جامعہ اشرف العلوم رشیدی گنگوہ میں مفتی خالد سیف اللہ نقشبندی کی دو نئی کتابوں کا اجراء
دیوبند،19؍ ستمبر(نامہ نگار)
دارالعلوم دیوبند کے استاد حدیث مولانا عبداللہ معروفی نے کہا ہے کہ سرزمین گنگوہ ایک تاریخ ساز خطہ ہے، یہاں نامور علماء و صلحاء اور اتقیاء پیدا ہوئے ہیں، جن کا فیض عالمی سطح پر آج بھی جاری ہے۔ مفتی عبداللہ معروفی قدیم دینی ادارہ جامعہ اشرف العلوم رشیدی گنگوہ میں "تذکرہ اکابر گنگوہ اور ایمان کے باغات” نامی کتابوں کی تقریب رونمائی کے موقع پر خطاب کر رہے تھے۔ مولانا عبداللہ معروفی نے مزید کہا اس سرزمین میں شاہ عبدالقدوس، شاہ ابو سعید اور سر خیل علمائے دیوبند مولانا رشید احمد گنگوہی جیسی عبقری شخصیات پیدا ہوئی ہیں، خاص طور پر مولانا رشید احمد گنگوہی نے احیائے سنت اور بدعات کے خاتمہ کے لیے کارہائے نمایاں انجام دیے ہیں۔ مولانا موصوف نے اس ادارہ کے بانی مولانا قاری شریف احمد گنگوہی کے حوالہ سے کہا وہ طلباء کے لیے حد درجہ شفیق تھے، بیشتر طلبہ انھیں باپ ہی سمجھتے تھے۔ مولانا عبداللہ معروفی نے ان کتابوں کے مصنف اور جامعہ کے موجودہ روح رواں مولانا مفتی خالد سیف اللہ نقشبندی کے تعلق سے کہا یہ میرے بچپن کے اور تعلیم کے ساتھی ہیں، ان کی زندگی میں صلاح و تقوی اور جہد مسلسل اسی وقت سے پایا جاتا ہے۔ مذکورہ کتابوں کے مصنف مفتی خالد سیف اللہ قاسمی نے کہا پوری اسلامی تاریخ شاہد ہے کہ اسلاف نے دین کو دوسروں تک پہنچانے کے لیے بڑی اذیتیں اور تکالیف برداشت کی ہیں، مفتی موصوف نے سیدنا نوح علیہ السلام کی تکالیف سے لے کر نبی آخرالزماں محمد صلی اللہ علیہ وسلم، آپ کے صحابہ نیز بعد کے علماء کے ایسے ہی چند واقعات پیش کیے اور کہا مصائب کے باوجود یہ تمام حضرات بنی نو انسان کے لیے آخری درجہ میں شفیق رہے۔انہوں نے قرآن کریم کے حوالہ سے کہا بزرگوں کی زندگی ایک پیغام ہوتی ہے، مشعل راہ ہوتی ہے اور خیر کی ضامن ہوتی ہے۔ انھوں نے کہا جن مجالس میں بزرگوں کی زندگی پیش کی جاتی ہے، یقینا وہ مجلسیں خیر و برکت کی حامل ہوتی ہیں۔ مفتی موصوف نے اپنی ان دونوں کتابوں پر بھی تفصیل سے روشنی ڈالی۔ تقریب کا آغاز دارالعلوم دیوبند کے شعبہ تجوید کے استاذ قاری المقری عبدالرؤف بلند شہری کی تلاوت کلام پاک سے ہوا۔ صدارت مفتی خالدسیف اللہ نے کی جبکہ نظامت کے فرائض مولانا اطہر حقانی نے انجام دئے۔تمہیدی خطاب میں مفتی محمد حذیفہ مکی نے مہمانان کرام کا مختصر تعارف پیش کیا اور استقبال کیا۔ اس خاص ایڈیشن کے ناشر قاری محمد مصروف رحیمی اور قاری مشکور احمد رشیدی قاسمی نے کہا ان کے پیش نظر یہی ہے کہ بزرگوں کے واقعات زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچ جائیں۔ اس موقع پر مولانا رسال الدین حقانی، مولانا محمد ناظم قاسمی اور مولانا محمد آصف ندوی وغیرہ نے بھی خطاب کیا۔ شرکاء میں مولانا اشتیاق احمد قاسمی، قاری عبید الرحمان قاسمی قاری محمد فرمان لونی، حافظ محمد حنیف، مفتی احسان رشیدی، مفتی محمد ساجد کھجناؤری، حافظ رفیق احمد، قاری محمد طالب ہریانوی، قاری منور الحسن اور مولانا میزان احمد وغیرہ کے نام قابل ذکر ہیں۔
Comments are closed.