اسرائیل کی کمزور ہوتی گرفت اور فلسطین کی ابھرتی ہوئی مزاحمت

 

مشرف شمسی

چراغ جب بجھنے لگتا ہے تو اس کی لو تیز بھبھکنے لگتی ہے۔ یہی کیفیت آج اسرائیل پر منطبق ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ دنیا کی جدید ترین ٹیکنالوجی اور مہلک ہتھیاروں سے لیس اسرائیلی افواج محض 45 کلو میٹر کے علاقے غزہ میں فلسطینی مزاحمت کو ختم کرنے میں ناکام رہی ہیں۔ اپنی اس جھنجھلاہٹ اور شکست کو چھپانے کے لیے اسرائیل کبھی شام پر بمباری کرتا ہے، کبھی لبنان کو نشانہ بناتا ہے اور اب تو قطر تک کو دھمکانے لگا ہے تاکہ دنیا کو یہ باور کرا سکے کہ اسرائیلی فوج اب بھی ناقابلِ شکست ہے اور اس کی خفیہ ایجنسی "موساد” دنیا کی بہترین ایجنسی ہے۔ لیکن حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ اگر امریکہ اور یورپ کی خفیہ ایجنسیاں موساد کی مدد نہ کریں تو اسرائیل کی یہ مشہور ایجنسی محض ایک کاغذی شیر سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتی۔

 

خلیج میں امریکہ اور یورپی طاقتوں کی موجودگی کی بدولت ہی اسرائیل یہاں وہاں حملے کرنے کی ہمت جٹا پا رہا ہے۔ ورنہ جہاں کہیں اسرائیلی افواج کو زمین پر براہِ راست مزاحمت کا سامنا کرنا پڑتا ہے، وہاں اسرائیل کی کمزوری کھل کر دنیا کے سامنے آ جاتی ہے۔ اسرائیل اپنی فضائیہ پر بڑا ناز کرتا ہے لیکن ایران کے میزائل حملوں نے اسرائیل میں ایسی تباہی مچائی کہ محض بارہ دنوں میں اسرائیل کو جنگ بندی کی درخواست کرنا پڑی۔ اب بھی جیسے جیسے جنگ آگے بڑھ رہی ہے، اسرائیلی وزیراعظم پر عوامی دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔

 

دوسری جانب یمن کے حوثی باغیوں کے مسلسل حملے اور حزب اللہ کے ممکنہ وار کا خوف اسرائیل کو اندر سے کھوکھلا کر رہا ہے۔ ملک کے کئی حصے خالی ہو رہے ہیں، شہری نقل مکانی پر مجبور ہیں اور اسرائیلی حکومت اندرونی خلفشار کا شکار ہے۔

 

یہ جنگ اسرائیل کے لیے جیتنا ناممکن ہے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ اسے ایک ایسی قوم کا سامنا ہے جس کی عورتیں، بچے اور جوان سب موت سے نہیں ڈرتے۔ وہ جانتے ہیں کہ ان کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔ جو قوم موت سے نہ ڈرے، اس کو شکست دینا ناممکن ہوتا ہے۔ اس کے برعکس اسرائیلی فوجی جنگ میں یہ سوچ کر جاتے ہیں کہ جدید ٹیکنالوجی اور دفاعی نظام ان کی جان کو بچا لے گا۔ جب یہ بھرم ٹوٹتا ہے تو اسرائیلی فوجیوں کے حوصلے بھی پست ہو جاتے ہیں۔

 

نیتن یاہو اس بات کو بخوبی سمجھتا ہے کہ اگر غزہ میں مستقل جنگ بندی ہو گئی تو فلسطینی مزاحمت بھی مستقل بنیادوں پر قائم ہو جائے گی۔ یہی وجہ ہے کہ اسرائیل بضد ہے کہ حماس پہلے ہتھیار ڈالے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اگر ہتھیار ڈالنا ہی مقصود ہوتا تو پورے غزہ کو کھنڈر بننے اور لاکھوں فلسطینیوں کے مارے جانے کے بعد کیوں مزاحمت جاری رہتی؟ فلسطینیوں کے لیے اب یہ صرف زمین کا مسئلہ نہیں رہا بلکہ ان کی زندگی اور موت کا سوال ہے۔

 

فلسطینی مزاحمت نے نہ صرف قابض افواج کو لرزا کر رکھ دیا ہے بلکہ اسرائیلی معاشرے میں بھی خوف اور بے یقینی پیدا کر دی ہے۔ اسرائیل روزانہ درجنوں فلسطینیوں کا قتل عام کر رہا ہے لیکن غزہ کے لوگ اب بھی ڈٹے ہوئے ہیں۔ یہی ثابت قدمی مستقبل کی تصویر ہے۔ مستقل جنگ بندی کے بعد اسرائیل کو نہ صرف غزہ سے پسپا ہونا پڑے گا بلکہ فلسطینیوں کے ساتھ برابری کی بنیاد پر بات چیت بھی کرنا ہوگی۔ اس جنگ کا حتمی انجام آزاد اور خودمختار ریاستِ فلسطین کا قیام ہی ہوگا۔

 

فلسطینیوں کا خون رائیگاں نہیں جائے گا۔ گریٹر اسرائیل کا خواب اب کبھی حقیقت نہیں بن سکتا۔ اسرائیل مصر، اردن، قطر یا سعودی عرب جیسے ممالک سے سفارتی معاملات طے کر سکتا ہے لیکن حماس اور حوثی جیسی تحریکوں کو شکست دینا اس کے بس میں نہیں۔ اس لیے کہ یہ تحریکیں اپنے مقصد کے حصول کے لیے مرنے اور مارنے پر تُلی ہوئی ہیں، انہیں مقابلے کی طاقت سے ڈر نہیں لگتا۔

 

امریکہ اور اسرائیل دونوں چاہتے ہیں کہ یہ جنگ جلد از جلد ختم ہو جائے، لیکن اپنی شرائط پر۔ مگر وقت بدل چکا ہے۔ فلسطینیوں نے اپنی قربانیوں سے دنیا کو یہ دکھا دیا ہے کہ اب جنگ بندی صرف اسرائیلی شرائط پر ممکن نہیں۔

 

23 ستمبر کو اقوامِ متحدہ کا اجلاس شروع ہونے جا رہا ہے۔ امکان ہے کہ اس اجلاس میں دنیا کے کئی طاقتور ممالک فلسطین کو باضابطہ طور پر ایک ریاست تسلیم کریں گے۔ یہی وجہ ہے کہ اسرائیل اس تاریخ سے پہلے کوئی بڑا قدم اٹھانا چاہتا ہے تاکہ حماس کو بیک فٹ پر لے جا کر اپنی شرائط پر جنگ بندی منوا سکے۔ لیکن موجودہ حالات میں یہ خواب کبھی پورا نہیں ہو سکتا۔

 

دنیا کے سامنے اسرائیل اور امریکہ کا بھرم ٹوٹ چکا ہے۔ فلسطینی مزاحمت اس وقت ایک نئی تاریخ رقم کر رہی ہے۔ یہ جنگ صرف غزہ کی جنگ نہیں بلکہ ایک آزاد فلسطین کی نوید ہے۔

میرا روڈ ،ممبئی

موبائیل9322674787

 

Comments are closed.