ارذل العمر کا تعلق نیکی و بدی سے نہیں!
عبدالغفار صدیقی
9897565066
انسان زندگی کے مختلف مراحل سے گزرتا ہے۔ایک وقت و ہ ہوتا ہے جب وہ آغوش مادر میں ہوتاہے۔چلنے اور کھڑے ہونے کی بات تو دوروہ اپنی مرضی سے کروٹ بھی نہیں بدل سکتا،اپنی بھوک،پیاس کا اظہار روکر کرتا ہے،نہ کچھ جانتا ہے اور نہ سمجھتا ہے،یہ اس کی پیدائش سے ایک سال کی عمر تک کا زمانہ ہے،اسے ہم قبل بچپن کہہ سکتے ہیں۔اس کے بعد اصل بچپن شروع ہوتا ہے،وہ شرارتیں کرتا ہے،چیزوں کو گراتا اور توڑتا ہے،اسے طہارت و نظافت کا شعور نہیں ہوتا،وہ اچھے برے کی تمیز نہیں رکھتا،حالانکہ وہ بولتا ہے،چلتا ہے،کچھ باتیں سمجھنے بھی لگتا ہے،یہ ایک سال سے تین چار سال کی عمر تک کا زمانہ ہے،اس کے بعد وہ لڑکپن میں داخل ہوجاتا ہے جو اس کے بالغ ہونے تک رہتا ہے،لڑکپن سے جوانی میں قدم رکھتا ہے۔اس کی عمر کا یہ حصہ گولڈن پیریڈ ہوتا ہے۔وہ طاقت کے لحاظ سے قوی الجثہ ہوتا ہے،وہ عقل کے لحاظ سے بھی پختہ ہوتا ہے۔وہ دنیا کو فتح کرنے کی منصوبہ بندی کرتا ہے،ستاروں میں کمندیں ڈالنے کی خواہش رکھتاہے۔یہ پیریڈ سب سے لمبا ہوتا ہے،تقریباًپچاس سال کی عمر تک وہ جوان رہتا ہے۔اس کے بعد اس کی عمر کا زوال شروع ہوجاتا ہے۔عمر کا زوال ہر انسان کے لیے عمر کے الگ الگ حصوں میں شروع ہوتا ہے،کوئی پچاس سال کے بعد ہی کمزور ہوجاتا ہے اور کوئی ستر سال تک پہلوانوں کو پچھاڑنے کی طاقت رکھتا ہے۔یہ انسان کی ساخت،آب و ہوا،کھانے پینے،وغیرہ پر منحصر کرتا ہے۔اسی زوال کو ہم بڑھاپا کہتے ہیں۔اس منزل پر دو کیفیتیں پائی جاتی ہیں۔ایک یہ کہ بوڑھا آدمی قویٰ سے کمزور اور مضمحل ہوجاتا ہے لیکن عقل و شعور علیٰ حالہٖ کام کرتے ہیں۔دوسری یہ کہ بوڑھا آدمی قویٰ کے ساتھ ساتھ عقل و دانش سے بھی محروم کردیا جاتا ہے۔وہ نہیں جانتا کہ کیا کہہ رہا ہے،وہ راستہ بھول جاتا ہے،وہ اپنے گھر اورگھروالوں کو پہچاننا چھوڑدیتا ہے۔وہ گالیاں بکتنے لگتا ہے،وہ گندگی میں بیٹھ جاتا ہے،وہ پیشاب پاخانہ اپنے جامہ میں کرلیتا ہے۔عمر کے اس حصہ اور اس کیفیت کو قرآن ”ارذل العمر“ کہتا ہے۔
ارذل العمر عربی زبان کا لفظ ہے جس کے معنیٰ عمر کا رذیل ترین ہونا ہے۔ارذل رذالت سے ماخوذ ہے۔لسان العرب میں ہے:۔ ”
”الرذالۃ: دناءۃ الشیء وخسّتہ، وأرذلہ: أحطہ وأدناہ” یعنی ”رذالت کسی چیز کی پستی اور کمینگی کو کہتے ہیں، اور ‘اَرذل’ اس کا سب سے پست اور کم درجہ ہے۔”
ارذل العمر کا قرآن میں ذکر
