مرکز علم و دانش علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی تعلیمی و ثقافتی سرگرمیوں کی اہم خبریں

 

خودکشی کی روک تھام کے عالمی دن پر مختلف بیداری سرگرمیوں کا اہتمام، بیداری ریلی اور ورکشاپ منعقد

 

علی گڑھ، 10 ستمبر: خودکشی کی روک تھام کے عالمی دن کے موقع پر علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) میں متعدد بیداری سرگرمیوں کا اہتمام کیا گیا اور ریلی نکالی گئی جن میں طلبہ و طالبات نے بھرپور شرکت کی۔

 

شعبہئ نفسیات نے اسٹوڈنٹس کاؤنسلنگ سینٹر کے اشتراک سے فیکلٹی آف سوشل سائنسز میں دو روزہ ورکشاپ منعقد کی۔

 

افتتاحی خطاب میں وائس چانسلر پروفیسر نعیمہ خاتون نے ترقی پذیر ممالک، خصوصاً ہندوستان میں کاؤنسلرز کی کمی کی طرف توجہ دلاتے ہوئے کہا کہ ہر فرد کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ دوسروں کی ذہنی صحت کی خاطر ہمدردی اور توجہ سے سننے کا جذبہ اپنے اندر پیدا کرے۔

 

فیکلٹی آف سوشل سائنسز کے ڈین پروفیسر اکرام حسین نے اپنے خطاب میں افراد میں ’خودکشی کی ذہنیت“ کے خاتمے کی ضرورت پر زور دیا۔

 

کیمبرج نشیں سرجن ڈاکٹر پرشانت کاکوڈے نے ”زندگی کی سمجھ“ کے موضوع پر کلیدی خطبہ دیا۔ انھوں نے’نا وابستہ شمولیت‘ کے تصور پر گفتگو کرتے ہوئے حاضرین کو ترغیب دی کہ اپنی شخصیت کو ایسا بنائیں جو روزمرہ کی مایوسیوں سے بلند ہو سکے۔ انہوں نے اسٹیو جابزکا قول دہراتے ہوئے کہا:”ہر دن میں خود کو یاد دلاتا ہوں کہ آج میرا آخری دن ہے“۔

 

اسٹوڈنٹس کاؤنسلنگ سنٹر کی کوآرڈنیٹر ڈاکٹر نشید امتیاز نے خودکشی کے رجحان کو ختم کرنے کے لیے اجتماعی کوششوں کی ضرورت پر زور دیا اور اس ورکشاپ کو دماغی صحت کے میدان میں ایک بامعنیٰ قدم قرار دیا۔پہلے دن کے پروگراموں کا اختتام ایم اے نفسیات کی طالبہ شیزا جمشید کے کلمات تشکر پر ہوا۔

 

دوسرے دن اختتامی تقریب میں سابق وائس چانسلر پروفیسر محمد گلریز نے اپنے صدارتی خطاب میں طلبہ کو معاشرتی پیمانوں سے آگے سوچنے اور خود شناسی کے عمل کی ترغیب دی۔

 

رجسٹرار جناب محمد عمران آئی پی ایس نے پولیس افسر کی حیثیت سے خودکشی کے معاملات سے نمٹنے سے متعلق اپنے تجربات بیان کیے، اور طلبہ کو سچی دوستی قائم کرنے، پیشہ ورانہ صلاحیتیں بڑھانے اور چیلنجوں کا حوصلہ مندی سے سامنا کرنے کی نصیحت کی۔

 

اس سے قبل ڈاکٹر کاکوڈے نے’تعلق کی نفسیات‘ پر لیکچر دیا، جس میں انہوں نے وضاحت کی کہ اشیاء، افراد یا خیالات سے غیر ضروری وابستگی کس طرح جھوٹی انا اور شناخت کا مسئلہ پیدا کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ”غیر مرئی مشاہدہ کنندہ“ کا رویہ پروان چڑھانے اور خود کا مشاہدہ کرنے کے عمل سے اس طرح کے رجحانات سے نجات پانے میں مدد مل سکتی ہے۔ ان کے لیکچر کے بعد شرکاء نے تبادلہ خیال کیا۔

