مرکز علم و دانش علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی تعلیمی و ثقافتی سرگرمیوں کی اہم خبریں

 

اے ایم یو نے سر سید احمد خاں کے وژن اور مشن کو عام کرنے کے لیے سالانہ مضمون نویسی مقابلے کا اعلان کیا

 

علی گڑھ، 9 ستمبر: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) نے اپنے سالانہ مضمون نویسی مقابلے کا اعلان کردیا ہے جس کا مقصد بانیئ درسگاہ سر سید احمد خاں کے وژن اور مشن کو فروغ دینا ہے جو ایک عظیم مدبر اور جدید ہندوستان کے معماروں میں سے ایک تھے۔

 

یونیورسٹی کے دفتر رابطہ عامہ کے زیر اہتمام 2007 سے منعقد کئے جانے والے مقابلہ کا اس سال کا موضوع ہے ”سرسید احمد خاں اور علی گڑھ تحریک: ہندوستان میں سیکولر تعلیم کے لئے ایک معقول نقطہئ نظر“۔ شرکاء انگریزی، ہندی یا اردو زبان میں زیادہ سے زیادہ تین ہزار الفاظ پر مشتمل مضمون جمع کرسکتے ہیں۔ مضامین 4 اکتوبر 2025 تک ای میل آئی ڈی amuessaycompetition@gmail.com پر ارسال کئے جاسکتے ہیں۔

 

رابطہ عامہ افسر مسٹر عمر پیرزادہ کے مطابق یہ مقابلہ صرف یونیورسٹی اور کالج کے طلباء و طالبات کے لیے ہے۔ اسکول کے طلبہ (بارہویں جماعت تک) اس میں شرکت کے اہل نہیں ہیں۔

 

ہر زبان کے زمرے میں پہلا، دوسرا اور تیسرا مقام حاصل کرنے والوں کو بالترتیب 25000، 15000 اور 10000روپے کے نقد انعامات دیے جائیں گے۔

 

دلچسپی رکھنے والے طلبہ ویب لنک https://api.amu.ac.in/storage//file/events/1757404538.pdf پر مقابلے کے قواعد و ضوابط اور دیگر تفصیلات ملاحظہ کرسکتے ہیں۔

 

٭٭٭٭٭٭

 

اے ایم یو انڈرگریجویٹ ہسٹری کلب کے زیر اہتمام یومِ اساتذہ پر خصوصی پروگرام منعقد

 

علی گڑھ، 9 ستمبر: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے انڈرگریجویٹ ہسٹری کلب ”تاریخ یافتہ“ نے یومِ اساتذہ کے موقع پر ایک تقریب کا اہتمام کیا، جس میں ہندوستانی نظام تعلیم میں پیش پیش رہنے والے سماجی مصلحین کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔

 

اس موقع پر شعبہ تاریخ کے چیئرمین پروفیسر حسن امام کی بھی عزت افزائی کی گئی۔ پروفیسر امام نے اپنے دورِ طالب علمی کو یاد کرتے ہوئے اساتذہ کی خدمات اور ان کے اثرات کا ذکر کیا۔ انھوں نے طلبہ کو نصیحت کی کہ وہ ہر موقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔ انہوں نے جیوتی راو پھُلے کی تعلیمی خدمات کا تاریخی تناظر میں جائزہ بھی پیش کیا۔

 

اس موقع پر فلم ”پھُلے“ کی نمائش کی گئی، جو انیسویں صدی کے ہندوستان میں لڑکیوں اور محروم طبقات میں تعلیم کے فروغ کے لیے جیوتی راؤ پھُلے اور ساوتری بائی پھُلے کی جدوجہد کو مؤثر انداز میں پیش کرتی ہے۔ فلم کی نمائش کے بعد ایک مکالمہ ہوا، جس میں طلبہ نے نہ صرف فلم پر اپنے خیالات کا اظہار کیا بلکہ اس کی موجودہ دور میں اہمیت پر بھی گفتگو کی۔

 

تقریب کا آغاز کلب کی کوآرڈنیٹر ڈاکٹر انیسہ اقبال صابر کے استقبالیہ کلمات سے ہوا، جس میں انہوں نے قوم کی تعمیر میں اساتذہ کے ناقابلِ فراموش کردار اور نظم و ضبط جیسے اقدار کی اہمیت پر زور دیا، جو عظیم اساتذہ اپنے شاگردوں میں پیدا کرتے ہیں۔