’اَرذل العُمُر‘کا ذکر قرآن مجید میں درج ذیل دو مقامات پر آیا ہے:
وَاللَّہُ خَلَقَکُمْ ثُمَّ یَتَوَفَّاکُمْ وَمِنکُم مَّن یُرَدُّ إِلَیٰ أَرْذَلِ الْعُمُرِ لِکَیْلَا یَعْلَمَ مِن بَعْدِ عِلْمٍ شَیْءًا إِنَّ اللَّہَ عَلِیمٌ قَدِیرٌ ( سورۃ النحل۔ 70)
”اللہ ہی نے تمہیں پیدا کیا، پھر وہ تمہیں موت دیتا ہے، اور تم میں سے کچھ ایسے ہیں جنہیں واپس (لوٹا کر) بدترین عمر کی طرف کر دیا جاتا ہے تاکہ وہ علم رکھنے کے بعد کچھ نہ جانیں۔ بے شک اللہ خوب جاننے والا، ہر چیز پر قادر ہے۔”
وَمِنکُم مَّن یُرَدُّ إِلَیٰ أَرْذَلِ الْعُمُرِ لِکَیْلَا یَعْلَمَ مِن بَعْدِ عِلْمٍ شَیْءًا (سورۃ الحج:5)
”اور تم میں سے کوئی ایسا بھی ہے جسے بدترین عمر کی طرف لوٹا دیا جاتا ہے تاکہ وہ علم رکھنے کے بعد کچھ نہ جانے۔”
’ارذل العمر‘ کے متعلق مفسرین کی آراء
”أَرذَل العُمُر ہو الہرم والخرف، وہو أن یَرجِع الإنسان إلی ضعف العقل بعد قوّتہ، فیصیر کالصبیّ فی عقلہ وفہمہ.”یعنی ”اَرذل العمر بڑھاپا اور فرتوتی ہے، جب انسان اپنی عقل کی قوت کھو دیتا ہے اور سمجھ میں بچے جیسا ہو جاتا ہے۔”(تفسیر ابن کثیر)
”أرذل العمر: أردؤہ وأضعفہ وہو الذی تنقص فیہ القوی والحواس والعقل.” یعنی ”اَرذل العمر کا مطلب ہے سب سے نکمی اور کمزور عمر، جس میں انسان کی طاقتیں، حواس اور عقل کمزور ہو جاتے ہیں۔”(تفسیر قرطبی)
”یعنی وہ عمر جس میں انسان اپنی سابقہ معلومات اور عقل و فہم کو بھولنے لگتا ہے، کمزوری، نسیان اور عاجزی کا شکار ہو جاتا ہے۔”(تفسیر مظہری)
سید ابوالاعلیٰ مودودی ؒ سورہ النحل کی آیت 70کی تشریح میں لکھتے ہیں:۔
”یہ علم جس پر تم ناز کرتے ہو اور جس کی بدولت زمین کی دوسری مخلوقات پر تم کو شرف حاصل ہے، یہ بھی خدا کا بخشا ہوا ہے۔ تم آنکھوں سے یہ عبرت ناک منظر دیکھتے رہتے ہو کہ جب کسی کو اللہ تعالیٰ بہت زیادہ لمبی عمر دے دیتا ہے تو وہی شخص جو کبھی جوانی میں دوسروں کو عقل سکھاتا تھا، کسی گوشت کے ٹکڑے میں تبدیل ہوکر رہ جاتا ہے، جسے اپنے تن بدن کا بھی شعور نہ رہتا ہو۔”(تفہیم القرآن سورہ النحل حاشیہ نمبر61)
ڈاکٹر اسرار احمد ؒ اپنی تفسیر بیان القرآن میں لکھتے ہیں:۔
”بڑھاپے میں اکثر لوگوں کی قوت فکر متاثر ہوجاتی ہے اور زیادہ عمر رسیدہ لوگوں کو تو DEMENTIAہوجاتا ہے،جس سے ذہنی صلاحیتیں ختم ہوجاتی ہیں اور یادداشت جواب دے جاتی ہے۔اس کیفیت میں بڑے بڑے فلسفی اور دانشور بچوں جیسی باتیں کنے لگتے ہیں۔“
