آیتِ اسوۂ حسنہ: ایک ابدی منشور
✍۔مسعود محبوب خان (ممبئی)
09422724040
"لَقَدْ کَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ”، نبی اکرمﷺ کی حیاتِ طیبہ بحیثیت کامل نمونہ، یہ آیتِ کریمہ (الأحزاب: 21) دراصل قرآنِ حکیم کا ایک ایسا لازوال منشور ہے جس نے نہ صرف اہلِ ایمان کے قلوب کو منور کیا بلکہ رہتی دنیا تک انسانیت کے لیے ایک دائمی راہِ نجات اور ضابطۂ حیات متعین کردیا۔ اللّٰہ تعالیٰ نے بڑے واضح اور فیصلہ کن الفاظ میں اعلان فرمایا کہ محمد مصطفیٰﷺ کی ذاتِ گرامی اور آپ کی حیاتِ طیبہ انسان کے لیے کامل ترین نمونہ ہے۔ یہ اعلان دراصل انسان کو یہ باور کراتا ہے کہ کامیابی کا کوئی راستہ، عزّت و وقار کا کوئی مقام، اور ابدی سکون و نجات کی کوئی صورت رسول اکرمﷺ کے اتباع اور اسوۂ حسنہ کے بغیر ممکن ہی نہیں۔
"اسوۂ” ایک ایسا لفظ ہے جو رہنمائی، تقلید اور عملی نمونے کے مفہوم کو اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے۔ یہ محض کسی نظری یا خیالی خاکے کا نام نہیں بلکہ ایک جیتی جاگتی زندگی کا آئینہ ہے۔ "حسنہ” اس پر ایک ایسا صفتی تاج ہے جو کمال، حسن اور برتری کا اعلان کرتا ہے۔ یوں "اسوۂ حسنہ” کا مفہوم یہ ہوا کہ رسول اکرمﷺ کی زندگی سراپا نمونہ اور سراپا کمال ہے؛ ایک ایسا معیار جس سے بہتر اور بلند تر کوئی معیار نہ تھا اور نہ ہوگا۔
یہی وہ نکتہ ہے جہاں انسانی تاریخ کی سب سے روشن حقیقت جلوہ گر ہوتی ہے: نبی کریمﷺ کی زندگی انسانیت کے ہر دور، ہر خطے اور ہر طبقے کے لیے سرچشمۂ ہدایت ہے۔ اگر بات عقیدے اور توحید کی ہو تو آپﷺ کا کلمہ "لا إله إلا الله” سب سے مضبوط قلعہ ہے۔ اگر عبادات کی صورت میں اللّٰہ کی بندگی کا نقشہ درکار ہو تو آپﷺ کی نماز، روزہ، حج اور زکوٰۃ بندگی کا کامل ترین مظہر ہیں۔ اگر اخلاقیات میں نمونہ تلاش کیا جائے تو آپﷺ کی عفو و درگزر، صدق و امانت، حلم و بردباری اور حسنِ سلوک وہ چراغ ہیں جن سے دنیا کی تاریخ ہمیشہ روشن رہے گی۔ اگر معاملاتِ زندگی میں رہنمائی درکار ہو تو آپﷺ کا عدل، آپ کی شفقت، اور آپ کی دیانت ایسے اصول ہیں جن پر قائم معاشرہ کبھی اندھیروں کا شکار نہیں ہوسکتا۔
معاشرت کے دائرے میں دیکھیں تو آپﷺ نے انسان کو رشتوں کی حرمت، خاندان کے نظام، پڑوسی کے حق اور معاشرتی ذمہ داریوں کا ایسا عملی درس دیا جو رہتی دنیا تک قابلِ تقلید ہے۔ سیاست و حکومت کے میدان میں آپﷺ نے عدل پر مبنی وہ نظام قائم کیا جس نے مظلوم کو تحفّظ اور ظالم کو حدود میں رہنے کا پابند بنایا۔
