اسلام اورتکوینِ ثروت
ڈاکٹر سراج الدین ندوی
چیرمین ملت اکیڈمی بجنور
9897334419
لفظ ”تکوین“عربی کے مادہ ”کوّن” سے نکلا ہے جس کے معنی ہیں: ”وجود میں لانا، پیدا کرنا، تشکیل دینا، بڑھانا۔”اور ”ثروت“کے معنی ہیں: ”مال و دولت، خوشحالی، دولت مندی، وسائلِ معیشت۔” اسلام میں تکوینِ ثروت صرف دولت کے جمع کرنے کا نام نہیں بلکہ ایسا معاشی نظام قائم کرنا ہے جس میں دولت حلال ذرائع سے حاصل کی جائے، محنت اور جدوجہد کے ذریعے پیدا کی جائے،دولت کو گردش میں لایا جائے تاکہ یہ چند ہاتھوں میں محدود نہ ہو اور پھر اس دولت کو معاشرے کی فلاح، ضرورت مندوں کی مدد اور دینی و انسانی خدمت کے لیے استعمال کیا جائے۔
اسلام انسان کو معاشی حیوان نہیں بناتا کہ وہ ہر وقت دولت کے حصول میں سرگرداں رہے،دولت پانے کے لیے تمام ضابطوں کو ایک طرف رکھ دے،اس وقت صرف دولت کمانے یا دولت گنوانے میں ہی صرف ہو،اس کے سوا کوئی مقصد اس کے پیش نظر نہ ہو۔بلکہ وہ اس کو مال کمانے اور صرف کرنے دونوں طرح سے جواب دہ بناتا ہے۔نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:۔
لَا تَزُولُ قَدَمَا ابْنِ آدَمَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ مِنْ عِنْدِ رَبِّہِ حَتَّی یُسْأَلَ عَنْ خَمْسٍ: عَنْ عُمُرِہِ فِیمَا أَفْنَاہُ، وَعَنْ شَبَابِہِ فِیمَا أَبْلَاہُ، وَمَالِہِ مِنْ أَیْنَ اکْتَسَبَہُ وَفِیمَا أَنْفَقَہُ، وَمَاذَا عَمِلَ فِیمَا عَلِمَ(جامع ترمذی)
”قیامت کے دن ابنِ آدم کے قدم اپنے رب کے پاس سے نہیں ہٹیں گے جب تک اُس سے پانچ چیزوں کے بارے میں سوال نہ کر لیا جائے: اس کی عمر کے بارے میں کہ کہاں گزرائی؟، اس کی جوانی کے بارے میں کہ کہاں کھپائی؟ اس کے مال کے بارے میں کہ کہاں سے کمایا اور کہاں خرچ کیا؟اور اس کے علم کے بارے میں کہ اس پر کتنا عمل کیا؟”
اسلام میں دولت کمانے کا مقصد صرف اپنی ذاتی آسائش یا ذخیرہ اندوزی نہیں بلکہ اللہ کی رضا، اپنی اور اپنے اہل خانہ کی ضروریات پوری کرنا، اور معاشرے کے محروم طبقات کی مدد ہے۔ قرآن کہتا ہے:وَابْتَغِ فِیْمَا آتَاکَ اللّٰہُ الدَّارَ الْاٰخِرَۃَ وَ لَا تَنسَ نَصِیْبَکَ مِنَ الدُّنْیَا(القصص: 77) ”اور جو کچھ اللہ نے تجھے دیا ہے اس کے ذریعے آخرت کا گھر بھی طلب کر، اور دنیا میں سے اپنا حصہ بھی نہ بھول۔“جب کہ سرمایہ دارانہ نظام میں دولت کمانے کا مقصد زیادہ سے زیادہ منافع کمانا اور ذاتی خوشحالی ہے۔ اس میں سماجی یا اخلاقی پہلو ثانوی حیثیت رکھتے ہیں۔
اسلامی نظام معیشت میں دولت کمانے کے ذرائع حلال اور پاکیزہ ہونے لازمی ہیں۔ رشوت، سود، جوا، دھوکہ دہی، ذخیرہ اندوزی، اور حرام کاروبار قطعی ممنوع ہیں۔قرآن نے بیع کو حلال کیا اور سود کو حرام کیا۔حرام اشیاء کی تجارت کو بھی حرام کیا گیا۔نبی ﷺ نے وضاحت فرمائی:۔طلبُ الحلالِ فریضۃٌ بعد الفریضۃ(بیہقی)”فرض عبادات کے بعد حلال روزی کمانا فرض ہے۔“جب کہ مغرب نے کسی طرح کی کوئی قید نہیں لگائی،اس کے یہاں جسم اور ضمیر کی تجارت تک میں کوئی حرج نہیں۔
