مرکز علم و دانش علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی تعلیمی و ثقافتی سرگرمیوں کی اہم خبریں

 

اساتذہ کا کردار ملک و سماج کی تعمیر میں کلیدی حیثیت رکھتا ہے: پروفیسر وسیم علی

 

علی گڑھ، 11 ستمبر: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے پراکٹر پروفیسر محمد وسیم علی، سکندرآباد،بلندشہر میں مُکُند سروپ شکشا سمیتی اور شری سوامی دیال بھٹناگر شکشا سمیتی کے اشتراک سے منعقدہ ایک اعزازی پروگرام میں بطور مہمان خصوصی شریک ہوئے۔

 

پروفیسر وسیم علی کو اس موقع پر تعلیم اور قانون کے میدان میں ان کی نمایاں خدمات کے اعتراف میں بی آر امبیڈکر ایوارڈ 2025 سے نوازا گیا، جوایک شیلڈ اور توصیفی سند پر مشتمل تھا۔

 

اپنے خطاب میں پروفیسر وسیم علی نے کہا کہ اساتذہ صرف علم کے امین نہیں بلکہ سماج اور قوم کے حقیقی معمار ہیں۔ انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ایسے مخلص اساتذہ کی ضرورت ہے جو طلبہ کی محض نصابی رہنمائی تک محدود نہ رہیں بلکہ ان میں اخلاقی اقدار اور عملی زندگی کی مہارتیں بھی پروان چڑھائیں۔ پروگرام میں اساتذہ، طلبہ اور معزز شخصیات نے شرکت کی اور اساتذہ برادری کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔

 

٭٭٭٭٭٭

 

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں خودکشی کی روک تھام کے عالمی دن پر آگہی پروگرام منعقد

 

علی گڑھ، 11 ستمبر: جواہر لعل نہرو میڈیکل کالج (جے این ایم سی)، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے شعبہ سائیکیاٹری نے خودکشی کی روک تھام کے عالمی دن کے موقع پر ایک بیداری پروگرام منعقد کیا، جس میں اساتذہ اور ماہرین نے خودکشی کی وجوہات، اثرات، اور روک تھام کی حکمت عملیوں پر تفصیلی گفتگو کی۔

 

پروگرام کی مہمانِ خصوصی اے ایم یو کی وائس چانسلر پروفیسر نعیمہ خاتون نے یونیورسٹی کی جانب سے ایک جامع اور معاون تعلیمی ماحول فراہم کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ خودکشی کی روک تھام صرف انفرادی نہیں بلکہ ایک اجتماعی سماجی ذمہ داری ہے، جس میں کنبہ، اساتذہ، طبی ماہرین اور پالیسی سازوں کو مل کر کام کرنا ہوگا۔

 

مہمانِ اعزازی پروفیسر محمد حبیب رضا،ڈین، فیکلٹی آف میڈیسن اور پرنسپل،جے این ایم سی ایچ نے کہا کہ دماغی صحت سے متعلق آگہی کو میڈیکل ایجوکیشن اور کمیونٹی آؤٹ ریچ پروگراموں کا لازمی حصہ بنایا جانا چاہیے تاکہ نفسیاتی بہتری پر بات چیت کو فروغ دیا جا سکے۔

 

افتتاحی خطاب میں شعبہ سائیکیاٹری کے چیئرمین ڈاکٹر محمد ریاض الدین نے ہندوستان میں طلبہ میں خودکشی کے بڑھتے ہوئے رجحان پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے تعلیمی اداروں پر زور دیا کہ وہ دماغی صحت کی سہولیات کو مضبوط کریں، پریشانی کی ابتدائی علامات کی بروقت شناخت کریں، اور فوری مدد فراہم کریں۔

 

اکیڈمک سیشن کے دوران ڈاکٹر فیصل شان نے خودکشی کے اسباب، ابتدائی علامات، اور یونیورسٹی کے اندر اور باہر سپورٹ سسٹم کے قیام کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ انھوں نے کہا کہ بروقت مداخلت اور کھلے مکالمہ سے کئی جانیں بچا سکتی ہیں۔

 

اس موقع پر خودکشی کی روک تھام کے موضوع پر پوسٹر سازی مقابلہ منعقد کیا گیا، جس کے کوآرڈنیٹر ڈاکٹر سرمد عزیز تھے۔ اس میں اوّل انعام تانیا یادو کو، دوم انعام مشترکہ طور سے محمد آصف اور سید محمد موسیٰ کو اور سوم انعام مشترکہ طور سے کاسب ظفر اور مہوش مسعود کو دیا گیا۔

 