یوں کہا جا سکتا ہے کہ رسول اکرمﷺ کی حیاتِ طیبہ کائنات کا سب سے روشن اور سب سے کامل نصابِ زندگی ہے۔ اس میں نہ کوئی خلا ہے نہ کسی ترمیم کی گنجائش۔ یہی وجہ ہے کہ قرآنِ مجید نے اسے "اسوۂ حسنہ” کہہ کر اہلِ ایمان کو دعوت دی کہ اگر کامیابی چاہتے ہو تو اس راستے پر چلو جس پر نبی اکرمﷺ نے خود چل کر دکھایا۔ یہ اسوہ دراصل ایمان والوں کے لیے ایک چراغِ راہ ہے، جو ہر تاریکی کو دور کرتا اور ہر مشکل میں راہ دکھاتا ہے۔ یہی وہ چراغ ہے جس کے بغیر دنیا کی زندگی بھی بے نور ہے اور آخرت کی نجات بھی ناممکن۔
حیاتِ طیبہ کے مختلف پہلو بطور اسوہ
1. عقیدہ و عبادت میں اسوہ
رسول اکرمﷺ کی ذات اقدس توحید کی تجسیم اور بندگیِ الٰہی کا کامل ترین مظہر ہے۔ آپﷺ کی پوری حیات اس حقیقت پر شاہد ہے کہ انسان کی اصل معراج ربّ کے حضور سجدہ ریز ہونے میں ہے۔ آپﷺ نے اپنی اُمت کو یہی سکھایا کہ عبادت محض ایک رسمی فریضہ نہیں بلکہ دل کی راحت، روح کی لذت اور زندگی کا مقصودِ اعلیٰ ہے۔
آپﷺ کا فرمان ہے: "میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں رکھی گئی ہے” (نسائی)۔ یہ جملہ دراصل بندگی کی روح کو واضح کرتا ہے کہ عبادت محض جسمانی مشقت یا فریضۂ لازمی نہیں بلکہ قلب و جان کی سکینت کا سرچشمہ ہے۔ نبیء کریمﷺ جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو دنیا و ما فیہا سے بے خبر ہوجاتے، گویا ایک غلام اپنے آقاء کے حضور سراپا فناء ہو کر کھڑا ہے۔ یہی وہ کیفیت ہے جس نے آپﷺ کے ماننے والوں کو یہ سبق دیا کہ بندگی انسان کی کمزوری نہیں، بلکہ اس کا سب سے بڑا کمال ہے۔
توحید پر آپﷺ کی استقامت اس حد تک تھی کہ ہر قسم کے ظلم، جبر اور مخالفت کے باوجود آپ نے اہلِ مکّہ سے یہی کہا: "تم میرے ایک ہاتھ پر سورج رکھ دو اور دوسرے پر چاند، تب بھی میں اس مشن کو نہیں چھوڑ سکتا۔” یہ اعلان اس حقیقت کا غماز ہے کہ عقیدۂ توحید ہی انسان کی اصل قوت اور بنیاد ہے۔
2. اخلاق و کردار میں اسوہ
رسول اکرمﷺ کی سیرت کا دوسرا روشن پہلو اخلاق و کردار ہے۔ قرآنِ حکیم نے آپﷺ کے بارے میں قطعی اعلان فرمایا: "وَإِنَّكَ لَعَلَىٰ خُلُقٍ عَظِيمٍ”، یقیناً آپ عظیم اخلاق کے مالک ہیں۔ (القلم: 4)۔ یہ کوئی رسمی تعریف نہیں بلکہ وہ شہادت ہے جو خالقِ کائنات نے اپنی مخلوق کے سردار کے بارے میں دی۔ نبی کریمﷺ کا اخلاق دراصل انسانیت کی بلند ترین چوٹی ہے۔ آپﷺ کی صداقت کا یہ عالم تھا کہ دشمن بھی آپ کو "الصادق الامین” کہہ کر پکارتے تھے۔ آپﷺ کی امانت داری کا یہ حال تھا کہ کفّارِ مکّہ بھی اپنے قیمتی امانات آپ کے پاس رکھا کرتے۔
آپﷺ کے اخلاق کی عظمت کا یہ کرشمہ تھا کہ سخت ترین دل بھی آپ کی شفقت سے نرم ہوجاتے۔ طائف کے بازار میں جب آپﷺ کو پتھروں سے لہو لہان کیا گیا، اور فرشتوں نے پہاڑوں کو ان پر الٹ دینے کی اجازت چاہی، تو آپﷺ نے فرمایا: "نہیں، میں امید رکھتا ہوں کہ ان کی نسل سے وہ لوگ پیدا ہوں گے جو اللّٰہ کے بندے ہوں گے۔” یہ وہ اخلاق ہے جس نے نفرتوں کو محبت میں بدل دیا، اور سنگدلوں کو داعیٔ اسلام کے رفیق بنا دیا۔
