حیدرآباد میں اے ایم پی کی قومی سطح کی پہل پر تعلیمی اور معاشی ترقی کے لئے غور و خوض
’’ہم 25 سالہ روڈ میپ کے مشاورتی اجلاس ملک بھر میں منعقد کر رہے ہیں تاکہ یہ دستاویز اور اس کا وژن ہر پہلو سے مکمل ہو۔ ‘‘ عامر ادریسی، صدر اے ایم پی
حیدرآباد(پریس ریلیز)ایسوسی ایشن آف مسلم پروفیشنلز (اے ایم پی) کے 25 سالہ روڈ میپ برائے تعلیمی اور معاشی ترقی پر ایک اہم مشاورتی اجلاس اتوار، 14 ستمبر 2025 کو مدینہ ایجوکیشن سینٹر، نامپلی، حیدرآباد میں کامیابی کے ساتھ منعقد ہوا۔
اس اعلیٰ سطحی اجلاس میں شہر کے معزز شخصیات، سماجی کارکنان، نامور این جی اوز اور ممتاز ماہرین تعلیم نے شرکت کی۔ اے ایم پی کی اس ملک گیر مشاورت کا مقصد تعلیمی، کاروباری اور سماجی و معاشی ترقی کے ذریعے پسماندہ طبقات کی ترقی کے لئے ایک جامع حکمت عملی تیار کرنا تھا۔
صدر اے ایم پی عامر ادریسی اور نیشنل کور ٹیم ممبر و کنوینر اے ایم پی 25 سالہ روڈ میپ ڈاکٹر عبد الاحد نے اجلاس میں وژن، مقاصد اور عملی منصوبہ بندی پیش کی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جنوبی ہند کے دانشور، ادارے اور کمیونٹی قائدین شمال اور مشرقی ہند کے تعلیمی و معاشی طور پر پسماندہ اضلاع کی ترقی میں اہم کردار ادا کریں۔
اجلاس میں شریک معزز مہمانوں نے اپنے خیالات کا اظہار کیا:
محمد خالق الرحمان (نیشنل کوآرڈینیٹر، AICC) نے کہا: "یہ روڈ میپ محض ایک وژن دستاویز نہیں بلکہ عملی اقدام کی دعوت ہے۔ سیاسی رہنما، ماہرین تعلیم اور سماجی کارکنان کو اس کے مؤثر نفاذ کے لئے متحد ہونا ہوگا۔”
کے۔ ایم۔ فصیح الدین (ڈائریکٹر، مدینہ گروپ آف انسٹی ٹیوشنز) نے کہا: "اداروں کو اس منصوبے پر عملدرآمد میں فعال کردار ادا کرنا چاہئے۔ تعلیم ہی بااختیاری کی بنیاد ہے، اور اجتماعی عزم کے ساتھ ہم پسماندہ اضلاع کو ترقی کے مراکز میں بدل سکتے ہیں۔”
آئی پی ایس (ریٹائرڈ) ایس۔ اے۔ ہودا (سابق ڈی جی پی، آندھرا پردیش) نے کہا: ’’تعلیم اور معاشی استحکام سے کمیونٹی نہ صرف ترقی کرتی ہے بلکہ ملک کے سماجی ڈھانچے کو بھی مضبوط بناتی ہے۔‘‘
عامر علی خان (ایڈیٹر سیاست ڈیلی، سابق ایم ایل سی) نے کہا: ’’یہ 25 سالہ روڈ میپ تاریخی قدم ہے۔ میڈیا، دانشور اور ادارے مل کر اس وژن کو عملی شکل دینے میں اہم کردار ادا کریں۔‘‘
اہم نکات:
ٹاپ 500 بااثر مسلم شخصیات اور 100 شراکتی اداروں کے نیٹ ورک کا آغاز، تاکہ اجتماعی اثر کو بڑھایا جا سکے۔
اضلاع کی سرپرستی، ادارہ جاتی ترقی اور نوجوانوں کو بااختیار بنانے کے لئے عملی حکمت عملی پر تبادلہ خیال۔
دیگر معزز مہمانوں میں محمد لطیف خان (چیئرمین ایم ایس اکیڈمی)، محمد مصباح الدین (چیئرمین کریک سائیڈ انٹرنیشنل اسکولز)، ڈاکٹر محمد شاہد (چیف پروکٹر، ایم ایس IAS اکیڈمی)، سید فہیم (سماجی کارکن) اور کئی دیگر شامل تھے۔
تمام مہمانوں نے بھارت بھر کے لاکھوں محروم نوجوانوں کے روشن مستقبل کے لئے اپنے وسائل، مہارت اور رہنمائی فراہم کرنے کا عزم کیا۔
اے ایم پی کا 25 سالہ روڈ میپ
یہ تاریخی پہل اے ایم پی کی جانب سے ماہرین تعلیم، معیشت دانوں، پالیسی ماہرین اور سماجی قائدین کے اشتراک سے تیار کی گئی ہے جس کا مقصد بھارت کے 100 سب سے زیادہ پسماندہ اور مسلم اکثریتی اضلاع کو تعلیم، روزگار، ہنر، وسائل تک رسائی اور مقامی حکمرانی کے میدان میں مضبوط بنانا ہے۔
Comments are closed.