غزہ میں نسل کشی کے 700 دن ، اسرائیلی جنگی جرائم ناقابل بیان ہوچکے
بصیرت نیوز ڈیسک
غزہ کی پٹی پر قابض اسرائیل کی جانب سے مسلط کی گئی نسل کشی کے 700 دن مکمل ہو چکے ہیں۔ اس موقع پر غزہ کے سرکاری دفتر برائے اطلاعات نے جارحیت کے اعداد و شمار پر مشتمل تازہ رپورٹ جاری کی ہے جس میں اس تباہی کی مکمل جھلک سامنے لائی گئی ہے جو اس محصور علاقے کے ہر گوشے کو اپنی لپیٹ میں لے چکی ہے۔
آبادی اور عمومی حالات
مرکزاطلاعات فلسطین کو موصول ہونے والی اس رپورٹ کے مطابق 2.4 ملین سے زائد انسان پچھلے 700 دنوں سے مسلسل نسل کشی، قحط اور نسلی تطہیر کا شکار ہیں۔
قابض اسرائیل نے غزہ کے قریب 90 فیصد حصے کو مکمل طور پر ملبے میں بدل دیا ہے۔ ابتدائی تخمینوں کے مطابق براہِ راست مالی نقصان 68 ارب ڈالر سے تجاوز کر گیا ہے۔
بمباری اور آتشیں قوت کے وحشیانہ استعمال کے ساتھ اسرائیلی افواج نے غزہ کی 80 فیصد سے زیادہ زمین پر قبضہ جما لیا ہے۔ اس دوران ایک لاکھ پچاس ہزار ٹن سے زائد بارود برسایا گیا جن میں وہ 109 حملے بھی شامل ہیں جو المواصی جیسے علاقوں پر کیے گئے جنہیں اسرائیل نے جھوٹے طور پر ’’محفوظ‘‘ قرار دیا تھا۔
شہداء اور قتل عام
اب تک شہداء اور لاپتہ افراد کی تعداد 73 ہزار 731 تک جا پہنچی ہے۔ ان میں سے 64 ہزار 300 افراد کی لاشیں ہسپتالوں تک پہنچیں جبکہ 9 ہزار 500 اب بھی ملبے تلے دبے یا لاپتہ ہیں۔
شہداء میں 20 ہزار سے زائد معصوم بچے اور 12 ہزار 500 خواتین شامل ہیں۔ ان میں 8 ہزار 990 مائیں اور 22 ہزار 404 باپ تھے۔ ایک ہزار سے زیادہ شیر خوار بچے بھی قتل کیے گئے جن میں سے 450 ایسے تھے جو جنگ کے دوران پیدا ہوئے اور شہید کر دیے گئے۔
1 ہزار 670 طبی عملے کے افراد، 139 سول ڈیفنس اہلکار، 248 صحافی، 173 بلدیاتی کارکن، 780 ریلیف پولیس اہلکار اور 860 کھلاڑی بھی شہید ہوئے۔
قابض اسرائیل نے 39 ہزار فلسطینی خاندانوں کو اجتماعی طور پر نشانہ بنایا۔ ان میں 2 ہزار 700 خاندان مکمل طور پر ختم کر دیے گئے جن میں 8 ہزار 563 افراد شہید ہوئے۔ مزید 6 ہزار 20 خاندان ایسے ہیں جن میں صرف ایک فرد زندہ بچا۔
اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ شہداء میں سے 55 فیصد سے زیادہ بچے، خواتین اور بزرگ تھے۔ 376 افراد بھوک سے جان کی بازی ہار گئے اور 23 امدادی سامان کے فضائی گرنے کے باعث جاں بحق ہوئے۔
زخمی اور گرفتاریاں
زخمیوں کی مجموعی تعداد 1 لاکھ 62 ہزار 5 تک پہنچ گئی ہے۔ ان میں 19 ہزار افراد کو طویل بحالی کی ضرورت ہے۔ 4 ہزار 800 سے زائد افراد کے اعضاء کاٹنے پڑے جن میں 18 فیصد بچے ہیں۔ 1 ہزار 200 افراد فالج کا شکار ہوئے اور 1 ہزار 200 نے بینائی کھو دی۔
قابض اسرائیل نے 6 ہزار 691 شہری گرفتار کیے جن میں 362 طبی عملے کے افراد، 48 صحافی اور 26 سول ڈیفنس کارکن شامل ہیں۔
غزہ میں بیواؤں کی تعداد 21 ہزار 182 اور یتیموں کی تعداد 56 ہزار 320 ہو گئی ہے۔ نقل مکانی اور ابتر حالات کے باعث 21 لاکھ سے زائد افراد مختلف متعدی امراض کا شکار ہیں۔ ان میں 71 ہزار 338 ہیپاٹائٹس کے مریض ہیں۔
صحت کا شعبہ