آپﷺ نے فرمایا: "تم میں سے بہترین وہ ہے جس کا اخلاق بہترین ہے۔” یہی وجہ ہے کہ آپ کی حیاتِ طیبہ میں دشمن بھی آپ کے اخلاق سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔ آپﷺ نے غریبوں کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھایا، یتیموں کے سر پر دستِ شفقت رکھا، غلاموں کو بھائی بنا کر ان کے مقام کو بلند کیا۔ یوں کہا جا سکتا ہے کہ عقیدہ و عبادت میں آپﷺ کی زندگی ایمان کا سب سے روشن مینار ہے، اور اخلاق و کردار میں آپﷺ کی سیرت رحمت و شفقت کا ایسا سمندر ہے جس کی وسعت کا کوئی کنارہ نہیں۔ اسوۂ حسنہ کا یہ امتزاج ہی دراصل انسان کو دنیا و آخرت کی کامیابی عطا کرتا ہے۔
3. معاشرت و خاندان میں اسوہ
رسول اکرمﷺ کی سیرت کا سب سے حسین اور دل آویز پہلو آپ کی گھریلو زندگی ہے۔ آپﷺ نے دنیا کو یہ سبق دیا کہ حقیقی عظمت کا راز محض اقتدار و حکومت میں نہیں، بلکہ اپنے گھر کے چھوٹے چھوٹے معاملات میں بھی محبت، شفقت اور حسنِ اخلاق قائم رکھنے میں ہے۔ آپﷺ اپنی ازواجِ مطہرات کے ساتھ نہایت مشفقانہ اور محبت بھرا رویہ رکھتے۔ حضرت عائشہ صدیقہؓ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللّٰہﷺ گھر میں عام انسانوں کی طرح رہتے؛ کبھی کپڑے سی لیتے، کبھی جوتے مرمت کر لیتے، اور کبھی گھر کے کام کاج میں ہاتھ بٹاتے۔ یہ طرزِ عمل اس بات کی عملی دلیل ہے کہ اسلام میں شوہر کی عظمت خدمت و تعاون سے کم نہیں ہوتی، بلکہ وہیں سے بڑھتی ہے۔
آپﷺ بچّوں کے ساتھ کھیلتے، ان کو گود میں اٹھاتے اور ان کے دلوں کو خوش رکھتے۔ حضرت حسنؓ و حضرت حسینؓ کو کندھوں پر سوار کر کے کھیلنے والے نبیﷺ دراصل دنیا کو یہ سکھا رہے تھے کہ بچّوں کی تربیت کا آغاز محبت سے ہوتا ہے۔ آپﷺ نے عورتوں کے مقام کو وہ رفعت بخشی جو دنیا کی کسی تہذیب نے نہ دی تھی۔ آپﷺ نے فرمایا: "تم میں سے بہترین وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے لیے بہترین ہے، اور میں اپنے گھر والوں کے لیے سب سے بہتر ہوں۔” یوں آپﷺ نے خاندان کو سکون و محبت کا مرکز بنایا اور یہ اصول دیا کہ گھر وہ جائے پناہ ہے جہاں دل کو راحت، اور روح کو تسکین ملنی چاہیے۔
4. معاشی و سماجی معاملات میں اسوہ