 

پروفیسر اکرام حسین نے اپنے اختتامی کلمات میں زندگی میں عملی سمجھ پیدا کرنے اور لچکدار رویہ اپنانے پر زور دیا۔ اس موقع پر ڈاکٹر کاکوڈے کی تصانیف مہمانوں کو پیش کی گئیں۔ ایم اے نفسیات کی طالبہ مدیحہ فاطمہ نے شکریہ ادا کیا۔ پروگرام کی نظامت ڈاکٹر سارہ جاوید نے کی۔

 

دوسری طرف شعبہ نفسیات نے اسٹوڈنٹس کاؤنسلنگ سینٹر اور سائیکولوجیکل سوسائٹی کے اشتراک سے ایک بیداری ریلی نکالی، جو فیکلٹی آف آرٹس سے شروع ہو کر بابِ سیدپر ختم ہوئی۔ ریلی میں کثیر تعداد میں طلبہ، اساتذہ اور یونیورسٹی عہدیداران نے شرکت کی، جنہوں نے مؤثر نعرے لگاتے ہوئے ذہنی صحت کے تحفظ کا پیغام عام کیا۔

 

بابِ سید پر شعبہ نفسیات کے سربراہ پروفیسر شاہ عالم نے حاضرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بیداری کی ابتدا ہر فرد کی اپنی ذمہ داری سے ہوتی ہے۔ خودکشی کی طرف جھکاؤ کی علامات کو پہچاننا، مدد فراہم کرنا، اور ماہرین سے رجوع کی حوصلہ افزائی کرنا، ذہنی صحت کو بہتر بنانے کے اہم اقدامات ہیں۔

 

اس موقع پر پروفیسر رفیع الدین،ڈین، اسٹوڈنٹس ویلفیئر، پروفیسر اکرام حسین،ڈین، فیکلٹی آف سوشل سائنسز، پروفیسر عفت اصغر اور پروفیسر عذرا موسوی نے ہمدردی، کاؤنسلنگ اور مثبت ردعمل کے فروغ کی اہمیت پر زور دیا۔

 

ڈاکٹر نشید امتیاز نے کہا کہ ہر زندگی کی ایک قیمت ہے اور اسے محفوظ بنانا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ شیزا شعیب، صدر سائیکولوجیکل سوسائٹی نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ صبر اور عزم و حوصلہ پیدا کریں اور جب ضرورت ہو، مدد حاصل کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس نہ کریں۔

 

دوسری طرف شعبہ سوشل ورک نے خصوصی سرگرمیوں کا اہتمام کیا، جس میں اساتذہ اور ایم ایس ڈبلیو کے طلبہ نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔

 

اس موقع پر فیکلٹی آف سوشل سائنسز کے ڈین اور شعبہ کے سربراہ پروفیسر اکرام حسین کے ساتھ ڈاکٹر محمد طاہر، ڈاکٹر قرۃ العین علی، ڈاکٹر شائنا سیف، ڈاکٹر محمد عارف خان، ڈاکٹر محمد عذیر، ڈاکٹر عندلیب، ڈاکٹر سمیرہ اور ڈاکٹر انعم نے ذہنی صحت سے متعلق بیداری، کمیونٹی کی شمولیت، اور ہم عمر طلبہ کی معاونت کے ذریعے خودکشی کی روک تھام میں کردار ادا کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔

 

٭٭٭٭٭٭

 

اے ایم یو کے ڈاکٹر حامد اشرف کو حاملہ خواتین میں ذیابیطس پر تحقیق کے لیے اے آر سیٹھ ایوارڈ سے نوازا گیا

 

علی گڑھ، 10 ستمبر: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے راجیو گاندھی سینٹر فار ڈائبٹیز اینڈ اینڈوکرائنولوجی سے وابستہ فیکلٹی ممبر ڈاکٹر حامد اشرف کو کولکاتہ میں منعقدہ اینڈوکرائن سوسائٹی آف انڈیا (ای ایس آئی) کی 54 ویں سالانہ کانفرنس میں مؤقر اے آر سیٹھ ایوارڈ سے نوازا گیا۔

 

