ضلع میں وبائی امراض نے دی دستک، جھولا چھاپ ڈاکٹروں کی بھرمار سے مریضوں کی زندگی خطرے میں

دیوبند،۱۹؍ ستمبر(نامہ نگار)
ضلع سہارنپور میں ان دنوں وائرل بخار، ڈینگو، ملیریا اور پیٹ سے متعلق امراض تیزی کے ساتھ پھیل رہے ہیں۔ گاؤں اور قصبوں میں بڑی تعداد میں لوگ بخار، دست اور سانس لینے میں دشواری جیسی بیماریوں سے پریشان ہیں۔ سرکاری اسپتالوں اور صحت مراکز پر سہولیات کی کمی کے سبب مریضوں کو مناسب علاج دستیاب نہیں ہو پا رہا ہے، جس کا فائدہ جھولا چھاپ ڈاکٹر اٹھا رہے ہیں۔ ضلع کے نانوتہ، تیترو، گنگوہ، نکڑ، سرساوا، چلکانا، سڈولی قدیم، مرزا پور، بہٹ، گاگلہیڑی، چھٹملپور، بہاری گڑھ، ناگل، دیوبند، بڑگاؤں، رامپور منیہاران سمیت ضلع کے بیشتر دیہی اور قصباتی علاقوں میں جھولا چھاپ ڈاکٹروں کا راج ہے۔ ان میں سے بیشتر کے پاس نہ تو کوئی میڈیکل ڈگری ہے اور نہ ہی معقول تجربہ۔ لوگ غربت اور سرکاری اسپتالوں کی دوری کے باعث مجبوری میں انہی کے پاس پہنچ جاتے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق یہ جھولا چھاپ بغیر کسی جانچ کے بخار اور ڈینگو/ملیریا جیسے سنگین امراض میں مریضوں کو دوائیں دے دیتے ہیں۔ کئی بار اسٹیرائیڈ اور اینٹی بایوٹک کا حد سے زیادہ استعمال مریض کی حالت کو اور خراب کر دیتا ہے۔ اکثر ایسے مریض جب حالت نازک ہونے لگتی ہے تو دیر سے اسپتال پہنچتے ہیں، جس سے ان کی زندگی خطرے میں پڑ جاتی ہے۔ دیہات کے لوگ کہتے ہیں کہ سرکاری اسپتال دور ہونے اور بھیڑ زیادہ ہونے کے باعث وہ نزدیکی جھولا چھاپ کے پاس جانے پر مجبور ہیں۔ ایک دیہاتی نے بتایا، گاؤں میں ڈاکٹر تو ہیں نہیں، مجبوراً پاس کے ہی ڈاکٹر سے دکھاتے ہیں۔ بعد میں پتہ چلتا ہے کہ دوائیاں غلط تھیں اور بیماری بڑھ گئی۔ صحت ماہرین کا کہنا ہے کہ بارش کے بعد پھیلنے والے بخار اور امراض میں وقت پر خون کی جانچ اور درست علاج نہایت ضروری ہے۔ جھولا چھاپ نہ تو جانچ کرواتے ہیں اور نہ ہی صحیح علاج کرتے ہیں، اس لیے ان کے پاس جانے سے مریض کی جان کو براہِ راست خطرہ لاحق ہوتا ہے۔ ماہرین نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ علامات ظاہر ہوتے ہی فوری طور پر مجاز ڈاکٹر یا سرکاری اسپتال سے رجوع کریں۔ عوامی نمائندوں اور سماجی کارکنوں نے ضلع انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ جھولا چھاپ ڈاکٹروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور گاؤں گاؤں میں طبی کیمپ لگا کر مفت جانچ اور علاج کی سہولت فراہم کی جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو آنے والے دنوں میں یہ وبا مزید شدت اختیار کر سکتی ہے۔

Comments are closed.