فساد فی الارض کا مفہوم

 

محمد قمر الزماں ندوی……

مدرسہ نور الاسلام موئی کلاں کنڈہ پرتاپگڑھ 9506600725

 

قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے "وَلَا تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ بَعْدَ إِصْلَاحِهَا” (سورہ اعراف: 56) قرآن مجید انسانیت کو ایک جامع ہدایت دیتا ہے کہ زمین میں اصلاح کے بعد فساد نہ پھیلاؤ۔ یہاں "فساد” کا مفہوم مادی و روحانی دونوں پہلوؤں پر محیط ہے۔

 

مادی فساد:

ظلم، قتل و غارت، چوری، دھوکہ دہی

ماحولیات کی تباہی: درختوں کی بے دریغ کٹائی، آلودگی

معاشی ناہمواری، کرپشن، ناانصافی

وسائل کا غیر منصفانہ استعمال ہے۔

 

روحانی فساد:

 

شرک، بدعت، کفر و نفاق

اخلاقی گراوٹ: جھوٹ، غیبت، فحاشی

دینی احکام سے انحراف، گمراہی پھیلانا

خدا کے نظام کی جگہ انسانی خواہشات کو معیار بنانا ہے۔

"بعد اصلاحھا” کا مطلب:

اللہ تعالیٰ نے زمین کو ایک متوازن نظام کے تحت درست مناسب اور متوازن حالت میں پیدا کیا، انبیاء کے ذریعے ہدایت بھیجی، اخلاق و عدل کے اصول دیے۔ اب اس درست نظام کو بگاڑنا فساد کہلاتا ہے۔

غرض زمین میں فساد کا مطلب ہے اللہ کے قائم کردہ اخلاقی، فطری، اور معاشرتی نظام کو بگاڑنا، اور اصلاح کے بعد پھر سے بگاڑ پیدا کرنا۔ یہ فساد صرف جسمانی یا ظاہری نہیں، بلکہ دلوں، نظریات، اور اعمال میں بھی ہوتا ہے۔

لہذا قرآن مجید کی یہ واضح ہدایت انسانیت کے لیے ایک ہمہ گیر ضابطہ اور مشعل راہ ہے، جو دنیا میں عدل ،امن، اور روحانی طہارت کے قیام پر زور دیتی ہے ۔

آج کی مجلس میں ہم اس آیت میں ذکر لفظ فساد کے وسیع مفہوم کو مفسرین کے ذکر کردہ تشریح کی روشنی میں کریں گے ،تاکہ اس آیت کا مالہ و ما علیہ واضح ہو جائے ۔

 

اصلاح کا ایک روحانی پہلو ہے اور دوسرا مادی ، روحانی پہلو یہ ہے کہ اللہ نے اپنی کتاب اور شریعت نازل فرماکر صالح زندگی کا ایک پورا نظام عنایت فرمادیا ہے ، گناہ ، بے حیائی اور ظلم و زیادتی کا ارتکاب کرنا اس صلاح کو فساد اور بناؤ کو بگاڑ سے بدل دینا ہے ، مادی پہلو یہ ہے کہ زمین اور اس کی فضا کو انسان کی زندگی ، اس کی صحت اور اس کی غذا کے لئے نہایت موزوں اور موافق بنایا گیا ہے ، زمین میں آلودگی پھیلا کر اس کو صحت کے لئے نقصاندہ اور زندگی کے لئے مہلک نہ بنا دیا جائے اور ماحولیات کا تحفظ کیا جائے ۔

(مستفاد مختصر تفسیر قرآن از مولانا خالد سیف اللہ صاحب رحمانی)

 

تفسیرِ ماجدی میں

مفسر عبد الماجد دریابادی رح لکھتے ہیں:

”ولا تفسدوا فی الارض بعد اصلاحھا“۔ کائنات کی اصلاح و درستی قانون اسلام کے قبول کرنے اور اس پر عمل کرنے ہی سے ہوتی ہے اور اس مکمل دستور العمل سے انکار ہی پہلے فساد عقائد اور پھر فساد اعمال، فساد، اخلاق، جرائم ومعاصی، قتل و خونریزی ہر قسم کے فسادات کا باعث ہوتا ہے۔

اللہ کی فرمانبرداری اور دین الہی کی دعوت کے بعد گناہ اور غیر اللہ کی عبادت مت کرو اور اللہ تعالیٰ سے اور اس کے عذاب سے ڈرتے رہو اور جنت کے امیدوار ہو، اس کی عبادت کرو، اللہ تعالیٰ جنت میں ایسے مومنوں سے جو قول وعمل کے اعتبار سے محسن ہوں قریب ہے۔(مستفاد تفسیر ابن عباس رض)