فی ظلال القرآن میں سید قطب اس آیت کی وضاحت میں رقم طراز ہیں:۔
”ان حساس موضوعات میں سے پہلا موضوع،انسانی موت اور زندگی کے مراحل کے بارے میں ہے اور یہ تمام انسانوں کی دلچسپی کا محبوب موضوع ہے۔انسانی زندگی پر غور کرنے سے انسان یقینا بعض اوقات سخت سے سخت دل انسان بھی نرمی کا احساس کرلیتے ہیں اور انسان سوچنے لگتا ہے کہ اس پر ہونے والے تمام انعامات تو صرف اللہ کے ہاتھ میں ہیں اور جب انسان کے دل میں ان انعامات کے زوال کی بات ڈال دی جائے تو فطرت انسانی کے اندر ودیعت کردہ خدا خوفی کا احساس، تقویٰ کا وجدان اور اس زندگی کے عطا کرنے والے کی طرف میلان پیدا ہوسکتا ہے۔خصوصا بڑھاپے کی صورت حالات میں جب انسان ارذل العمر میں داخل ہوجاتا ہے وہ علوم کو بھولنا شروع کردیتا ہے اور دوبارہ ایک بچے کی طرح سادہ،عاجز اور انجان ہوجاتا ہے۔جب انسان ایسے حالات پر سنجیدگی سے غور کرے تو وہ اپنی موجودہ جوانی،قوت،علم اور عزت و وقار پر سوچے تو وہ کافی حد تک راہ راست پر آسکتا ہے۔“ (فی ظلال القرآن جلد سوم تفسیر سورہ النحل صفحہ 316)۔“
تدبر قرآن میں مولانا امین احسن اصلاحی اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں:۔
”وہی انسان جس کو اپنے علم اور اپنی عقل پر بڑا ناز ہوتا ہے ایک وقت اس پر ایسا آتا ہے جب وہ خود بھی دیکھ لیتا ہے اور دوسرے بھی دیکھ لیتے ہیں کہ وہ شیر خوار بچوں کی طرح عقل و علم اور قدرت و اختیار سے باکل عاری ہوکر رہ گیا ہے۔اس کو اپنے تن بدن کا کچھ ہوش نہیں رہ جاتا،وہ تمام تر دوسروں پر انحصار کرتا ہے،اور اپنی ضروریات میں ان کا محتاج ہوتا ہے۔“(تدبر قرآن جلد چہارم صفحہ 430)
مفتی محمد شفیع صاحب اپنی تفسیر معارف القرآن میں اس ضمن میں تحریر فرماتے ہیں:۔
”وَمِنْکُمْ مَّنْ یُّرَدُّ، مَّنْ یُّرَدُّ کے لفظ سے اشارہ اس بات کی طرف ہے کہ انسان پر پہلے بھی ایک ضعف اور کمزوری کا وقت گزر چکا ہے یہ اس کے بچپن کا ابتدائی دور تھا جس میں یہ کسی سوجھ بوجھ کا مالک نہ تھا اس کے قوی بالکل ضعیف وناتواں تھے یہ اپنی بھوک پیاس کو دور کرنے اور اپنے اٹھنے بیٹھنے میں غیروں کا محتاج تھا پھر اللہ تعالیٰ نے اس کو جوانی عطا کی یہ اس کی ترقی کا زمانہ ہے پھر رفتہ رفتہ اس کو بڑھاپے کے ایسے درجہ میں پہنچا دیتے ہیں جس میں یہ بالکل اسی طرح کمزوری ضعف اور اضمحلال کی طرف لوٹا دیا جاتا ہے جیسا کہ بچپن میں تھا۔