یہ ایوارڈ، جو کہ ہندوستان میں اینڈوکرائنولوجی کے شعبے کے بڑے اعزازات میں شمار ہوتا ہے، ہر سال اُن محققین اور معالجین کو دیا جاتا ہے جنہوں نے ہارمونل اور میٹابولک بیماریوں کی تفہیم اور علاج میں نمایاں خدمات انجام دی ہوں۔

 

ڈاکٹر اشرف کو یہ اعزازحمل کے وقت خواتین کی صحت کے موضوع پر ان کی گرانقدر تحقیق کے اعتراف میں دیا گیا، جس میں انہوں نے حمل کے دوران ذیابیطس (جی ڈی ایم) کی ابتدائی علامات کی نشان دہی پر کام کیا۔ ان کی تحقیق میں انکشاف ہوا کہ ایک مخصوص خطہ کی 40 فیصد سے زائد حاملہ خواتین میں بلڈ شوگر کی بے ترتیبی ہے، جو ایک تشویشناک رجحان ہے۔ اس سے یہ ضرورت اجاگر ہوئی کہ ایسے قابل اعتماد طبی اشاریے تیار کیے جائیں جو بیماری کی بروقت شناخت اور ماں و بچے کی بہتر صحت میں معاون ہوں۔

 

ایوارڈ حاصل کرنے پر ڈاکٹر اشرف نے کہا ”یہ اعزاز صرف میرا نہیں بلکہ اس پوری ٹیم کا ہے جس نے اس تحقیق کو ممکن بنایا“۔ انہوں نے اے ایم یو کے شعبہ امراض نسواں و زچگی اور شعبہ امراض اطفال کے رفقائے کار، طلبہ اور اُن مریضوں کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے اس تحقیق میں حصہ لیا۔

 

کانفرنس میں ماہرین نے ڈاکٹر اشرف کی تحقیق کو ہندوستان میں صحتِ عامہ کے ایک بڑے مسئلے کے حل کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا۔

 

٭٭٭٭٭٭

 

اے ایم یو کی فیکلٹی آف ایگریکلچرل سائنسز میں سوچھتا پکھواڑہ کے تحت شجرکاری مہم

 

علی گڑھ، 10 ستمبر: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کی فیکلٹی آف ایگریکلچرل سائنسز نے سوچھتاپکھواڑہ کے تحت ایک شجرکاری مہم کا اہتمام کیاجس میں مختلف شعبہ جات کے صدور، اساتذہ، غیر تدریسی عملہ کے اراکین اور طلبہ نے جوش و خروش سے شرکت کی اور ماحول کو سرسبز و شاداب بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔

 

فیکلٹی کے ڈین پروفیسر آر یو خان کی رہنمائی میں تقریباً 75 پودے لگائے گئے، جن میں آرائشی پودے اور پام، اشوک، جیٹروفا اور آملہ وغیرہ کے پودے شامل تھے۔ پروفیسر خان نے ماحولیات کے تحفظ کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے حاضرین کو ماحولیاتی تبدیلی کے مسائل سے نپٹنے کے لئے شجرکاری کو ایک مؤثر اور عملی قدم کے طور پر اپنانے کی ترغیب دی۔

 

پروگرام کوآرڈینیٹر پروفیسر محمد صغیر خان نے سرسبز و صحت مند ماحول کو انسانی زندگی کے لیے ناگزیر قرار دیا اور یونیورسٹی کیمپس اور اس سے باہر بھی سبزہ میں اضافہ پر زور دیا۔

 

٭٭٭٭٭٭

 

اے ایم یو کے شعبہ کامرس میں طلبہ کو ریگنگ کے نقصانات اور مضمرات سے آگاہ کیا گیا

 

علی گڑھ، 10 ستمبر: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے شعبہ کامرس نے ڈین و صدر شعبہ پروفیسر محمد آصف خان کی سرپرستی میں ریگنگ کے خلاف بیداری پروگرام منعقد کیا۔ پروگرام کے کوآرڈینیٹر پروفیسر عرفان خان اور ڈاکٹر نغمہ اظہر تھے۔

 

