پنجاب کی ہولناک ترین آفت: انسانی غفلت اور قومی ذمہ داریوں پرمولانا آفتاب اظہر صدیقی کا اظہارِ تشویش
کشن گنج 9/ستمبر (نامہ نگار) پنجاب میں اگست 2025ء سے شروع ہونے والی تباہ کن بارشیں اور سیلاب ایک نہایت افسوسناک اور تاریخ ساز قدرتی آفت کے طور پر سامنے آئی ہیں، جو 1988ء کے بعد سب سے سنگین سمجھی جا رہی ہے۔ یہ صدمہ صرف فطرت کی بے رحمی نہیں بلکہ انسانی غفلت، ناقص منصوبہ بندی اور بدانتظامی کا بھی نتیجہ ہے۔ اوپری علاقوں ہماچل پردیش اور جموں و کشمیر میں شدید بارشوں کے بعد بیاس، ستلج، راوی اور گھگھر جیسی ندیوں میں پانی بے قابو ہو کر پنجاب کے 23 اضلاع میں 1400 سے زائد دیہات کو زیرِ آب لے گیا۔
موصولہ رپورٹوں کے مطابق اب تک درجنوں جانیں ضائع ہو چکی ہیں، 1.76 لاکھ ہیکٹر سے زائد کھیت تباہ ہو چکے ہیں، لاکھوں ایکڑ زمین زیرِ آب آ چکی ہے، اور مالی نقصان 14 ہزار کروڑ روپے سے تجاوز کر چکا ہے۔ تقریباً 3.5 لاکھ افراد براہِ راست متاثر ہوئے، ہزاروں گھر بہہ گئے اور پانچ لاکھ درخت جڑوں سمیت اکھڑ گئے ہیں۔
اس افسوسناک صورتحال میں عوامی یکجہتی کی روشن مثال بھی سامنے آئی ہے، خصوصاً ملک بھر کے مسلمانوں نے متاثرین کی مدد کے لیے دل کھول کر آگے بڑھ کر خدمت کی ہے۔ مساجد و مدارس کو عارضی پناہ گاہ بنایا گیا، کھانے پینے کا سامان، کپڑے اور دوائیں پہنچائی گئیں۔ مجلس احرار اسلام ہند کے قومی صدر شاہی امام پنجاب مولانا عثمان لدھیانوی صاحب کی سرکردگی میں امدادی سرگرمیاں جاری ہیں اور وہ بذاتِ خود متاثرہ علاقوں میں جا کر متاثرین کی دیکھ بھال میں مصروف ہیں۔
مولانا آفتاب اظہر صدیقی نے کہا ہے کہ ریاستی حکومت اور مرکز حکومت کے درمیان ذمہ داریوں کا تبادلہ ایک سنجیدہ مسئلہ ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی کی 9 ستمبر کو متاثرہ علاقوں کا دورہ ایک خوش آئند قدم ہے، لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیا مختصر فنڈز اور وعدے اس بڑے نقصان کی مکمل تلافی کے لیے کافی ہوں گے؟ ان کا کہنا تھا کہ پنجاب کے کسان کم از کم 50 ہزار روپے فی ایکڑ معاوضہ اور مجموعی طور پر 20 ہزار کروڑ روپے کے ریلیف پیکیج کے مستحق ہیں۔
مولانا آفتاب اظہر صدیقی نے حکومت سے پر زور اپیل کی ہے کہ فوری بنیادوں پر کسانوں کی بازآبادکاری اور متاثرہ افراد کی مکمل بحالی کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں تاکہ آئندہ ایسی آفات کی روک تھام کے لیے مضبوط اور مستقل حکمتِ عملی بنائی جا سکے۔
Comments are closed.