اختتامی خطاب میں ڈاکٹر ریاض الدین نے کہا کہ اے ایم یو میں ’ورلڈ سوسائڈ پریوینشن ڈے‘ کی تقریبات عالمی کوششوں کا حصہ ہیں، جن کا ہدف تعلیم، آگہی اور بدنامی کے احساس کے خاتمے کے ذریعے خودکشی کی شرح میں کمی لانا ہے۔ انہوں نے یونیورسٹیوں کو محفوظ جگہیں بنانے کی اپیل کی، جہاں طلبہ بلا خوف و جھجک رہنمائی اور کاؤنسلنگ حاصل کر سکیں۔ پروگرام کی نظامت ڈاکٹر شریا اگروال نے کی، جبکہ شکریہ کی رسم ڈاکٹر جتیندر کمار نے ادا کی۔

 

شعبہ سائیکیاٹری نے طلبہ، اساتذہ، ایڈمنسٹریٹرز اور والدین سے اپیل کی ہے کہ وہ اعلیٰ تعلیمی اداروں میں خودکشی سے متعلق قومی سروے میں شرکت کریں، جو ویب لنک https://ntf.education.gov.in پر دستیاب ہے، تاکہ طلبہ کی دماغی صحت پر ایک جامع قومی پالیسی کی تشکیل کی جاسکے۔

 

٭٭٭٭٭٭

 

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں 15 تا 22 ستمبر ہندی ہفتہ منایا جائے گا

 

علی گڑھ، 11 ستمبر: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) میں سالانہ ہندی ہفتہ 15 ستمبر سے 22 ستمبر تک منایا جائے گا۔ افتتاحی پروگرام 15 ستمبر کو صبح 11 بجے فیکلٹی آف آرٹس لاؤنج میں منعقد ہوگا، جس میں اے ایم یو کی وائس چانسلر پروفیسر نعیمہ خاتون بطور مہمانِ خصوصی شریک ہوں گی، جبکہ پروفیسر سوما بندوپادھیائے،وائس چانسلر، بابا صاحب امبیڈکر ایجوکیشن یونیورسٹی، کولکتہ کلیدی خطاب کریں گی۔

 

سرکاری زبان عمل درآمد کمیٹی اور شعبہ ہندی کے اشتراک سے منعقد ہونے والے اس پروگرام کی صدارت پروفیسر ٹی این ستھیسن،ڈین، فیکلٹی آف آرٹس کریں گے۔اس دوران مختلف مقابلے اور ثقافتی پروگرام منعقد کیے جائیں گے، جن میں بی اے، ایم اے، ریسرچ اسکالرز اور یونیورسٹی کے عملے کے افراد حصہ لے سکتے ہیں۔ مضمون نویسی، سرکاری خط نویسی، اصطلاحاتی معلومات پر مبنی کوئزاور فی البدیہہ تقریری مقابلے سمیت دیگر سرگرمیاں منعقد کی جائیں گی اور فاتحین کو اختتامی تقریب میں انعامات سے نوازا جائے گا۔

 

سرکاری زبان عمل درآمد کمیٹی کی کنوینر اور شعبہ ہندی کی سربراہ پروفیسر تسنیم سہیل نے طلبہ اور عملے کے اراکین سے شرکت کی اپیل کی۔ انہوں نے یہ بھی وضاحت کی کہ وہ افراد جو سرکاری زبان کے کام سے براہ راست وابستہ ہیں، مقابلوں میں شرکت کے اہل نہیں ہوں گے۔

 

پروگرام کوآرڈنیٹر ڈاکٹر پنکج پراشر نے اے ایم یو برادری سے اپیل کی کہ وہ پروگرام کو کامیاب بنانے میں اپنا فعال کردار ادا کریں۔ مقابلوں میں شرکت کے لیے شعبہ ہندی کے دفتر میں 13 ستمبر 2025 تک رجسٹریشن کرایاجاسکتا ہے اور مزید معلومات حاصل کی جاسکتی ہیں۔

 

٭٭٭٭٭٭

 

اے ایم یو کے ریسرچرز نے اورل کینسر کی اسکریننگ کے لیے جدید تھرمل ا سکینر کے لئے پیٹنٹ حاصل کیا

 

