مرکزعلم ودانش علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی تعلیمی وثقافتی سرگرمیوں کی اہم خبریں

 

بین الاقوامی یومِ خواندگی پر اے ایم یو کے مرکز تعلیم بالغاں میں منعقدہ پروگرام میں ڈیجیٹل خواندگی کو فروغ دینے پر زور

 

علی گڑھ، 8 ستمبر: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے سینٹر آف کنٹینیونگ اینڈ ایڈلٹ ایجوکیشن اینڈ ایکسٹینشن (مرکز تعلیم بالغاں) نے بین الاقوامی یومِ خواندگی کے موقع پر ایک خصوصی پروگرام منعقد کیا۔

 

اس سال کے عالمی تھیم ”ڈیجیٹل دور میں خواندگی کا فروغ“ کے تناظر میں مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ آج کی دنیا میں صرف روایتی پڑھنے لکھنے کی مہارت کافی نہیں، بلکہ ڈیجیٹل مہارتیں سیکھنا ضروری ہے تاکہ معلومات تک بھرپور رسائی حاصل ہو، ان کا تجزیہ کر سکیں، کچھ نیا تخلیق کر سکیں اور ذمہ داری کے ساتھ معلومات کو دوسروں تک پہنچا سکیں۔

 

پروگرام کے مہمانِ خصوصی اے ایم یو کے سابق وائس چانسلر پروفیسر محمد گلریز نے اپنے کلیدی خطاب میں قومی تعلیمی پالیسی کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ آج کی خواندگی صرف قلم اور کاغذ تک محدود نہیں، بلکہ اس میں ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ساتھ مؤثر روابط بھی شامل ہیں۔ اداروں کو ڈیجیٹل خلا کو پُر کرنے اور شمولیتی تعلیم کے وسیع مواقع پیدا کرنے میں رہنما کردار ادا کرنا ہوگا۔

 

مہمانِ اعزازی، اے ایم یو کے پرو وائس چانسلر پروفیسر محمد محسن خان نے کہا کہ ڈیجیٹل خواندگی آج کے نوجوانوں کے لیے مواقع کے دروازے کھولنے والی کنجی ہے۔ روایتی اور جدید ڈیجیٹل تعلیمی ذرائع کا امتزاج ایک ترقی پسند، علم پر مبنی معاشرے کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرے گا۔

 

علی گڑھ کے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج مسٹر نول کشور سنگھ نے اپنی رائے پیش کرتے ہوئے کہا کہ ڈیجیٹل خواندگی شہریوں کو باخبر فیصلے لینے کے قابل بناتی ہے۔ یونیورسٹیوں، خاص طور پر اے ایم یو جیسے اداروں کو چاہیے کہ وہ اس مشن کی قیادت کریں تاکہ علم پر مبنی قوم کی تعمیر ہو سکے۔

 

سنٹر کے ڈائرکٹر ڈاکٹر شمیم اخترنے سنٹر کی خواندگی مہمات، کمیونٹی آؤٹ ریچ پروگرام اور پسماندہ طبقات کو روایتی اور ڈیجیٹل تعلیم کے ذریعے بااختیار بنانے کی کوششوں پر روشنی ڈالی۔

 

پروگرام میں طلبہ نے تقریریں کیں اور سماجی بیداری پر مبنی ڈرامے بھی پیش کیے گئے جن میں خواندگی کی اہمیت، جہیز جیسے مسائل اور تعلیم کی انقلابی طاقت کو اجاگر کیا گیا۔ نمایاں کارکردگی دکھانے والے طلبہ کو مہمانوں کے بدست اسناد پیش کی گئیں۔

 

پروگرام کی نظامت ڈاکٹر ایوب شباب نے کی۔

 

٭٭٭٭٭٭

 

اے ایم یو میں یومِ اساتذہ کی تقاریب منعقد

 