 

تقریب کی نظامت بی اے کے طالب علم امداد الکریم نے کی۔

 

٭٭٭٭٭٭

 

اے ایم یو کے شعبہئ سنّی دینیات میں پندرہ روزہ مقالہ خوانی پروگرام

 

علی گڑھ، 9 ستمبر: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے شعبہ سنّی دینیات میں ریسرچ اسکالرز کی جانب سے ایک پندرہ روزہ مقالہ خوانی پروگرام، ڈین، فیکلٹی آف تھیالوجی پروفیسر محمد حبیب اللہ قاسمی کی زیر صدارت منعقد کیا گیا۔

 

گلفشاں نصیر، ریسرچ اسکالر، شعبہ سنّی دینیات نے”اسوہئ حسنہ سے انحراف،اسباب اور ان کا حل“ موضوع پر اپنا مقالہ پڑھاجب کہ طلحہ بن طارق نے اپنے مقالے میں سیرت کی روشنی میں معاشرتی ذمہ داریوں پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایک تندرست و صالح معاشرہ تبھی تشکیل پاتا ہے جب اس میں سیرت طیبہ سے راہ نمائی حاصل کی جائے۔

 

اس موقع پرجملہ ریسرچ اسکالرز کی جانب سے نئے صدر شعبہ پروفیسر محمد راشد اصلاحی کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔ ڈین فیکلٹی آف تھیالوجی پروفیسر محمد حبیب اللہ قاسمی نے صدر شعبہ کا استقبال کرتے ہوئے انھیں مبارکباد پیش کی اور کہا کہ تبدیلیاں آتی رہتی ہیں مگر تبدیلی کا جو اصل مقصد ہوتا ہے اس کی ادائیگی میں ہی اصل کامیابی ہے۔

 

صدر شعبہ پروفیسر محمد راشد اصلاحی نے شرکاء کو یاد دلاتے ہوئے کہا کہ ہمیں احساس ہونا چاہیے کہ ہم اپنے اعزا و اقربا اور گھر بار کو چھوڑ کر جس مقصد کے لیے آئے ہیں اس کی حصولیابی میں محنت اور پورے انہماک کے ساتھ لگ جائیں اور وقت کا صحیح استعمال کریں کیونکہ وقت کا صحیح استعمال ہی کامیابی کی ضمانت ہے۔

 

شعبہئ سنی دینیات کے استاد ڈاکٹر ندیم اشرف نے پیش کئے گئے مقالہ جات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ مقالہ فصاحت و بلاغت کے اسلوب پر مبنی ہونا چایئے تاکہ اس کا فیض عام و تام ہوسکے۔ پروگرام کا آغازریسرچ اسکالر انس احمد کی تلاوت کلام پاک سے ہوا اور نظامت کے فرائض زاہد علی نے انجام دئے۔اس موقع پر ڈاکٹر محمد ناصر،ڈاکٹر محمدحماد،ڈاکٹرمحمد عامر اور کثیر تعداد میں طلباو طالبات موجود رہے۔

 

٭٭٭٭٭٭

 

اے ایم یو کے شعبہ جیولوجی کے طلبہ نے سی ایس آئی آر-یو جی سی نیٹ 2025 میں عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کیا

 

علی گڑھ، 9 ستمبر: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے شعبہ جیولوجی کے 8 طلبہ نے اس سال جوائنٹ سی ایس آئی آر-یو جی سی قومی اہلیت ٹیسٹ (نیٹ) 2025 میں کامیابی حاصل کی ہے، جس میں سے چار نے جونیئر ریسرچ فیلوشپ (جے آر ایف) حاصل کی، جبکہ چار طلبہ نیٹ زمرہ میں کامیاب ہوئے۔

 

جے آر ایف پاس کرنے والے طلبہ میں مس ہادیہ (آل انڈیا رینک: 37)، شرجیل اقبال (آل انڈیا رینک:48)، عامر سعید (آل انڈیا رینک: 54) اور محمد معین (آل انڈیا رینک: 55) شامل ہیں، جب کہ نیٹ زمرہ میں کامیاب ہونے والوں میں شعیب خان (آل انڈیا رینک: 12)، داراب جمیل (آل انڈیا رینک: 77)، آفرین نشا (آل انڈیا رینک: 85) اور ممتاز خان(آل انڈیا رینک: 86) شامل ہیں۔

 