اسلام ایک ایسا دین ہے جو انسان کی زندگی کے ہر پہلوپر محیط ہے۔ یہ محض چند روحانی رسومات یا خانقاہی سرگرمیوں کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک ہمہ گیر نظامِ حیات ہے۔ بدقسمتی سے تاریخ میں بعض ناقص تصورات دین پروان چڑھے جنہوں نے مسلمانوں کو معاشی ترقی اور وسائل پیدا کرنے کے اسلامی تصور (تکوینِ ثروت) سے غافل کر دیا۔ علامہ اقبال نے اس رویے پر تنقید کرتے ہوئے کہا:
مست رکھو ذکر و فکر و صبح گاہی میں اسے
پختہ تر کر دو نظامِ خانقاہی میں اسے
کچھ لوگوں نے اسلام کو صرف فرد اور خدا کے درمیان تعلق کا معاملہ بنا دیا، حالانکہ قرآن بتاتا ہے کہ دین آخرت اور دنیا دونوں کی رہنمائی کرتا ہے،ارشاد باری ہے:وَابْتَغِ فِیْمَا آتَاکَ اللّٰہُ الدَّارَ الْاٰخِرَۃَ وَ لَا تَنسَ نَصِیْبَکَ مِنَ الدُّنْیَا(القصص: 77) ”اور جو کچھ اللہ نے تجھے دیا ہے اس کے ذریعے آخرت کا گھر بھی طلب کر، اور دنیا میں سے اپنا حصہ بھی نہ بھول۔“
مسلمانوں میں نکمے پن اور دنیا سے بے رغبتی کی ایک وجہ شفاعت کا غلط تصور ہے۔عام تصور یہ ہے کہ نبی اکرم ﷺ ہر امتی کو بخشوالیں گے،حالانکہ احادیث میں بھی یہ بخشش گناہوں کی سزا پانے کے بعدہے۔یعنی پہلے ہم اپنے گناہوں کی سزا بھگتیں گے اس کے بعد حضور ؐ کی سفارش پر ہمیں وہاں سے نکالا جائے گا۔جہنم میں قیام کی یہ مدت کوئی ایک دو سال کی نہیں بلکہ روایت میں آتا ہے کہ حضور اکرم ﷺ پانچ سو سال سجدے میں رہیں تب اللہ تعالیٰ ان سے کہے گا کہ فلاں معیار کے ایمان والوں کو جہنم سے نکال کر جنت میں لے جائیں۔ہمارے نکمے پن کی انتہا یہ ہے کہ ہم دوزخ میں جلنے کو تیار ہیں مگر نیک عمل کرکے دوزخ سے بچنے کی کوشش کرنے کو تیار نہیں ہیں۔اس تصور شفاعت نے مسلمانوں کو دنیا سے لاپرواہ کردیا ہے اور وہ اپنی معاشی خوش حالی کے خواہاں نہیں ہیں۔
دنیا سے بے رغبتی کا ایک سبب دین اور دنیا کی تقسیم کا نظریہ ہے۔ایک مسلمان کے سامنے دنیا کو اس برح پیش کیا گیا ہے جیسے اس سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔اسے اس بات سے کوئی مطلب نہیں کہ دنیا فساد سے بھر جائے،اس پر شیطان قبضہ کرلیں اور نیک لوگوں کا جینا دوبھر کردیں۔مگر اللہ والے بس اپنی دنیا میں مست اللہ ھو کی ضربیں لگائیں۔حالانکہ قرآن مجید میں نماز کے بعد رزق حلال کمانے کا حکم دیا گیا ہے۔
فَإِذَا قُضِیَتِ الصَّلَاۃُ فَانتَشِرُوا فِی الْأَرْضِ وَابْتَغُوا مِنْ فَضْلِ اللّٰہِ وَاذْکُرُوا اللّٰہَ کَثِیرًا لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُون (الجمعۃ: 10)”پھر جب نماز پوری ہو جائے تو زمین میں پھیل جاؤ اور اللہ کا فضل تلاش کرو، اور اللہ کو کثرت سے یاد کرو تاکہ تم فلاح پاؤ۔“
قرآن کی اس آیت میں فرض نماز کے بعد اللہ کا فضل تلاش کرنے کا دیا گیا اور یہ بتایا گیا کہ حلال رزق کمانا بھی نماز کی طرح عبادت ہے۔پیارے نبی ﷺ نے تو کمانے والے کو اللہ کا دوست بتایا ہے:۔آپ ؐ نے فرمایا:۔الْکَاسِبُ حَبِیبُ اللّٰہ ”محنت سے کمانے والا اللہ کا محبوب ہے۔“اس سے بھی آگے آپ ؐ نے تجارت کرنے والے کو انبیاء اور صدیقین کا ساتھی قرار دیا:۔التَّاجِرُ الْأَمِینُ الصَّادِقُ مَعَ الْأَنْبِیَاءِ وَالصِّدِّیقِینَ وَالشُّہَدَاءِ ”سچا اور امانتدار تاجر قیامت کے دن انبیاء، صدیقین اور شہداء کے ساتھ ہوگا۔“