- اَرْذَلِ الْعُمُر،ِ اس سے مراد پیرانہ سالی کی وہ عمر ہے جس میں انسان کے تمام جسمانی اور دماغی قوی مختل ہوجاتے ہیں نبی کریم اس عمر سے پناہ مانگتے تھے ارشاد ہے اللہم انی اعوذ بک من سوء العمر وفی روایۃ من ان ارد الی ارذل العمر۔ یعنی یا اللہ میں آپ کی پناہ مانگتا ہوں بری عمر سے اور ایک روایت میں ہے کہ پناہ مانگتا ہوں ارذل عمر سے۔- ارذل العمر کی تعریف میں کوئی تعیین نہیں ہے البتہ مذکورہ تعریف راجح معلوم ہوتی ہے جس کی طرف قرآن نے بھی لِکَیْ لَا یَعْلَمَ بَعْدَ عِلْمٍ شَیًا سے اشارہ کیا ہے کہ وہ ایسی عمر ہے جس میں ہوش و حواس باقی نہیں رہتے جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنی تمام معلومات بھول جاتا ہے۔ارذل العمر کی تعریف میں اور بھی اقوال ہیں بعض نے اسی سال کی عمر کو ارذل العمر قرار دیا ہے اور بعض نے نوے سال کو حضرت علیؓ سے بھی پچھتر سال کا قول منقول ہے (صحیحین بحوالہ مظہری)
کیا ارذل العمرکا تعلق گناہوں سے ہے
بعض لوگوں کا یہ خیال کہ ارذل العمر کو وہی لوگ پہمچتے ہیں جو بدکار اور گناہ گار ہوتے درست نہیں ہے۔درج بالا مفسرین میں سے کسی نے بھی ارذل العمر کا سبب گناہ یا بدکاری نہیں لکھا ہے۔بلکہ یہ اللہ کا نظام ہے وہ جس کو چاہتا ہے اس عمر تک پہنچا دیتا ہے۔اس میں یہ کوئی قید نہیں ہے کہ نیک لوگ اس عمر تک نہیں پہنچتے بلکہ بدکار اور سیہ کار ہی پہنچتے ہیں۔یہ ایک فطری عمل ہے۔یُرَدُّ کے الفاظ سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ انسان اپنی پہلی والی حالت پر پہنچادیا جاتا ہے۔ظاہر ہے پیدائش کے بعد بچے کی کمزور حالت کسی گناہ یا بدکاری کی وجہ سے نہیں ہوتی،بلکہ فطرت کے مطابق ہوتی ہے۔رہی یہ بات کہ اس حالت کو ارذل (سب سے پست یا رذیل) کیوں کہا گیا ہے؟تو اس کا جواب یہ ہے اس حالت میں انسان دوسروں کا محتاج ہوجاتا ہے اور یہ محتاجی اس کے لیے ذلت کا باعث ہے،لیکن یہ ذلت کسی گناہ کے نتیجہ میں ہی ہو ضروری نہیں ہے۔قرآن و حدیث میں اشارۃ بھی یہ بات نہیں کہی گئی ہے کہ ارذل العمر کا سبب بدکاری یا اللہ کی نافرمانی ہے۔ حدیث کے مطابق اللہ کے رسول ارذل العمر سے پناہ مانگتے تھے تو اس کی وجہ یہ نہیں تھی کہ نعوذ باللہ رسول اللہ گناہ گار تھے،اور انھیں اس کا اندیشہ تھا،بلکہ آپ ؐ جانتے تھے کہ یہ فطرت ہے اور اس سے آپ بھی دوچار ہوسکتے ہیں،اس لیے آپ ؐ اللہ تعالیٰ سے ارذل العمر سے بچانے کی دعا کیا کرتے تھے۔تاریخ کے مطالعہ بتاتا ہے کہ بعض نیک لوگ بھی اس حالت کو پہنچے ہیں۔
