پروفیسر سید وسیم اختر: دھندلے نقوش سے تابناک منزل تک
ذکی نور عظیم ندوی – لکھنؤ
زندگی اُن لوگوں کے گرد گردش کرتی ہے جو محض سانس لینے کو جینا نہیں سمجھتے بلکہ اپنے وجود سے دوسروں کے لیے روشنی کا سامان پیدا کرتے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ قوموں کی تعمیر و ترقی میں ایسے ہی افراد کا کردار بنیادی رہا ہے جنہوں نے خواب دیکھے، پھر ان خوابوں کو حقیقت میں بدلنے کے لئے اپنی زندگی وقف کردی۔
پروفیسر سید وسیم اختر ایسی ہی ایک عظیم شخصیت ہیں جنہوں نے اپنی محنت، اخلاص اور غیر معمولی عزم کے ذریعہ یہ دکھا دیا کہ ایک عام متوسط گھرانے سے تعلق رکھنے والا شخص بھی ایک عظیم درسگاہ کا بانی اور ہزاروں زندگیوں کے مستقبل کا معمار بن سکتا ہے۔
20 جنوری 1955 کو لکھنؤ کی ایک سادہ اور عام سی آبادی میں پیدا ہونے والے سید وسیم اختر نے بچپن ہی میں وہ عزم اور بصیرت دکھا دی جو آگے چل کر اُنہیں ایک منفرد مقام دلانے کا پیش خیمہ ثابت ہوئی۔ انھوں نے ابتدائی تعلیم ایک چھوٹے سے مکتب میں حاصل کی جہاں زیادہ تر دینی مضامین پر توجہ دی جاتی تھی۔ مگر اس کمسن اور پرعزم وسیم اختر کے دل میں سائنس کے اسرار و رموز جاننے کی شدید خواہش تھی۔ اور آگے چل کر یہی رجحان اُن کے تعلیمی سفر کی سمت متعین کرنے والا ثابت ہوا۔
انھوں نے 1972 میں ہائر سیکنڈری تعلیم مکمل کی اور پھر جامعہ ملیہ اسلامیہ، دہلی سے 1975 میں سائنس میں گریجویشن کیا۔ لیکن ان کی علمی جستجو محض ایک ڈگری پر ختم نہیں ہوئی۔ وہ ساتھ ہی ادب اور زبانوں کی طرف بھی مائل تھے۔ چنانچہ 1977 اور 1979 میں لکھنؤ یونیورسٹی سے عربی میں بالترتیب بی اے اور ایم اے کیا۔ مزید تحقیق و مطالعہ کی پیاس نے انہیں 1982 میں سنٹرل انسٹیٹیوٹ آف انگلش اینڈ فارن لینگویجز، حیدرآباد سے ایم لٹ کی ڈگری دلائی۔ یہ ہمہ جہت علمی پس منظر اُن کی شخصیت کے افق پر ایک روشن ستارے کی مانند چمکتا رہا۔
تعلیم مکمل کرنے کے بعد انہوں نے تدریسی میدان میں قدم رکھا۔ ندوۃ العلماء جیسے عظیم ادارے میں سائنس ٹیچر کے طور پر ان کی پیشہ ورانہ زندگی شروع ہوئی۔ اس کے بعد سلام اورینٹل کالج، بریلی کے پرنسپل مقرر ہوئے۔ یہ ان کی قائدانہ صلاحیتوں کی ایک واضح جھلک تھی۔ عربی زبان پر شستہ اور پختہ دسترس نے انہیں عالمی سطح پر پہچان دلائی۔1980 کی دہائی میں وہ لیبیا، عراق اور سعودی عرب میں مترجم اور انٹرپریٹر کے طور پر مختلف منصوبوں سے وابستہ رہے۔ ان کے پیشہ ورانہ سفر میں بیرونِ ملک کا یہ تجربہ اُن کے علم اور بصیرت کو مزید نکھارتا گیا۔ اسی دوران انہوں نے کسٹم انچارج، ریسرچ فیلو، سیکریٹری اور مترجم جیسے مختلف عہدوں پر کام کیا اور تعلیم و تربیت کے میدان میں اپنی پہچان مضبوط کی۔ مگر دل کے کسی کونے میں ایک خواب ہمیشہ زندہ رہا۔ اور وہ تھا تعلیم کو عام کرنا اور پسماندہ طبقے کے نوجوانوں کو فنی میدان میں آگے لانا۔
