدل جائے تو روح کی روشنی مدھم پڑ جاتی ہے، اور دل کے اندر ایک خلا رہ جاتا ہے، جو صرف سچائی اور محبت سے بھرا جا سکتا ہے۔

 

مگر افسوس!

وہ نوجوان جن کے دل کل تک ایمان کی روشنی سے جگمگاتے تھے، آج ان کے سینوں میں وہ نور دھوئیں میں بدلتا ہوا نظر آ رہا ہے۔

 

وہ محبت، وہ شجاعت، وہ قربانی کا جذبہ… جو کبھی ان کے کردار سے جھلکتا تھا، آج چند ڈی جے کے شور اور بیہودہ نعروں کا محتاج ہو کر رہ گیا ہے۔

 

افسوس صد افسوس

رنگ و روشنی کی چمک دمک نے اس قوم کی اصل روح کو چھپا لیا ہے۔ وہ درد جو کبھی امت کو ایک کر دیتا تھا، آج مصنوعی خوشیوں اور بے مقصد ہجوم کے شور میں دفن ہو گیا ہے۔

کاش ہم وقت رہتے محسوس کر لیتے اس خاموش جذبے کو، جو کبھی بغیر بولے بھی دلوں کو جھنجھوڑ دیتا تھا۔

وہ جذبہ جو صفوں میں اتحاد پیدا کرتا، جو آنکھوں کو اشکبار کر دیتا، اور جو ایمان کو زندہ کر دیتا۔

 

ہمارے حال پر جہاں زمانہ رویا

ایک ہم رہے خود سے ہی بےخبر ۔۔۔۔۔

 

آج میلادالنبی ﷺ کا موقع ہے اور

جشنِ میلاد کے نام پر جو کچھ ہورہا ہے وہ نوجوانوں کی جہالت ہے

جسے نظرانداز نہیں کیا جاسکتا

 

کوئی مانے نہ مانے

محبت کے نام پر شرک و بدعت اور گمراہیوں کا بول بالا ہے،

جشنِ میلادالنبی ﷺ کا اصل مقصد نعرے، جلوس یا چراغاں نہیں ہیں، بلکہ نبی ﷺ کی سیرت کو یاد کرنا، اُن کی تعلیمات کو سمجھنا اور اپنی زندگی میں اُن پر عمل کرنا ہے۔

اگر یہ جشن صرف شور اور وقتی خوشی تک محدود رہے تو یہ اپنے اصل مقصد سے خالی ہے۔ اور مسلمانوں کی یہ جہالت اپنی آنے والی نسلوں کے ایمان کو خطرے میں ڈال رہی ہے ۔۔۔۔

 

جس قوم کے اجداد نے اپنے دین اسلام کے لئے خون دے کر میدان جنگ میں شہادت پائی اور سجدوں کی حالت میں اللہ کے حضور حاضر ہوئے، آج اُن کے وارث سڑکوں پر ناگن ناگن کی دھن پر اپنی کمر ہلارہے ہیں ۔۔۔ یقین جانیں یہ منظر بیحد شرمناک ، کرب و افسوس بھرا ہے۔۔۔۔

 

نبی ﷺ کی سیرت کو بس ڈھول، بجاتے ہوئے آلات، اور ڈی جے کی دھن پر تھرکنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے، حالانکہ یہی سیرت ہمیں ایمان، صبر، قربانی اور اخلاق کا درس دیتی ہے۔

 

مسلمانوں نے تاریخ کی وہ شامیں بھلادی ہیں جب ہمارے بزرگ شب و روز نماز، روزہ، اور قربانی میں مصروف رہتے تھے، اور دشمن کے مقابلے میں اپنی جانیں قربان کر دیتے تھے۔ آج کچھ نوجوان، جو اس عظیم ورثے کے وارث ہیں، محض جلوس، روشنیوں اور رقص کے لیے میلاد مناتے ہیں، افسوس وہ جس نبی ﷺ کے عشق میں جھومنے کا دعوی کرتے ہیں، انہیں کی سیرت سے لاعلم ہیں ۔۔۔۔۔

 

ان میں چند نوجوان ایسے بھی ہیں جو میلاد کے جلوس میں شامل ہو کر خرچ کرنے میں سبقت لے جانا فخر سمجھتے ہیں، مہنگی لائٹس، کھانے، اور فلمی موسیقی کے انتظامات کرنا فخر سمجھتے ہیں، جبکہ ان ہی کی گلی محلوں میں کئی غریب، یتیم اور محتاج ایک وقت کے کھانے کے لئے محروم ہیں۔

