مرکز علم و دانش علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی تعلیمی و ثقافتی سرگرمیوں کی اہم خبریں
آنکھوں کے عطیہ کے چالیسویں قومی پندرہواڑہ کے موقع پر اے ایم یو وائس چانسلر نے بیداری واک کی قیادت کی
علی گڑھ، 6 ستمبر: جواہر لعل نہرو میڈیکل کالج، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے انسٹی ٹیوٹ آف آپتھلمولوجی کی جانب سے آنکھوں کے عطیہ کے چالیسویں قومی پندرہواڑہ کے موقع پر وائس چانسلر پروفیسر نعیمہ خاتون کی قیادت میں آنکھوں کے عطیہ کے سلسلہ میں بیداری پیدا کرنے کے لئے ایک بیداری واک کا اہتمام کیا گیا۔
میڈیکل کالج کے پرنسپل پروفیسر حبیب رضانے تقریباً 500 سے زائد ڈاکٹروں، اساتذہ، نرسنگ عملہ، سماجی تنظیموں کے اراکین اور طلبہ پر مشتمل اس واک کو جھنڈی دکھا ئی۔ چہل قدمی میں شامل لوگوں نے آنکھوں کے عطیہ کی تحریک دینے والے نعروں پر مبنی پلے کارڈز، پوسٹرز اور پرچم اٹھا رکھے تھے۔
وائس چانسلر پروفیسر نعیمہ خاتون نے انسٹی ٹیوٹ آف آپتھالمولوجی کی کاوشوں کو سراہا اور معاشرے سے اس مہم کا حصہ بننے اور آنکھوں کے عطیہ کا عہد کرنے کی اپیل کی۔ انہوں نے اے ایم یو کے طلبہ، اساتذہ اور عوام الناس پر زور دیا کہ وہ اپنی آنکھیں عطیہ کرنے کا عہد کریں اور اس عظیم انسانی مشن میں شامل ہوں۔ وائس چانسلر نے کہا: آنکھوں کا عطیہ سب سے بڑا تحفہ ہے جو کوئی دے سکتا ہے۔ ہر ایک عہد اندھیرے میں جینے والے کسی انسان کے لیے امید اور روشنی کی کرن ہے۔انہوں نے کہا کہ ایسے اقدامات اے ایم یو کے خدمت خلق اور سماجی ذمہ داری کے عزم کی عکاسی کرتے ہیں۔
پرو وائس چانسلر پروفیسر محمد محسن خان نے بھی آئی بینک کی اس پہل کو سراہتے ہوئے کہا کہ بیداری کو عام کرنے کے لئے ایسے مزید پروگراموں کی ضرورت ہے۔
انسٹی ٹیوٹ آف آپتھلمولوجی کے ڈائرکٹر پروفیسر اے کے امیتاوا نے وائس چانسلر کا خیرمقدم کیا اور سب سے آنکھوں کے عطیہ کے لیے حلف لینے کی اپیل کی۔
آئی بینک کے انچارج ڈاکٹر ضیاء صدیقی نے بتایا کہ جواہر لعل نہرو میڈیکل کالج کا آئی بینک، علی گڑھ کمشنری کا واحد آئی بینک ہے اور اس کے استحکام میں سماج کی حصہ داری لازمی ہے۔ آئی بینک کے اسسٹنٹ انچارج ڈاکٹر ایم ثاقب نے کہا کہ ہندوستان میں دس لاکھ سے زائد افراد قرنیہ کی بینائی سے محروم ہیں۔ ہر سال ایک لاکھ قرنیہ درکار ہوتے ہیں، لیکن محض پچیس ہزار ہی دستیاب ہوتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ کسی بھی فرد کی موت کے 6 گھنٹے کے اندر آنکھیں عطیہ کی جا سکتی ہیں، اور یہ عمل صرف 15 منٹ کا ہوتا ہے جس سے عطیہ دہندہ کے چہرے پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔
بیداری واک میں کئی تنظیموں کے نمائندوں اور شخصیات نے شرکت کی، جن میں دیہ ہدان سنستھا کے ڈاکٹر ایس کے گوڑ، قومی کھلاڑی مسٹر ابھینو، انسانیت فاؤنڈیشن کے مسٹر راحت، سی ای سی کلب، اے ایم یو کے اراکین، اسسٹنٹ نرسنگ سپرنٹنڈنٹ مس ہما اپنی نرسنگ ٹیم کے ہمراہ اور البرکات اسکول کے طلبہ کثیر تعداد میں شامل تھے۔
اس موقع پر اے ایم یو کے اساتذہ پروفیسر ادیب عالم خان، پروفیسر رضوان اے خان، پروفیسر وارث، پروفیسر شمیم احمد، پروفیسر حنا، ڈاکٹر ناہید، ڈاکٹر شاذیہ، ڈاکٹر عبداللہ، ڈاکٹر فراز، پروفیسر رضوان خان، پروفیسر نشاط، ڈاکٹر جمیل، ڈاکٹر احمد مجتبیٰ، ڈاکٹر صالحہ، ڈاکٹر فضیلہ شاہ اور ایڈوکیٹ ندیم انجم بھی موجود رہے۔
تقریب کو ثقافتی رنگ دینے کے لیے ایم بی بی ایس کے طلبہ آرین اور پلک نے آنکھوں کے عطیہ پر مبنی ایک نکڑ ناٹک پیش کیا، جسے حاضرین نے خوب سراہا۔بیداری پروگرام نہایت کامیابی کے ساتھ تکمیل کو پہنچا، جس نے آنکھوں کے عطیہ کو ’زندگی بدل دینے والا تحفہ‘ قرار دیتے ہوئے تمام شرکاء کو قرنیہ نابینائی کے خاتمے کے لیے متحد ہو کر کام کرنے کی تحریک دی۔
٭٭٭٭٭٭
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے کالج آف نرسنگ میں قومی تغذیہ ہفتہ کے تحت نیوٹری فیئر اور پوسٹر سازی مقابلہ منعقد
علی گڑھ، 6 ستمبر: قومی تغذیہ ہفتہ کے موقع پر، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے کالج آف نرسنگ نے ایک رنگا رنگ نیوٹری فیئر اور پوسٹر سازی مقابلے کا اہتمام کیا۔ اس سال کا قومی تھیم تھا: بہتر زندگی کے لیے درست غذا کھائیں۔ تقریب کا مقصد متوازن غذا، صحت مند طرزِ زندگی اور احتیاطی طبی نگہداشت کے بارے میں بیداری پیدا کرنا تھا۔
کالج آف نرسنگ کی پرنسپل پروفیسر فرح اعظمی کی زیر نگرانی منعقدہ تقریب کی کوآرڈنیٹر مسز روبینہ ناز تھیں۔ نیوٹری فیئر میں غذائیت اور صحت سے متعلق معلوماتی اسٹال اور عملی مظاہرے پیش کیے گئے۔ طلبہ نے مختلف موضوعات پر معلوماتی پوسٹرتیار کیے، جن میں غذائیت کی کمی، مائیکرونیوٹریئنٹس کا کردار، متوازن غذا اور طرزِ زندگی سے وابستہ بیماریوں سمیت دیگر متعلقہ موضوعات پر روشنی ڈالی گئی۔ اسٹالوں پر معلوماتی چارٹ، صحت بخش غذا اور آگہی مواد بھی پیش کیا گیا۔
تقریب کے مہمانِ خصوصی پروفیسر نجم خلیق،شعبہ کمیونٹی میڈیسن سمیت ججوں میں پروفیسر سائرہ مہناز، شعبہ کمیونٹی میڈیسن، پروفیسر آسیہ سلطانہ، صدر، شعبہ علاج بالتدبیر، پروفیسر سلمیٰ احمد، صدر، شعبہ بزنس ایڈمنسٹریشن اور اے این ایس محترمہ ہما روحی اور محترمہ شہانہ پروین موجود تھے۔
پروگرام کا اختتام بی ایس سی نرسنگ، ساتویں سمسٹر کی طالبہ مدیحہ علی کے کلمات تشکر پر ہوا۔ کالج آف نرسنگ کی یہ کاوش غذائیت کے بارے میں بیداری پیدا کرنے اور صحت مند معاشرے کو فروغ دینے کے عزم کی ایک مثال ہے۔