شعبہ جیولوجی کے چیئرمین پروفیسر راشد عمر نے کامیاب طلبہ کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ یہ کامیابی ان کی انتھک محنت، لگن اور مستقل مزاجی کا نتیجہ ہے، نیز اساتذہ کی مسلسل رہنمائی اور علمی معیار کو فروغ دینے کے عزم کی بھی عکاس ہے۔

 

٭٭٭٭٭٭

 

اے ایم یو کے شعبہ پیتھالوجی کے اساتذہ اور ریزیڈنٹس نے یو پی سائٹوکون 2025 میں امتیازی کارکردگی پیش کی

 

علی گڑھ، 9 ستمبر: جواہر لعل نہرو میڈیکل کالج (جے این ایم سی)، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے شعبہ پیتھالوجی کے اساتذہ اور ریزیڈنٹس نے یو پی سائٹوکون 2025 میں نمایاں علمی و تحقیقی خدمات پیش کیں۔ یہ سالانہ کانفرنس جی ایس وی ایم میڈیکل کالج، کانپور میں منعقد ہوئی، جس میں اتر پردیش بھر کے پیتھالوجسٹ، محققین اور نوجوان اسکالرز شریک ہوئے۔

 

سینئر فیکلٹی ممبران نے سائنسی سیشن میں اپنے علمی خطبات سے شرکاء کو مستفید کیا۔ پروفیسر وینا مہیشوری نے ”بریسٹ سائیٹولوجی تھرو دی یوکوہاما لینس“ کے عنوان پر لیکچر کیا، جب کہ پروفیسر نشاط افروز نے کینسر مینجمنٹ میں امّیونوہسٹوکیمسٹری کے ابھرتے کردارپر گفتگو کی۔ پروفیسر کفیل اختر، پروفیسر روبینہ خان اور پروفیسر حنا انصاری نے الگ الگ سیشن کی صدارت کی اور مقابلوں میں جج کے طور پر بھی فرائض انجام دئے۔ نوجوان فیکلٹی ممبران ڈاکٹر بشریٰ صدیقی، ڈاکٹر رقیہ افروز اور ڈاکٹر سہیل الرحمٰن نے دلچسپ کیسز پیش کیے، جنہیں سراہا گیا۔

 

ان کے علاوہ جے این ایم سی کے ریزیڈنٹس نے مختلف مقابلوں میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرکے اے ایم یو کا نام روشن کیا۔ ڈاکٹر فاطمہ قیصر نقوی نے اورل پیپر پرزنٹیشن میں اوّل انعام اور ڈاکٹر جولی نے دوئم انعام حاصل کیا۔ ڈاکٹر حبا خالد اور ڈاکٹر دیبا خان نے مشترکہ طور پر سوئم انعام جیتا۔ڈاکٹر وردھی شرما نے پوسٹر پرزنٹیشن میں پہلا انعام حاصل کیا۔

 

شعبہ پیتھالوجی کے چیئرمین پروفیسر محبوب حسن نے تمام اساتذہ اور ریزیڈنٹس کو ان کی شاندار کارکردگی پر مبارکباد پیش کی اور سائیٹولوجی و آنکو-پیتھالوجی میں ان کے علمی امتیاز کو سراہا، جو جے این ایم سی اور اے ایم یو کے لیے باعث فخر ہے۔

 

٭٭٭٭٭٭

 

اے ایم یو کے شعبہ ہوم سائنس میں قومی غذائیت ہفتہ کے تحت مختلف تقریبات منعقد

 

علی گڑھ، 9 ستمبر: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے شعبہ ہوم سائنس نے شعبہ کی چیئرپرسن پروفیسر صبا خان کی رہنمائی اور اساتذہ و طلبہ کی بھرپور شرکت کے ساتھ یکم تا 7 ستمبر، قومی غذائیت ہفتہ 2025 کی مختلف تقریبات منعقد کیں۔ اس سال کے تھیم ”بہتر زندگی کے لئے درست غذا کھائیں“ کے تحت متعدد معلوماتی اور تخلیقی سرگرمیوں کا اہتمام کیا گیا۔

 

افتتاحی تقریب میں پروفیسر صبا خان نے صحت پر متوازن غذا کے اثرات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ بہتر زندگی کے لیے درست غذاناگزیر ہے۔ ان کے خطاب کے بعد حاضرین نے صحت مند غذا کو اپنانے کا عہد کیا۔ بعد ازاں ”طاقت کے لئے کھاؤ، سزا دینے کے لئے نہیں“ کے عنوان پر نعرہ نویسی مقابلہ منعقد کیا گیا۔