علی گڑھ، 11 ستمبر: ڈاکٹر ضیاء الدین احمد ڈینٹل کالج، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے شعبہ پیریوڈونشیا و کمیونٹی ڈینٹسٹری کے ریسرچرز ڈاکٹر سید امان علی (پرنسپل اِنوینٹر)، اسسٹنٹ پروفیسر، پبلک ہیلتھ ڈینٹسٹری، پروفیسر این ڈی گپتا، پیریوڈونٹولوجی، پروفیسر نیہا اگروال، پبلک ہیلتھ ڈینٹسٹری اور ڈاکٹر احمد شعیب ہاشمی، جونیئر ریزیڈنٹ (سال دوم)، پیریوڈونٹولوجی پر مشتمل ٹیم نے اپنی ایجاد ”اورل کینسر اسکریننگ تھرمل ا سکینر“ کے لیے پیٹنٹ حاصل کیا ہے۔

 

یہ تھرمل ا سکینر ایک ہائی ریزولوشن انفراریڈ تھرمل سینسر، مائیکرو کنٹرولر، اور ریئل ٹائم ڈیٹا پروسیسنگ ماڈیول کو یکجا کرتا ہے۔ یہ آلہ درجہ حرارت میں غیر معمولی تبدیلیوں کا پتہ لگا کر ابتدائی مرحلے میں منھ میں کینسر سے قبل کے خطرناک زخموں کی تشخیص میں مدد دیتا ہے،جس سے کینسر کی شناخت ہوسکتی ہے۔ اس آلے کو آسانی سے کہیں بھی لے جایا جاسکتا ہے چنانچہ یہ کلینیکل اور کمیونٹی دونوں ماحول میں استعمال کے قابل ہے۔

 

شعبہ کی سربراہ پروفیسر نیہا اگروال نے اس کامیابی کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ ایجادمنھ کی صحت کی دیکھ بھال کے شعبہ کے لئے ایک اہم قدم ہے اور سماجی لحاظ سے مفیدو کارآمد تحقیق کے تئیں شعبہ کے عزم کو ظاہر کرتی ہے۔

 

ڈینٹل کالج کے پرنسپل پروفیسر آر کے تیواری نے ٹیم کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ یہ پیٹنٹ قومی صحت کے اہم مسائل کو حل کرنے والی ٹرانسلیشنل ریسرچ کے تئیں کالج کے عزم کا ثبوت ہے۔

 

٭٭٭٭٭٭

 

اے ایم یو کے جواہر لعل نہرو میڈیکل کالج نے قومی مہم کے تحت 100 ٹی بی مریضوں کو گود لیا

 

علی گڑھ، 11 ستمبر: جواہر لعل نہرو میڈیکل کالج و اسپتال، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے شعبہ تپ دق و امراض سینہ نے حکومت ہند کی مہم کے تحت ایک قابلِ تحسین اقدام کرتے ہوئے 100 ٹی بی مریضوں کو گود لیا اور انہیں غذائی معاونت کے طور پر ”پوشن پوٹلی“ فراہم کی۔

 

صدر شعبہ اور ریاستی ٹاسک فورس برائے تپ دق کے وائس چیئرمین پروفیسر محمد شمیم نے اس اقدام کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا ”ہم یہ اعلان کرتے ہوئے خوشی محسوس کر رہے ہیں کہ 100 ٹی بی مریضوں کو گود لیا گیا ہے، تاکہ انہیں مسلسل غذائی مدد فراہم کی جا سکے۔ ’پوشن پوٹلی‘ کے ذریعے ہم غذائیت اور صحت یابی کے درمیان مضبوط تعلق کو اجاگر کر رہے ہیں، اور خدمت و ذمہ داری کے اپنے اجتماعی جذبے کو عملی جامہ پہنا رہے ہیں“۔

 

انہوں نے بتایا کہ اس انسانی خدمت پر فی مریض اوسط خرچ 450 روپے ہے۔ انہوں نے اے ایم یو کے اساتذہ، عملہ کے اراکین، طلبہ اور یونیورسٹی برادری سے اپیل کی کہ وہ دل کھول کر اس نیک کام میں حصہ لیں۔

 

اے ایم یو وائس چانسلر پروفیسر نعیمہ خاتون نے اس موقع پر تہنیتی پیغام دیتے ہوئے کہا ”میں جے این میڈیکل کالج کے شعبہ تپ دق و امراض سینہ کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتی ہوں کہ انہوں نے 100 ٹی بی مریضوں کو گود لے کر انہیں غذائی امداد فراہم کی۔ یہ اقدام صحت عامہ، ہمدردی، اور سماجی ذمہ داری کے حوالے سے اے ایم یو کے عزم کی عکاسی کرتا ہے اور تپ دق کے خاتمے کے لیے قومی مہم کو تقویت دیتا ہے“۔

 