٭٭٭٭٭٭
اے ایم یو کے احمدی اسکول برائے نابینا طلبہ میں ذات پات کے امتیاز کے خاتمے اور شمولیت پر خصوصی لیکچر کا اہتمام
علی گڑھ، 6 ستمبر: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے احمدی اسکول برائے نابینا طلبہ میں نووارد طلبہ کے لیے ”ذات پات کے امتیاز کی روک تھام اور شمولیت“ کے موضوع پر ایک خصوصی لیکچر کا اہتمام کیا گیا۔ مس ندرت جہاں، پی جی ٹی،فزکس نے اپنے خطاب میں آپسی اتحاد، احترام اور سب کے ساتھ مساوی سلوک کی اہمیت پر گفتگو کی۔
انھوں نے کہا کہ ذات پات کی بنیاد پر امتیاز نہ صرف ناانصافی ہے بلکہ یہ معاشرے کے امن و ہم آہنگی کے لیے بھی نقصان دہ ہے۔ انہوں نے طلبہ کو سماجی تنوع کو قبول کرنے، ایک دوسرے کے اختلافات کا احترام کرنے اور اسکولی و سماجی زندگی میں شمولیت کے مزاج کو فروغ دینے کی تلقین کی۔
طلبہ نے عہد کیا کہ وہ کبھی کسی کے بارے میں ذات یا پس منظر کی بنیاد پر رائے نہیں قائم کریں گے، ایک دوسرے کو ایک کنبہ کی طرح سمجھیں گے، اور مساوات اور وقار کے سفیر بنیں گے۔ تقریب کا اختتام اس طاقتور پیغام کے ساتھ ہوا کہ ایک روشن خیال، ترقی یافتہ معاشرہ صرف باہمی احترام اور ہر فرد کی قدر و منزلت کو تسلیم کرنے سے ہی قائم ہو سکتا ہے۔
اسکول کی پرنسپل ڈاکٹر نائلہ راشد نے نئے طلبہ کو خوش آمدید کہا۔ انہوں نے کہا کہ احمدی اسکول نہ صرف تعلیمی میدان میں اعلیٰ معیار کا حامل ہے بلکہ یہ ایک ایسا دوستانہ اور معاون ماحول بھی فراہم کرتا ہے جہاں ہر بچے کو عزت، اہمیت اور مکمل تعاون دیا جاتا ہے۔ انہوں نے طلبہ کو ترغیب دی کہ وہ اسکول کو اپنا دوسرا گھر سمجھیں اور اس نئے سفر کا آغاز اعتماد، اُمید اور خوشی کے ساتھ کریں۔
٭٭٭٭٭٭
اے ایم یو کے ریسرچ اسکالرز نے عالمی سطح پر شاندار علمی مظاہرہ کیا
علی گڑھ، 6 ستمبر: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے خلیق احمد نظامی سنٹر برائے قرآنی علوم کے دو ریسرچ اسکالرز نے بین الاقوامی سطح پر اپنی دستیابیوں سے یہ ثابت کیا ہے کہ اے ایم یو کا یہ سنٹر قرآنی و اسلامی علوم میں معیاری تحقیق و تدریس پر توجہ دیتا ہے اور عالمی سطح پر اپنی منفرد شناخت قائم کررہا ہے۔
سنٹر کے ریسرچ اسکالر مسٹر سید محمد مبشر کو مشہور اسلامی مفکر پروفیسر سید حسین نصر کی رہنمائی میں اسلامی کاسمولوجی میں اعلیٰ کورس کے لیے ایک معروف اسکالرشپ سے نوازا گیا ہے۔ یہ کورس ترکی کے توکت انسٹی ٹیوٹ آف ایڈوانسڈ اسلامک اسٹڈیز میں ہوگا جو اسلامی روایات پر سنجیدہ علمی تحقیق کے لیے معروف ہے۔
مسٹر مبشر کی تحقیق کا عنوان ہے: قرآنی ماحولیاتی اخلاقیات: اکیسویں صدی میں پائیدار ترقی کے لیے ایک فریم ورک۔ یہ موضوع اسلامی اخلاقی اصولوں کو ماحولیاتی مسائل سے جوڑتا ہے، اور پائیداری و ماحولیاتی تحفظ کے لیے ایک قرآنی ماڈل پیش کرتا ہے۔
