19 ؍ستمبر جمعہ کے روز وقف قانون کے خلاف’’یومِ دعا‘‘ کا اہتمام کرنے کی اپیل
آل انڈیا مسلم پرسنل لابورڈ کی اور دیگر جماعتوں کے ذمہ داران کی ائمہ و ذمہ داران مساجد سے پرزور درخواست
حیدرآباد(پریس ریلیز)وقف مسلمانوں کا دینی اور شرعی مسئلہ ہے اور ہندوستان کے تمام مسلمان اس بات پر متفق ہیں کہ وقف ایکٹ ۲۰۲۵ غیر آئینی اور مسلمانوں کے بنیادی حقوق پر حملہ ہے۔ اس قانون کے خلاف آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے تمام مسلم جماعتوں اور تنظیموں کے تعاون سے ملک گیر تحریک چلائی۔ لاکھوں مسلمانوں نے اس میں شرکت کی اور اب پرسنل لا بورڈ اس مقدمے کو سپریم کورٹ میں لڑ رہا ہے۔سپریم کورٹ کی طرف سے جو عبوری فیصلہ 15 ستمبر 2025 کو آیا ہے، اس میں اکثر و بیشتر چیزیں بہت ہی مایوس کن ہیں۔ بوڑڈ نے مطالبہ کیا تھا کہ غیر مسلموں کو وقف کونسل یا وقف بورڈ میں کسی بھی طرح کی شرکت نہ رکھی جائے، جیسا کہ ہندو اور دیگر مذہی اکائیوں کے اوقاف میں کسی دوسرے مذہبی افراد کے لیے کوئی گنجائش نہیں ہوتی ہے۔ یہ ایک مسلمانوں کا دینی و مذہبی معاملہ ہے، اس لیے اسے وہی کمیونٹی چلائے گی جو اس کی مالک ہوگی، مگر اس عبوری فیصلے میں غیر مسلوں کے لیے گنجائش پیدا کی گئی ہے، اس کے علاوہ اس قانون میں اور بھی امور ہیں جو وقف کے نظام کو برباد کر دیں گے۔چنانچہ، آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے وقف قانون مخالف تحریک کے دوسرے مرحلہ کا آغاز کیا ہے اور اس سلسلے میں ملک کے تمام مسلمانوں سے پورے جوش و خروش کے ساتھ اس مخالف تحریک کا حصہ بننے کی گزارش کی ، نیز اس سلسلہ میں ایک جامع لائحۂ عمل تیار کیا ہے۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی طرف سے دوسرے مرحلہ میں ایک اہم سرگرمی کے طور پر 19 ستمبر ۲۰۲۵ کو جمعہ کے دن “یومِ دعا” منانے کی اپیل کی گئی ہے۔ اس کی دو صورتیں ہو سکتی ہیں: جہاں مسجد کے باہر گنجائش ہو، تو نمازی حضرات جمعہ کی نماز کے بعد مسجد کے باہر جمع ہو کر اجتماعی دعا کا اہتمام کریں، اور اگر ازدحام کا اندیشہ ہو تو مسجد کے صحن یا اندرونی حصہ میں ہی اجتماعی دعا کا اہتمام کیا جائے۔ اسی طرح ان مناظر کی تصویریں سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارم پر نشر کریں، اور اپنا احتجاج درج کرائیں۔ اپیل کنندہ : اراکین بوڑڈ از تلنگانہ، اراکین احتجاجی کمیٹی تلنگانہ ، ذمہ داران مختلف جماعتیں۔حضرت مولانا خالد سیف الله رحمانی صاحب صدر بورڈ ،حضرت مولانا مفتی خلیل احمد صاحب امیر الجامعہ نظامیہ ورکن بورڈ،جناب بیرسٹر اسد الدین اویسی صاحب رکن بورڈ ورکن پارلیمان ،مولانا سیداکبر نظام الدین صاحب رکن بورڈ جناب ڈاکٹر متین الدین قادری صاحب رکن بورڈ ،مولانا جعفر پاشا صاحب رکن بورڈ ،حضرت مولانا ابراہیم حسینی عرف سجاد پاشاہ صاحب رکن بورڈ ،حضرت مولانا سید مسعود حسین مجتہدی صاحب رکن بورڈ، جناب ڈاکٹر محمد مشتاق علی صاحب رکن بورڈ، جناب ضیاء الدین نیر صاحب رکن بورڈ ،جناب مولانا نثار حسین حیدر آغا صاحب رکن بورڈ، مولاناغیاث احمد رشادی رکن بورڈ وکنوینر وقف بچاؤ دستور بچاؤ تحریک برائے تلنگانہ، مفتی عمر عابدین قاسمی مدنی کنوینر وقف بچاؤ دستور بچاؤ تحریک برائے تلنگانہ ، ، جناب رفعت اللہ شاہد صاحب جوائینٹ کنوینر وقف بچاؤ دستور بچاؤ تحریک برائے تلنگانہ،محترمہ جلیسہ یاسین سلطانہ صاحبہ رکن بورڈ ،محترمہ حفصہ اختر صاحبہ رکن بورڈ ، مولانا شفیق عالم خان صاحب نمائندہ جمعیت اہل حدیث، مفتی محمود زبیر صاحب جنرل سیکرٹری جمعیت علماء تلنگانہ و آندھرا ، جناب محمد اظہر الدین صاحب امیر جماعت اسلامی تلنگانہ ،مفتی ضیاء الدین نقشبندی صاحب صدر مفتی جامعہ نظامیہ و دیگر شامل ہیں۔
Comments are closed.