یہ مہم نہ صرف مریضوں کی دیکھ بھال اور کمیونٹی سے وابستگی کے میدان میں شعبے کی لگن کو ظاہر کرتی ہے، بلکہ انسانیت کی خدمت کے حوالے سے اے ایم یو کی طویل روایت کو بھی نمایاں کرتی ہے۔

 

٭٭٭٭٭٭

 

اے ایم یو کی وائس چانسلر پروفیسر نعیمہ خاتون، انڈین نیشنل سائنس اکیڈمی کی فیلو منتخب

 

علی گڑھ، 11 ستمبر:علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کی وائس چانسلر اور نفسیات کی استاد پروفیسر نعیمہ خاتون کو باوقار انڈین نیشنل سائنس اکیڈمی (آئی این ایس اے) کا فیلو منتخب کیا گیا ہے۔ اس کا باضابطہ اعلان 9 ستمبر 2025 کو اکیڈمی کے سالانہ جنرل اجلاس میں کیا گیا۔

 

یہ فیلوشپ یکم جنوری 2026 سے مؤثر ہوگی۔ اسے ہندوستان میں سائنس اور علمی میدان کے اعلیٰ ترین اعزازات میں شمار کیا جاتا ہے۔ 1935 میں قائم ہونے والے یہ اکیڈمی اُن ممتاز ماہرین کو اپنا فیلو منتخب کرتی ہے جنہوں نے اپنے شعبہ جات میں نمایاں علمی خدمات انجام دی ہوں اور جن کے تجربے و مہارت سے اکیڈمی کے پروگرام اور منصوبوں کو فائدہ پہنچنے کی امید ہو۔

 

اکیڈمی نے پروفیسر خاتون کو ارسال کردہ پیغام میں کہا کہ اُن کا وسیع تجربہ اور عمیق علمی مہارت اکیڈمی کے مقاصد کے لیے انتہائی مفید ثابت ہوگی، اور اُن کا انتخاب ادارے کو نئی علمی بلندیوں تک لے جانے میں مددگار ہو گا۔

 

اکیڈمی اپنی روایت کے مطابق، نومنتخب فیلوز کو سالانہ جنرل اجلاس میں خطبہ دینے کے لئے مدعو کرتی ہے، جہاں اُنہیں باضابطہ طور پر بطور فیلو شامل کیا جاتا ہے۔پروفیسر نعیمہ خاتون کو یکم تا 6 دسمبر 2025 نئی دہلی میں منعقد ہونے والے اجلاس میں شرکت کے لیے مدعو کیا گیا ہے۔

 

اس اعزاز پر اظہارتشکر کرتے ہوئے پروفیسر نعیمہ خاتون نے کہا کہ انڈین نیشنل سائنس اکیڈمی کی جانب سے یہ ان کے لئے ایک گرانقدر اعزاز ہے، جو نہ صرف ایک ذاتی حصولیابی ہے بلکہ علم کی نشو و نما او رملک کی تعمیر و ترقی کے تئیں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے پختہ عزم کابھی اعتراف ہے۔ یہ فیلوشپ انھیں ملک میں اعلیٰ تعلیم و تحقیق کے نظام کو مزید مستحکم بنانے کے لیے کام کرنے کی تحریک دے گی۔

 

اے ایم یو کے پرو وائس چانسلر پروفیسر محمد محسن خان نے اپنے تہنیتی پیغام میں کہا ”پروفیسر نعیمہ خاتون کاآئی این ایس اے کی فیلو کے طور پر انتخاب یونیورسٹی کے لیے فخر کا لمحہ ہے۔ یہ نہ صرف اُن کی انفرادی علمی خدمات کا اعتراف ہے بلکہ اے ایم یو کے تحقیقی و تعلیمی امتیاز کا مظہر بھی ہے“۔

 

دفتر رابطہ عامہ کی ممبر انچارج پروفیسر وبھا شرما نے بھی اس حصولیابی پر مسرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا ”یہ انتخاب علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے لیے باعث فخر و مسرت ہے اور اعلیٰ تعلیم، تحقیق اور علمی قیادت میں پروفیسر نعیمہ خاتون کی طویل خدمات کو خراجِ تحسین ہے۔ اے ایم یو کو فخر ہے کہ اس کے پاس ایک عظیم علمی شخصیت بحیثیت قائد موجود ہے“۔

 

٭٭٭٭٭٭

پروفیسر عاصم ظفر، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے نئے رجسٹرار مقرر

 

علی گڑھ، 11 ستمبر: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے شعبہ کمپیوٹر سائنس کے سینئر فیکلٹی ممبر پروفیسر ڈاکٹر عاصم ظفر کو یونیورسٹی کا نیا رجسٹرار مقرر کیا گیا ہے۔ انھوں نے سبکدوش ہونے والے رجسٹرار جناب محمد عمران آئی پی ایس سے آج عہدے کا چارج سنبھالا۔

