یہ عبادت ہے کہ جہالت ؟؟؟

 

احساس نایاب شیموگہ ۔۔۔۔

ایڈیٹر گوشہ خواتین و اطفال بصیرت آن لائن

اسلام ایک ایسا دین ہے جو توازن، عقل، اور انسانیت کا مذہب ہے۔ جہاں نماز فرض ہے، وہیں انسانی جان کی حرمت اس سے بھی زیادہ بلند مقام رکھتی ہے ۔۔۔۔

بدقسمتی سے کچھ مواقع پر عبادت کی ظاہری شکل کو اس قدر مقدس بنا دیا جاتا ہے کہ انسانیت پس پشت چلی جاتی ہے۔

 

حال ہی میں سوشیل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی ہے جس میں ایک مولانا صاحب بچوں کو نماز کا طریقہ سکھاتے ہوئے بچوں کو اس بات پر روک رہے ہیں کہ نماز کے دوران بےہوش ہونے والے امام کی مدد کو نہ دوڑے ۔۔۔۔

اُن کے مطابق "نماز مکمل کرو انسان بعد میں سنبھال لینا "۔۔۔

سوال یہ ہے

اگر نماز مکمل ہونے تک وہ انسان مر جائے، تو کیا یہ دین ہے یا جہالت ؟؟؟

 

آخر یہ صاحب بچوں کو کونسا دین سکھا رہے ہیں ؟؟؟

 

جبکہ قرآن میں واضح فرمان ہے

( سورہ المائدہ آیت نمبر 32 )

جس نے ایک انسان کی جان بچائی، گویا اُس نے پوری انسانیت کو بچا لیا )

یہ آیت واضح کرتی ہے کہ جان بچانا اسلام کا بنیادی حکم ہے ، خواہ وہ نماز کے دوران ہو یا کسی بھی وقت ۔۔۔

 

اگر ہماری نماز ہمیں اتنا خودغرض بنا دے کہ گرتے ہوئے انسان کی جان بچانے سے زیادہ ہمیں رکوع و سجود کی ترتیب عزیز لگے، تو یقین جانیں ہم عبادت نہیں کر رہے — بلکہ عبادت کے نام پر ریاکاری اور جہالت میں مبتلا ہیں۔

ایک مومن کبھی اتنا بےحس اور خودغرض نہیں ہو سکتا کہ کسی کو مرتا ہوا دیکھ کر بھی صرف اپنے ثواب کی فکر میں رہے۔۔۔۔

 

کیونکہ نماز کا مقصد دلوں کو جھکانا ہے نہ کہ پیشانیاں جھکاکر ماتھے پر نشان بنانا ۔۔

اور اگر سجدوں مین گر کر بھی آپ کے دل نرم نہ ہوں آپ کے اندر انسانیت نہ جاگے اور آپ انسانی جان کی حرمت نہ سمجھ پائے تو بیشک آپ کی عبادت بھی جہالت کہلائے گی ۔۔۔

جبکہ دین اسلام کا مقصد دنیا سے جہالت کو مٹانا ہے ۔۔۔۔۔۔

 

یاد رہے نماز وہی ہے جو دلوں کو نرم کرے، جو انسانیت کی خدمت سکھائے، جو غفلت سے جگائے، نہ کہ بےحسی میں دھکیل دے۔

 

ایسی تعلیم یا نماز جو انسان کو صرف ظاہری حرکات، جیسے رکوع، سجدے، یا الفاظ کی ادائیگی پر زور دینا سکھائے مگر اس کی روح، خشوع، خضوع، اخلاق اور انسانیت کو نہ جگائے وہ دین کا مقصد نہیں بلکہ دین کی ناسمجھی ہے ۔۔۔

 

خدارا دین کے اصل پیغام کو پہچانیں عبادت وہی ہے جو انسان کو انسان بنائے، نہ کہ روبوٹ ۔۔۔

نماز اگر نہ جگائے ضمیر ۔۔۔۔

تو وہ صرف ایک عمل ہے، بے تاثیر ۔۔۔۔

Comments are closed.