اُردو اکیڈمی کولکتہ کے سیمینار کی منسوخی اور جاوید اختر

 

محمد ہاشم القاسمی

(خادم دارالعلوم پاڑا ضلع پرولیا مغربی بنگال)

فون 9933598528

کولکتہ کو شہر ادب، ثقافت، نئے تصورات، رواداری اور دانشوری کا مسکن تصور کیا جاتا ہے۔ اسے ہندوستان میں نشاط الثانیہ کی سرزمین اور شہر نشاط بھی کہا جاتا ہے۔ اُردو اکیڈمی کولکتہ نے کولکتہ میں یکم ستمبر سے چار ستمبر تک کئی ادبی مذاکرے اور سیمینار اور مشاعرہ منعقد کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اس پروگرام کے تحت مشہور فلم رائٹر اور نغمہ نگار جاوید اختر صاحب کو ایک مشاعرے کی صدارت کرنی تھی۔ اور ساتھ ہی جاوید اختر صاحب کو "ہندی فلموں میں اُردو کے کردار” پر بات بھی کرنی تھی۔ جاوید اختر صاحب کے علاوہ اس پروگرام میں معروف فلمساز مظفر علی بھی شرکت کرنے والے تھے۔ کولکتہ کے اُردو اور ادبی حلقوں میں اس پروگرام کے حوالے سے کافی دلچسپی تھی اور منتظمین کے مطابق پروگرام کے سارے کارڈز کئی روز پہلے ہی ختم ہو چکے تھے اسی دوران اردو اکیڈمی کی سیکریٹری نزہت زینب نے ایک بیان جاری کر کے اردو شعر و ادب سے وابستگی رکھنے والوں کو چونکا دیا جس میں کہا گیا کہ "ہندى فلموں ميں اُردو كے كردار پر ہونے والے چار روزه پروگرام كو نامساعد حالات كى بنا پر ملتوى كر دیا گیا ہے۔” اردو اکیڈمی کے اس اچانک التوا کے اعلان کا پس منظر یہ بتایا جاتا ہے کہ اردو اکیڈمی کے پروگرام کا اشتہار نشر ہونے کے فوراً بعد شہر کولکتہ کے کئی مسلم تنظیموں کی طرف سے جاوید اختر کے ملحدانہ عقائد اور اللہ تعالیٰ کے خلاف نازیبا نظریات کا دسیوں منچ پر برملا بیانات دینے کی وجہ سے حکومت مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ سے شہر کی کئی مسلم تنظیموں کی طرف سے درخواست کی گئی تھی کہ جاوید اختر صاحب کے اسلام مخالف بیانات کی وجہ سے ان کے تئیں مسلمانوں کا ایک بڑا طبقہ کی دل آزاری ہوگی اس لئے ان کی جگہ کسی اور ادیب و شاعر کے نام پر غور و خوذ کیا جائے اس سلسلے میں جمیعتہ علماء کولکتہ نے باظابطہ لیٹر پیڈ پر اردو اکیڈمی کے نائب صدر کو لکھے گئے ایک خط میں اس ادبی پروگرام میں جاوید اختر کی جگہ کسی دوسرے نامور شاعر ادیب کو شامل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ” شہر کولکتہ کے اردو اکیڈمی کے امن پسند ذمہ داروں کا ایسے شخص کو مدعو کرنا تمام باشعور اور امن پسند افراد کے لیے باعث تشویش ہے”۔ جاوید اختر کی مخالفت کرنے والی تنظیموں میں ایک نام "وحین فاؤنڈیشن” کے سربراہ مفتی شمائل ندوی صاحب کا بھی شامل ہے جو سوشل میڈیا میں وائرل ہے، انہوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اس بات کی تردید کی ہے کہ انھوں نے نغمہ نگار جاوید اختر کو کوئی دھمکی دی ہے۔ انھوں نے کہا کہ اُن کی تنظیم نے جاوید اختر کی مخالفت اُن کے مبینہ متنازع مذہبی خیالات، مذہب کے بارے میں دیے گئے مبینہ اہانت آمیز بیانات کی وجہ سے کی گئی ہے کیونکہ جاوید اختر کے خیالات کی وجہ سے مسلمانوں کے عقائد کی توہین ہوتی ہے”۔ بلا شبہ ہند و پاک میں جاوید اختر صاحب کا شمار بالی ووڈ کے ایک مقبول نغمہ نگار اور کہانی کار منظر نامہ نگار اور گیت کار کے طور پر ہی نہیں ہوتا بلکہ وہ ملک کے سرکردہ دانشوروں میں بھی شمار کیے جاتے ہیں۔ انھيں اکثر ادبی پروگراموں اور ٹی وی چینلوں پر بحث و مباحثوں میں مدعو کیا جاتا ہے۔ جاوید اختر صاحب 17 جنوری 1945 کو ہندوستان کے شہر گوالیار میں پیدا ہوئے۔ پدم شری (1999) اور پدم بھوشن (2007) یافتہ جاوید اختر کا تعلق ایک گیت کار گھرانے سے رہا ہے۔ ان کے والد جان نثار اختر معروف گیت کار اور شاعر تھے، تقسیم ہند سے قبل ترقی پسند مصنفین کی تحریک میں ایک نمایاں شخصیت کےحامل تھے۔ ان کے پر دادا فضل حق خیرآبادی انڈمان جزائر کی بدنام زمانہ سیلولر جیل میں عمر قید کی سزا پانے والے ایک بہادر مجاہد آزادی تھے، جہاں ان کا انتقال 1864 میں ہوا، جاوید اختر صاحب بھوپال کے سیفیہ کالج سے اپنی تعلیم مکمل کی پھر فلم انڈسٹری میں اپنا کیریئر بنانے کے لیے ممبئی چلے گئے۔ وہاں جا کر جاوید اختر صاحب نے سپر اسٹار سلمان خان کے والد سلیم خان کے ساتھ مل کر کئی کامیاب فلمیں لکھیں، جن میں "شعلے، یادوں کی بارات، زنجیر، دیوار، ترشول، کالا پتھر، سیتا اور گیتا، اور مسٹر انڈیا” جیسی مشہور فلمیں شامل ہیں۔ جاوید اختر صاحب کے بارے یہ کہنا مبالغہ نہیں ہوگا کہ وہ ایک کثیر جہتی شخصیت ہیں جنہوں نے اپنی غیر معمولی تحریری صلاحیتوں سے ہندوستانی سنیما کو بدل کر رکھدیا۔ جاوید اختر صاحب کی پہلی بیوی ہنی ایرانی تھیں، جو ایک اداکارہ اور ہدایت کار بھی تھیں۔ پہلی بار جاوید اختر صاحب کی ملاقات سیتا اور گیتا کے سیٹ پر ہوئی اور دونوں کی سالگرہ ایک ہی دن ہوتی تھی ۔ ہنی ایرانی سے ان کے دو بچے ہیں، اداکار، پروڈیوسر اور ہدایت کار فرحان اختر اور پروڈیوسر ڈائریکٹر زویا اختر۔ جاوید اختر صاحب کی دوسری اہلیہ معروف اداکارہ شبانہ اعظمی، خسر مشہور شاعر کیفی اعظمی اور خوش دامن شوکت اعظمی ہیں۔ جاوید اختر کو عام آدمی ایک مسلمان شخص تصور کرتے ہیں لیکن مسلمان ہونے کے لئے جن عقائد کو ماننا لازمی قرار دیا گیا ہے وہ اس کا کھلے عام انکار کرتے رہے ہیں، بلکہ اس کا مذاق اڑاتے نظر آتے ہیں، چنانچہ وہ مختلف پلیٹ فارمز پر کئی بار یہ کہہ چکے ہیں کہ وہ خدا اور کسی مذہب پر یقین نہیں رکھتے۔ جاوید اختر صاحب نے ایک سوال کے جواب میں کہا تھا کہ” وہ زیادہ سوچتے ہیں، اسی وجہ سے وہ ملحد بھی ہیں اور انہیں اچھا نہیں سمجھا جاتا” اسی دوران انہوں نے کہا تھا کہ” دراصل جنت میں ان کے پسندیدہ پھل نہیں، جس وجہ سے وہ جنت میں جانے کی خواہش نہیں رکھتے۔”ان کا کہنا تھا کہ جنت میں کیلا اور امرود نہیں ہیں جو ان کے پسندیدہ پھل ہیں، اس لیے انہوں نے کبھی جنت جانے کی خواہش بھی نہیں رکھی”۔ جاوید اختر صاحب کے مطابق ان کے پسندیدہ پھل جنت میں نہیں تو عین ممکن ہے کہ وہ پھل جہنم میں ہو، اس لیے انہوں نے کبھی جنت جانے کی خواہش ہی نہیں رکھی۔جاوید اختر نے ایک موقع پر انکشاف کیا ہے کہ ان کے دونوں بچے مذہبی طور پر ملحد ہیں، جب کہ ان کی اولاد نے اپنے بچوں کے شناختی دستاویزات میں لکھا ہے کہ "ان پر مذہب کا اطلاق نہیں ہوتا”۔ این ڈی ٹی وی کو دئیے گئے ایک انٹرویو میں جاوید اختر نے انٹرویو کے دوران کہا ہے کہ "انہیں فخر ہے کہ ان کی اولاد ان کے ورثے کو آگے بڑھاتے ہوئے سیکولرازم کے راستے پر چل رہی ہے۔ انہوں نے اس کا بھی انکشاف کیا کہ ان کی بیٹی زویا اختر اور بیٹا فرحان اختر مذہبی طور پر ملحد ہیں، جب کہ انہوں نے یہی روایت اپنی اولاد تک بھی برقرار رکھی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ فرحان اختر نے اپنی بیٹیوں کے شناختی دستاویزات میں مذہب کے خانے میں "اطلاق نہیں ہوتا” درج کروا رکھا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ اردو زبان نہ کسی ایک مذہب کی ملکیت ہے، نہ کسی خاص عقیدے سے جڑی ہوئی ہے ۔ بلک یہ برصغیر کی مشترکہ تہذیب کی نمائندہ زبان ہے جس نے ہندو، مسلم، سکھ، عیسائی سب کے جذبات، خیالات اور خوابوں کو الفاظ دیے ہیں۔ اردو اکادمی کی گورننگ باڈی کی رکن غزالہ یاسمین نے کہا کہ ”ہم نے اس ادبی و ثقافتی پروگرام کے لیے بڑی محنت کی تھی تاکہ اردو کی خدمات کو سراہا جا سکے۔ مجھے امید ہے کہ جلد ہم یہ پروگرام زیادہ تنوع اور رسائی کے ساتھ منعقد کر سکیں گے۔” انھوں نے بجا طور پر یاد دلایا کہ اردو کسی مذہب سے مخصوص نہیں بلکہ اس کا حسن، وسعت اور گہرائی ہر ذی شعور کے لیے ہے۔ کولکتہ کے کئی سرکردہ مسلم شہریوں نے بھی جاوید اختر کے پروگرام کو منسوخ کیے جانے پر مایوسی کا اظہار کیا ہے۔ ریاست کی وزیر اعلی ممتا بینرجی کو لکھے گئے ایک خط میں ان شہریوں کا کہنا ہے کہ "بنیاد پرست عناصر نے اردو کی سیکولر زبان اور مغربی بنگال کی اردو اکیڈمی کو مسلمانوں سے جوڑ دیا ہے۔”

