بہار الیکشن سے بدلے گی مستقبل کی سیاست

ڈاکٹر مظفر حسین غزالی

بہارمیں    سیاسی جماعتوں کی انتخابی تیاری شروع ہو چکی ہے  ۔ اس  الیکشن میں   نتیش کمار ، تیجسوی یادو اور راہل گاندھی  کی سیاست داؤ پر ہے ۔  بہار الیکشن کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ  راہل  گاندھی پہلی مرتبہ کسی ریاست میں قبل از وقت  سرگرم  ہوئے  ۔وہ جانتے ہیں کہ    اس   الیکشن   سے مستقبل کی سیاست  متاثر ہونے والی  ہے  ۔  ویسے تو  یہاں دو اتحاد این ڈی اے اور انڈیا آمنے سامنے ہیں ۔ جے ڈی یو اور لوک جن شکتی پارٹی اپنی بقاء کے لیے لڑ رہے ہیں  ۔  جبکہ  این ڈی اے کی  طاقت ور جماعت بی جے پی انڈیا اتحاد سے سب سے مشکل  مقابلہ کرنے جا  رہی ہے ۔ وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے پانچ مرتبہ انتخاب جیتا ہے ، لیکن یہ ان کا فیصلہ کن الیکشن ہوگا ۔  ان کا ووٹ فی صد 2010 میں      22.6فی صد تھا جو 2020میں گھٹ کر15.7  فی صد رہ  گیا ۔انفراسٹکچر  میں سددھار ، بجلی کی فراہمی میں اضافہ  اور  ابتدائی زمانہ میں قانون انتظامیہ کو بہتر کرنے جیسی کامیابیاں غیر متنازعہ ہیں ، لیکن اب ان پر تھکان بھاری پڑ رہی ہے ۔بے روزگاری بہار کی روح سے جڑی ہے ، بقول سینئر صحافی پربھو چاؤلا75   لاکھ لوگ بہار سے باہر محنت کرکے اپنی روزی روٹی چلا رہے ہیں ۔نقل مکانی  بہار کا ایسا زخم ہے جو بھرنا ہی نہیں چاہتا ۔ نتیش کمار کو اپنے دم پر اتنی سیٹیں لانے کا چیلنج ہے جس سے این ڈی اے میں ان کی معنویت بنی رہے ۔ بی جے پی ان کو وزیر اعلیٰ بنانے کے لیے مجبور ہو ورنہ مقامی بی جے پی ارکان اپنا وزیر اعلیٰ بنانے کا مطالبہ کریں گے ۔

بہار میں تیجسوی یادو  بڑے لیڈر بن کر ابھرے ہیں ۔ ان کی سر براہی میں آر جے ڈی   2020میں  75سیٹیں حاصل کر سب سے بڑی پارٹی بن کر ابھری تھی ۔ انہیں یہ سیٹیں  مسلم یادو فارمولے کے تحت ملی تھیں لیکن بہار یاترا کے بعد او بی سی ، دلت اور کمزور طبقات کے ووٹر بھی ان کے ساتھ جڑے ہیں ۔یہ بڑا ووٹ بنک بی جے پی کے ذات پر مبنی گٹھ جوڑ کو ٹکر دیگا ۔  ساتھ ہی  ان کی نوجوانوں پر مرکوز  ٹیم  سوشل میڈیااورجدید تکنیک کا انتخابی تشہہیر کے لیے  بی جے پی سے بہتر استعمال کر رہی ہے  ۔اوپنین  پول کے مطابق ، وزیر اعلیٰ کے طور پر تیجسوی کی  36.9فیصد ریٹنگ وزیر اعلیٰ نتیش کمار کی 18.4  فیصد ریٹنگ سے بہت آگے ہے ۔ بہار کے نئے سروے میں کچھ چونکانے والی باتیں سامنے آئی ہیں ۔ جن کی وجہ سے نتیش کمار کی نیند اڑی ہوئی ہے ۔ 18 سے 24  سال کے نوجوان نتیش کمار سے پوری طرح ناراض ہیں ۔ سوا سو یونٹ بجلی فری اور خواتین کے لیےسرکاری نوکریوں میں35   فی صد ریزرویشن دینے کے اعلان کا  بھی کوئی اثر دکھائی نہیں دے رہا ہے ۔ دوسری طرف ریاستی حکومت  اور اراکین اسمبلی کے خلاف زبردست  اینٹی انکمبینسی  ہے ۔  اس کی وجہ سے بھی ماحول مہا گٹھ بندھن کے حق میں ہے ۔ سروےمین معلوم کیا گیا کہ آپ نتیش کمار کی حکومت سے خوش ہیں یا  نہیں ؟ تو 48 فیصد نے کہا کہ وہ پوری طرح سے ناراض ہیں  یعنیٰ خفا ہیں ۔  فیصد نے خوش ہونے کی بات کہی ۔  18سے  24سال کے  57فیصد نوجوانوں نے کہا کہ ہم نتیش کمار کے ساتھ نہیں  ہم ان کے کام کاج سے ناراض ہیں  ۔   45سال سے اوپر کے لوگ جنہوں نے لالو کا دور دیکھا ہے وہ نتیش کمار کے ساتھ دکھائی دیتے ہیں ۔ اٹھارہ  سے پچیس سال کے نوجوان بہار میں تبدیلی چاہتے ہیں ۔ سابقہ تجربات بتاتے ہیں کہ جہاں بھی نوجوانوں نے بدلاؤ کا اردہ کیا ہے وہاں تبدیلی آئی ہے ۔  

