جامعہ اسلامیہ شانتاپرم کیرلا کے طلبہ نے نائن الیون کو یاد کیا

 

تحریر : عماد عاقب مظفر پوری
11/9/2025

جامعہ اسلامیہ شانتاپرم کے طلبہ نے نائن الیون کو یاد کرتے ہوئے آدھے ٹوٹے ہوئے جہاز اور اس کے پیچھے عمارات کے ٹوٹے ہوئے ٹکڑوں کے ماڈل بناکر نائن الیون کے واقعے اور اس کے نتیجے میں پیش آنے والے واقعات کی طرف اشارہ کیا ، اور گیارہ بجے کے انٹرول میں بعض اساتذہ اور طلبہ نے اس واقعے پر روشنی ڈالی اور یہ بتایا کہ اس واقعے کا ذمے دار خود امریکہ ہے ۔ اس لیے کہ امریکہ کا جاسوسی نظام بہت مضبوط ہے ، اور اسے اس پورے حادثے کے متعلق کیوں معلوم نہیں ہوا ،
خود صدر بش نے سانحہ 11 ستمبر 2001اور اس کے جواب میں کيے گئے افغانستان حملوں کو صلیبی جنگوں کا تسلسل قرار دیا تھا ۔

*نائن الیون کیا ہے*
11 ستمبر 2001ء صبح قریباً آٹھ بجے نائن الیون کے حادثات پے در پے رونما ہوئے ۔
پہلے ایک مسافر بردار بوئنگ طیارہ 757 نیو یارک کے 110 منزلہ ٹاور سے ٹکرایا اس کے اٹھارہ منٹ بعد ہی دوسرا بوئنگ 757 بھی دوسرے ٹاور سے ٹکرا گیا ۔
دو مسافر ہوائی جہاز نیویارک میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر کی بلند و بالا عمارتوں سے ٹکرا گئے جن سے یہ عمارتیں منہدم ہو گئیں۔ اس کے ٹھیک ایک گھنٹے بعد ایک اور اغوا شدہ مسافر جہاز بوئنگ 757 بھی امریکی محکہ دفاع کے ہیڈ کوارٹر پینٹا گان پر گرایا گیا جس سے پینٹا گان جزوی طور پر تباہ ہو گیا ۔ ۔ آدھے گھنٹے بعد ایک اور جہاز کے متعلق خبر آئی کہ جسے اغوا کر کے وائٹ ہاؤس کی طرف لے جایا جا رہا تھا یہ بھی بوئنگ 757 تھا جسے پنسلوانیا کے مقام پر لڑاکا طیاروں کے ذریعے مار گرایا گیا ۔

*واقعات*
پہلے صبح 8 بج کر 46 منٹ پر سب سے پہلے 5 دہشت گردوں نے امریکن ہوابازی کا مسافر طیارہ فلائٹ -11 ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے شمالی ٹاور -1 سے ٹکرا دیا ۔ اور اس کے کچھ دیر بعد 9 بج کر 30 منٹ پر ایک دوسرا طیارہ یونائٹڈ ایئر لائن فلائٹ 175 کو بھی جنوبی ٹاور -2 سے ٹکرا دیا ۔ اور اسی وقت 9 بج کر 37 منٹ پر پینٹاگان کی عمارت سے بھی پانچ ہائی جیکروں کے ہاتھوں اغواہ شدہ طیارہ امریکی ایئرلائنز پرواز 77 گرایا گیا ۔ مزید تھوڑی دیر بعد تیسرا طیارہ جو یونائٹڈ ایئر لائن فلائٹ 93 تھا اس کو 4 ہائی جیکروں نے وائٹ ہاؤس کی طرف لے جانے کی کوشش کی ۔ مگر شانکس ولی ، پنسلوانیا کے قریب لڑاکا طیاروں کے ذریعے اسے مار گرایا گیا ۔ یہ وقت تھا 10 بج کر 30 منٹ ۔ ان تمام حملوں میں جہازوں میں موجود تمام مسافر مارے گئے ۔ ختم ہونے سے پہلے کئی مسافروں نے اپنے اپنے موبائل سیل کے ذریعے اپنے مختلف جگہوں پر فون کر کے اطلاعات دیں ۔ ان تمام اطلاعات کو بعد میں منظم کیا گیا تا کہ اس حادثے میں ہونے والے اندرونی واقعات کو تفصیل سے جوڑا جا سکے ۔

