سمیع الحق فاروقی صاحب کی وفات کا سانحہ

 

**************

بدر الحسن القاسمی

کویت

 

کویت ریڈیو کی اردو سروس کے سابق اناونسر سمیع الحق فاروقی صاحب بروز جمعہ 13 ربیع الاول 1447ھ مطابق 5 ستمبر 2025 ء

کو اس دار فانی سے رخصت ہوکر رب کائنات کی آغوش رحمت میں پہنچ گئے انا للہ وانا الیہ راجعون

سمیع الحق فاروقی صاحب ایک تاریخ تھے اور میرا ان سے تعارف اور باہمی احترام کا تعلق غالبا 1984 ء سے قائم تھا

کویت ریڈیو کی بلڈنگ میں فلسطینی پروگرامر عرفات العشی نے ہم دونوں کا تعارف کرایا تھا

اچانک ہونے والی فاروقی صاحب سے یہ مختصر سی ملاقات طویل تعاون کی بنیاد بن گئی اور کویت ریڈیو کی اردو سروس کیلئے ” اسلام اور دور حاضر ” پھر” دین ودانش ” اور ایک دوسرا مختصر پروگرام ” آئیے عربی زبان سیکھیں ” کے عنوان سے میں لکھتا رہا

میرے ان پرو گراموں کا یہ سلسلہ کئی سالوں تک جاری رہا

فاروقی صاحب کی ذات میں کئی خوبیاں اور خصوصیات تھیں انکی زبان شگفتہ لہجہ پرشکوہ اور آواز صاف بلند اور اناونسری کے تقاضوں سے ہم آہنگ تھی

اردو سروس کے پروگرام کا آغازایک زمانہ تک قرآن وحدیث کے پیغام کی شکل میں انہیں کی آواز میں ہوتا رہا

فاروقی صاحب میں غیرت و حمیت تھی اور تعلقات کی پاسداری کا جذبہ بھی تھا اور جس ملک میں انہوں نے زندگی کا بڑا حصہ گزارا اس سے محبت اور اسکی طرف سے دفاع کا جذبہ بھی تھا

سخت آزمائش کا مرحلہ اس وقت پیش آیا جب صدام حسین نے اپنے پڑوسی ملک کویت پر شبخوں مارا اور چند گھنٹو ں میں اس پر قابض ہوکر بیٹھ گیا اور لوٹ مار کی ایسی روایت قائم کی جس پر چنگیز اور ہلاکو کی روح کو بھی شرم آئے

صرف ایک ہفتہ کے اندر کوآپریٹو سوسائیٹیاں تک خالی ہوگئیں اور ایک ہرے بھرے ملک میں بچوں کے استعمال کا دودھ ملنا بھی مشکل ہوگیا اور بالآخر اسکی یہی حرکت خود اسکی اور دوسرے ملکوں کی تباہی کا ذریعہ بن گئی

عراقی فوج کے قبضہ کے وقت فاروقی صاحب بھی یہیں تھے اور میں بھی کویت ہی میں تھا

میں تو دو مہینے کی تباہکاریوں کا مشاہدہ کر نے کے بعد کویت سے نکل کر ہندوستان آگیا اور جناب فاروقی صاحب ظالم کا انجام اپنی انکھوں سے دیکھنے کیلئے انتہائی خوفناک ماحول میں کویت میں ہی رہے

ہوائی سروس بند تھی اور اردن کے را ستہ سےنکلنا طویل پرخطر اور نہایت صبر آزما تھا

غالباگجرال صاحب کی عنایت سے کچھ بوہری فیملیوں کو نکالنے کیلئے انڈین ایر فورس کے ایک چھوٹے سےمال بردار جہاز کے انتظام کا علم ہوا تو فیملی کے ساتھ ہمارے لئے بھی فاروقی صاحب کی کوششوں سے اس میں گنجائش نکل آئی

