جمعیت علماء نیپال کے زیر اہتمام "مدرسہ سنگھ نیپال” کے قیام کا فیصلہ، 3 سو مدارس کے ذمہ داران کی شرکت
علماء کرام نے مدرسہ سنگھ کی تجویز کو متفقہ طور پر منظور کیا، صدر جمعیت مفتی محمد خالد صدیقی کا کلیدی خطاب
سیتامڑھی (محمد رفیع ساگر/بی این ایس) جمعیت علماء نیپال کے زیر اہتمام جامعۃ الایمان شرن پور ضلع چتون نیپال میں ایک عظیم الشان مشاورتی اجلاس کا انعقاد کیا گیا جس میں مدارس اسلامیہ نیپال کے تحفظ و بقاء اور درپیش چیلنجز پر تفصیلی غور کیا گیا۔ اجلاس میں "مدرسہ سنگھ نیپال” کے قیام کی تجویز پیش کی گئی جسے تمام شرکاء نے بیک آواز منظور کر کے تاریخ ساز فیصلہ قرار دیا۔
پہلی نشست بعد نماز عشاء جامعۃ الایمان کی مسجد میں ہوئی جس کا آغاز تلاوت قرآن، نعت و قومی ترانہ سے ہوا۔ خطبہ استقبالیہ قاری محمد حنیف ندوی نے پیش کیا جبکہ خطبہ صدارت صدر جمعیت مفتی محمد خالد صدیقی نے دیا۔ اس موقع پر مولانا محمد عزرائیل مظاہری نے مدرسہ سنگھ کی تجویز پیش کی جس پر مولانا ہارون خان مظہری، مولانا علی اصغر مدنی، مولانا شفیق الرحمان قاسمی، ڈاکٹر عبداللہ ندوی مکی، امام حیدر، مولانا درخشید اور مولانا ثناء اللہ ندوی سمیت متعدد علماء نے اظہار خیال کیا۔ اجلاس کی نظامت مولانا نظیر عالم ندوی قاسمی نے کی جو اس مدرسہ سنگھ کے کنوینر بھی ہیں۔
پروگرام کے دوران سوال و جواب کا سیشن بھی ہوا جس میں علماء و مندوبین نے مختلف سوالات کئے اور تشفی بخش جوابات دیے گئے۔ رات ساڑھے گیارہ بجے یہ نشست اختتام پذیر ہوئی جس کے بعد عشائیہ رکھا گیا۔
اگلی صبح دوسری نشست کا آغاز قرآن خوانی سے ہوا۔ بعدہ مجوزہ دستور پیش کیا گیا جسے سکریٹری جمعیت مفتی محمد شمیم اختر قاسمی نے پیش کیا۔ اس نشست میں بھی صدر جمعیت نے کلیدی خطاب کیا جبکہ دیگر علماء نے بھی تائیدی کلمات ادا کئے۔
ملک بھر سے تین سو سے زائد مدارس کے ذمہ داران نے اس اجلاس میں شرکت کی۔ جامعۃ الایمان کے ناظم قاری محمد حنیف ندوی اور ان کی ٹیم نے شاندار مہمان نوازی کی جس پر شرکاء نے شکریہ ادا کیا۔
اختتامی اجلاس میں صدر جمعیت نے قاری محمد حنیف ندوی کو اعزازی شیلڈ پیش کی اور اپنی تصنیف "علماء کرام، مقام، خدمات اور تقاضے” کی رسم اجراء بھی کی۔ شرکاء کے درمیان کتاب کی تقسیم عمل میں آئی اور تمام ذمہ داران نے مدرسہ سنگھ کے قیام میں بھرپور تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ اجلاس کا اختتام مولانا عزرائیل مظاہری کی دعاء پر ہوا۔
Comments are closed.