معاشرتی اور معاشی میدان میں بھی نبی اکرمﷺ کا کردار اپنی مثال آپ ہے۔ آپﷺ نے عدل و مساوات پر مبنی ایک ایسا نظام قائم کیا جو صرف عرب ہی نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لیے ایک مثالی دستور بن گیا۔ بازاروں میں آپﷺ نے دیانت و شفافیت کو رائج کیا۔ آپﷺ نے فرمایا: "جس نے دھوکہ دیا وہ ہم میں سے نہیں۔” یہ اعلان دراصل اس بات کا اعلانِ عام تھا کہ تجارت اور معیشت کی بنیاد صرف اور صرف سچائی اور دیانت پر ہونی چاہیے۔
مزدوروں اور محنت کشوں کے بارے میں آپﷺ نے ارشاد فرمایا: "مزدور کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے اس کی مزدوری ادا کرو۔” یہ ایک ایسا سنہری اصول ہے جو محنت کش طبقے کو عزّت دیتا ہے اور سرمایہ دار کو عدل کا پابند بناتا ہے۔ یتیموں اور غریبوں کے حقوق کی حفاظت کو آپﷺ نے اپنے مشن کا اہم حصّہ بنایا۔ قرآن میں بار بار یتیم کا مال کھانے کی مذمت آئی، اور آپﷺ نے اس تعلیم کو اپنی عملی زندگی میں نافذ کیا۔ آپﷺ کی مجلس میں امیر و غریب، آقا و غلام، عرب و عجم سب ایک صف میں بیٹھتے۔ مساوات کا یہ منظر وہ انقلابی تبدیلی تھی جس نے صدیوں کے طبقاتی فرق کو مٹا دیا۔
آپﷺ کی سماجی تعلیمات کا خلاصہ یہ ہے کہ ایک ایسا معاشرہ قائم کیا جائے جہاں کمزور کو سہارا ملے، بے سہارا کو پناہ ملے، اور ہر انسان کو عزّت و وقار کے ساتھ زندگی گزارنے کا حق ملے۔ یہی وہ اصول ہیں جنہوں نے ایک منتشر قبیلہ پرست معاشرے کو دنیا کی سب سے مثالی امت میں بدل دیا۔ یوں رسول اکرمﷺ کی سیرت طیبہ میں ہمیں گھر کی فضاء کو محبت سے مہکانے کا نسخہ بھی ملتا ہے، اور معیشت و سماج کو عدل و انصاف سے سنوارنے کا اصول بھی۔ یہی اسوۂ حسنہ کا کمال ہے کہ وہ انسان کو انفرادی، خاندانی اور اجتماعی زندگی کے ہر گوشے میں کامل رہنمائی عطاء کرتا ہے۔
5. سیاست و قیادت میں اسوہ
رسول اکرمﷺ کی حیاتِ طیبہ میں قیادت کا پہلو ایک ایسا روشن باب ہے جو رہتی دنیا تک حکمرانوں اور قائدین کے لیے معیارِ حق و باطل ہے۔ آپﷺ نے قیادت کو جاہ و اقتدار کا کھیل نہیں بنایا بلکہ خدمتِ خلق اور عدلِ الٰہی کے نفاذ کا ذریعہ بنایا۔
جب مدینۂ منورہ میں اسلامی ریاست قائم ہوئی تو آپﷺ نے سب سے پہلا کام عدل، مساوات اور باہمی رواداری کی بنیادوں پر معاشرہ تشکیل دینا تھا۔ اسی مقصد کے لیے آپﷺ نے "میثاقِ مدینہ” مرتب فرمایا، جو انسانی تاریخ کا پہلا باقاعدہ تحریری معاہدہ تھا۔ اس دستاویز نے نہ صرف مسلمانوں کو ایک منظم امت بنایا بلکہ یہودیوں، مشرکین اور مختلف قبائل کو بھی ایک مشترکہ شہری قوم کے طور پر متحد کیا۔ اس معاہدے کی روح یہ تھی کہ سب شہری برابر ہیں، سب کو مذہبی آزادی حاصل ہے، اور سب مل کر مدینہ کی حفاظت کریں گے۔