اور ہم بصرہ ایرپورٹ سے اڑکر بحمد اللہ حفاظت کے ساتھ چھ گھنٹوں میں بمبئی پہنچ گئے اور جہاز میں بیٹھنے کی جگہ نہ ہونے کے باوجود ہم ان الجھنوں اور

پریشا نیوں سے محفوظ رہے جو بسوں کے ذریعہ عراق ہو کر اردن جانے میں تھیں

اور پھر سات ماہ کے عراقی قبضہ سے کویت کی آزادی کے بعد دوبارہ واپسی ہوئی تو اس وقت پٹرول کے کنووں میں صدام کی لگائی ہوئی بھیانک آگ عجیب ہولناک منظر پیش کر رہی تھی اور ساری فضا دھووں کے لپیٹ میں تھی دن میں ہی رات کا منظر آنکھوں کے سامنے ہواکرتا تھا

میں تو وزات اوقاف سے وابستہ تھا اور وہ ریڈیو کے ملازم اور وزارت اعلام سے وابستہ تھے

شام کے وقفہ میں عربی سے اردو میں روزانہ خبروں کا نشریہ تیار کرنے کیلئے جایا کرتا تھا یا اپنے لکھےہوئے پروگراموں کی ریکارڈنگ کیلئے

باہم یہ اشتراک عمل کئی سال جاری رہا

میں تو بہت پہلے ہی ریڈیو کے کام سے علاحدہ ہو چکا تھا

فاروقی صاحب بھی علاحدہ ہوئے لیکن فیملی کے ساتھ کویت ہی میں مقیم رہے

اہلیہ کے انتقال کے بعد ادھر چند سالوں سے اپنے وطن میں اپنی جائیداد اور اپنے مکان وغیرہ کی دیکھ بھال کی طرف متوجہ ہوئے تھے لیکن کویت آمد ورفت کاسلسلہ بھی جاری رہا بہو کے انتقال کے بعد بیٹے اسامہ کو بھی اسکے چھوٹے بچوں کے ساتھ ہندوستان لے جانا پڑا البتہ تینوں بیٹیاں کویت میں ہیں جو شادی شدہ اور خوش سلیقہ ہیں اسلئے کویت میں انکے لئے راحت کے اسباب مہیا رہے.

جب بھی آتے ٹیلیفون ضرور کرتے تھے بلکہ ہندوستان سے بھی ٹیلیفون پر رابطہ برقرار رکھتے مضمون بھیجنے کا تقاضا کرتے تھے.

عمر کے ساتھ انکی صحت بھی گرتی رہی لیکن تیمار داروں کو مایوسی کا احساس اس وقت ہوا جب وہ چند ہفتے پہلے وینٹی لیٹر پر چلے گئے اوریہ واضح ہوگیا کہ اب :

دل کا جانا ٹھہر چکا ہے صبح گیا یا شام گیا

پھر وہ وقت موعود بھی آپہنچا جس سے کسی انسان کو مفر نہیں ہے اور جو ہر زندگی کاقافیہ اور لازمی ضمیمہ ہے چنانچہ 13 ربیع الاول 1447ھ کو عین جمعہ کی اذان کے وقت انکی روح پرواز کر گئی اور وہ دوسری دنیا میں پہنچ گئے.

انسانی زندگی کے تمام منصوبے تو یہیں رہ جاتے ہیں اورآدمی متعین وقت پر یہاں سے رخت سفر باندھنے پر مجبور ہوجاتا ہے

فاروقی صاحب اب اس دنیا میں نہیں رہے

اب انکےاقا رب واحباب کو برزخ اور آخرت کی زندگی میں انکے لئے راحت کی دعا کرنی چاہیے کہ اللہ تعالی انکی مغفرت کرے اور لغزشوں سے در گذر فرمائے اورانہیں خلد آشیاں اور جنت نشاں بنائے کیوں کہ یہی اصل سعادت اور کامیابی ہے

(فمن زحزح عن النا وادخل الجنة فقد فاز)

Comments are closed.