خاندان اوربرادری سے باہر رشتے نہ کرنےکی حیثیت

 

مفتی احمدنادرالقاسمی

جامعہ نگر دہلی

اسلامی نقطہ نظرسے خاندان اورالگ قبیلے یابرادری کی حیثیت محض ایک تعارف اورپہچان کی ہے۔جیساکہ آیت قرانی ”وجعلناکم شعوباوقبائل لتعارفوا ان اکرمکم عنداللہ اتقاکم“ گویاخاندان ۔قبائل اوربرادریاں رشتوں کی بنیاد نہیں۔ بلکہ محض تعارف اورانٹروڈکشن کی بنیادہے۔ ۔اسلامی نقطہ نظرسے رشتہ کی بنیاد صرف ایمان اورکفوکی بنیاد دین ہے۔ آج موجودہ سماجی پس منظر میں ہمیں اس بات پر بھی غورکرنی چاہئیے کہ بھارت یاتکثیری سماج والے ملکوں میں مسلم بچیوں کے غیرمسلموں کورفیق حیات چن لینے کے واقعات میں اضافے کے جہاں مخلوط تعلیمی نظام۔سوشل میڈیا فرنڈشپ۔غربت ولاچاری جیسےاسباب ہیں۔وہیں ذات ۔برادری۔خاندان اورقبائل سے باہر بچےبچیوں کی شادی پرسماجی بندش کی وجہ سے شادی میں تاخیر اوراس کے نتیجے میں ارتداد بھی ایک اہم سبب ہے۔۔برادری سے باہر بچوں کے رشتے نہ کرنے پر جس طرح ہمارے سماج میں شدت برتی جارہی ہے۔اوراس کے جوسنگین نتائج سامنے آرہےہیں۔اہل علم کو سنجیدگی سے اس کےبارےمیں سوچناچاہئیےکہ اس کی کوئی دینی بنیادیں بھی ہیں یانہیں۔ اوراس کی وجہ سے دینی۔ملی اورسماجی نقصانات کس قدرسامنے آرہےہیں۔۔حالات وواقعات بتاتے ہیں کہ نہ جانے سماج کی کتنی کلیاں۔سماج کی ان بندشوں کی بھیٹ چڑھ گئیں۔اورمایوسی میں اپنی عمریں گزاردیں۔ یاپھرمجبورہوکر غلط راہوں پہ چلی گئیں۔ اورسماج نے اسکاساراذمہ دار انھیں کوٹھہرادیا۔اوراپنی کوتاہیوں کااحتساب نہیں کیا۔ غرض یہ کہ بچیوں کی شادی اوررشتوں کے جومعیار ہم نے مقرر کررکھاہے وہ سراسر قرانی تعلیمات کہ اس معنی میں خلاف ہیں کہ ان میں اپنے خاندان اورقبائل وبرادری کوترجیح دینامحض استحبابی عمل ہے لازمی نہیں ہے۔ لازمی چیز ایمان اورقابل ترجیح دینداری ہے۔جیساکہ قران کی ایت 221 سے واضح ہوتاہے۔”ولاتنکحوا المشرکین حتی یومنوا“الخ“(اورمشرکہ عورتوں سے ہرگز نکاح مت کرو جب تک وہ ایمان میں داخل نہ ہوجائیں۔بیشک مسلمان باندی ان مشرکہ عورتوں سے بہترہے۔اگرچہ وہ تمہیں خوب بھاتی ہوں۔اورمشرکین سے اپنی بیٹیوں کی ہرگزشادی مت کراؤ جب تک وہ پکےمسلمان نہ ہوجائیں۔اوربیشک مسلمان غلام ان مشرکوں سے بہترہے اکرچہ وہ تمہیں اچھے لگتےہوں۔کیوںکہ وہ تمہیں جہنم کی طرف بلاتے ہیں۔اوراللہ تعالی تمہیں اپنے حکم سے جنت اوربخشش کی طرف بلاتاہے۔اوراپنی آیتیں لوگوں کےلئیے بیان کرتاہے۔تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں)۔اس سےمعلوم ہواکہ نکاح اورایک دوسرے کے ازدواجی جوڑےمیں اصل مطلوب اورمعیارایمان ہے۔خاندان ۔قبائل اوربرادریاں نہیں ہیں۔سماج کے اس خاندانی اوربراریوں اورکفو کےمعیارنے نہ جانے کتنی ہماری بچیوں کی زندگیاں برباد کردیں۔جس روایت کو خاندان۔برادری اورکفو کے لئے معیارتصورکیاجاتاہے۔یعنی ” زوجوا الاکفاء وتزوجواالیھم واختاروالنطفکم وایاکم والزنج۔فانہ خلق مشوہ“ اوراس مفہوم کی دوسری روایات ۔یاتوحددرجہ ضعیف اورکمزورہیں۔یاپھران کی کوئی سندی حیثیت ہی نہیں ہے۔

Comments are closed.