یہ معاہدہ دراصل اس بات کی عملی تفسیر تھا کہ اسلام کی سیاست جبر اور طاقت کے ذریعے نہیں بلکہ انصاف، مساوات اور رواداری کے اصولوں پر قائم ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا: "تم میں سب سے زیادہ اللّٰہ کے نزدیک محبوب وہ حاکم ہے جو رعایا کے لیے سب سے زیادہ نفع بخش ہو۔” آپﷺ کی قیادت نے دنیا کو یہ اصول دیا کہ حقیقی لیڈر وہ ہے جو خود کو رعایا کا خادم سمجھے، طاقت کے نشے میں مست نہ ہو، بلکہ عدل و شفقت سے لوگوں کے دل جیتے۔
6. جہاد و صبر میں اسوہ
جہاد اور صبر کا پہلو بھی سیرتِ نبویﷺ کا ایک لازوال درس ہے۔ آپﷺ نے ظلم و جبر کے مقابلے میں ہمیشہ استقامت اور اصولی جدوجہد کو اختیار کیا۔ مکّہ مکرّمہ میں تیرہ سال تک آپﷺ اور آپ کے ساتھیوں نے بدترین مظالم برداشت کیے کبھی شعبِ ابی طالب کے بائیکاٹ میں بھوک و پیاس کا سامنا کیا، کبھی طائف کے گلی کوچوں میں پتھر کھائے، لیکن اس سب کے باوجود آپﷺ نے انتقام اور ردعمل کے بجائے صبر و دعا کا راستہ اختیار کیا۔
مدینۂ منورہ میں جب ریاست قائم ہوئی اور ہاتھ میں طاقت آئی تو بھی آپﷺ نے بدلے کے بجائے رحمت و معافی کو ترجیح دی۔ جنگوں میں آپﷺ نے بارہا حکم دیا کہ عورتوں، بچّوں، ضعیفوں اور بے گناہوں کو نقصان نہ پہنچایا جائے، درختوں کو نہ کاٹا جائے اور عبادت گاہوں کو نہ گرانا جائے۔ یہ تعلیمات بتاتی ہیں کہ اسلام میں جہاد کبھی ظلم یا جبر کا نام نہیں بلکہ حق و عدل کے قیام اور مظلوم کی مدد کا نام ہے۔
آپﷺ کی سب سے عظیم مثال فتحِ مکّہ کے دن سامنے آئی، جب وہ شہر جہاں آپ کو ستایا گیا، گھر سے نکالا گیا، اور تیرہ برس تک اذیتیں دی گئیں، اسی شہر کے مجرمین آپ کے سامنے بے بس کھڑے تھے۔ اگر آپ چاہتے تو سب کو عبرت کا نشان بنا دیتے، مگر آپﷺ نے اعلان فرمایا: "آج تم پر کوئی گرفت نہیں، جاؤ تم سب آزاد ہو۔” یہ اعلان دراصل اسوۂ نبویﷺ کی روح ہے جہاں طاقت معافی میں بدل جاتی ہے اور انتقام رحمت میں ڈھل جاتا ہے۔
یوں نبی کریمﷺ نے سیاست کے میدان میں انصاف و رواداری کو اپنا ہتھیار بنایا اور جہاد کے میدان میں صبر و عفو کو اپنی پہچان بنایا۔ یہی وہ تعلیمات ہیں جو آج بھی دنیا کے قائدین، حکمرانوں اور مجاہدین کو یہ پیغام دیتی ہیں کہ کامیابی طاقت کے بے لگام استعمال میں نہیں بلکہ عدل، صبر اور رحمت میں ہے۔
اسوۂ حسنہ کے اثرات
1. جاہلیت سے نور کی طرف سفر: نبی اکرمﷺ کی آمد سے پہلے عرب کا معاشرہ ظلمتوں میں ڈوبا ہوا تھا۔ قبائلی عصبیت، خونریز جنگیں، عورتوں کی بے حرمتی، یتیموں کی محرومی اور غلاموں پر ظلم عام تھا۔ لیکن جب اسوۂ حسنہ کا نور چمکا تو وہی اندھیرا معاشرہ علم و عدل کے اجالے میں نہا گیا۔ قرآن کی تعلیم اور رسولِ رحمتﷺ کی عملی زندگی نے انسان کو یہ باور کرایا کہ حقیقی عزّت و برتری کا معیار نہ قبیلہ ہے نہ نسب، بلکہ تقویٰ اور کردار ہے۔
