ڈیوٹی میں کمی کرنا بھی تطفیف میں شامل ہے اور یہ بھی حرام ہے: مولانا محمد ہارون خان المظہری
(نیپال سے انوار الحق قاسمی کی خصوصی رپورٹ)
یقیناً قرآن وحدیث سے ثابت ہے کہ تطفیف:یعنی ناپ تول میں کمی کرنا حرام ہے۔ تطفیف مسلمانوں کے یہاں حرام ہونے کے ساتھ غیروں کے یہاں بھی ایک غیر اخلاقی اور چوری کی ایک بدترین قسم ہے۔
جامعہ حفصہ للبنات ببیا انروا سنسری نیپال کے ناظم،جمعیت علماء نیپال کے نائب صدر،معہد ام حبیبہ للبنات جینگڑیا روتہٹ نیپال کے سرپرست حضرت مولانا محمد ہارون خان المظہری -مدظلہم العالی – نے فرمایا کہ : عموماً لوگ ناپ تول میں کمی کرنے کو تو فعل حرام اور گھٹیا عمل قرار دیتے ہیں ؛مگر شب و روز کے مقررہ اوقات میں ڈیوٹی اور خدمت میں کمی کرنے کو چوری نہیں؛بل کہ چالاکی سمجھتے ہیں، جب کہ حقیقت یہ ہے کہ جس طرح ناپ تول میں کمی کرنا حرام ہے ، بعینہ اسی طرح مجوزہ اوقات کی ڈیوٹی میں کمی کرنا بھی حرام ہے اور یہ بھی تطفیف میں شامل ہے۔
مولانا نے مزید یہ بھی کہا کہ امام مالک رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ: وفا و تطفیف:یعنی حق کے مطابق کرنا یا کم کرنا ہر چیز میں ہے،یعنی صرف ناپ تول کے ساتھ ہی یہ حکم مخصوص نہیں ہے ؛بل کہ کسی کے حق میں کمی کرنا خواہ کسی صورت سے ہو وہ تطفیف میں داخل ہے ،جس کا حرام ہونا ویل للمطففین سے واضح ہے۔
اس لیے ڈیوٹی چاہے جیسی ہو مدرسے کی ہو یامسجد کی کالج کی ہو یااسکول کی سرکاری دفاتر کی ہو یا پرائیویٹ کی بہر صورت ڈیوٹی میں کاہلی و سستی اور کمی سے مسلمانوں کو قطعی اجتناب کی ضرورت ہے۔
Comments are closed.