آخر یہ قوم کس دہانے پر آکھڑی ہے ؟

ہمارے گھروں کی چوکھٹوں پر معصوم بیٹیاں جوانی کی دہلیز پار کرکے بوڑھاپے میں ڈھل رہی ہیں، دوسری طرف فرقہ پرستوں کی سازشوں کے جال میںں پھنسی ہوئی بیٹیوں کی عصمتیں نیلام ہورہی ہیں اور اُمت کے مرد بےغیرتی کا ناچ ناچ رہے ہیں ۔۔۔۔

 

افسوس ہمارے نوجوان اپنی توانائیاں امت کی غیرت کے تحفظ پر خرچ کرنے کے بجائے نشے میں دھت، کاغذی تلواریں ہاتھوں میں لے کر ہوا میں لہرا کر مردانگی کے نعرے لگاتے ہیں، ہاتھی گھوڑوں پر بیٹھ کر اپنی ہی بربادی کا جشن مناتے ہیں۔

 

کیا یہ ہے وہ امت جس کے اجداد نے ایمان کے چراغ جلائے تھے؟

کیا یہ ہے وہ قوم جس کے بزرگ سجدے کی حالت میں شہید ہوئے تھے؟

بیٹیوں کی آہوں اور بہنوں کی پکار پر بھی جو کان بند ہوں، ان نوجوانوں کے سینوں میں آخر کون سا خون دوڑ رہا ہے؟

اے جھوٹے عشق کے دعویدارو جان لو، اگر ابھی بھی ہوش نہ سنبھالا تو تاریخ تمہیں بزدلی، بےحسی اور بےغیرتی کے عنوان سے یاد کرے گی ۔۔۔۔۔

تمہں اللہ اکبر کی صداؤں کا بھی ہوش نہیں،

تمہیں نعرہ تکبیر اللّٰہ اکبر کی طاقت کا اندازہ نہیں

یہ وہ صدا ہے جو صدیوں تک ایمان والوں کے دلوں کو جھنجھوڑتی رہی، کمزور کو شیر بناتی رہی، اور غلامی کی زنجیروں کو توڑتی رہی۔

یہ نعرہ محض الفاظ نہیں، بلکہ وہ گونج ہے جس کے سامنے بڑے بڑے تخت و تاج لرزتے رہے اور ظالم سلطنتیں مٹی میں ملتی رہیں

یہ وہ نعرہ ہے جس پر صحابہؓ کے دل لرزتے تھے، جس کی گونج نے کفر کے ایوان ہلا ڈالا، جس نے غلامی کو توڑا اور ایمان کو جِلا بخشی۔

آج افسوس

اسی نعرے پر تم بےشرمی سے ناچتے ہو، تھرکتے ہو، ڈی جے کی دھن پر جھومتے ہو۔

تمہیں شرم نہیں آتی؟

تمہاری روح نہیں کانپتی کہ یہ وہ صدا ہے جو کبھی میدانِ جہاد میں تکبیر کے نعرے کے ساتھ موت کو للکارا کرتی تھی، اور آج یہ نعرہ تمہارے کھیل تماشوں کی نذر ہوگیا

 

افسوس یہ پوری قوم کے لیے ڈوب مرنے کا وقت ہے، آج قوم کے جسم میں حرکت تو ہے مگر روح مرچکی ہے، زبانوں پر نعرے تو ہیں مگر دلوں مین تڑپ نہیں ، ہجوم ہے مگر زندہ اُمت نظر نہیں آتی، ہمارا حال قبروں مین دفن مردوں سے بھی بدتر ہوچکا ہے ۔۔۔

 

اور کوئی کسی صورت اس جہالت کی تائید نہیں کی کرسکتا، بھلے وہ عشق رسول کے نام پر ہی کیوں نہ ہو،

نہ ہی اس بیہودگی کی دفاع کی جاسکتی ہے ۔

لیکن امت جن حالات سے گزر رہی ہے، وہاں پر

ہمارا اتحاد بھی وقت کی ضرورت ہے اور ان گمراہ نوجوانوں کی اصلاح قوم کے ذمہ داروں و رہنماؤں کی سب سے بڑی ذمہ داری ہے اور یہ ذمہ داری دور کھڑے ہوکر یا گھرون میں بیٹھ کر تنقید کرنے یا سوشیل میڈیا پر اسٹیٹس لگاکر پوری نہیں کی جاسکتی

بلکہ ان نوجوانوں کی اصلاح ان کے ساتھ ان کے درمیان رہ کر ہی ممکن ہے

جہالت کا نام دے کر ہمارے رہنما و اکابرین اپنی ذمہ داریوں سے اپنا دامن نہیں چھڑا سکتے ۔۔۔