اردو اکیڈمی کی گورننگ باڈی کی رکن پروفیسر غزالہ یاسمین نے بی بی سی کو بتایا کہ "یہ ایک خالص ادبی پروگرام تھا۔ ہندی فلموں میں اردو کا بہت بڑا کردار رہا ہے اور اسی کے مختلف پہلوؤں پر توجہ مرکوز کی گئی تھی۔” ان کا مزید کہنا تھا کہ جاوید اختر کے مذہب سے متعلق خیالات سے بہت سے لوگ متفق نہیں ہیں۔ لیکن اس ادبی پروگرام کا ان کے مذہبی خیالات سے کوئی تعلق نہیں تھا اور اس پروگرام کا ملتوی یا منسوخ کیا جانا افسوسناک ہے۔”جاوید اختر صاحب نے پروگرام کی منسوخی پر اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ "میری مخالفت ہندو اور مسلم دونوں تنظیموں کی جانب سے کی جا رہی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ میں کچھ صحیح کر رہا ہوں۔” کولکتہ میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم ایسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف ڈیموکریٹک رائٹس نے پروگرام منسوخ کیے جانے کی مذمت کی ہے۔ ایسوسی ایشن کے جنرل سیکریٹری رنجیت سور نے ایک بیان میں کہا ہے کہ "مغربی بنگال کی حکومت ملک کے آئین میں درج سیکولرازم کا تحفظ کرنے میں ناکام رہی ہے”۔ ان کا کہنا ہے کہ "ریاست میں انتخابات قریب ہیں۔ یہ ایک سیاسی فیصلہ ہے جو حکومت کی اعلی سطح پر کیا گیا ہے۔ حکومت ریاست کے ایک طبقے کو ناراض نہیں کرنا چاہتی۔” سول سوسائٹی کے ایک گروپ جن میں کئی ممبر مسلم برادری سے تعلق رکھتے ہیں، مغربی بنگال اردو اکیڈمی کے فیصلے پر افسوس کا اظہار کیا ہے جس کے تحت شہر میں معروف نغمہ نگار جاوید اختر کے پروگرام کو ملتوی کر دیا گیا۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کو ایک کھلا خط لکھ کر اپنی ناراضگی ظاہر کی۔ اس خط میں، وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کو "دیدی” کہہ کر مخاطب کیا گیا ہے، خط میں اردو اکیڈمی کے فیصلے پر افسوس ظاہر کیا اور کہا گیا ہے کہ یہ فیصلہ دراصل مسلم مذہبی تنظیموں کے دباؤ پر کیا گیا، جن کا کہنا تھا کہ جاوید اختر کو مدعو نہیں کیا جانا چاہیے کیونکہ وہ ملحد ہیں۔