2. مساوات کا عظیم درس: اسوۂ نبویﷺ نے دنیا کو مساوات کا ایسا سبق دیا جو کسی اور تہذیب میں نہ مل سکا۔ آپﷺ نے اعلان فرمایا: "تمام انسان آدم کی اولاد ہیں، اور آدم مٹی سے پیدا کیے گئے۔” یوں کالے گورے، عربی عجمی، امیر غریب سب ایک صف میں کھڑے ہوگئے۔ بلال حبشیؓ کی اذان کعبہ کی چھت سے بلند ہونا اس انقلاب کی سب سے جیتی جاگتی تصویر ہے، جس نے دنیا کو بتایا کہ اسلام کے پیمانے میں رنگ و نسل کی کوئی حیثیت نہیں۔
3. کمزور طبقات کی عزّت افزائی: رسول اللّٰہﷺ نے اپنی سیرتِ طیبہ کے ذریعے ان طبقات کو عزّت و مقام عطاء کیا جنہیں جاہلی معاشرہ پاؤں تلے روندتا تھا۔ عورت کو وراثت اور عزّت کا حق دیا، یتیم کے مال کی حفاظت کو فرض قرار دیا، غلام کو بھائی بنا کر مساوی مقام دیا۔ آپﷺ نے فرمایا: "جو یتیم کے سر پر شفقت سے ہاتھ پھیرے گا، اس کے ہر بال کے برابر نیکی لکھی جائے گی۔” یہی تعلیمات تھیں جنہوں نے مظلوم و محروم طبقات کے دلوں میں وقار کی نئی شمع روشن کی۔
4. اتحاد و اخوت کی نعمت
اسوۂ حسنہ نے بکھری ہوئی اور متعصب قبائل کو اتحاد و اخوت کی لڑی میں پرو دیا۔ اوس و خزرج، جو نسلوں سے خونریز جنگوں میں الجھے تھے، رسول اللّٰہﷺ کے زیرِ سایہ بھائی بھائی بن گئے۔ مہاجر و انصار کی مواخات تاریخ کا وہ لازوال منظر ہے جس نے دکھایا کہ ایمان کی بنیاد پر اخوت کا رشتہ سب سے مضبوط ہوتا ہے۔
یوں کہا جا سکتا ہے کہ اسوۂ حسنہ نے ایک ایسے معاشرے کی تشکیل کی جس کی بنیاد علم، عدل، مساوات، رحمت اور اخوت پر رکھی گئی۔ یہی اثرات ہیں جنہوں نے صحرا کے بدوؤں کو دنیا کے معلم اور تاریکیوں میں ڈوبی قوموں کے لیے روشنی کا مینار بنا دیا۔
آج کے دور کے لیے پیغام
اگر آج کے حکمران نبی کریمﷺ کو اپنا اسوہ بنائیں تو اقتدار کی کرسی ذاتی مفاد کا ذریعہ نہیں رہے گی بلکہ عدل و انصاف کا مظہر بن جائے گی۔ ریاستیں ظلم و جبر سے پاک اور امن و سکون کا گہوارہ بن سکیں گی۔
اگر تاجر و سرمایہ دار نبی اکرمﷺ کے اصول اپنالیں تو منڈیوں سے جھوٹ اور دھوکہ ختم ہو جائے گا۔ کاروبار عبادت بن جائے گا اور معیشت کا نظام استحصال کے بجائے خیر و برکت کا ضامن ہوگا۔
اگر گھرانے سنّتِ نبویﷺ کو اپنائیں تو خاندانی زندگی محبت، رواداری اور سکون سے مہک اٹھے گی۔ شوہر بیوی کے ساتھ حسنِ سلوک کو عظمت سمجھے گا، والدین بچّوں کی تربیت کو اپنی سب سے بڑی ذمہ داری جانیں گے، اور رشتے عدل و محبت کی بنیاد پر مضبوط ہوں گے۔
اگر نوجوان نبیٔ اکرمﷺ کو اپنا آئیڈیل بنالیں تو ان کی زندگیاں مقصدیت سے بھر جائیں گی۔ وہ فضولیات، بے راہ روی اور خود غرضی سے نکل کر علم، اخلاق اور خدمتِ انسانیت کے پیکر بن جائیں گے۔ نبیﷺ نے نوجوانوں کو ہی مستقبل کی قیادت عطاء کی تھی چنانچہ آج بھی نوجوانی کا جوش اگر اسوۂ نبویﷺ کی روشنی میں ڈھل جائے تو پوری اُمت کے لیے بیداری اور عروج کا سبب بن سکتا ہے۔