یہاں مولانا سید ابوالحسن علی ندویؒ کے ذکر کے بغیر پروفیسر وسیم اختر کی کہانی مکمل نہیں کہی جاسکتی، جن کے افکار و نظریات اور مشوروں نے پروفیسر وسیم اختر کے دل پر گہرا نقش چھوڑا۔ علی میاں ہمیشہ کہا کرتے تھے کہ امت کی فلاح تعلیم اور ہنر کے پھیلاؤ میں ہے۔ یہی پیغام پروفیسر صاحب کے اندر بجلی کی طرح کوند گیا۔پروفیسر وسیم اختر نے عہد کیا کہ وہ اپنی زندگی کو اسی مقصد کے لیے وقف کریں گے۔ یوں انہوں نے 1993 میں "اسلامک کونسل فار پروڈکٹیو ایجوکیشن” کے نام سے ایک سماجی تنظیم قائم کی۔ اس تنظیم کا نصب العین تعلیم کو محض نصابی معلومات تک محدود نہ رکھنا تھا بلکہ طلبہ کو عملی زندگی میں کامیابی کے لیے تیار کرنا تھا۔ اسی جذبے کے تحت 1994 میں "ٹیکنو اکیڈمک اسکول” کا قیام عمل میں آیا جو لکھنؤ کے ایک کم ترقی یافتہ علاقے، کرسی روڈ پر واقع تھا۔ یہ ایک چھوٹا سا چراغ تھا، لیکن اس کی روشنی دن بدن پھیلتی گئی اور آج وہ اسکول ایک انٹر کالج میں بدل چکا ہے۔
1990کی دہائی کے وسط میں انہوں نے ایک نئے خواب کو شکل دینے کی کوشش شروع کی۔ 1997 میں "انسٹی ٹیوٹ آف انٹیگرل ٹیکنالوجی” کا آغاز صرف دو شاخوں الیکٹرانکس اور کمپیوٹر سائنس اینڈ انجینئرنگ سے کیا ۔ لیکن جب محنت اور اخلاص کی بنیاد پر کوئی کام کیا جائے تو کامیابی قدم چومتی ہے۔ بہت جلد یہ ادارہ یوپی ٹیکنیکل یونیورسٹی سے الحاق یافتہ ہوگیا اور آرکیٹیکچر، میکینیکل انجینئرنگ اور انفارمیشن ٹیکنالوجی جیسے نئے کورسز شروع ہوئے۔ اور بالآخر 2004 میں پروفیسر وسیم اختر کی برسوں کی محنت بارآور ہوئی اور "انٹیگرل یونیورسٹی” کے قیام کا خواب شرمندۂ تعبیر ہوا۔ اور یہ ملک کی پہلی اقلیتی یونیورسٹی بنی جس کا قیام بذاتِ خود تاریخ ساز کارنامہ تھا۔
انٹیگرل یونیورسٹی کے قیام کے بعد یہ کارواں رکا نہیں بلکہ مسلسل آگے بڑھتا رہا۔ 2013 میں پروفیسر وسیم اختر نے طبی تعلیم اور صحت کے شعبے میں بھی نمایاں خدمات کے مقصد سے "انٹیگرل انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز اینڈ ریسرچ” قائم کیا ۔ 2014 میں "انٹیگرل انسٹی ٹیوٹ آف ایگری کلچرل سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی” وجود میں آیا جس نے زراعت کے میدان میں نئی راہیں ہموار کیں۔ آج اس یونیورسٹی میں درجنوں فیکلٹیز اور تقریباً سیکڑوں کورسز چل رہے ہیں۔ میڈیکل کالج، ایگری کلچرل انسٹی ٹیوٹ، فیکلٹی آف لا، ڈائریکٹوریٹ آف ڈسٹنس ایجوکیشن اور یونیورسٹی پولی ٹیکنک جیسے ادارے اس کی وسعت اور تنوع کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔
پروفیسر وسیم اختر نے نہ صرف ادارے قائم کیے بلکہ ایک نئے تعلیمی فلسفے کو جنم دیا۔ وہ اس بات پر زور دیتے رہے کہ تعلیم محض کتابی علم تک محدود نہ ہو بلکہ اس کا رشتہ زندگی کی عملی حقیقتوں سے جڑا ہوا ہو۔ ان کی یہی سوچ انٹیگرل یونیورسٹی کی شناخت بنی۔ یہاں تعلیم محض ڈگری لینے کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک ایسی طاقت ہے جو طلبہ کو دنیا کے بدلتے تقاضوں کے ساتھ ہم آہنگ کرتی ہے۔