کیچڑ آنگن تک آجائے تو اپنے ہاتھ پیر کو گندگی سے بچانے کے بجائے اُسے صاف کرنے کی کوشش ہونی چاہئیے ۔۔۔

 

رہی بات اوقاف کے نام پر ہونے والے تماشوں کی تو یہاں پر بھی سب سے بڑا ڈاکہ دشمن نے نہیں اپنوں نے ڈالا ہے

قوم کو لوٹنے کا ہنر اگر کسی نے سیکھا ہے تو وہ اپنوں نے ہی سیکھا ہے

چہرے اپنے، نقاب اپنے، مگر نیتیں دشمنوں سے بھی بدتر ۔

 

گزشتہ دنوں جب سرکار نے پارلیمنٹ میں وقف بل پاس کیا، تب جا کے قوم کو ہوش آیا کہ ان کے اثاثے، ان کی زمینیں، ان کا سرمایہ سب لُٹ رہا ہے۔

افسوس! جب تک اپنوں نے لوٹا تب سب خاموش تماشائی بنے رہے، اور جب دشمن نے ہاتھ ڈالا تو یکایک یاد آیا کہ یہ بھی ہمارا ہے۔

یہ غفلت نہیں، یہ خودکشی ہے، قوم اپنی جڑیں اپنے ہاتھوں سے کاٹ رہی ہے ۔

 

ہم نے چراغ اپنے ہی ہاتھوں سے بجھا ڈالے ۔

پھر شکوہ ہے ہوا کا کہ اندھیرا کیوں ہے ۔

جو خواب بزرگوں نے لہو سے سنوارے تھے ۔

وہ خواب ہماری غفلت نے اُجڑ ڈالے ۔۔۔

 

اور اب جب لٹنے کا احساس جاگا تو مسلمانوں نے ملک کے کونے کونے مین احتجاج و مظاہروں کی صورت مین اپنی فریاد بلند کی، اور دشمان اسلام کے آگے اتحاد کا مظاہرہ کیا ۔۔۔۔

 

اُس وقت لگا کہ چلو وقف کے لئے ہی سہی کم از کم فرقہ پرستوں کے آگے مسلمان متحد تو ہیں ۔

 

وقتیہ ہی سہی امت کے درمیان فرقوں اور مسلکوں کی دیواریں تو ٹوٹیں

کچھ پل کے لئے ہی سہی سنی، تبلیغی، اہلِ حدیث فلاں فلاں سارے فرقے بھلا دیے گئے اور دنیا کے آگے بس ایک ہی نام، ایک پہچان گونج رہی تھی کہ ہم مسلمان ہیں، نبی ﷺ کی امت ہیں۔ شریعت کے پاسبان ہیں۔

اس دوران مسلم رہنماؤں نے

ایک اسٹیج، ایک مائک پر، ایک زبان ہوکر امت کے اتحاد کو لے کر دلوں کو چھو لینے والی لمبی چوڑی تقریریں بھی کیں، ہر عام و خواص، ہر ملی و سیاسی رہنما و رہبر کو اس اتحاد کا حصہ بننے کی بھی دعوت دی گئی۔۔۔۔

لیکن جلد یہ احساس ہوا کہ اس کو بھی چند نام نہاد، مفاد پرست لیڈران نے ہائی جیک کرلیا ہے اور دیکھتے ہی دیکھتے ملت کی یہ بیداری بھی وقت مرگ کے بعد کی چیخ سے زیادہ نہ تھی۔۔۔۔

آج جب ان تمام چیزوں کے بارے میں سوچتے ہیں تو اُس وقت کی کئی چیزیں، کئی دعوے فریب لگتے ہیں ۔۔۔۔۔

اُس وقت کا اتحاد یقین جانیں آج تماشہ لگ رہا ہے اور کئی سوال دل و دماغ کو پریشان کئیے جارہے ہیں ۔۔۔۔۔

 

دراصل اوقاف بچاؤ کے نام پر کی گئی تحریکوں و مظاہروں کی حقیقت کی تو آج کی تاریخ میں عام مسلمانوں کے ساتھ یہ بہت بڑا دھوکہ اور ان کی امیدوں پر کاری ضرب ثابت ہوا ۔۔۔۔

ان مظاہروں کا آغاز تو بڑا شاندار رہا مگر ان کی سچائی کھودا پہاڑ نکلا چوہے کے مصداق تھی ۔۔۔۔

 