 

تفسیرِ جلالین میں اس آیت کی تفسیر یوں کی گئی ہے :

 

ولا تفسدوا فی الارض (الآیۃ) ممانعت کا مطلب ہے فساد فی الارض سے ممانعت۔ انسان کا خدا کی بندگی سے نکل کر اپنے نفس کی یا دوسروں کی بندگی اختیار کرنا اور خدا کی ہدایت کو چھوڑ کر اپنی معاشرت تمدن و اخلاق کو ایسے اصول و قوانین پر قائم کرنا جو خدا کے سوا کسی اور کی رہنمائی سے ماخوذ ہوں، یہی وہ بنیادی فساد ہے جس سے زمین کے نظام میں خرابی کی بیشمار صورتیں رونما ہوتی ہیں اور اسی فساد کو روکنا قرآن کا مقصد ہے، قانون اسلام کو قبول کرنے اور اس پر عمل کرنے ہی سے عالم (دنیا) کی اصلاح ہوتی ہے اور مکمل دستور العمل سے انکار و انحراف ہی سے پہلے فساد عقائد اور فساد اعمال و اخلاق پیدا ہوتے ہیں ،جو جرائم، معاصی، قتل و غارتگری غرضیکہ ہر قسم کے فساد کا باعث ہے، جس کی وجہ سے عالم میں فساد برپا ہوتا ہے۔

 

تدبرِ قرآن میں مولانا امین احسن اصلاحی رح لکھتے ہیں:

یعنی اپنے رب اسے انحراف اختیار کر کے اس زمین میں فساد برپا نہ کرو۔ قرآن میں مختلف پہلوؤں سے یہ حقیقت واضح کی گئی ہے کہ اگر آسمان و زمین میں اللہ کے سوا کچھ اور الٰہ ہوتے تو یہ درہم برہم ہو کر رہ جاتے، یہ تو قائم ہی اس بنا پر ہیں کہ ان کے اندر اللہ کے ارادے کے سوا کسی اور ارادے کی کار فرمائی نہیں ہے۔ اس تکوینی توحید کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ بندے اپنے دائرہ اختیار میں بھی صرف اسی اللہ وحدہ لا شریک لہ کی عبادت و اطاعت کریں، کسی اور کو اس عبادت و اطاعت میں شریک نہ بنائیں ورنہ اس زمین کا سارا نظام عدل و شریعت درہم برہم ہو کر رہ جائے گا۔ اس کائنات کے قیام و بقا کے لیے جس طرح تکوینی توحید ناگزیر ہے اسی طرح اس زمین کے امن و عدل کے لیے خدا کی تشریعی توحید بھی لازمی ہے۔ خدا کے ملک میں کسی اور کو الہ و معبود بنانا اس کے ملک میں فساد و بغاوت برپا کرنا ہے، جس سے بڑا کوئی اور جرم نہیں۔

لا تفسدوا کے ساتھ بعد اصلاحہا کی قید اس فعل کی شناعت کے اظہار کے لیے ہے۔ یعنی ملک میں فساد پیدا کرنا بجائے خود سب سے بڑا جرم ہے، لیکن یہ جرم سنگین سے سنگین تر ہو جاتا ہے، جب یہ اصلاح کے بعد واقع ہو اس لیے کہ یہ بگڑی ہوئی چیز کو بگاڑنا نہیں بلکہ بنی ہوئی چیز کو بگاڑنا ہوا۔

کائنات کے صلاح و فساد کی بنیاد : یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ خالق کائنات نے جب اس دنیا کو بنایا تو اس کو بنا کر یوں ہی انتشار اور بد امنی کے حال میں چھور نہیں دیا، بلکہ آدم اور ان کی ذریت کو اس دنیا میں بھیجنے سے پہلے ہی ان سے توحید یعنی اپنی ہی عبادت اور اپنی ہی اطاعت کا اقرار لیا۔ اس کا ذکر اسی سورة کی آیات 172، 173 میں آگے آرہا ہے۔ پھر ذریت و نسل آدم سے، جیسا کہ آیت 35، 36 میں گزرا، یہ وعدہ فرمایا کہ تمہاری ہدایت کے لیے میں اپنے رسول بھیجوں گا، تم ان کی پیروی کرنا، جو ان کی پیروی کریں گے وہ فلاح پائیں گے، جو تکبر کرکے ان سے اعراض کریں گے، وہ ہلاک ہوں گے۔ پھر اپنے اس وعدے کے بموجب اللہ تعالیٰ نے برابر اپنے رسول بھیجے، جن کی تفصیل آگے آیت 59 سے 92 تک آرہی ہے۔ ان رسولوں کی سرگزشت میں، جیسا کہ آیت 69، 74، 85، 100، 102 سے واضح ہوگا، یہ دکھایا ہے کہ اولاد آدم کے مختلف گروہوں نے جب جب اللہ کی صراط مستقیم سے ہٹ کر اس دنیا میں فساد برپا کیا ہے، خدا نے اپنے رسولوں کے ذریعہ سے ان کو انذار کیا ہے اور جب انہوں نے اس انذار کی پروا نہیں کی ہے، تو خدا نے ان کی جڑ کاٹ دی ہے اور ان کی خلافت دوسروں کو سونپی ہے کہ دیکھے وہ اس خلافت کا حق کس طرح ادا کرتے ہیں۔