سروے میں معلوم کیا گیا کہ کس ذات یا مذہب کے لوگ مہا گٹھ بندھن کے ساتھ ہیں ؟ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ستر فیصد سے زیادہ مسلمان مہا گٹھ بندھن کے ساتھ ہیں ۔ بہار کی  243سیٹوں میں سے50   یا  55سیٹوں پر مسلم ووٹ یا تو فیصلہ کن حیثیت میں ہیں یا پھر ہار جیت میں ان کی بڑی اہمیت ہے ۔ مسلمانوں کے ووٹ  18سے19  فیصد ہیں صرف پانچ فیصد مسلمان بی جے پی کے ساتھ جاتے ہیں ۔  اگر اویسی  وہاں کھڑے نہیں ہوتے ہیں تو یہ ووٹ  کدھر جائیں گے اس کابخوبی  اندازہ لگایا جا سکتا ہے ۔بہار میں اعلیٰ ذاتوں کا55   فیصد ووٹ بی جے پی  ،این ڈی اے کے ساتھ جاتا ہے ۔   یہ  ووٹ 14سے15  فیصد ہے اس میں سے صرف16  فیصد مہا گٹھ بندھن کے ساتھ ہے ۔  مہا گٹھ بندھن کے لیے تشویش کی بات یہ ہے کہ43 فیصد غیر یادو او بی سی این ڈی اے  کے ساتھ ہیں  جبکہ صرف   36  فیصد مہا گٹھ بندھن کے ساتھ ہیں ۔ اسی طرح  دلتوں کے  43ووٹر وں نے این ڈی اے   کو ووٹ کرنے کی بات کہی  جبکہ 25فیصد  مہا گٹھ بندھن کے ساتھ جاتے دکھائی دیئے ۔ جہاں تک مدوں کا سوال ہے تو 34فیصد کے نزدیک  نقل مکانی  مدیٰ  ہے ۔ جبکہ ہر چوتھے شخص21  یعنی فیصد نے ایس آئی آر کو ایشو بتایا  ۔  51.2فیصد   لوگوں کے نزدیک  بےروزگاری  سب سے بڑا مسئلہ  ہے ، تیجسوی یادو  کا  نائب وزیر اعلیٰ کے طور پر ٹریک اچھا رہا  ۔  انہوں نے   سرکاری نوکریاں دینے کا کام کیا تھا  ۔

حکومت اور اس کے نمائندوں کے   کام کاج کو لے کر  عام طور پر  ناراضگی پائی گئی ۔53  فیصد لوگوں نے کہا کہ ہم موجودہ ایم ایل اے کو ووٹ نہیں دیں گے ۔سروے میں یہ صاف نہیں ہو سکا کہ یہ برسراقتدار جماعت کے ایم ایل اے کے بارے میں ہے یا اس میں اپوزیشن کے ممبران اسمبلی بھی شامل ہیں ۔  اس کا مطلب ہے کہ بڑے پیمانے پر موجودہ ممبران اسمبلی کا ٹکٹ کاٹا جائے گا ۔ جن کا ٹکٹ کٹے گا ان میں سے کچھ آزاد امیدوار کے طور پر کھڑے ہوں گے  اور اپنی ہی پارٹی کے ووٹ کاٹیں گے ۔ جو خاموش ہو کر بیٹھ جائیں گے وہ بھی پارٹی کو نقصان پہنچائیں گے ۔ اس سے پرشانت کشور کو بھی میدوار مل جائیں گے ۔  سوا سو یونٹ مفت  بجلی دینے کے بارے میں41  فیصد لوگوں نے کہا کہ اس سے کوئی فائدہ نہیں ۔ 7فیصد نے کہا  بجلی آئے گی تو ملے گی ، پہلے بجلی تو لایئے ، بجلی آئے گی ہی نہیں تو فائدہ کیا ملے گا ۔ خواتین کو اپنا روزگار کرنے کے لیے دس ہزار روپے دینے کی اسکیم گاجے باجے کے ساتھ شروع کی گئی ۔ لوگوں نے کہا نہیں ملے گا صاحب یہ چناوی جملہ ہے ۔ لیکن  37فیصد لوگوں نے کہا کہ اس سے نتیش کمار کو فائدہ ہوگا ۔