 

شعبہ کمیونٹی میڈیسن، جے این میڈیکل کالج کی اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر ثمینہ احمدنے ”خواتین کی صحت میں وٹامن ڈی کے ابھرتے ہوئے کردار“ پر لیکچر دیا۔ انہوں نے وٹامن ڈی کو سن شائن وٹامن قرار دیتے ہوئے خواتین کی صحت میں اس کی اہمیت پر زور دیا۔

 

اس کے علاوہ طلبہ نے ڈوڈل کڈز اسکول، لال ڈِگی روڈ، علی گڑھ میں پری اسکول بچوں کے لیے غذائیت سے متعلق آگہی پر مبنی ایک ڈراما پیش کیا، جس میں متوازن غذا کے بارے میں ابتدائی عمر سے ہی تعلیم دینے کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا۔

 

تقریبات کا اختتام صحتمند پکوان مقابلے سے ہوا، جس میں ڈاکٹر شبستاں نثار اور ڈاکٹر ارم اسلم نے بطور جج ذمہ داری نبھائی۔ اس مقابلے میں طلبہ نے غذائیت سے بھرپور اور اختراعی پکوان جیسے مونگ اسپراؤٹس چاٹ، راگی براؤنیز، اور سویا بین سلاد تیار کیے۔

 

٭٭٭٭٭٭

 

اے ایم یو گرلز اسکول کی طالبہ نے روبوفیوژن 2025 میں دوئم انعام حاصل کیا

 

علی گڑھ، 9 ستمبر: اے ایم یو گرلز اسکول کے آٹھویں جماعت کی طالبہ صولت سمیں نے عائشہ ترین ماڈرن پبلک اسکول، علی گڑھ میں منعقدہ روبوفیوژن مقابلے میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دوسرا مقام حاصل کیا اور ادارے کا نام روشن کیا۔ان کی کامیابی میں مسٹر عطاء الاسلام اور مسٹر شاہنواز ضمیر کی رہنمائی کا اہم کردار رہا۔

 

پرنسپل محترمہ آمنہ ملک اور وائس پرنسپل محترمہ الکا اگروال نے صولت سمیں کو اس نمایاں کامیابی پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی یہ کارکردگی اسکول کے لیے باعث فخر ہے۔

 

٭٭٭٭٭٭

 

اے ایم یو میں ایکسیز پروگرام کے سابق طالب علم کی کولمبو میں منعقدہ ینگ ساؤتھ ایشین لیڈرز انیشیئییٹو ریجنل ورکشاپ میں شرکت

 

علی گڑھ، 9 ستمبر: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے یو جی سی مالویہ مشن ٹیچر ٹریننگ سینٹر میں انگلش ایکسیز مائیکرو اسکالرشپ پروگرام کے سابق طالبعلم مسٹر انس نے کولمبو، سری لنکا میں منعقدہ ینگ ساؤتھ ایشین لیڈرز انیشیئییٹو ریجنل ورکشاپ کامیابی کے ساتھ مکمل کی۔ امریکی محکمہ خارجہ کے مالی تعاون سے اس پروگرام کو یونیورسٹی آف نیبراسکا ایٹ اوماہا نے ایسٹ ویسٹ سینٹر ہوائی کے اشتراک سے منعقد کیا۔

 

پروفیسر اصفر علی خان، ڈائریکٹر اسکول ایجوکیشن، اے ایم یو نے مسٹر انس کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ کامیابی اے ایم یو کی اس وابستگی کو ظاہر کرتی ہے جس کے تحت وہ سماجی طور پر باخبر اور ذمہ دار نوجوان قائدین کی تربیت کر رہا ہے، جن کا اثر صرف قومی نہیں بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی محسوس کیا جا رہا ہے۔ مسٹر انس نے بعد ازاں اے ایم یو سے بی ایس سی آنرز (کیمسٹری) کی تعلیم مکمل کی، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ اے ایم یو کے اسکول، یونیورسٹی کے لیے ایک نرسری کا کردار ادا کرتے ہیں۔

 

