مؤثر معلم کیلئے معلم کائنات حضورﷺ کا سچا وارث بننا ضروری: مولانا محمد مزمل بدایونی
رابطہ مدارس اسلامیہ دار العلوم دیوبند مشرقی یوپی زون 1کے زیر اہتمام مدرسہ جامع العلوم پٹکاپور میں 2روزہ تدریب المعلمین کا آغاز
کانپور:۔ مدارس اسلامہ میں معیار تعلیم بہتر بنانے، طلبہ عزیز میں استعداد و صلاحیت پیدا کرنے کیلئے طلبہ کی نفسیات سے باخبر کرنے اور اساتذہ و مدرسین حضرات کو تعلیم و تدریس کے اصول سے واقف کرانے کیلئے رابطہ مدارس اسلامیہ عربیہ دار العلوم دیوبند مشرقی یوپی زون۔1کے زیر اہتمام 2/روزہ کیمپ بسلسلہ تدریب المعلمین کی پہلی دوسری نشست دفتر مدرسہ جامع العلوم جامع مسجد پٹکاپور میں زون کے صدر مفتی اقبال احمد قاسمی کی زیر صدارت منعقد ہوئی۔ کیمپ کی پہلی نشست میں بطور مہمان خصوصی تشریف لائے دار العلوم دیوبند کے استاذ حدیث مولانا محمد مزمل بدایونی نے فن نحو و صرف کی تدریب سے قبل کہا کہ اجزائے تدریس و تعلیم چار ہیں استاذ، طالب علم، نصاب اور طریقہ تدریس۔ کسی بھی استاذ کو اپنی شخصیت مؤثر بنانے کیلئے ضروری ہے کہ وہ جسمانی وروحانی دونوں ہی اعتبار سے معلم کائنات حضرت محمدﷺ کے وارث بنیں۔ ہمارا ظاہری وضع، لب ولہجہ اور معاشرت بھی سیرت طیبہ ﷺ کے نمونہ جیسا ہو۔ ہمارے اندر طلبہ کیلئے شفقت و رحمت، خالص نیت اور معاشرے کی تعمیر کا جذبہ ہو۔ ہمارے طلبہ کویہ محسوس ہو کہ استاذ کا مقصد دنیا طلبی نہیں ہے۔ کسی طالب علم کو کسی درجہ میں بھی تعصب اور جانب داری کا احساس نہ ہو۔ سچ کا التزام، زبان کی نرمی، خلاف مروت کاموں سے مکمل اجتناب کریں۔ ہر طالب علم کی نفسیات الگ الگ ہوتی ہے، ہمیں چاہئے کہ ہم سے درس حاصل کرنے والے ایک ایک طالب علم کی نفسیات کا ہمیں علم ہو اور ہم درس دیتے وقت سبھی کے استعداد اورذہنی صلاحیت کی رعایت اور لحاظ کریں۔مولانا نے کہا کہ ہمیں جس بھی فن کی کتاب دی جائے تو ہمیں چاہئے کہ ہم اس فن پر مکمل عبور حاصل کریں،اپنے ساتھ ساتھ طلبہ میں بھی فن سے دلچسپی اورمناسبت پیدا کریں اگر ہم ایسا نہیں کرسکتے تو انتظامیہ سے بات کرکے اس کتاب کو تبدیل کرائیں۔ کتابوں کو یاد کرانے کے بجائے دوران تدریس ایک ہی بات کو مختلف انداز سے سمجھائیں، امثلہ کی کثرت ہو، کسی واقعہ کو ایسے منظر یا کیفیت کی ایسی تصویر پیش کریں کہ ذہن میں بیٹھ جائے اور سامع اپنی آنکھوں سے دیکھتا ہوا محسوس کرے۔ اصطلاحی الفاظ کو آسان الفاظ میں سمجھائیں۔ درس سے قبل مطالعہ و تحقیق کا مزاج بنائیں۔ مولانا نے نحو میر کی تدریب پر بات کرتے ہوئے کہا کہ نحو عبارت فہمی، عبارت خوانی اور کسی بھی کتاب و فن میں درک حاصل کرنے کیلئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے، اس کتاب میں ضروری ہے کہ اصطلاحات، مسائل و قواعد دذہن نشین ہو جائیں اور طبیعت میں رچ بس جائیں اور موقع پر ہر محال یاد آ جائیں۔ قرآن کریم کی مثالیں پیش کرنے کی کوشش کریں۔ طلبہ سے بھی مثالیں نکلوائی جائیں وہ بھی اپنی کتب مفتاح العربیہ اور القرأۃ الواضحہ سے مثالیں منتخب کریں۔ اسم متمکن کی سولہ قسموں پر توجہ ہواور ہفتہ میں ایک دو مرتبہ تحریری مشق ضرورکرائیں۔ اسی طرح مولانا نے ہدایۃ النحو، کافیہ اور میزان و منشعب جیسی اہم کتابوں کو پڑھانے کے بارے میں تفصیل سے بتایا۔
مدرسہ شاہی مراد آباد کے استاد مولانا محمد اجمل قاسمی نے کتب انشاء و ادب کے طریقہ تدریس پر اپنا محاضرہ پیش کرتے ہوئے مفتاح العربیہ، القرأۃ الواضحہ کے تینوں اجزاء،نفحۃ الادب و نفحۃ العرب پر تفصیلی گفتگو فرمائی۔ دوسری نشست کے محاضرہ کی تحریری کاپی بھی تمام شرکاء کو دی گئی۔ کیمپ کی صدارت فرما رہے مفتی اقبال احمد قاسمی نے پروگرام کی اہمیت و ضرورت پر تفصیلی روشنی ڈالتے ہوئے زون ہذا کی جانب سے کئے جارہے کاموں سے واقف کرایا۔ جنرل سکریٹری مفتی عبد الرشید قاسمی اور مدرسہ جامع العلوم کے استاذ مفتی محمد معاذ قاسمی نے مشترکہ طور پر نظامت کے فرائض انجام دئے۔ پروگرام میں بطور خاص معاون صدر حافظ عبد القدوس ہادی، نائب صدر مولانا امین الحق عبد اللہ قاسمی، مولانا عبد القادر قاسمی، مولانا اظہر منیر مظاہری کے علاوہ رابطہ سے مربوط مدارس کے 170سے زائد اساتذہ موجود رہے۔
Comments are closed.