اسپین نے صہیونی وزراء بن گویر اور سموٹریچ کے داخلے پر پابندی لگا دی

 

بصیرت نیوز ڈیسک

اسپین نےمنگل کے روز اعلان کیا ہے کہ اس نے قابض اسرائیل کی کئی انتہا پسند شخصیات کو اپنی سرزمین میں داخل ہونے سے روک دیا ہے جن میں صہیونی وزراء ایتمار بن گویر اور بزلئیل سموٹریچ بھی شامل ہیں۔ یہ اقدام فلسطینی عوام کے خلاف جاری نسل کشی کے جواب میں اسپین کی حکومت کی طرف سے اقدامات کے سلسلے کا حصہ ہے۔

 

اسپین کے وزیر خارجہ خوسے مانوئیل آلباریس نے کہا کہ غزہ کی صورتحال روز بروز مزید ابتر ہو رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ قابض اسرائیل صرف حماس کے مراکز کو ہی نہیں بلکہ پورے پورے علاقوں کو مٹا رہا ہے تاکہ غزہ میں زندگی ناممکن بنا دی جائے، جو کہ بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

 

انہوں نے کہا کہ ہم نے قابض اسرائیل کے ساتھ اسلحے کی تجارت بند کر دی ہے اور ایک عالمی کوشش کی قیادت کر رہے ہیں تاکہ فلسطینی ریاست کو تسلیم کیا جائے، جس کا باضابطہ اعلان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں چند دنوں کے اندر کیا جائے گا۔

 

آلباریس نے واضح کیا کہ آج حکومت نے فلسطینی عوام کی نسل کشی روکنے کے لیے کئی اقدامات منظور کیے ہیں جن میں غزہ میں انسانی امدادی کوششوں کے لیے 150 ملین یورو کی رقم مختص کرنا شامل ہے۔

 

ان اقدامات میں انروا کے لیے 10 ملین یورو اضافی مدد فراہم کرنا، قابض اسرائیل کے ساتھ اسلحے اور ایندھن کی تجارت روکنا اور اسرائیل کے لیے اسلحہ لے جانے والے طیاروں کے لیے فضائی حدود بند کرنا بھی شامل ہیں۔

 

اسپین کے وزیر خارجہ نے بتایا کہ ان اقدامات میں قابض اسرائیل کی شخصیات کو اسپین میں داخلے سے روکنا بھی شامل ہے، جن میں بزلئیل سموٹریچ اور ایتمار بن گویر شامل ہیں۔

 

مزید کہا گیا کہ ان اقدامات میں صہیونی بستیوں کی مصنوعات کی درآمد پر پابندی، قابض اسرائیل میں اسپین کی قونصلر خدمات میں کمی اور فلسطینی اتھارٹی کے ساتھ نئے منصوبوں کے قیام کے لیے مالی معاونت بھی شامل ہیں۔

 

وزیر خارجہ نے زور دیا کہ ہمارے لیے اخلاقی ذمہ داری ہے کہ ہم اپنی خودمختاری کے تحت اور انسانی حقوق کے مطابق اقدامات کریں۔ ان کے بقول قابض اسرائیل کی کارروائیوں کے نتیجے میں ناقابل قبول تعداد میں شہداء ہو رہے ہیں اور 2 لاکھ 50 ہزار سے زائد افراد کو قحط کا خطرہ لاحق ہے۔

 

اسپین کے وزیراعظم پیڈرو سانچیز نے گذشتہ روز اعلان کیا تھا کہ ان کی حکومت نے قابض اسرائیل پر غزہ میں جاری اجتماعی قتل عام کے سبب 9 بڑی پابندیاں عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

 

انہوں نے دارالحکومت میڈرڈ میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ قابض اسرائیل جو کچھ غزہ میں کر رہا ہے وہ دفاع نہیں بلکہ نہتے عوام کی تباہی ہے۔ ہمارا ملک قابض اسرائیل کی جارحیت کو اکیلا نہیں روک سکتا، ہمارے پاس نہ ایٹمی ہتھیار ہیں نہ طیارہ بردار جہاز اور نہ ہی بڑے بڑے تیل کے ذخائر، مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم اسرائیل کو روکنے کی کوشش ترک کر دیں۔

 

انہوں نے مزید کہا کہ اسپین نے 9 نئے اقدامات کیے ہیں جو فوراً نافذ العمل ہیں تاکہ غزہ میں قتل عام کو روکا جا سکے اور فلسطینی عوام کی حمایت کی جا سکے۔ ان اقدامات میں سب سے پہلی پابندی قابض اسرائیل پر اسلحے کی مکمل بندش ہے۔

 

سانچیز نے بتایا کہ ایک شاہی فرمان فوری طور پر منظور کیا جائے گا جو قابض اسرائیل پر اسلحے کے اس پابندی کو قانونی اور مستقل حیثیت دے گا، جس کے تحت ہتھیاروں، گولہ بارود اور فوجی سازوسامان کی خرید و فروخت قابض اسرائیل سے ہمیشہ کے لیے ممنوع ہوگی۔

 

واضح رہے کہ 7 اکتوبر سنہ2023ء سے قابض اسرائیل امریکہ کی پشت پناہی میں غزہ میں اجتماعی نسل کشی کر رہا ہے جس کے نتیجے میں اب تک 64 ہزار 455 فلسطینی شہید، 1 لاکھ 62 ہزار 776 زخمی، 9 ہزار سے زائد لاپتہ اور لاکھوں بے گھر ہو چکے ہیں جبکہ قحط کے باعث 393 فلسطینی شہید ہوئے ہیں جن میں 140 بچے شامل ہیں۔

 

Comments are closed.