*نقصانات*
اس حملے میں 2977 انسانی جانوں کا نقصان ہوا ۔ (ہر سال امریکا میں لگ بھگ 50,000 لوگ افیم نما نشہ آور ادویات کے استعمال سے مر جاتے ہیں۔
اس کے ساتھ ہی امریکا اور اس کے حامیوں کو مالی بحران کا شکار ہونا پڑا ۔ عالمی مارکیٹ کریش ہونا شروع ہو گئی جو چوبیس گھنٹوں بعد کسی حد تک سنبھلنے لگی تھی ۔
حملوں کی اطلاع عام ہوتے ہی عالمی منڈی میں تیل اور سونے کی قیمتوں میں فوری اضافہ ہو گیا اور یورپی کرنسی یورو کے مقابلے میں ڈالر کر نقصان پہنچا ۔ لندن کی مارکیٹ میں اگلے ماہ یعنی اکتوبر کے لیے تیل کی قیمتيں 27۔26 ڈالر سے بڑھ کر 30 اعشاریہ دس ڈالر تک جا پہنچیں جب کہ نیو یارک میں تیل کی مارکیٹ حملوں کی اطلاع کے ساتھ ہی بند ہو گئی ۔
اسی طرح سونے کی قیمت میں لگ بھگ 19 ڈالر فی اونس کا اضافہ ہو گیا۔
دنیا بھر کی مالیاتی منڈیاں افراتفری کا شکار ہوگئیں ۔ دنیا کا سب سے بڑا اسٹاک ایکسچینج نیویارک بند کر دیا گیا ۔ برطانیہ میں لندن اسٹاک ایکسچینج کو خالی کرا لیا گیا ۔ جرمنی ، پیرس ، ٹوکیو ، بون اور ماسکو وغیرہ کی مارکیٹوں میں بھاری خسارہ ہوا ۔
اس تباہی کے نتیجے میں انشورنس کمپنیوں نے نقصان کا تخمینہ 15 ارب ڈالر تک لگایا ۔

*نائن الیون کے دیر پا اثرات*
اس واقعے سے مسلمانوں کا جو تاثر پوری دنیا میں خراب ہوا اس کو درست کرنے میں کافی عرصہ لگا ۔

*نائن الیون کے بعد کی جنگیں اور امریکی مظالم*
نائن الیون 2001کی اندوہناک ہلاکتوں نے امریکا کو پوری دنیا پر جنگ مسلط کرنے کا بہترین موقع دیا جس کے لیے سب سے پہلے نشانہ بنا افغانستان-

*افغانستان امریکا جنگ*
نائن الیون 2001 سانحے کے مرکزی ذمہ دار اسامہ بن لادن بنائے گئے جو ان دنوں افغانستان میں نو تشکیل شدہ طالبان حکومت کے سائے میں رہ رہے تھے ۔ ان کی گرفتاری کے لیے امریکا نے افغانستان کا رخ کیا ۔ اولین طور پر گرفتاری کا مطالبہ کیا گیا ۔ جو حسب توقع مسترد کر دیا گیا ۔ جس کے بعد امریکا نے افغانستان پر تین اطراف سے حملہ کر دیا اور تقریبا سوا مہینے میں ہی دنوں میں افغانستان سے طالبان حکومت کا خاتمہ کر ڈالا ۔ مگر طالبان سربراہ ملا عمر اور القاعدہ رہنما اسامہ بن لادن پھر بھی ہاتھ نہيں آئے ۔

*دہشت گردی کے خلاف جنگ اور پاکستان*
اوپر مذکور افغانستان حملے کے لیے سب سے زیادہ قربانی کا بکرا پاکستان کو بنایا گیا ۔ اس وقت کے پاکستان کے سربراہ چیف آف آرمی اسٹاف جنرل پرویز مشرف کو امریکی حکام نے ایک فون کیا اور افغانستان کے خلاف جنگ کرنے کے لیے پاکستان کی سرزمین مانگی اور ساتھ ہی یہ دھمکی بھی دی کہ تعاون نہ ہونے کی صورت میں پاکستان کو پتھر کے دور میں دھکیل دیا جائے گا ۔ وہ دن ہے اور آج کا دن امریکا کے دہشت گردی کے جنگ کی قیمت پاکستان ادا کر رہا ہے۔

*عراق امریکا جنگ*
افغانستان پر حملے کے بعد امریکا کے ہاتھ کھل گئے تھے جس کے بعد اس نے امریکا کو آنکھیں دکھانے والے مسلم عراق کے خلاف جارحیت کا آغاز کیا اور صدر صدام پر ایٹمی ہتھیاروں رکھنے کا الزام کی آڑ میں عراق پر قبضہ کیا اور عراقی تیل پر خوب عیش اڑایا ۔

سانحہ 11 ستمبر 2001اور اس کی آڑ میں افغانستان پر حملے کے بعد بھارت نے بھی اپنے پارلیمنٹ پر حملے کا ڈراما کیا اور امریکا کی طرح پاکستان پر جنگ مسلط کرنے کی کوشش کی جو پاکستان کے سر پر امریکا کا ہاتھ ہونے کی وجہ سے ناکام ہوئی اور بھارت کو خاموش بیٹھنا پڑا ۔

*تہذیبوں کا تصادم*
سانحہ 11 ستمبر 2001 کو بعض دانشوروں اور تجزیہ کاروں نے تہذیبوں کا تصادم قرار دیا ۔ جس کی بنیاد صدر بش کا وہ بیان تھا جس میں انھوں نے سانحہ 11 ستمبر 2001اور اس کے جواب میں کيے گئے افغانستان حملوں کو صلیبی جنگوں کا تسلسل قرار دیا ۔

*عالمی طاقتوں کا توازن*
اسی کی دہائی میں سوویت اتحاد کا شیرازہ بکھرنے کے بعد امریکا کو دنیا کا سپر پاور مانا جا رہا تھا مگر سانحہ 11 ستمبر نے امریکا کے بھی طاقت اور حفاظتی قوانین کا بھرم کھول دیا اور ساتھ ہی دنیا کو یہ احساس دلایا کہ اس دنیا میں پسے ہوئے مسلمان بھی ایک طاقت کا جذبہ لیے ہوئے ہیں۔
( ماخوذ از ویکی پیڈیا اور اپنی یاد داشت )

Comments are closed.