ان کی انتھک محنت اور قیادت کے صلے میں انہیں وقتاً فوقتاً اعزازات سے نوازا گیا۔ "یوپی رتن ایوارڈ” 2003 میں ملا، "علی گڑھ موومنٹ ایوارڈ” 2010 میں، "لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ” 2011 میں، "سکشا گورو ایوارڈ” اور "بلندیٔ تعلیم ایوارڈ” 2012 میں، "ایمپاورمنٹ آف مسلم انڈینز ایوارڈ” 2013 میں، "اسٹار اچیومنٹ ایوارڈ” 2014 میں، "بایوویڈ رتنا ایوارڈ” 2015 میں، "بیسٹ کنٹریبیوٹر ایوارڈ” 2016 میں اور "وقارِ اودھ ایوارڈ” 2018 میں عطا ہوا۔ یہ سب ایوارڈ در اصل ان کے کارناموں کا عینی ثبوت ہیں۔ مگر ان کی اصل پہچان وہ ہزاروں طلبہ ہیں جو آج دنیا کے مختلف گوشوں میں اپنے علم اور ہنر کا لوہا منوا رہے ہیں۔
آج انٹیگرل یونیورسٹی کے فارغین نہ صرف ملکی اداروں میں بلکہ ملٹی نیشنل کمپنیوں جیسے TCS، Infosys، Wipro اور Nestle میں بھی نمایاں عہدوں پر فائز ہیں۔ یہ سب اس بات کا ثبوت ہے کہ پروفیسر وسیم اختر کی لگن اور ان کی خواب پرستی نے حقیقتاً ایک نئی دنیا بسا دی۔
پروفیسر وسیم اختر کی زندگی نوجوان نسل کے لیے ایک روشن مثال ہے۔ ان کی داستان یہ پیغام دیتی ہے کہ کامیابی کا راز خواب دیکھنے اور پھر اُس خواب کو حقیقت میں بدلنے کے لیے انتھک محنت کرنے میں ہے۔ اُنہوں نے ایک چھوٹے مکتب سے آغاز کیا، مختلف نشیب و فراز سے گزرے، بیرونِ ملک بھی گئے، لیکن دل سے اپنے مقصد کو کبھی اوجھل نہ ہونے دیا۔
آج کے نوجوان کے لیے ان کی زندگی کا نچوڑ یہ ہے کہ محض ڈگری لینا مقصد نہ ہو، بلکہ تعلیم کو عملی زندگی کے ساتھ جوڑنا ضروری ہے۔ پسماندگی اور وسائل کی کمی حوصلہ شکنی نہیں کرتیں، بلکہ عزم کو مزید مضبوط کرتی ہیں۔ خواب دیکھو، لیکن خوابوں کو حقیقت میں بدلنے کے لیے محنت اور استقامت کو اپنا شعار بناؤ۔
پروفیسر سید وسیم اختر کا سب سے بڑا کمال یہ ہے کہ انہوں نے صرف اپنی ذات کے لیے نہیں سوچا بلکہ ایک پوری نسل کے مستقبل کے بارے میں فکر مند رہے۔ انہوں نے ایک ایسی درسگاہ قائم کی جو صرف کتابی علم نہیں دیتی بلکہ عملی زندگی میں کامیابی کے لیے تیار بھی کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج ان کی شخصیت محض ایک استاد یا منتظم کی نہیں بلکہ ایک رہنما، ایک رہبر اور ایک عہد ساز شخصیت کی حیثیت رکھتی ہے۔
پروفیسر وسیم اختر کی پوری زندگی دراصل ایک مسلسل جدوجہد اور لگن کی کہانی ہے۔ یہ کہانی ہمیں بتاتی ہے کہ عظمت کی بلندیوں تک وہی پہنچتے ہیں جو خواب دیکھنے کے ساتھ ساتھ ان خوابوں کی تعبیر کے لیے جان لڑا دیتے ہیں۔ انہوں نے یہ ثابت کیا کہ تعلیم ہی وہ ہتھیار ہے جس سے پسماندگی کی زنجیریں توڑی جاسکتی ہیں اور ایک روشن مستقبل کی راہیں کھولی جاسکتی ہیں۔
آج اگر نوجوان نسل اُن کے سفر سے سبق لے کر اپنی زندگی کو اس عظیم مقصد کے ساتھ جوڑ لے تو کوئی وجہ نہیں کہ ہر شہر، ہر بستی اور ہر گاؤں میں پروفیسر وسیم اختر کا جذبہ اور تعلیم کے تئیں وہ بیداری اور شوق عام ہو جائے جو کسی بھی سماج میں کامیابی اور اپنے حقوق اور مقام و مرتبہ کے حصول کی طرف مثبت ترین اور ضروری قدم بھی ہے اور جس کے نتائج کبھی مایوسی کو پنپنے کا موقع نہیں دیتے۔
zakinoorazeem@gmail.com
Comments are closed.