علی گڑھ، 8 ستمبر: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) میں یومِ اساتذہ کی تقاریب جوش و جذبہ کے ساتھ منعقد کی گئیں۔

 

جے این میڈیکل کالج کے شعبہ کمیونٹی میڈیسن میں ایم ڈی اور ایم پی ایچ کے طلبہ نے اساتذہ کے اعزاز میں ایک خصوصی پروگرام کا اہتمام کیا، جس کا آغاز ایم پی ایچ کے طلبہ اسامہ اور سارہ کے استقبالیہ کلمات سے ہوا۔ جے آر ڈاکٹر عفیفہ شکیب اور دیگر مقررین نے اساتذہ کی رہنمائی اور سرپرستی کو خراج تحسین پیش کیا اور اساتذہ کو طلبہ کی زندگی کے لئے راہنما بتایا۔ حمزہ شمس نے ایک نغمہ پیش کیا جس میں مزاح کا خوشگوار رنگ تھا۔ اس موقع پر شعبہ کی سربراہ پروفیسر عظمیٰ ارم، پروفیسر نجم خلیق، پروفیسر محمد اطہر انصاری، پروفیسر سائرہ مہناز، ڈاکٹر علی جعفر عابدی اور دیگر اساتذہ کو اعزاز سے نوازا گیا۔ آخر میں پروفیسر عظمیٰ ارم نے شکریہ کے کلمات ادا کئے۔

 

اُدھر، اے ایم یو اے بی کے ہائی اسکول (گرلز) کی نویں جماعت کی طالبات نے اپنے درجات کو خوبصورتی سے سجایا اور کئی دلچسپ مقابلوں کا اہتمام کیا، جن میں طلبہ و اساتذہ دونوں نے شرکت کی۔ اہم سرگرمیوں میں رسہ کشی، میوزیکل چیئرز، کون بیلنسنگ اور بُک بیلنسنگ ریس شامل تھے، جن میں طلبہ اور اساتذہ دونوں نے حصہ لیا۔ نویں جماعت (اے 4) نے رسہ کشی کا مقابلہ جیتا۔ اس کے علاوہ دیگر مقابلوں کے فاتحین میں روشن افروز،ڈاکٹر صبا حسن، ڈاکٹر فرحت پروین،افروز احمد، معصوم زہرہ، محمد عمیر، شمشاد نثار، شاہین خان، عائشہ خان، شعیرہ فرحین اور شائستہ ابراہیم شامل تھے۔ اساتذہ کے لیے ایک خصوصی چائے پارٹی کا بھی اہتمام کیا گیا۔

 

وائس پرنسپل ڈاکٹر صبا حسن نے اپنے خطاب میں اساتذہ کی محنت اور لگن کو سراہا، اور پروگرام کے کامیاب انعقاد پر کوآرڈینیٹر ڈاکٹر فرحت پروین اور فاخرہ یاسین، شاہین خان، شمشاد نثار اور ذیشان نواب کی کاوشوں کو سراہا۔

 

٭٭٭٭٭٭

 

جے این ایم سی کے ریزیڈنٹ ڈاکٹر کو قومی کانفرنس میں بیسٹ اورل پرزنٹیشن ایوارڈ سے نوازا گیا

 

علی گڑھ، 8ستمبر:جواہر لعل نہرو میڈیکل کالج (جے این ایم سی)، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ کمیونٹی میڈیسن کے جونیئرریزیڈنٹ ڈاکٹر سید صہیب ہاشمی کو نیوٹری کون 2025 میں بیسٹ اورل پرزنٹیشن کے ایوارڈ سے نوازا گیا ہے۔ یہ کانفرنس انڈین ایسوسی ایشن آف پریوینٹیو اینڈ سوشل میڈیسن (آئی اے پی ایس ایم) یو پی- یوکے چیپٹر اور شاردا یونیورسٹی، گریٹر نوئیڈا کے شعبہ کمیونٹی میڈیسن کے اشتراک سے منعقد کی گئی تھی۔