یوں کہا جا سکتا ہے کہ موجودہ بحرانوں کا حل نہ کسی ازم میں ہے، نہ کسی فلسفے میں، اور نہ کسی سیاسی نظام میں۔ اصل نجات اسی ابدی پیغام میں ہے کہ زندگی کے ہر گوشے میں رسول اللّٰہﷺ کو اپنا اسوہ بنایا جائے۔ یہی وہ نسخۂ کیمیا ہے جو اندھیروں کو اجالوں میں، ناانصافی کو عدل میں، اور بے سکونی کو اطمینان میں بدل سکتا ہے۔
رسول اکرمﷺ کی حیاتِ طیبہ کو اگر محض ماضی کا ایک باب سمجھا جائے تو یہ ہماری کوتاہ نظری ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ آپﷺ کی سیرت وقت اور مقام کی حدود سے ماورا ایک زندہ ہدایت ہے، جو ہر صدی، ہر نسل اور ہر انسان کے لیے یکساں معنویت رکھتی ہے۔ رسول اللّٰہﷺ کی زندگی محض تاریخی واقعات یا ماضی کی یادگار نہیں، بلکہ ایک ایسا جیتا جاگتا آئینہ ہے جس میں ہر انسان اپنی منزل دیکھ سکتا ہے۔ آپﷺ کی سیرت اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہے کہ زندگی کے ہر شعبے میں خواہ وہ عبادت ہو یا معیشت، اخلاق ہو یا سیاست، معاشرت ہو یا قیادت کامیابی اور سکون اسی وقت نصیب ہوتا ہے جب قدم قدم پر آپﷺ کی پیروی کی جائے۔
اسوۂ حسنہ ہمیں یہ بتاتا ہے کہ اگر ہم اپنی انفرادی زندگی کو آپﷺ کے سانچے میں ڈھالیں تو ہمارا دل بندگی کی لذت سے منور ہو جاتا ہے، ہمارے اخلاق نکھر جاتے ہیں اور ہمارے کردار میں وہ صداقت اور امانت پیدا ہو جاتی ہے جو انسان کو دوسروں کے لیے باعثِ اعتماد بناتی ہے۔ اسی طرح اگر ہم اپنی اجتماعی زندگی کو آپﷺ کے اصولوں پر استوار کریں تو معاشرے میں عدل و انصاف کا بول بالا ہوگا، معاشی میدان میں برکت اور خوشحالی آئے گی، سیاست میں دیانت اور شفافیت قائم ہوگی، اور خاندان محبت و سکون کا گہوارہ بن جائے گا۔
رسول اکرمﷺ کا نقشِ قدم ہی وہ واحد راستہ ہے جو انسان کو بندگی کے فخر سے معراج کی رفعت تک پہنچاتا ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو غلامی کی ذلت سے نکال کر آزادی کی عزّت بخشتا ہے، ظلمتوں کے اندھیروں سے نکال کر نورِ ایمان میں لے آتا ہے، اور دنیا کی عارضی زندگی سے نکال کر جنّت کی ابدی سعادت تک پہنچا دیتا ہے۔ یوں کہا جا سکتا ہے کہ نبی اکرمﷺ کی سیرت ایک ایسا آفاقی منشورِ حیات ہے جسے اختیار کر کے انسان نہ صرف اپنی دنیا سنوار سکتا ہے بلکہ اپنی آخرت کو بھی کامیابی اور سعادت سے ہمکنار کر سکتا ہے۔ یہی وہ پیغام ہے جو آج بھی دلوں کو زندہ کرتا ہے، اور کل تک قیامت تک انسانیت کو نور اور ہدایت عطاء کرتا رہے گا۔
Comments are closed.