حاضرین سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر نغمہ اظہر نے ریگنگ کے سنگین نتائج پر روشنی ڈالی اور ماضی کے چند افسوسناک واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے اٹھائے گئے تادیبی اقدامات کا ذکر کیا۔ انہوں نے انسدادِ ریگنگ سے متعلق قوانین، سپریم کورٹ آف انڈیا کی ہدایات اور فوجداری دفعات کی وضاحت کی۔ انہوں نے تعلیمی اداروں میں محفوظ، باوقار اور شمولیتی ماحول کی ضرورت پر زور دیا، اور طلبہ کو ایسے واقعات کی شکایت درج کرنے کے لیے آن لائن پورٹل کے بارے میں بھی بتایا۔

 

٭٭٭٭٭٭

 

اے ایم یو میں صحت اور پائیداری کے فروغ کے لیے سائیکلنگ راؤنڈ کا اہتمام

 

علی گڑھ، 10 ستمبر:علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) میں صحت، فٹنس اور ماحولیاتی شعور کو فروغ دینے کے لیے ایک سائیکلنگ راؤنڈ کا اہتمام کیا گیا، جو محسن الملک ہال سے شروع ہو کر یونیورسٹی کیمپس تک جاری رہا۔ اس سرگرمی میں طلبہ، تدریسی و غیر تدریسی عملہ اور یونیورسٹی انتظامیہ کے اراکین نے شرکت کی۔

 

اے ایم یو کے رجسٹرار جناب محمد عمران آئی پی ایس نے اس پروگرام میں بطور مہمان خصوصی شریک ہوکر سبھی کی حوصلہ افزائی کی۔ انہوں نے سائیکل کو ماحولیات دوست اور پائیدار سواری کے طور پر اپنانے کی اہمیت پر زور دیا۔

 

محسن الملک ہال کے پروووسٹ پروفیسر محمد نسیم خان، وارڈن صاحبان، ہال کے عملے کے اراکین اور بڑی تعداد میں طلبہ نے پروگرام میں جوش و خروش کے ساتھ حصہ لیا، جس سے اجتماعی جذبے اور ولولے کا ماحول پیدا ہوا۔

 

یہ اقدام نہ صرف صحت مند طرزِ زندگی کے فروغ میں ادارے کے عزم کا مظہر تھا بلکہ طلبہ اور ہال انتظامیہ کے درمیان ربط کو بھی مضبوط کرنے کا ذریعہ بنا۔ پروگرام کے اختتام پر شرکاء نے مثبت ردعمل ظاہر کیا اور اسے ایک سبز و صحت مند کیمپس کے لئے اہم قدم قرار دیا۔

 

٭٭٭٭٭٭

 

عمان کے عالمی مشاعرے میں اے ایم یو کے ڈاکٹر مشتاق صدف شریک ہوں گے

 

علی گڑھ، 10ستمبر:علی گڑھ مسلم (اے ایم یو) میں اردو کے استاد، شاعر و ادیب اور نقاد ڈاکٹر مشتاق صدف، اردو ونگ، انڈین سوشل کلب،عمان کے زیراہتمام 19 ستمبر کو منعقد ہونے والے بین الاقوامی مشاعرہ میں شرکت کریں گے۔یہ مشاعرہ البسٹن پیلس ہوٹل،مسقط میں منعقد ہوگا۔

 

مشاعرہ کے کنوینر اردو ونگ، انڈین نیشنل کلب،عمان کے انجینئرمحمدطفیل احمد ہیں۔ یہ کلب ایک غیر منافع بخش ثقافتی فورم ہے جو کہ وسیع پیمانے پر ادبی اور ثقافتی پروگراموں کے ذریعے اردو زبان کے قیمتی ورثے کے تحفظ اور فروغ کے لیے وقف ہے،جن میں مشاعرہ، شب غزل، قوالی اور ادبی مباحثے شامل ہیں۔ تہذیبی وثقافتی تبادلے اور اردو ادب کی نشوونما اور تشہیر کے لیے مسلسل کوششوں کے ایک حصے کے طور پرسالانہ بین الاقوامی مشاعرہ بھی منعقد کیا جاتا ہے۔

Comments are closed.