 

ڈاکٹر ہاشمی نے ایچ آئی وی کیئر میں نیوٹریشن گیپ کے عنوان سے اپنی تحقیق میں شمالی ہند کی صورت حال کا جائزہ لیا۔ یہ تحقیق پروفیسر محمد اطہر انصاری اور ڈاکٹر علی جعفر عابدی کی نگرانی میں مکمل کی گئی۔ ان کی تحقیق کو سائنسی معیار، مؤثر اندازِ پیشکش اور صحتِ عامہ میں ممکنہ مثبت اثرات کے لئے سراہا گیا۔

 

شعبہ کمیونٹی میڈیسن کی چیئرپرسن پروفیسر عظمیٰ ارم، پروفیسر نجم خلیق اور دیگر فیکلٹی اراکین نے ڈاکٹر ہاشمی کو اس دستیابی پر مبارکباد پیش کی۔

 

٭٭٭٭٭٭

 

اے ایم یو کے احمدی اسکول میں قومی ہینڈلوم ڈے تقریب کا اہتمام

 

علی گڑھ، 8 ستمبر: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے احمدی اسکول برائے نابینا طلبہ میں قومی ہینڈلوم ڈے پر ایک تقریب منعقد کی گئی۔

 

مسٹر سہراب علی (پی آر ٹی، ہینڈلوم) نے تعارفی کلمات میں ہینڈلوم کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ یہ نہ صرف ہندوستانی روایات کو زندہ رکھتا ہے بلکہ پائیدار روزگار کے مواقع بھی فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے طلبہ اور عملہ کے اراکین سے حلف لیا کہ وہ ہینڈلوم مصنوعات کا استعمال بڑھائیں گے، اور ان کے فروغ کے لیے کوشاں رہیں گے۔

 

اس موقع پر طلبہ و عملہ کے اراکین کو ہینڈلوم بُنائی کے عمل پر ایک آڈیو-ویژول پرزنٹیشن دکھائی گئی، جس میں روایتی بنکروں کی محنت، لگن، اور فنکاری کو مؤثر انداز میں پیش کیا گیا۔

 

اسکول کی پرنسپل ڈاکٹر نائلہ راشد نے طلبہ کو ہینڈلوم کے ورثے کی قدر کرنے کی ترغیب دی۔ انہوں نے بتایا کہ احمدی اسکول اپنے طلبہ کو ہینڈلوم بُنائی کی تربیت دے رہا ہے تاکہ وہ عملی مہارتیں حاصل کر سکیں، خودکفیل بنیں، اور ملک کی ثقافت سے جڑے رہیں۔

 

٭٭٭٭٭٭

 

اے ایم یو کے فیکلٹی ممبر کی میٹریوویجیلنس اور آئی وی ڈی سیفٹی پر مبنی قومی پروگرام میں شرکت

 

علی گڑھ، 8 ستمبر:علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے فیکلٹی ممبر پروفیسر سید ضیاء الرحمٰن، کوآرڈینیٹر، ریجنل ٹریننگ سینٹر، میٹریوویجیلنس پروگرام آف انڈیا نے انڈین فارماکوپیا کمیشن، غازی آباد میں منعقدہ قومی اسٹیک ہولڈرز کانکلیو برائے میٹریوویجیلنس اور آئی وی ڈی سیفٹی میں اے ایم یو کی نمائندگی کی۔

 

یہ اجلاس انڈین فارماکوپیا کمیشن کے زیرِ اہتمام منعقد ہوا، جس میں ڈبلیو ایچ او، ایس سی ٹی آئی ایم ایس ٹی، این ایچ ایس آر سی، این آئی بی، پی جی آئی ایم ای آر، طبی آلات ساز کمپنیوں اور ماہرین صحت سمیت مختلف اداروں کے نمائندگان نے شرکت کی۔

 