عالیشان اسٹیجس، مہنگے فلک شگاف پروگرامز، اور رسمی تقریریں، لیکن اس دوران نہ تو شریعت کا حق ادا ہوا، نہ احتجاج کی روح تک چھوئی گئی۔ بس ایک دکھاوے کا کھیل، جس میں عام مسلمانوں کے جذبات کا مذاق بنایا گیا تھا ۔۔۔

کہیں لیڈران کے لئے اسٹیج سجے، اسٹیجس پر کرسی اور مائک کے خاطر آپس میں جھگڑے ہوئے یوں نام نہاد رہنما وقف بچانے کے بچائے فرقہ پرستوں کے آگے اپنی غیرت اپنا وقار بھی کھوتے نظر آئے

کیا یہی ہے احتجاج ؟

کیا اسی کو کہتے ہین مظاہرہ ؟

کیا ایسی ہوتی ہے جدوجہد ؟

 

بالکل نہیں بلکہ احتجاج و مظاہروں کے نام پر محض ایک رسم ادا کی گئی اور فقط دل بہلائی کے لئے پروگرامس ہوئے

مسلمانوں کے جذبات سے کھیلا گیا، اُن کے جذبہ کا مذاق بنایا گیا

اور ایک بےمقصد سا ہجوم جمایا گیا ۔۔۔

کبھی بازو پر کالی پٹی باندھی گئی

کبھی انسانی زنجیر بناکر اُمت کی دل بہلائی ہوئی، کبھی احتجاج کا نام دے کر آن لائن، آن لائن کا کھیل ہوا، تو کبھی بتی گُل کا شیوہ ہوا ۔۔۔۔

آج احساس ہوا کہ

وہ بتیاں صرف دکانوں یا مکانوں کی گُل نہیں ہوئی تھیں بلکہ قوم کے مستقبل کو ابدھیرے میں ڈھکیلا گیا تھا اور جو بازو پر پٹی بندھی تھی دراصل وہ قوم کی عقل پر باندھی گئی تھی

اور دیکھا جائے تو انسانی زنجیر ہماری نظر میں غلامی کی علامت تھی جو بڑے جوش و جذبہ سے منائی گئی ۔۔۔۔۔

 

کبھی جلوس نکال کر عوام کو جمع کیا گیا، نتائج صرف تصویریں اور سوشل میڈیا پر مخصوص افراد کی سرخیاں۔

جہاں بڑے اسٹیج سجائے گئے، وہان مقررین رسمی تقریر کے دوران ایک دوسرے کے ساتھ کرسی کے لیے لڑتے دکھائی دیے۔

 

جبکہ عوام کو یہ یقین دلایا گیا کہ وہ “جدوجہد” کر رہے ہیں، لیکن حقیقت تو یہ تھی کہ وہ صرف تماشہ ہوتا دیکھ رہے تھے۔

 

بعض مظاہروں میں نوجوانوں کو جھوٹے دعوے اور مبالغہ آمیز بیانات کے ذریعے دھوکہ دیا گیا کہ یہ سب “اوقاف کی حفاظت” کے لیے ضروری ہے، جبکہ اصل میں کچھ بھی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا گیا۔

 

بعض تحریکیں، وقف شدہ زمین اور جائیداد کے معاملات پر، عوامی نفرت اور جذبات سے کھیل کر سیاسی فائدے کے لیے استعمال کی گئیں، اور عام مسلمانوں کو یہ احساس ہی نہیں دیا گیا کہ وہ صرف ایک کھیل کا حصہ بن رہے ہیں ۔۔۔۔

 

اگر اب بِھی ہماری باتوں سے کسی کو کوئی اعتراض ہے تو وہ ذرا ہمت کرکے ان رسمی احتجاجوں اور دکھاوے کے مظاہروں کے کوئی ایک آدھ مثبت نتائج بتادے ، تاکہ قوم کو بھی یقین آجائے کہ یہ شور شرابہ صرف وقت اور جذبات کا زیاں نہیں تھا ؟

 

رہی بات عام مسلمانوں کی تو ہماری بردران قوم سے یہی گزارش ہے کہ وہ ذرا ٹھہر کر سوچین

ان سب تماشوں سے آخر کہاں، کس کو ، کتنا فائدہ پہنچا ہے ؟

کیا حقیقتا ملت کے زخم بھرے یا صرف فریب تسلی نے ہمیں اور گہری نیند سلادیا ؟

اب نہ غیرت باقی رہی نہ حمیت

حکمت کے نام پر ہمیں اس قدر بزدل کمزور بنادیا گیا کہ ہم اپنے حق کے لئے کھڑے ہونے کا حوصلہ بھی کھو بیٹھے ہیں ۔۔۔