غزہ کا شعبہ صحت اسرائیلی جارحیت کا سب سے بڑا نشانہ رہا۔ 38 ہسپتال اور 96 ہیلتھ سینٹرز مکمل یا جزوی طور پر تباہ کر دیے گئے۔ 197 ایمبولینس گاڑیاں اور 61 سول ڈیفنس گاڑیاں نشانہ بنائی گئیں۔ مجموعی طور پر 788 بار صحت کے مراکز کو ہدف بنایا گیا۔
تعلیم
غزہ کے 95 فیصد سکولوں کو نقصان پہنچا۔ 90 فیصد سے زیادہ عمارتیں دوبارہ تعمیر یا مرمت کے متقاضی ہیں۔ 662 سکول اور تعلیمی ادارے براہِ راست بمباری کا نشانہ بنے اور 163 مکمل طور پر مٹا دیے گئے۔
13 ہزار 500 سے زیادہ طلبہ شہید ہوئے اور 7 لاکھ 85 ہزار بچے تعلیم سے محروم ہو گئے۔ 830 اساتذہ اور 193 پروفیسر اور محققین بھی شہید ہوئے۔
عبادت گاہیں اور قبرستان
ان سات سو دنوں میں 833 مساجد مکمل طور پر اور 180 جزوی طور پر شہید کر دی گئیں۔ 3 گرجا گھروں کو نشانہ بنایا گیا۔ 40 قبرستانوں کو تباہ کیا گیا اور 2 ہزار 450 لاشیں چرا لی گئیں۔ قابض اسرائیل نے 7 اجتماعی قبریں ہسپتالوں کے اندر قائم کیں۔
مکانات اور نقل مکانی
268 ہزار رہائشی یونٹ مکمل طور پر اور 148 ہزار شدید نقصان کے ساتھ تباہ ہوئے جبکہ 153 ہزار جزوی طور پر متاثر ہوئے۔
20 لاکھ سے زائد افراد کو جبراً بے گھر کر دیا گیا۔ 2 لاکھ 88 ہزار خاندان بے سر و سامانی کا شکار ہیں۔ قابض اسرائیل نے 273 پناہ گاہوں کو بھی نشانہ بنایا۔
قحط اور امداد کی رکاوٹ
اسرائیل نے 186 دن تک غزہ کے تمام بارڈر بند رکھے اور 1 لاکھ 11 ہزار 600 سے زائد امدادی ٹرکوں کو داخلے سے روکا۔
46 لنگر خانے اور 61 تقسیم مراکز پر حملے کیے گئے۔ 67 فلاحی کارکن شہید ہوئے۔
6 لاکھ 50 ہزار سے زائد بچے شدید بھوک کے باعث موت کے دہانے پر ہیں۔ ان میں 40 ہزار شیر خوار شامل ہیں۔
غزہ کو ہر ماہ 2 لاکھ 50 ہزار ڈبے بچوں کے دودھ کی ضرورت ہے جنہیں قابض اسرائیل اندر آنے سے روکتا ہے۔ مزید یہ کہ 22 ہزار مریضوں کو سفر سے روکا جا رہا ہے جن میں 5 ہزار 200 بچے فوری علاج کے منتظر ہیں اور 12 ہزار 500 کینسر کے مریض ہیں۔
بنیادی ڈھانچہ
725 مرکزی کنویں اور 134 صاف پانی کے منصوبے مکمل تباہ کر دیے گئے۔ ہزاروں کلو میٹر پر پھیلی بجلی، پانی اور سیوریج کی لائنیں مٹی کا ڈھیر بنا دی گئیں۔
244 سرکاری ادارے، 292 کھیلوں کی عمارتیں اور 208 تاریخی و ثقافتی مقامات بھی نشانہ بنائے گئے۔
زراعت اور مویشی
رپورٹ کے مطابق زرعی شعبے میں براہ راست نقصان 2.8 ارب ڈالر سے تجاوز کر گیا۔ 94 فیصد زرعی اراضی تباہ ہو چکی ہے۔ سبزیوں کی کاشت 93 ہزار ڈونم سے کم ہو کر صرف 4 ہزار ڈونم رہ گئی ہے۔
85 فیصد سے زیادہ گرین ہاؤسز تباہ ہو گئے۔ سالانہ سبزیوں کی پیداوار 4 لاکھ 5 ہزار ٹن سے گر کر 28 ہزار ٹن رہ گئی۔ 665 کھیت تباہ کر دیے گئے اور ماہی گیری کی صنعت 100 فیصد تباہ ہو گئی۔
غزہ کی پٹی پر جاری نسل کشی کے 700 دنوں نے اس خطے کو مکمل طور پر کھنڈر بنا دیا ہے۔ یہاں کے باسیوں کو بھوک، بیماری اور بمباری کے ذریعے فنا کے دہانے تک پہنچا دیا گیا ہے۔
یہ لرزہ خیز اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ قابض اسرائیل نے زندگی کے کسی بھی شعبے کو نشانہ بنانے سے باز نہیں آیا۔ یہ وہ جرم ہے جو دنیا کی آنکھوں کے سامنے مسلسل دہرایا جا رہا ہے اور عالمی ضمیر اب تک خاموش ہے۔
Comments are closed.