جمعہ نامہ : ایک ہوجائیں تو بن سکتے ہیں خورشیدِ مبیں
ڈاکٹر سلیم خان
ارشادباری تعالیٰ ہے:’’ تم سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ میں نہ پڑو‘‘۔ اس آیت میں اپنے مومن بندوں کو باہمی اتحادو اتفاق قائم کرنے اور تفرقہ بازی سے بچنے کی تلقین فرمائی گئی ہے۔ اس کا فائدہ یہ بتایا گیا کہ :’’ اپنے اوپر اللہ کی اس نعمت کو یاد کرو جب تم دشمن تھے تو اس نے تمہارے دلوں میں الفت پیدا کر دی، اور تم اس کی نعمت سے آپس میں بھائی بھائی ہوگئے‘‘ یعنی محبت و الفت کی نعمتِ خداوندی کےبرعکس نفرت و عناد ایسی زحمت ہے جس کے سبب :’’ تم آگ کے گڑھے کے کنارے پر تھے پھر اس نے تمہیں بچا لیا‘‘۔ یہاں دنیا و آخرت دونوں کی آگ مراد ہے کیونکہ باہمی لڑائی سے دنیا بھی جہنم زار ہوجاتی ہے اور اخروی تباہی کا دروازہ بھی کھل جاتا ہے۔ آپسی بھائی چارہ و ہمدردی بہی خواہی کی بابت بالآخر یہ فرمایا کہ : ’’یوں ہی اللہ تمہارے لئے اپنی نشانیاں کھول کر بیان فرماتا ہے تاکہ تم ہدایت پا جاؤ۔‘‘عصرِ حاضر میں غزہ پر اسرائیلی مظالم نے یہ نشانی جزوی طور پر اور قطر پر حملے نے اسےمکمل کھول دیا ۔ ابراہیم اکارڈ کے نام پر اسرائیل کے ساتھ پینگیں بڑھانے والے مسلم ممالک کو سمجھ میں یہ حکم خداوندی آگیا کہ : ’’اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اور آپس میں جھگڑا مت کرو، ورنہ بزدل ہو جاؤ گے اور تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی‘‘۔
9؍ستمبر کو قطر میں اسرائیلی حملہ کی تمام مسلم ممالک نے متحد ہوکر مذمت کی ۔ اب دوحہ کے اندر اعلیٰ سطحی کانفرنس میں تمام مسلم سربراہان سرجوڑ کرمشرق وسطیٰ میں اسرائیل کی بڑھتی ہوئی جارحیت پر سنجیدگی سے غورو فکر کرنے والے ہیں ۔ مصر جیسا امریکہ نواز کہہ رہا ہے کہ اگر ایسا حملہ اس پر ہوا تو وہ بھی جوابی کارروائی کرےگا کیونکہ اسے اندیشہ ہے کہ اسرائیل کا اگلا ہدف وہ ہوگا۔ مصر نے اسرائیلی حملے کو براہ راست چیلنج اور اعلان جنگ تصور کرکے منہ توڑ جواب دینے کا اعلان کردیا ۔ یہ جرأت مندانہ مگر عارضی اور دفاعی حکمتِ عملی اسرائیل کو مصر پر نگاہ ڈالنے سے باز رکھ سکتی ہے مگر اس کی جانب سے مسلم ممالک کے سامنے ناٹو جیسے فوجی اتحاد یعنی مشترکہ فوجی قوت بنانے کی تجویز اسرائیل کے لیے موت کا پیغام ہے۔ مصری حکام نے قطر پر حملے کو وہ کھلی جارحیت تصور قرار دیا تو اس کی تجویز کو ایران و عراق کی حمایت حاصل ہوگئی اس طرح شیعہ-سنی اختلاف یاا مریکہ و روس نوازی کی دیوار میں دراڑ پڑ گئی ۔ ترکیہ اس معاملے میں پر جوش ہے اور سعودی عرب کے اندر بھی اس حوالے بیداری اور تبدیلی نمایاں ہے ۔ اسرائیل کے حملے نے اس خیال کو پختہ کردیا ہے کہ تمام مسلم ممالک کا متحد ہوکر مشترکہ حکمت عملی اپنانا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ تو حید کی علمبردار اس امت کےخمیر میں اتحاد کا عنصر کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے علامہ اقبال اس جانب یوں اشارہ فرماتے ہیں؎