خط میں مزید لکھا گیا "جیسا کہ ہوا، مغربی بنگال اردو اکیڈمی جس کے نام میں کہیں بھی "مسلم” کا لفظ نہیں ہے، نے بنیاد پرستوں کی خوشنودی کے لیے فوری طور پر اپنی دعوت واپس لے لی۔” اس پر دستخط کرنے والوں میں مدر پٹھیریا، ذیشان مجید، طییب اے خان، ظاہر انور، پلاش چترویدی اور نوین وورا سمیت کئی لوگ شامل ہیں۔ دستخط کنندگان نے کہا کہ اکیڈمی کا فیصلہ اس یقین کے خلاف ہے کہ اردو سب کی زبان ہے اور اسے کسی ایک برادری کی "خصوصی ملکیت” نہیں سمجھا جانا چاہیے”. سول سوسائٹی کے اراکین نے بھی کہا کہ اس فیصلے نے یہ بات واضح کر دی ہے کہ کسی شاعر یا کسی بھی فرد کے مذہبی رجحانات کو اس بات پر فوقیت دی جا رہی ہے کہ وہ کسی غیر متعلقہ موضوع پر کیا کہنا چاہتا ہے”۔

سول سوسائٹی کے اراکین نے خط میں کہا کہ جاوید کا موضوع ہندی سنیما اور اردو تھا، جس کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس شرمناک پسپائی نے کولکاتہ کی اس شبیہ کو متاثر کیا ہے جسے لبرلز کا آخری قلعہ سمجھا جاتا تھا۔خط میں زور دیا گیا کہ حکومت کو مداخلت کرتے ہوئے مغربی بنگال اردو اکیڈمی کو اپنا فیصلہ واپس لینے کی ہدایت دینی چاہیے تھی۔ دستخط کنندگان نے وزیر اعلیٰ سے آزادی اظہار کو یقینی بنانے کی اپیل کی ہے”۔ اخیر میں جاوید اختر صاحب کے لئے یہ کہنا چاہوں گا کہ انسان کی خمیر میں نیکی کے ساتھ بدی نہایت مضبوطی سے پیوست ہے۔ یہ ایک بہت ہی سنہرا موقع تھا جب وہ کولکتہ کے علماء کرام کے ساتھ اسلام کی تعلیمات اللہ تعالیٰ کی ذات و صفات اور جنت و جہنم کے بارے جو کچھ ان ذہن و دماغ میں شکوک وشبہات ہیں کھل کر باتیں کرتے اور حق کو قبول کرتے اور باطل سے توبہ کر لیتے چونکہ انسانی جوہر سے برائی کے عنصر کو بغیر توبہ کے الگ نہیں کیا جا سکتا ہے، اس حوالے سے دیکھا جائے تو توبہ ہی حق تعالیٰ کی معرفت و قربت کی سمت پہلی گھاٹی ہے تاکہ آغاز سفر ہی میں برائی سے یکسر پاک قلب میسر آ جائے۔ انسانی زندگی میں توبہ کی اہمیت کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ خود الله تبارک وتعالیٰ نے قرآن حکیم میں بہت سے مقامات پر بندوں کو توبہ کی تلقین فرمائی ہے۔ گنہگاروں کو مایوسی سے بچانے کے لئے خود اعلان فرمایا ہے کہ میری رحمت ہر شے پر غالب ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ الله رب العزت نے عصات (خطاکاروں)سے اپنی پہچان ہی ’’توّاب‘‘ کے طور پر کروائی ہے بشرطیکہ وہ صدقِ دل سے اپنے گناہوں سے کنارہ کشی کرتے ہوئے دستِ سوال دراز کریں۔ حضرت آدم علیہ السلام کو جب جنت سے نکالا گیا تو انہوں نے اپنے رب کے سکھائے ہوئے الفاظ میں توبہ کی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرمائی۔ (البقرۃ) آدم علیہ السلام نے اپنے رب سے عاجزی اور معافی کے چند کلمات سیکھ لیے پس اللہ نے ان کی توبہ قبول فرما لی، بے شک وہی بہت توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے۔اللہ رب العزت نے قرآن حکیم میں متعدد مقامات پر توبہ کرنے کا حکم دیا ہے اور اپنی پہچان خوب توبہ قبول کرنے والے کے طور پر کرائی ہے۔ اللہ تعالی کا ارشاد "بے شک جو لوگ ہماری نازل کردہ کھلی نشانیوں اور ہدایت کو چھپاتے ہیں اس کے بعد کہ ہم نے اسے لوگوں کے لیے (اپنی) کتاب میں واضح کردیا ہے تو انہی لوگوں پر الله لعنت بھیجتا ہے (یعنی انہیں اپنی رحمت سے دور کرتا ہے) اور لعنت بھیجنے والے بھی ان پر لعنت بھیجتے ہیں۔ مگر جو لوگ توبہ کر لیں اور اپنی اصلاح کر لیں اور حق کو ظاہر کر دیں تو میں بھی انہیں معاف فرما دوں گا، اور میں بڑا ہی توبہ قبول کرنے والا مہربان ہوں”. قرآن پاک میں ہے (اے حبیب!) آپ فرما دیں: کیا میں تمہیں ان سب سے بہترین چیز کی خبر دوں؟ (ہاں) پرہیزگاروں کے لیے ان کے رب کے پاس (ایسی) جنتیں ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے (ان کے لیے) پاکیزہ بیویاں ہوں گی اور (سب سے بڑی بات یہ کہ) الله کی طرف سے خوشنودی نصیب ہوگی، اور الله بندوں کو خوب دیکھنے والا ہے (یہ وہ لوگ ہیں) جو کہتے ہیں: اے ہمارے رب! ہم یقینا ایمان لے آئے ہیں سو ہمارے گناہ معاف فرما دے اور ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچا لے۔ (یہ لوگ) صبر کرنے والے ہیں اور قول و عمل میں سچائی والے ہیں اور ادب و اطاعت میں جھکنے والے ہیں اور الله کی راہ میں خرچ کرنے والے ہیں اور رات کے پچھلے پہر (اٹھ کر) الله سے معافی مانگنے والے ہیں۔اور (یہ) ایسے لوگ ہیں کہ جب کوئی برائی کر بیٹھتے ہیں یا اپنی جانوں پر ظلم کر بیٹھتے ہیں تو اللہ کا ذکر کرتے ہیں پھر اپنے گناہوں کی معافی مانگتے ہیں، اور اللہ کے سوا گناہوں کی بخشش کون کرتا ہے، اور پھر جو گناہ وہ کر بیٹھے تھے ان پر جان بوجھ کر اصرار بھی نہیں کرتے۔ اللہ نے صرف انہی لوگوں کی توبہ قبول کرنے کا وعدہ فرمایا ہے جو نادانی کے باعث برائی کر بیٹھیں پھر جلد ہی توبہ کر لیں پس اللہ ایسے لوگوں پر اپنی رحمت کے ساتھ رجوع فرمائے گا، اور اللہ بڑے علم بڑی حکمت والا ہے۔ اور ایسے لوگوں کے لیے توبہ (کی قبولیت) نہیں ہے جو گناہ کرتے چلے جائیں یہاں تک کہ ان میں سے کسی کے سامنے موت آ پہنچے تو (اس وقت) کہے کہ میں اب توبہ کرتا ہوں اور نہ ہی ایسے لوگوں کے لیے ہے جو کفر کی حالت پر مریں، ان کے لیے ہم نے دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے۔دعا ہے اللہ تعالیٰ پوری امت کو توبہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین یا رب العالمین۔

Comments are closed.