اس طرح یہ دنیا بار بار شیطان اور اس کی ذریات کی کوششوں سے بگڑی ہے اور بار بار انبیاء و مصلحین کے ذریعہ سے اس کی اصلاح ہوئی ہے۔ اس پہلو سے معاملہ پر غور کیجیے تو معلوم ہوگا کہ اس دنیا میں جس قوم کو بھی اپنے پچھلوں کی خلافت ملی ہے ایک فساد کو مٹا کر اس کی اصلاح کی شکل میں ملی ہے اور اگر خلافت پانے والی قوم نے خلافت پا کر اس میں فساد برپا کیا ہے تو یہ اس نے ایک بگڑی ہوئی چیز کو نہیں بگاڑا ہے، بلکہ ایک بنی ہوئی چیز کو بگاڑا ہے اور یہ چیز اس کے جرم کو سنگین سے سنگین تو بنا دیتی ہے۔

اجتماعی مصلحین کا ایک مغالطہ : جہاں تک رسولوں کا تعلق ہے ان کے اور ان کی امتوں کے باب میں مذکورہ بالا اصول بالکل اٹل ہے، ان کے ذریعہ سے حق سورج کی طرح چمکتا ہوا نمایاں ہوتا ہے اس وجہ سے ان کے ہاتھوں جو نظام مٹتا ہے وہ باطل ہوتا ہے، جو قائم ہوتا ہے وہ حق ہوتا ہے۔ آنحضرت ﷺ کے بعد رسالت کا سلسلہ ختم ہوگیا لیکن اس کے یہ معنی نہیں ہیں کہ آج قوموں کے عروج وزوال کے معاملے میں قدرت کا قانون بدل گیا۔ آج بھی اگر کوئی قوم مٹتی ہے تو اتفاق سے نہیں مٹتی اور اگر کوئی قوم عروج پر آتی ہے تو اتفاق سے نہیں آجاتی بلکہ ایک کے زوال اور دوسرے کے عروج میں اصلاً اخلاقی عوامل ہی کام کرتے ہیں لیکن کسی قوم کا چند زندگی بخش عوامل اخلاق کے سہارے عروج پر آجانا ایک اور چیز ہے اور کسی نظام کا حق ہونا ایک دوسری چیز کسی قوم کا عروج اس بات کی دلیل تو ضرور ہے کہ اس کے اندر مغلوب و مفتوح قوم کے مقابل میں زندگی بخش عوامل اخلاقی زیادہ ہیں لیکن یہ اس بات کی دلیل نہیں ہوسکتا کہ یہ قوم اور اس کا نظام سو فی صد حق ہے۔ ہمارے بہت سے اجتماعی مصلحین کو یہ اصول سمجھنے میں سخت مغالطہ پیش آیا ہے جس کے سبب سے وہ افراط وتفریط میں مبتلا ہوگئے۔ جو لوگ قومی تعصب میں مبتلا رہے، انہوں نے ہمیشہ غالب قوم کے غلبہ کو اس کی چیرہ دستی پر محمول کیا، وہ اپنے تعصب کے سبب سے نہ تو اس اخلاقی برتری کو دیکھ سکے جو غالب قوم کے اندر موجود تھی اور نہ اس اخلاقی ضعف پر ان کی نظر پڑی جو ان کے اپنے اندر پایا جاتا تھا۔ اسی طرح جو لوگ مرعوب ذہن کے تھے انہوں نے ہر غالب کے غلبہ کو اس کے بر حق ہونے کی دلیل سمجھا اور اس کے ہاتھوں جو فساد و باطل بھی دنیا میں برپا ہوگیا، اسی کو نظام حق سمجھ کر اس کے گن گانے لگے۔ اس افراط وتفریط کا اثر قوموں کی تاریخ پر یہ پڑا کہ وہ بالکل غلط طریقہ پر مرتب ہوگئی جس سے صحیح نتائج نکالنا اور ان سے اجتماعی اصلاح میں فائدہ اٹھانا ناممکن ہوگیا۔ یہاں ہم اس اشارے پر کفایت کرتے ہیں۔ انشاء اللہ سورة روم کی تفسیر میں ہم اس پر شرح و بسط سے بحث کریں گے۔