جب ہم سیرت اور اسلامی تاریخ کا مطالعہ کرتے ہیں تو کئی واقعات ایسے ملتے ہیں جس میں کام کرنے اورتجارت کرنے کی تحسین اور حوصلہ افزائی کی گئی ہے۔
ایک شخص رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور مدد مانگی۔ آپ ﷺ نے اس سے پوچھا کہ گھر میں کیا ہے؟ اس نے کہا: ”ایک چادر اور ایک لکڑی کا پیالہ۔” آپ ﷺ نے وہ دونوں چیزیں فروخت کر کے دو درہم حاصل کیے۔ ایک درہم میں کھانا خریدا اور اس شخص کو دیا، دوسرے درہم سے کلہاڑی خریدی اور کہا:”اس سے لکڑیاں کاٹ کر بیچو اور بھیک مت مانگو۔“کچھ دن بعد وہ شخص دس درہم کما کر آیا تو آپ ﷺ نے فرمایا:”یہ اس سے بہتر ہے کہ قیامت کے دن بھیک مانگنے کی ذلت کے ساتھ آؤ۔“(ابو داود)
حضرت ابن عمرؓ روایت کرتے ہیں کہ ایک صحابیؓ نے محنت مزدوری سے اپنے ہاتھ سخت کر لیے تھے۔ رسول ﷺ نے ان کا ہاتھ دیکھا، پکڑا اور چوم لیا اور فرمایا:ھٰذِہِ یَدٌ لَا تَمَسُّہَا النَّارُ”یہ وہ ہاتھ ہے جسے آگ نہیں چھوئے گی۔“(کنز العمال)
مدینہ میں مہاجرین بے گھر اور بے مال تھے۔ رسول ﷺ نے مہاجرین اور انصار کے درمیان بھائی چارہ قائم کیا۔ انصار نے اپنے مال اور تجارت میں مہاجرین کو شریک کیا۔ حضرت عبد الرحمن بن عوفؓ کو ایک انصاری بھائی نے آدھی دولت پیش کی مگر انہوں نے کہا: ”اللہ تمہارے مال میں برکت دے، مجھے بازار کا راستہ دکھا دو۔” پھر انہوں نے محنت سے تجارت شروع کی اور خوشحال ہو گئے۔
مدینہ میں یہودی تاجروں کی اجارہ داری تھی۔ رسول ﷺ نے مسلمانوں کے لیے نیا بازار قائم کیا اور فرمایا کہ اس پر کوئی ٹیکس نہیں لگایا جائے گا۔ صحابہؓ نے دیانت داری اور امانت کے ساتھ تجارت کی اور یہودی تاجروں پر سبقت حاصل کر لی۔
اسلام میں زکوٰۃ، صدقہ، قربانی اور انفاق کی بڑی فضیلت ہے لیکن یہ سب اسی وقت ممکن ہیں جب پہلے مال کمایا جائے۔ قرآن نے بار بار **”انفاق فی سبیل اللہ”** کا حکم دیا ہے، لیکن یہ انفاق اسی پر واجب ہے جس کے پاس مال موجود ہو۔ اس لیے دولت کمانے کو بھی اسلام میں نیکی قرار دیا گیا ہے۔
جب اسلام عرب سے عجم میں پہنچا تو وہاں کے راہبوں اور صوفیوں کی فکر سے متاثر ہو کر بعض مسلمانوں نے دنیاوی معاش کو کمتر سمجھ لیا۔ اس سوچ نے امت کو معاشی لحاظ سے کمزور کر دیا۔ حالانکہ امام محمدؒ نے ”کتاب الکسب“ تحریر کی اور واضح کیا کہ معاشی سرگرمی اسلام کا لازمی حصہ ہے۔جدید دور میں ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی جیسے علماء نے اسلامی معاشیات اور بینکاری پر گراں قدر کام کیا اور شاہ فیصل ایوارڈ حاصل کیا۔ لیکن مجموعی طور پر مسلم دنیا معاشی پسماندگی کا شکار ہے کیونکہ ہم نے دولت کمانے اور وسائل پیدا کرنے کے اسلامی حکم کو نظرانداز کر دیا ہے۔
اسلام کا تصورِ ثروت جامع اور متوازن ہے۔ یہ دنیا کو ترک کرنے یا دنیا کو مقصد بنانے کا قائل نہیں۔ اسلام یہ چاہتا ہے کہ مسلمان حلال طریقے سے محنت کریں، دولت پیدا کریں، اسے اپنی ذات، معاشرے اور دین کی خدمت میں خرچ کریں اور اس کے ذریعے دنیا و آخرت کی فلاح حاصل کریں۔
Comments are closed.