 

پروفیسر عاصم ظفر کو قومی و بین الاقوامی سطح پر 29 سال سے زائد کاتدریسی، تحقیقی اور انتظامی تجربہ حاصل ہے۔ انہوں نے اے ایم یو سے کمپیوٹر سائنس اینڈ اپلیکیشنز میں ماسٹرز اور پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ ان کی تحقیق کا دائرہ وسیع ہے، جس میں موبائل ایڈ ہاک اور سینسر نیٹ ورکس، امیج پروسیسنگ اور ویڈیو اینالیٹکس، انفارمیشن ریٹریول، ای سسٹمز، ای سیکیورٹی، ورچوئل لرننگ انوائرمنٹ، نیورو فزی اور سافٹ کمپیوٹنگ اور سافٹ ویئر انجینئرنگ جیسے موضوعات شامل ہیں۔ وہ 100 سے زائد تحقیقی مضامین شائع کر چکے ہیں اور اب تک 11 پی ایچ ڈی اسکالرز کی رہنمائی کر چکے ہیں۔

 

پروفیسر ظفر نے ملک گیر سطح پر فیکلٹی ڈیولپمنٹ پروگرامز، ریفریشر کورسز اور اورینٹیشن پروگرامز میں بطور ریسورس پرسن خطبات دئے ہیں اور خاص طور سے کووِڈ 19کے دوران 5000 سے زائد اساتذہ کو آئی سی ٹی پر مبنی تدریس اور ای لرننگ کی تربیت دی۔

 

انہوں نے کنگ عبدالعزیز یونیورسٹی، جدہ میں اپنی پانچ سالہ بین الاقوامی تدریسی خدمات کے دوران تین تحقیقی منصوبوں کو کامیابی سے مکمل کیا اور فیکلٹی آف کمپیوٹنگ اینڈ انفارمیشن ٹکنالوجی کو اے بی ای ٹی ایکریڈیشن دلانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ وہاں انہیں ”ایکسلینس اِن ٹیچنگ ایوارڈ“ سے بھی نوازا گیا۔

 

اے ایم یو میں پروفیسر عاصم ظفر نے آئی سی ٹی انفراسٹرکچر ڈیولپمنٹ اور اکیڈمک ایڈمنسٹریشن میں نمایاں خدمات انجام دی ہیں۔ وہ شعبہ کمپیوٹر سائنس کے چیئرمین رہ چکے ہیں اور فی الوقت ایس ڈی (ڈیولپمنٹ)، یوجی سی- سویم کوآرڈینیٹر، اگنو اسٹڈی سینٹر کوآرڈینیٹراور یونیورسٹی ویب سائٹ کمیٹی اور ڈیجیٹل مانیٹرنگ سیل کے کنوینر ہیں۔ ان کی قیادت میں اے ایم یو کے اساتذہ نے 2024 اور 2025 میں سویم پلیٹ فارم پر 75 نئے موکس کورسیز لانچ کیے۔

 

انہوں نے وزارت تعلیم سے اعانت یافتہ نیشنل مشن آن ایجوکیشن تھرو آئی سی ٹی-ایڈ آر پی پروجیکٹ کے کامیاب نفاذ میں اہم کردار ادا کیا، جس کے تحت اے ایم یو نے کثیر لسانی لائبریری مینجمنٹ سسٹم (لِب ایم ایس) اور الیکشن مینجمنٹ سسٹم (ای ایم ایس) تیار کیے۔

 

اے ایم یو وائس چانسلر پروفیسر نعیمہ خاتون نے سبکدوش ہونے والے رجسٹرار جناب محمد عمران آئی پی ایس کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا ”ان کی مخلصانہ خدمات اور ذمہ داریوں کی مؤثر انجام دہی نے یونیورسٹی کی ترقی اور بہتر حکمرانی میں اہم کردار ادا کیا ہے“۔وائس چانسلر نے پروفیسر عاصم ظفر کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا ”ان کا طویل تدریسی و انتظامی تجربہ یونیورسٹی کے لیے قیمتی اثاثہ ثابت ہوگا“۔

 

پرو وائس چانسلر پروفیسر ایم محسن خان نے بھی پروفیسرعاصم ظفر کو مبارکباد پیش کی اور جناب محمد عمران آئی پی ایس کی انتھک خدمات کو سراہا، جنہوں نے اپنی مدتِ کار کے دوران یونیورسٹی کی ترقی میں مثبت کردار ادا کیا۔

Comments are closed.