حضرت انس ؓ نے سو سال کی عمر پائی،آخر عمر میں نہ صرف قویٰ کمزور ہوگئے تھے بلکہ حافظہ بھی متاثر ہوگیا تھا۔(امام ذہبی ازسیر اعلام النبلاء جلد 3،صفحہ 395)حضرت عبداللہ بن عمر نے چھیانوے سال کی عمر پائی،آخر عمر میں حافظہ متاثر ہوگیا تھا۔(حافظ ابن حجر الاصابہ جلد 4،صفحہ174)امام عطا بن رباحؒ تابعی ہیں،سو سال کے قریب عمر پائی،آخر عمر میں بعض باتیں بھول جاتے تھے ((امام ذہبی ازتذکرہ الحفاظ جلد1،صفحہ 106)امام شعبہ بن حجاج ؒ ایک محدث تھے،عمر کے آخر میں حافظہ کمزور ہوگیا تھا اور روایت بیان کرنے میں دشواری پیش آنے لگی تھی۔(امام ذہبی ازسیر اعلام النبلاء جلد 7،صفحہ 211)امام وکیع بن الجراح ؒمحدث تھے آخر عمر میں بھولنے کی کیفیت پیدا ہوگئی تھی۔(خطیب بغدادی،تاریخ بغداد جلد 13،صفحہ466)۔ڈاکٹر اسرار احمد اپنے استاذ مولانا امین احسن اصلاحی ؒ کے بارے میں لکھتے ہیں:۔
”میں نے ذاتی طور پر مولانا امین احسن اصلاحی صاحب مرحوم کو بڑھاپے کی اس کیفیت میں دیکھا ہے۔ آخری عمر میں ان کی کیفیت ایسی تھی کہ نہ زندوں میں تھے، نہ مردوں میں۔ دیکھنے والے کے لیے مقام عبرت تھا کہ ایک ایسا شخص جو اعلیٰ درجے کا خطیب تھا اور اس کے قلم میں بلا کا زور تھا، عمر کے اس حصے میں بیچارگی و بے بسی کی تصویر بن کر رہ گیا تھا اور اپنے پاس بیٹھے لوگوں کو پہچاننے سے بھی عاجز تھا۔”(ڈاکٹر اسرار احمد Quran.com)
میں نے آج (26.8.2025) میں واٹس اپ پر معروف عالم دین جناب مولانا رضی الاسلام ندوی سکریٹری شعبہ اسلامی معاشرہ اور سکریٹری شریعہ کونسل سے سوال کیا :۔”کیا ارذل العمر کا سبب گناہ،بدکاری اور اللہ کی نافرمانی ہے یا یہ نیک و بد سب کے ساتھ ہے“؟ تو موصوف نے جواب دیا:۔”سب کے ساتھ ہے۔“
اگرچہ اس کا تعلق نیکی و بدی سے نہیں ہے،اس کے باوجود ہمیں اس عمر تک پہنچنے سے پناہ مانگنا چاہئے اور اپنی دعاؤں میں وہی دعا شامل کرنا چاہئے جو آنحضور ﷺ کی دعا تھی:۔
”اللَّہُمَّ إنی أعوذُ بک من البُخْلِ، وأعوذُ بک من الجُبْنِ، وأعوذُ بک أنْ أُرَدَّ إلی أرذلِ العُمُرِ، وأعوذُ بک من فِتنۃِ الدنیا وعذابِ القبرِ” (صحیح بخاری)
”اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں بخل سے، بزدلی سے، اور اس سے کہ مجھے واپس لوٹایا جائے اَرذل العمر کی طرف، اور دنیا کے فتنوں اور قبر کے عذاب سے۔
Comments are closed.