امارت شرعیہ کی ریلیف ٹیم نے صوبہ پنجاب پہنچ کر سیلاب سےمتاثر علاقوں کا دورہ کیا

 

لدھیانہ میں ستلج کے کنارے کٹاؤ کاسلسلہ جاری امارتِ شرعیہ کی ٹیم کا حکومت ہندسےفوری امداد کا مطالبہ

 

لدھیانہ، پنجاب-13 ستمبر (پریس ریلیز)

حضرت امیر شریعت مولانا سید احمد ولی فیصل رحمانی دامت برکاتہم کی ہدایت پر امارتِ شرعیہ کا ایک وفد پنجاب کے سیلاب متاثرہ علاقوں کی راحت رسانی کے لیے روانہ ہوا، وفد کی قیادت حضرت مولانا مفتی محمد سہراب ندوی قاسمی نائب ناظم امارت شرعیہ اور مولانا احمد حسین قاسمی مدنی معاون ناظم امارتِ شرعیہ کر رہے ہیں۔

13 افراد پر مشتمل اس وفد میں مولانا عبداللہ جاوید ثاقبی، مبلغِ امارتِ شرعیہ مولانا خالد انور قاسمی ، جامعہ رحمانی خانقاہ مونگیرکے استاذ جناب مولانا عبدالعلیم رحمانی ازہری، مفتی محمد نشاط احمد ندوی قاسمی اور جامعہ رحمانی کے معھد الریادۃ کے چند طلبہ بھی شامل ہیں ؛جبکہ رہنمائی کا فریضہ جناب مفتی نوشیر احمد مظاہری ناظم جامعہ اسلامیہ حفظ القران لدھیانہ انجام دے رہے ہیں۔

وفد نے مورخہ 12 ستمبر 2025 بعد نماز جمعہ لدھیانہ کے مضافات میں دریائے ستلج کے کنارے پہنچ کر پانی کے تیز بہاؤ اور اس سے ہونے والی تباہ کاریوں کا جائزہ لیا۔ لاکھوں ایکڑ زمین اورکھیتیاں زیرِ آب آ چکی ہیں، مکانات دریا برد ہو رہے ہیں اور عوام اپنی مدد آپ کے تحت جد و جہد کر رہے ہیں؛ مگر سرکاری تعاون کا فقدان ہے،اس موقع پر عمارت شرعیہ کے وفد نے باندھ پر موجود تقریبا سو لوگوں سے ملاقات کی جن میں سے اکثر کا کہنا یہ تھا کہ ہماری بڑی مقدار میں زمینیں تھیں اور اس میں ہماری فصلیں لگی ہوئی تھیں ایک بزرگ اور سن رسیدہ سکھ سے ملاقات ہوئی جن کا یہ کہنا تھا کہ ہماری 100 ایکڑ زمین یہاں پر آباد تھی جو تمام کی تمام دریا میں کٹ گئی جبکہ مورخہ 13 ستمبر 2025 کو ضلع کپور تلا کی مذکورہ آبادیوں کا جائزہ لیا گیا جن میں سروپوال، شیخ مانگا،اندر پورا،سلطانپورلودھی،باہو پور،سالگرہ اورچک پورہ قابل ذکر ہیں دریائے بیاس سے یہاں پر ہونے والی تباہی سے 16 بستیاں متاثر ہوئی ہیں ایک ایک بستی کی آبادی 300 مکانات پر مشتمل ہے یہ تمام لوگ کاشتکار ہیں جو قرض پر پیسے لے کر دھان کی فصلوں کو آباد کرتے ہیں ان تمام کی کھیتیوں کے ضائع ہو جانے کی وجہ سے ان پر بڑی مصیبت آپڑی ہے،مقامی لوگوں سے معلومات حاصل کرنے کے بعد معلوم ہوا کہ صرف اس حلقے میں سات ہزار ایکڑزمین کی فصلیں تباہ ہوئی ہیں،دوسری طرف اکثر آبادیوں سے لوگ اپنے مکانات چھوڑ کر اونچی جگہوں پر پناہ لیے ہوئے تھے، پانی کم ہونے پر لوگ اپنے گھروں کا رخ کرنا چاہ رہے ہیں؛ مگر ان کے گھروں میں ریت ، خس و خاشاک اورگندگیاں بھری ہوئی ہیں ان کو صاف کرنے کے لیے وہ کافی پریشان نظر آ رہے ہیں، اسی طرح جہاں جہاں راستے ٹوٹ گئے ہیں ان لوگوں کی ضرورت ہے کہ ان راستوں پر مٹی ڈال کر آنے جانے کے قابل بنایا جائے۔

وفدامارت شرعیہ مزید امرتسر سمیت دیگر اضلاع کے مختلف متاثرہ علاقوں کا بھی دورہ کے ذریعے نقصانات اور لوگوں کی ضروریات کا جائزہ لے گی اور متاثرین کی امداد وخانہ بحالی کے کاموں میں شریک ہوگی۔

اس موقع پر امارتِ شرعیہ عوام سے اپیل کرتی ہے کہ دل کھول کر متاثرین کی مدد کریں بڑی تعداد میں لوگ بے گھر ہیں، پانی کم ہونے کی وجہ سے اب لوگ گھروں کا رخ کرنا چاہتے ہیں؛ مگر گھر کے تمام اثا ثہ جات پانی میں بہہ چکے ،مویشی ختم ہو گئے، کھیتیاں تباہ ہو گئیں اور لوگوں کے اربوں روپے کے املاک سیلاب کی نذر ہو گئے، ایسے میں لوگوں کے تعاون کے لیے توقع سے زیادہ رقو مات اور اخراجات کی ضرورت درپیش ہے۔

 

امارت شرعیہ کی راحت رسانی کی یہ ٹیم حکومت سے مطالبہ کرتی ہے کہ فوری طور پر راحت رسانی اور خانہ بحالی کےلیے مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ کسانوں اور غریب متاثرین کو اس بھاری نقصان میں سہارا مل سکے۔

واضح رہے کہ امارت شرعیہ ہاسپیٹل سے جناب ڈاکٹر یاسر حبیب صاحب کی سرکردگی میں ڈاکٹروں کی ایک جماعت سیلاب متاثرہ علاقوں میں طبی امداد کے لیے روانہ ہو رہی ہے۔

مرکزی دفتر سے امارت شرعیہ کے ناظم اعلی حضرت مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی صاحب ارکان وفد سے مسلسل رابطے میں ہیں اور قدم بقدم رہنمائی کا فریضہ انجام دے رہے ہیں حضرت امیر شریعت مدظلہم بھی بے حد فکرمند ہیں اور وفد کوہدایت دے رہے ہیں کہ زیادہ سے زیادہ متاثرین کی امداد کو یقینی بنایا جائے اور عام لوگ بڑھ چڑھ کر امارت شرعیہ کے ریلیف فنڈ میں اپنا مخلصانہ تعاون پیش کریں ؛ تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگوں تک امدادی سامان پہنچایا جا سکے.

Comments are closed.