اس موقع پرمنفی اثرات کے رپورٹنگ فارم کا اجرا کیا گیا، جس کا مقصد مریضوں کی حفاظت اور مارکیٹ کے بعد نگرانی کے عمل کو مستحکم کرنا ہے۔

 

پروفیسر ضیاء الرحمٰن نے اسپتالوں کے لیے میڈیکل ڈیوائس سیفٹی مانیٹرنگ اور رپورٹنگ سے متعلق ڈرافٹ گائیڈلائنز پر مبنی ایک پینل مباحثے میں بطور پینلسٹ شرکت کی۔

 

اے ایم یو کی جانب سے مسٹر غفران علی اور ڈاکٹر رشاد احمد خان نے بھی اس پروگرام میں حصہ لیا۔

 

٭٭٭٭٭٭

 

اے ایم یو کی فیکلٹی آف یونانی میڈیسن میں عید میلاد النبی ؐ کی تقریب منعقد

 

علی گڑھ، 8 ستمبر: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کی فیکلٹی آف یونانی میڈیسن میں ”تمام جہانوں کے لیے رحمت“ کے عنوان سے عید میلاد النبیؐ کی روح پرور تقریب منعقد کی گئی جس میں نبی کریم ؐ کے ابدی پیغام پر غور و فکر کیا گیا، جو امن، ہمدردی اور ہم آہنگی کے لیے رہنمائی فراہم کرتا ہے۔

 

پروفیسر قیوم حسین، سابق وائس چانسلر، کلسٹر یونیورسٹی، سری نگرنے بطور مہمانِ خصوصی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ کے صفاتی نام الرحمٰن اور الرحیم تین سو سے زائد بار آئے ہیں جس سے انسانیت کے تئیں رحم و کرم پر اسلام کے پیغام کا زور اجاگر ہوتا ہے۔

 

پروفیسر محمد گلریز،سابق وائس چانسلر، اے ایم یو نے اپنے صدارتی کلمات میں کہاکہ ہمیں اپنی روزمرہ کی زندگی میں نبی کریم ؐ کی رحمت کو اپنانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے نبی کریم ؐ کے ماحولیاتی وژن کی اہمیت پر بھی روشنی ڈالی، جنہوں نے درخت لگانے، پانی کے تحفظ، اسراف سے بچنے اور جانوروں سے شفقت برتنے کی تعلیم دی،جو پائیداری اور ہمدردی کی اسلامی اقدار کا حصہ ہیں۔

 

پروفیسر ایس ایم صفدر اشرف، ڈین، فیکلٹی آف یونانی میڈیسن نے نبی اکرم ؐ کی تعلیمات کی ہمہ گیریت اور دورِ جدید میں ان کی افادیت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ آپؐ کا پیغامِ امن، عدل، مساوات اور ہمدردی آج کے دور میں امید کی ایک کرن ہے۔

 

پروگرام میں معروف مذہبی اسکالر حضرت علامہ عاطف میاں قادری اظہری، سجادہ نشین، خانقاہ بدایوں (یوپی) نے اپنے کلیدی خطاب میں حاضرین کو ایمان مضبوط کرنے اور نبی کریم ؐ کے عالمگیر پیغامِ رحمت کو اپنی زندگیوں میں نافذ کرنے کی تلقین کی۔ انہوں نے کہا کہ صدقہ و خیرات کے ذریعہ غربت کا خاتمہ ممکن ہے، خواتین کے احترام پر مبنی تعلیمات صنفی مساوات کو فروغ دیتی ہیں، دیانت داری پر زور بدعنوانی کے خلاف ایک ہتھیار ہے اور فطرت سے محبت ماحولیاتی ذمہ داری کی بنیاد ہے۔

 

پروفیسر عاصم ظفر، او ایس ڈی (ڈیولپمنٹ) نے بطور مہمان اعزازی خطاب کرتے ہوئے کہاکہ نبی کریمؐ کی تعلیمات کو عملی زندگی میں شامل کرنا ہی اصل کامیابی ہے۔ سید رہبر علی اور محمد فرقان قادری نے نعت پاک پیش کی۔

