کلی گاؤں میں شادی شدہ خاتون کی لاش گھر کے بنیری سے برآمد، مقتولہ کی ماں کا سسرال والوں پر جہیز کے لیے قتل کا الزام، 2 معصوم بچیاں لاش سے لپٹ کر تڑپتی رہیں، گاؤں میں قیاس آرائیاں اور غصے کا ماحول
جالے (محمد رفیع ساگر) سنگھواڑہ تھانہ کے کلی گاؤں پنچایت کے بیرول گاؤں میں پیر کی صبح اس وقت سنسنی پھیل گئی جب مقامی لوگوں نے 23 سالہ شادی شدہ خاتون سنگیتا دیوی کی لاش اپنے ہی گھر کے بنیری میں دوپٹے سے جھولتا ہوا پایا۔ مقتولہ سنگیتا دیوی کی شادی سال 2019 میں راکیش داس سے ہوئی تھی، مگر محض چھ سال بعد اس کی پراسرار موت نے نہ صرف اہل خانہ بلکہ پورے علاقے کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔
مقتولہ کی ماں، منجو دیوی (ساکن بٹھول، تھانہ بوکھڑا تھانہ، ضلع سیتامڑھی) نے سنگین الزام لگاتے ہوئے کہا کہ ان کی بیٹی کو سسرالی رشتہ دار جہیز کے لیے مسلسل ستاتے تھے اور دو بچیاں ہونے پر بھی ناراضگی ظاہر کرتے تھے۔ منجو دیوی کا کہنا ہے کہ میری بیٹی پر بار بار دباؤ بنایا جاتا تھا کہ اگر دو لاکھ روپے نہ دیے گئے تو اسے جان سے مار دیا جائے گا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ان کے داماد راکیش نے کچھ دن قبل دھمکی دی تھی کہ سسرال میں ساس جس سے بات کرنے کو کہے گی، اس سے بات کرو ورنہ دو بارہ زندہ واپس نہ آ سکو گی۔ نو دن قبل ہی سنگیتا اپنے میکے سے سسرال لوٹی تھی۔
حادثے کے وقت مقتولہ اپنے گھر پر موجود تھی اور راکیش داس روزگار کے سلسلے میں پونے میں تھا۔ اس ہولناک منظر کے دوران اس کی دو معصوم بچیاں، دو سالہ روہی اور ایک نومولود، اپنی ماں کی لاش سے لپٹ کر بلک رہی تھیں۔ واقعے کے بعد گاؤں کے لوگ اس منظر کو دیکھ کر سکتے میں آ گئے۔
تھانہ انچارج بسنت کمار نے ایف ایس ایل ٹیم کے ساتھ موقع پر پہنچ کر تفتیش شروع کی اور دوپٹہ سمیت مختلف شواہد برآمد کیے۔ سنگیتا کے گلے پر رسی کے دباؤ کے نشانات پائے گئے جبکہ زبان باہر نکلی ہوئی تھی، جو مشتبہ حالات کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ پولیس نے لاش کو قبضے میں لے کر پوسٹ مارٹم کے لیے ڈی ایم سی ایچ بھیج دیا ہے اور مقتولہ کا اینڈرائڈ موبائل بھی ضبط کر لیا ہے تاکہ تکنیکی جانچ کے بعد اصل حقیقت سامنے آ سکے۔
اس واقعے پر مقتولہ کے والدین اور رشتہ داروں نے سسرال والوں پر دہائی دیتے ہوئے الزام لگایا کہ یہ ایک منصوبہ بند قتل ہے،موقع پر گاؤں کے مکھیا مہیش جھا نے کہا کہ پہلی نظر میں یہ موت مشکوک ہے، اب تفتیش ہی طے کرے گی کہ یہ خودکشی ہے یا قتل۔
Comments are closed.