امید اور بیم دونوں میں مرجع خدا ہی ہے۔

 

تفہیم القرآن میں اس آیت کی تشریح یوں کی گئی ہے ۔

 

زمین میں فساد برپا نہ کرو، یعنی زمین کے انتظام کو خراب نہ کرو۔ انسان کا خدا کی بندگی سے نکل کر اپنے نفس کی یا دوسروں کی بندگی اختیار کرنا اور خدا کی ہدایت کو چھوڑ کر اپنے اخلاق، معاشرت اور تمدن کو ایسے اصول و قوانین پر قائم کرنا جو خدا کے سوا کسی اور کی رہنمائی سے ماخوذ ہوں، یہی وہ بنیادی فساد ہے جس سے زمین کے انتظام میں خرابی کے بیشمار صورتیں رونما ہوتی ہیں اور اسی فساد کو روکنا قرآن کا مقصود ہے۔ پھر قرآن اس حقیقت پر بھی متنبہ کرتا ہے کہ زمین کے انتظام میں اصل چیز فساد نہیں ہے، جس پر صلاح عارض ہوئی ہو بلکہ اصل چیز صلاح ہے ،جس پر فساد محض انسان کی جہالت اور سرکشی سے عارض ہوتا رہا ہے۔ بالفاظ دیگر یہاں انسان کی زندگی کی ابتدا جہالت و وحشت اور شرک و بغاوت اور اخلاقی بدنظمی سے نہیں ہوئی ہے ،جس کو دور کرنے کے لیے بعد میں بتدریج اصلاح کی گئی ہوں، بلکہ فی الحقیقت انسانی زندگی کا آغاز صلاح سے ہوا ہے اور بعد میں اس درست نظام کو غلط کار انسان اپنی حماقتوں اور شرارتوں سے خراب کرتے رہے ہیں۔ اسی فساد کو مٹانے اور نظام حیات کو از سرنو درست کر دینے کے لیے اللہ تعالیٰ وقتاً فوقتاً اپنے پیغمبر بھیجتا رہا ہے اور انہوں نے ہر زمانے میں انسان کو یہی دعوت دی ہے کہ زمین کا انتظام جس صلاح پر قائم کیا گیا تھا اس میں فساد برپا کرنے سے باز آؤ۔ اس معاملہ میں قرآن کا نقطہء نظر ان لوگوں کے نقطہء نظر سے بالکل مختلف ہے جنہوں نے ارتقاء کا ایک غلط تصور لے کر یہ نظریہ قائم کیا ہے کہ انسان ظلمت سے نکل کر بتدریج روشنی میں آیا ہے اور اس کی زندگی بگاڑ سے شروع ہو کر رفتہ رفتہ بنی اور بنتی جارہی ہے۔ اس کے برعکس قرآن کہتا ہے کہ خدا نے انسان کو پوری روشنی میں زمین پر بسایا تھا اور ایک صالح نظام سے اس کی زندگی کی ابتدا کی تھی۔ پھر انسان خود شیطانی رہنمائی قبول کرکے بار بار تاریکی میں جاتا رہا اور اس صالح نظام کو بگاڑتا رہا اور خدا بار بار اپنے پیغمبر کو اس غرض کے لیے بھیجتا رہا کہ اسے تاریکی سے روشنی کی طرف آنے اور فساد سے باز رہنے کی دعوت دیں۔ (سورة براۃ، 230)

سورة الْاَعْرَاف 45

اس فقرے سے واضح ہوگیا کہ اوپر کے فقرے میں جس چیز کو فساد سے تعبیر کیا گیا ہے وہ دراصل یہی ہے کہ انسان خدا کے بجائے کسی اور کو اپنا ولی و سرپرست اور کار ساز اور کار فرما قرار دے کر مدد کے لیے پکارے۔ اور اصلاح اس کے سوا کسی دوسری چیز کا نام نہیں ہے کہ انسان کی اس پکار کا مرجع پھر سے محض اللہ کی ذات ہی ہو جائے۔

Comments are closed.