 

پروفیسر بی ڈی خان، پرنسپل، اجمل خاں طبیہ کالج نے کلمات تشکر ادا کئے۔ پروگرام کی نظامت ڈاکٹر احمد مجتبیٰ صدیقی، صدر، شارٹ ایوننگ کورسز، اے ایم یو نے کی۔آخرمیں درود و سلام پیش کی گئی اور دعا کی گئی۔

 

٭٭٭٭٭٭

 

اے ایم یو کی فیکلٹی آف لاء میں اورینٹیشن پروگرام منعقد

 

علی گڑھ، 8 ستمبر: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کی فیکلٹی آف لاء میں نووارد طلبہ کے لیے اورینٹیشن اور انڈکشن پروگرام منعقد کیا گیا۔

 

پروفیسر محمد محسن خان، پرو وائس چانسلر، اے ایم یو نے بطور مہمانِ خصوصی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قانون کی تعلیم میں پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ ساتھ انسانی ہمدردی اور اخلاقی اقدار بھی یکساں اہمیت رکھتی ہیں۔ انہوں نے طلبہ کو مشورہ دیا کہ وہ تعلیم میں عمدہ کارکردگی کے ساتھ اخلاقی ذمے داری کو بھی اپنی زندگی کا حصہ بنائیں۔

 

جناب محمد عمران آئی پی ایس، رجسٹرار، اے ایم یو نے قانون کے شعبے میں کامیابی کے لیے درکار صفات کا ذکر کیا جن میں علمی رویہ، نظم و ضبط، منطقی تجزیہ، اور مسلسل محنت شامل ہیں۔انہوں نے طلبہ سے کہا کہ آپ کے پیشہ ورانہ مستقبل کی بنیاد آج سے ہی رکھی جا رہی ہے، اس لئے پیشہ ورانہ مزاج اپناکر اعلیٰ کارکردگی کو اپنا ہدف بنائیں۔

 

پروفیسر رفیع الدین، ڈین اسٹوڈنٹس ویلفیئر نے طلبہ کی مجموعی شخصیت سازی کی اہمیت پر زور دیا، اور اے ایم یو میں دستیاب مختلف وظائف و اسکالرشپ اسکیموں کے بارے میں بتایا۔

 

پروفیسر شکیل احمد، ڈین، فیکلٹی آف لاء نے اپنے خطبہ استقبالیہ میں شعبہ قانون کی تاریخی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے یاد دلایا کہ اس کی بنیاد خود بانیئ درسگاہ سر سید احمد خاں نے رکھی تھی۔ انہوں نے کہا کہ اے ایم یو میں قانون کی تعلیم کی ترقی اسی بصیرت افروز آغاز کے مرہون منت ہے۔

 

تقریب میں نئے طلبہ کے لیے مخصوص موضوعاتی سیشن رکھے گئے تھے۔ اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر صائم فاروقی نے ”اعلیٰ تعلیمی اداروں میں ذات پات کی بنیاد پر امتیاز کی روک تھام“اور ”بی اے ایل ایل بی پروگرام کے نصاب“پر گفتگو کی، جب کہ ڈاکٹر محمد ناصر نے ”لاء اسکول میں زندگی“ کے موضوع پر اظہار خیال کیا اور طلبہ کو ان کی تعلیمی زندگی کے بارے میں بتایا۔ ڈاکٹر ایس ایم یاور نے کلماتِ تشکر ادا کیے۔

 

اس موقع پر پروفیسر جاوید طالب، پروفیسر سید علی نواز زیدی، پروفیسر احتشام الدین احمد، پروفیسر رحمت اللہ خان سمیت دیگر اساتذہ اور بی اے ایل ایل بی (آنرز) اور ایل ایل ایم پروگرام کے طلبہ موجود رہے.

Comments are closed.