نرالا سارے جہاں سے اس عرب کے معمار نے بنایا بناء ہمارے حصار ملت کی اتحادِ وطن نہیں
ارشادِ فرقانی ہے : ’’بیشک یہ تمہاری ملت ہے، ایک ہی ملت ہے اور میں تمہارا رب ہوں پس تم میری عبادت کیا کرو ‘‘۔ یہ ایک آیت علاقائیت، قومیت، برادریوں کی بنیاد پر اٹھائی جانے والی اختلافات کی دیواروں کو ڈھانے کے لیے کافی ہے بشرطیکہ اس پر اخلاص کے ساتھ عمل کیا جائے۔ رسول اکرم ﷺ کی یہ حدیث زبان زدِ عام ہے کہ : ’’تم مومنوں کوآپس میں ایک دوسرے کے ساتھ رحمت و محبت کا معاملہ کرنے اور باہم مہربانی اورنرم دلی کے حوالے سے ایک جسم جیسا پاؤ گے، جب اس جسم کا کوئی حصہ بھی تکلیف میں ہوتا ہے تو سارا جسم تکلیف میں ہوتا ہے اور اس کی ساری رات بیداری اور بخار میں گزرتی ہے‘‘ ۔ اسرائیل کے غزہ پر فوج کشی کے بعد اس کا وقتی و زبانی اظہار تو خوب ہوا مگر بدقسمتی سے کوئی ٹھوس اور پائیدا ر عملی اقدام نہیں ہوسکا اب قطر پر حملے نے اس جانب پیش رفت نظر آرہی ہے۔ خوابِ غفلت میں مبتلا مسلم حکمرانوں کو نبیٔ مکر م ﷺ کی یہ نصیحت یاد آرہی ہے کہ : ’’یقیناً مومن آپس میں مضبوط بنیاد کی طرح ہیں، وہ ایک دوسرے کے ساتھ جڑ کرمضبوط ہوتے ہیں ‘‘اس ارشادِ گرامی کے بعد نبی کریمﷺ نے اپنی انگلیوں کو انگلیوں میں ڈال کر دکھایا اتحاد کو علامت کے طور پر پیش فرمایا۔
مسلم دنیا کے اندر پیدا ہونے والی بیداری یقیناً قابلِ قدر ہے مگر اس کی پائیداری کے لیے اسرائیل و امریکہ کا خوف کافی نہیں بلکہ باہمی محبت اور یکجہتی لازمی ہے۔ اس بابت رسول اللہﷺ کا یہ ترغیبی ارشاد پیش نظر رکھنا کافی ہے کہ : ’’اے لوگو! سنو، سمجھو اور معلوم کر لو کہ اللہ تعالیٰ کے کچھ بندے ایسے ہیں جو نہ نبی ہیں اور نہ شہداء لیکن نبی اور شہید ان کے مراتب اور اللہ کے ہاں تقرب کو دیکھ کر رشک کریں گے۔ ایک بدوی نے کہا: یا رسول اللہﷺ! جو لوگ نہ نبی ہوں اور نہ شہید لیکن انبیاء اور شہداء ان کی مسند اور اللہ کے تقرب کو دیکھ کر رشک کریں گے، ان کی خوبی اور ان کا حلیہ ہمارے سامنے بیان فرما دیجیے۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا: یہ لوگ وہ ہیں جو مختلف قبیلوں سے تعلق رکھتے ہیں، ان کی آپس میں کوئی رشتہ داری نہیں ہے، لیکن وہ اللہ کیلئے ایک دوسرے سے محبت رکھتے ہیں اور ایک دوسرے کے خیرخواہ ہیں، اللہ تعالیٰ ان کیلئے قیامت کے دن نور کے منبر لگائے گا، وہ ان پر بیٹھیں گے اور ان کے چہرے اور کپڑے پُرنور بنا دے گا، (باقی) لوگ گھبرائیں گے (لیکن) یہ نہیں گھبرائیں گے۔ انہیں نہ کوئی خوف ہو گا اور نہ ہی وہ غمزدہ ہوں گے‘‘۔ علامہ اقبال کا یہ شعر اتحاد کا تقاضہ کرتا ہے باہمی اشتراک و محبت اسے عملی جامہ پہنادے گی ۔ ان شاء اللہ ؎
ایک ہوجائیں تو بن سکتے ہیں خورشیدِ مبیں ورنہ ان بکھرے ہوئے تاروں سے کیا بات بنے
Comments are closed.