غزہ جنگ کی وجہ سے ایک اور اسرائیلی فوجی نے خودکشی کر لی
بصیرت نیوز ڈیسک
قابض اسرائیل کے ذرائع ابلاغ نے منگل کے روز اطلاع دی ہے کہ اسرائیلی فوج کے ایک ریزرو فوجی کی لاش اس کے گھر سے برآمد ہوئی جو اس نے خود کو گولی مار کر اپنی زندگی کا خاتمہ کرلیا۔ یہ واقعہ مقبوضہ تل ابیب کے جنوب میں صہیونی بستی "رحوفوت” میں پیش آیا۔
اسرائیلی فوجی ریڈیو کے مطابق فوجی نے اپنی زندگی کا خاتمہ اس وقت کیا جب وہ محض چند گھنٹے بعد اس کی شادی کی تقریب میں ہونے والی تھی۔
قابض فوج کے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق یہ واقعہ ان 25 فوجیوں میں ایک نئے اضافے کے طور پر سامنے آیا ہے جنہوں نے رواں برس کے آغاز سے اب تک خودکشی کی۔ صہیونی ماہرین اعتراف کرتے ہیں کہ یہ تشویشناک لہر غزہ پر جاری جارحیت کے آغاز کے ساتھ ہی شدت اختیار کر چکی ہے۔
یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب صرف گذشتہ پیر کے روز صہیونی فوج نے اپنے ہی ایک فوجی کو، جو گولانی بریگیڈ میں خدمات انجام دے رہا تھا، فوجی کیمپ کے اندر مردہ پایا جس نے خودکشی کی تھی۔
اعدادوشمار کے مطابق صرف سنہ2023ء کے آخری تین ماہ میں سات فوجیوں نے خودکشی کی جو براہ راست غزہ پر جنگ کے آغاز سے جڑی ہے۔
سنہ2024ء میں کم از کم 21 فوجیوں نے اپنی جانیں لیں جبکہ رواں برس کے آغاز سے اب تک کم از کم مزید 19 فوجی خودکشی کر چکے ہیں۔
سنہ2023ء کے آغاز سے ستمبر 2025ء کے آغاز تک مجموعی طور پر 57 سے زائد فوجیوں نے خودکشی کی۔ یہ تعداد گذشتہ دس برسوں کے مقابلے میں غیر معمولی اضافہ ہے کیونکہ اس سے قبل ہر سال اوسطاً 13 فوجیوں کی خودکشی ریکارڈ کی جاتی تھی۔
قابض اسرائیلی فوج نے اس سنگین رجحان کو اپنے فوجیوں پر بڑھتے دباؤ اور خاص طور پر ریزرو فوجیوں کی بڑی تعداد کو زبردستی جنگ پر بھیجنے سے جوڑا ہے۔
سرکاری صہیونی اعدادوشمار کے مطابق سنہ2023ء میں 17 فوجی اور سنہ2024ء میں 21 فوجی و افسران نے خودکشی کی، جو سنہ2011ء کے بعد اب تک سب سے زیادہ تعداد ہے۔
Comments are closed.