دوسری طرف، سنٹر کی ایک دیگر ریسرچ اسکالر مس ادیبہ خاتون کو انڈونیشیا میں ہونے والی 24ویں سالانہ بین الاقوامی کانفرنس برائے اسلام، سائنس اور سماج میں مقالہ پیش کرنے کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔ ان کے مقالہ کا عنوان ہے ”صنفی تفسیر اور علمی انصاف: قرآن کی انگریزی مترجم خواتین کا تنقیدی تجزیہ“ جس میں انھوں نے قرآن کے ترجمے میں خاتون اسکالرز کی علمی و تفسیری خدمات پر روشنی ڈالی ہے۔
مس ادیبہ کی ریسرچ کا موضوع ”قرآن کا انگریزی میں ترجمہ کرنے والی خواتین: ایک تنقیدی مطالعہ“ ہے، جس میں اس بات کا جائزہ لیا گیا ہے کہ کس طرح خاتون مترجمین قرآنی علوم کی تفسیری جہتوں کو نئی سمت دے رہی ہیں۔
دونوں اسکالرز کو اس دستیابی پر سنٹر کے اعزازی ڈائرکٹر پروفیسر عبدالرحیم قدوائی اور دیگر اساتذہ نے مبارک باد پیش کی۔ پروفیسر قدوائی نے ان کامیابیوں کو سنٹر کی اختراعی، انٹرڈسپلینری اور عالمی سطح پر مربوط تحقیق کا عکاس قرار دیا۔
یہ کامیابیاں نہ صرف انفرادی علمی برتری کی علامت ہیں بلکہ نظامی سنٹر برائے قرآنی علوم کے اس کردار کی بھی تصدیق کرتی ہیں کہ وہ قرآنیات، ماحولیاتی اخلاقیات، صنفی مطالعہ اور اسلامی فلسفہ پر معیاری علمی مکالمہ کو فروغ دے رہا ہے۔
٭٭٭٭٭٭
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے آرتھوپیڈک سرجن کی دو بین الاقوامی کانفرنسوں میں شرکت
علی گڑھ، 6 ستمبر: جواہر لعل نہرو میڈیکل کالج و اسپتال، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے ممتاز آرتھوپیڈک سرجن پروفیسر عامر بن صابر نے حال ہی میں دو بین الاقوامی کانفرنسوں میں شرکت کی۔
ویتنام کے ہو چی مِن سٹی میں وی اے اے ایس، اے پی اے ایس، اے پی ایچ ایس اور ایچ اے اے کے اشتراک سے منعقدہ سالانہ سائنسی کانفرنس میں انھیں بطور مقرر اور موڈریٹر، خدمات انجام دینے پر توصیفی سند پیش کی گئی۔ کانفرنس میں انہوں نے ”گھٹنے کی مکمل تبدیلی سے متعلق پیری پروستھیٹک فریکچرز اور ان کے حل“ موضوع پر ایک لیکچر دیا۔
اس سے قبل آسٹریلیا کے شہر کیئرنز میں منعقدہ اے پی او اے 2025کانگریس میں ڈاکٹر صابر نے ”گھٹنے کی تبدیلی کی سرجری کے دوران خون کے بہاؤ کو کنٹرول کرنے کے جدید طریقے“ موضوع پر لیکچر دیا، جو کہ ان کے ریسرچ ٹرائل پر مبنی تھا۔
ڈاکٹر صابر کو آرتھوپیڈکس کے شعبے میں 25 سال سے زائد کا کلینیکل تجربہ حاصل ہے اور وہ شعبہ آرتھوپیڈکس کے سابق صدر بھی رہ چکے ہیں۔ بین الاقوامی کانفرنسوں میں ان کی شرکت اور اے ایم یو کی نمائندگی سے شعبہ آرتھوپیڈکس کو بھی عالمی سطح پر پذیرائی حاصل ہوئی۔
Comments are closed.