جمہوریت میں اقتدار سے سوال کرنا کوئی گناہ نہیں، حکومت بنی تو جیویش مشرا کو جیل بھیجنا پہلا کام ہوگا: مکیش سہنی

 

جالے (محمد رفیع ساگر) وکاس شیل انصاف پارٹی کے سربراہ اور سابق وزیر مکیش سہنی نے کہا کہ جب حکومت بے لگام اور آمرانہ رویہ اختیار کر لیتی ہے تو اسے صحیح راستہ دکھانے اور عوام کی آواز بلند کرنے کا کام ہمیشہ میڈیا نے کیا ہے۔ اقتدار سے سوال کرنا کوئی گناہ نہیں ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ 22 نومبر سے پہلے ریاست میں تبدیلی طے ہے اور مہاگٹھ بندھن کی حکومت بننے کے بعد ہمارا سب سے پہلا قدم وزیر جیویش کمار مشرا کو جیل بھیجنا ہوگا۔ وہ بدھ کے روز راجو رمپٹی گاؤں میں آر جے ڈی لیڈر اور سابق مکھیا چندر کشور یادو کی رہائش گاہ پر منعقدہ عوامی اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔

مکیش سہنی نے کہا کہ انتہائی پسماندہ ملاح سماج کے دلیپ سہنی (یوٹیوبر) کے ساتھ وزیر جیویش مشرا کی جانب سے کی گئی مارپیٹ نہ صرف شرمناک ہے بلکہ جمہوریت پر براہِ راست حملہ ہے۔ پولیس انتظامیہ کو چاہئے کہ معاملے کی غیر جانبدارانہ تفتیش کرے اور قصورواروں پر سخت کارروائی کرے۔ انہوں نے کہا کہ جو عوام کے آشیرواد سے خدمت گزار بنتا ہے اگر غنڈہ بنے گا تو اس پر بلڈوزر چلے گا۔ ایک واقعہ کی مثال دیتے ہوئے انہوں نے جیویش مشرا کو بھشمہسر قرار دیا اور ساتھ ہی انتظامیہ پر بھی سوال کھڑے کئے۔ سہنی نے عوام سے اپیل کی کہ وہ اپنے جمہوری حق کا استعمال کرتے ہوئے ایسے بدنام عوامی نمائندوں کو اقتدار سے بے دخل کریں۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ ہمیں وزیراعلیٰ نتیش کمار سے کوئی اختلاف نہیں ہے۔

اسی موقع پر کانگریس کے رہنما ڈاکٹر مشکور عثمانی نے کہا کہ اقتدار کا غلط استعمال کرتے ہوئے وزیر نے ایک صحافی پر حملہ کیا اور اس کے بعد مجھ پر، اپوزیشن لیڈر تیجسوی یادو سمیت چار افراد پر مقدمہ درج کرایا، جو ان کی بوکھلاہٹ اور خوف کی نشانی ہے۔

جلسہ کے دوران وی آئی پی کے ضلع صدر للت سہنی کی صدارت میں مکیش سہنی کا آتربیل چوک (متھلا نچل کے داخلی دروازے ) پر شاندار خیر مقدم اور اعزاز کیا گیا۔ اس موقع پر وی آئی پی کے قومی نائب صدر بدری کمار، سابق اُمیش سہنی، ضلع صدر بنود بمپر، ارون رام، رام بالک سہنی، ویویک سمرات، راج کمار پاسوان، اُمیش سہنی، آر جے ڈی رہنما بنود ساہ، ضلع پارشد منٹو یادو، سابق مکھیا چندر کشور یادو، سنتوش یادو، راجو یادو، شکیل احمد اور سابق جی پی ایس آفتاب عالم اپنے حامیوں کے ساتھ موجود تھے۔

 

Comments are closed.