یہ سوال بھی سروے میں معلوم کیا گیا کہ مہا گٹھ بندھن، تیجسوی  کو کیا  ووٹر رائٹس یاترا  کا فائدہ ہوگا ؟  46فیصد لوگوں کا کہنا ہے کہ ہاں فائدہ ہوگا ۔  42فیصد لوگوں کا ماننا ہے کہ  ’مودی کی ماں کی گالی ‘  الیکشن میں مدیٰ نہیں  بنے گا ۔  ووٹ وائپ کے سروے   کے مطابق اگر آج کی تاریخ میں الیکشن ہوتا ہے تو   مہا گٹھ بندھن کو 35.8فیصد یعنی قریب   36فیصد ووٹ مل سکتے ہیں ۔ لیکن این ڈی اے کو36.2  فیصد ووٹ مل سکتے ہیں ۔ یعنی این ڈی اے مہا گٹھ بندھن سے قریب 0.4فیصد زیادہ ووٹ پا سکتا ہے ۔  جبکہ پچھلی مرتبہ یہ فاصلہ محض  0.01 فیصد یعنی صرف بارہ ہزار ووٹوں کا فرق تھا ۔ جن سوراج پارٹی کو 8.7 فیصد ووٹ مل سکتے ہیں ، یہ اپنے آپ میں  دلچسپ ہے ۔ لیکن یہ ووٹ سیٹوں میں تبدیل ہوں گے یا نہیں یہ کہنا مشکل ہے ۔  مگر بڑا سوال یہ ہے کہ جن سوراج پارٹی کس کا ووٹ کاٹے گی ؟ این ڈی اے کا یا مہا گٹھ بندھن کا؟

بہار الیکشن میں راہل گاندھی اپنی قابلیت ثابت کرنا چاہتے ہیں ۔ سال 2020 میں  کانگریس نے ستر سیٹوں پر الیکشن لڑ کر صرف  19سیٹیں جیتی تھیں ۔ یہ بات بھی قابل غور ہے کہ کانگریس جن ستر سیٹوں پر لڑی تھی ان میں سے  45سیٹیں ایسی تھیں  جہاں آر جے ڈی کا بھی کوئی امیدوار کبھی نہیں جیتا ۔ اس مرتبہ کانگریس ایسی سیٹوں کا مطالبہ کرے گی جہاں وہ جیت سکے ۔ اس بار بی جے پی کے پاس کوئی آئیڈیلزم  نہیں ہے اور نہ ہی ریاست میں کوئی ایسا لیڈر ہے جو پارٹی کو جیت دلا سکے ۔ بی جے پی پوری طرح مودی اور ترقی کے پروپیگنڈے پر منحصر ہے ۔ جبکہ مہاگٹھ نبدھن اور کانگریس کے’نقل مکانی روکو، روزگار دو‘ اور ’ووٹ چور گدی چھوڑ‘  نعرے چل رہے ہیں ۔ سیاسی مبصرین این ڈی اے کو مہا گٹھ نبدھن سے زیادہ  ووٹ ملنے کی بات کر رہے ہیں لیکن جے ڈی یو، ایل جے پی اور جیتن رام مانجھی کے درمیان سیٹوں کی تقسیم کو لے کر کھینچ تان چل رہی ہے ۔ اس کا فائدہ بھی مہاگٹھ بندھن کو مل سکتا ہے ۔ اس لحاظ سے بہار کا الیکشن این ڈی اے اور انڈیا اتحاد دونوں کے لئے اہم ہے ۔ بہار کے ووٹر اس مرتبہ صرف ریاستی سرکار کا انتخاب نہیں کریں گے بلکہ ملک کی سیاست کی بھی بنیاد رکھیں گے ۔

Comments are closed.