ہمارے سو کالڈ رہنماؤں نے اپنی جھوٹی قیادت اور مفاد پرستی کے سہارے ہماری اصل قوت کو کچل ڈالا۔ انہوں نے ہمارا حق، حق کی طرح نہیں بلکہ خیرات کی طرح منگوایا ہے۔ اسی ذلت آمیز رویّے نے ہماری اجتماعی غیرت کو پامال کر دیا اور پوری قوم کو محکومی و رسوائی کے اندھیروں میں دھکیل دیا۔ وہ رہنما جو کبھی امید کے چراغ سمجھے جاتے تھے، آج اپنی نفس پرستی اور غلامانہ سوچ کے سبب قوم کی سب سے بڑی کمزوری بن گئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہماری نسلیں احساسِ شکست کے ساتھ جی رہی ہیں اور ہمارا حق آج بھی خیرات کے کھوکھلے ٹکڑوں میں تقسیم ہو رہا ہے۔۔۔۔

 

یاد رہے !

تاریخ ہمیں یہی سبق دیتی ہے کہ جدوجہد صرف نعرے اور دکھاوے کا نام نہیں، بلکہ یہ قربانی، خلوص اور نیک نیتی کی عملی تصویر ہے۔

 

اوقاف مسلمانوں کے لئے محض قیمتی جائیداد نہیں ہے بلکہ یہ ہماری تاریخ کا ورثہ، ہمارے نوجوانوں کی تربیت، ہماری آنے والی نسلوں کی امید اور ایمان کا سرمایہ ہیں۔

 

افسوس آج مسلمان اپنی اس امانت سے غافل ہیں۔ چند رسمی جلسے، رسمی نعرے اور بے جان مظاہرے… گویا ہم نے اپنی ذمہ داری کو صرف تماشے اور دکھاوے تک محدود کر دیا ہے۔

 

اللہ نہ کریں اگر یہ اوقاف محفوظ نہ رہے تو وہ بچے جو آج مساجد و مدارس میں قرآن پڑھ رہے ہیں، کل ان کے لیے نہ مسجد بچے گی نہ مدرسہ۔ ان کا مستقبل ان کے معصوم خواب سرکار کے قبضوں اور سیاست کے پنجوں تلے کچلے جائیں گے۔

 

سرکار کی نیت واضح ہے مسلم املاک کو قانون کے نام پر ہتھیانا

یہ صرف مالی نقصان نہیں، بلکہ یہ ایمانی، مذہبی اور تہذیبی تباہی ہے۔

 

اپنے اجداد کو یاد کریں ٹیپوسلطان نے جب دشمن کو مسلمانوں کی زمینوں پر قبضہ کرتے دیکھا تو ہر قیمت پر کھڑے ہو گئے۔ خون بہا دیا مگر امانت پر آنچ نہ آنے دی۔ اور آج؟ آج ہماری تقریریں آسمان کو چھوتی ہیں، مگر عمل زمین سے بھی نیچے دفن ہو چکا ہے۔ ہم صرف تماشہ دکھا رہے ہیں، صرف ڈھونگ رچا رہے ہیں۔

باتیں آسمان کو چھونے کی مگر پیر زمین سے اٹھانے سے گھبراتے ہیں

 

جو قوم اپنی زمینوں، اپنی امانت اور اپنے دین کے وارثے کو چھوڑ دے، تاریخ کے اوراق میں اُس کی پہچان صرف غلاموں اور بے غیرت مسخروں کی رہ جاتی ہے۔

 

یاد رہے اگر آج کی نسل نے یہ بےحسی اور تماشہ دیکھا تو کل وہی زمینیں جو اللہ کے نام پر مسجد، مدرسہ اور ہسپتال کے لیے وقف ہیں، سرمایہ داروں اور سیاست دانوں کی ہوس کا شکار ہو جائیں گی۔ اور اُس وقت ہماری اولادیں بھی ہمیں کوسیں گی کہ ہم نے ان کے خواب، ان کی تعلیم اور ان کے دین کا سودا کیوں کیا۔

 

اوقاف صرف جائیداد نہیں، یہ امت کی امانت ہے۔ اس کی حفاظت نہ کرنا آنے والی نسلوں کے حق پر ڈاکا ہے۔

وقف کی حفاظت میں غفلت دراصل نسلوں کے خوابوں کا قتل ہے ۔۔۔

 

اور آج کا یہ دکھاوا کل ہمارے سروں پر دشمن کی لٹکتی ہوئی تلوار بن کر گرے گا۔

تاریخ ہمیں گھور گھور کر بتا رہی ہے کہ

“تمہاری غفلت کا حساب تم نہیں، تمہاری آنے والی نسلیں چکائیں گی…

Comments are closed.