یو جی سی مالویہ مشن ٹیچر ٹریننگ سینٹر کی ڈائریکٹر ڈاکٹر فائزہ عباسی نے بتایا کہ انس،امریکی محکمہ خارجہ سے اعانت یافتہ ایکسیز پروگرام 2016-2018 کا حصہ تھے۔ گزشتہ دو دہائیوں میں اے ایم یو کے اسکولوں کے تقریباً 200 طلبہ اس پروگرام سے مستفید ہو چکے ہیں۔

 

ینگ ساؤتھ ایشین لیڈرز انیشیئییٹو ریجنل ورکشاپ میں جنوبی ایشیا کے 84 نوجوان قائدین شریک ہوئے تھے۔ مسٹر انس نے جمہوریت، شہریوں کی شمولیت اور کمیونٹی لیڈرشپ پر مبنی سیشنزمیں شرکت کی۔ انہوں نے بیانیہ پر مبنی پالیسی انگییجمنٹ پر ایک سیشن کی قیادت بھی کی۔اس دوران انہیں سری لنکا کی پارلیمنٹ کے اسپیکر ڈاکٹر جگت وکرما رتنے سے ملاقات کا موقع بھی ملا۔

 

٭٭٭٭٭٭

 

اے ایم یو وائس چانسلر کی جانب سے ملازمین کی ستائش و عزت افزائی

 

علی گڑھ، 9 ستمبر: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کی وائس چانسلر پروفیسر نعیمہ خاتون نے یونیورسٹی برادری کے لیے مثالی خدمات انجام دینے والے آٹھ ملازمین کی عزت افزائی کی۔ یہ تقریب وائس چانسلر دفتر میں منعقد ہوئی، جہاں ان ملازمین کی خدمت، لگن اور اعلیٰ کارکردگی کو سراہا گیا۔

 

ان آٹھ افراد میں یونیورسٹی ہیلتھ آفس کے پانچ صفائی ملازمین مسٹر وجیندر، مسٹر دیپک کمار، مسٹر محمد تنجیو، مس شیوانی (ٹرینی) اور مسٹر نکھل کمار، اور پراکٹر دفتر کے تین سیکیورٹی گارڈز مسٹر شاداب خان، مسٹرذیشان اور مس امید فاطمہ شامل ہیں، جنہیں ان کی محنت اور قابل ذکر خدمات کے اعتراف میں اعزاز سے نوازا گیا۔

 

پروفیسر نعیمہ خاتون نے انہیں سراہتے ہوئے کہا ”یہ کارکنان جوش و جذبہ کے حامل ہیں اور مجھے یقین ہے کہ یہ دوسروں کو بھی سچا ’کرمیوگی‘ بننے کی تحریک دیں گے۔ یونیورسٹی کو اپنے ان بے لوث، پرعزم اور فرض شناس افراد پر فخر ہے جو اے ایم یو میں خدمت اور ذمہ داری کی ثقافت کو مستحکم کرتے ہیں“۔

 

انہوں نے مزید کہا کہ ایک تعلیمی ادارہ کو نہ صرف تعلیم بلکہ ماحولیات، صفائی، پائیداری اور سیکیورٹی کے لحاظ سے بھی مثالی بننا چاہیے اور یہ صرف ایسے ہی محنتی ملازمین کی بدولت ممکن ہے۔

 

اِس موقع پر اے ایم یو کے رجسٹرار جناب محمد عمران آئی پی ایس نے ملازمین کی ستائش کرتے ہوئے کہا”آپ کی گرانقدر کارکردگی ہم سب کے لیے باعث تحریک ہے۔ آپ کی خدمات بے حد متاثر کن ہیں۔آپ اسی جذبے سے کام کرتے رہیں“۔

 

تقریب میں اے ایم یو کے پراکٹر پروفیسر محمد وسیم علی، دفتر رابطہ عامہ کی ممبر انچارج پروفیسر وبھا شرما، اور یونیورسٹی ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر علی جعفر عابدی موجود تھے۔ انھوں نے بھی ملازمین کی خدمات کو سراہا۔

 

یہ اعزاز نہ صرف ان افراد کی خاموش اور قیمتی خدمات کا اعتراف تھا، بلکہ اس نے ایک مثبت مثال بھی قائم کی، جو اے ایم یو کے اس عزم کا اظہار ہے کہ ادارہ اپنے ملازمین کو ایک متحرک، محفوظ اور صاف ستھرا کیمپس بنانے میں شراکت دار سمجھتا ہے اور انھیں قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔

 

Comments are closed.